Green Pakistan

Green Pakistan Green Pakistan

سنسکرت میں ارجن پرکھش۔ ہندی میں ارجن کوہا۔ تامل میں مردتنے۔ بنگالی میں ارجن۔ گجراتی میں ساجد ان۔ انگریزی میں(arjuna) اور...
31/07/2026

سنسکرت میں ارجن پرکھش۔ ہندی میں ارجن کوہا۔ تامل میں مردتنے۔ بنگالی میں ارجن۔ گجراتی میں ساجد ان۔ انگریزی میں(arjuna) اور لاطینی میں(TeriminaliaArjuma)کہتے ہیں۔

شناخت:
یہ قد آور درخت ہمالیہ کی ترائی، بنگال، پنجاب اور یو پی میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ پتے امرود کے پتوں جیسے قریبا چار پانچ انچ لمبے اور ایک سے دو انچ چوڑے ہوتے ہیں اور دس پتوں سے لے کر پندرہ پتے ایک شاخ میں لگتے ہیں۔پھول زرد اور ننھے ننھے، پھل تین انگل لمبے سبز۔ اس کے پہلے پانچ چھ پھل ابھرے ہوئے اور نمایاں ہوتے ہیں۔ ماہ جولائی میں اس کو پھل کثرت سے لگتے ہیں۔ دہلی اور دیگر کئی شہروں کی سڑکوں پر یہ درخت کثرت سے کھڑے ہوتے ہیں۔

طب آ یورویدکی رُو سے اس کی چھال اور پتے دوا کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔

مزاج:
اس کا ذائقہ کسیلا اور گرم تاثیر رکھتا ہے۔

فوائد:
چھال میں پایا جانے والا گلوکو سائیڈ انگریزی دواڈیجی ٹیلس (Digitalis)کی طرح دل کی دھڑکن کو ختم کرتا ہے اور دل کو طاقت دیتا ہے۔ ڈیجی ٹینس زہریلا اثر رکھتا ہے، جبکہ چھال ارجن کا گلو کو سائڈ بے ضرر ہے۔ ان کی چھال کا جوشاندہ جریان خون، دستوں و پیچش کے علاوہ پھیپھڑوں کے زخم،دِق، تھکن اور پیاس دور کرتا ہے۔

مقدار خوراک:
جوشاندہ کی شکل میں اس کی مقدار خوراک 25گرام اور سفوف کی مقدار ایک سے تین گرام تک ہے۔

درخت درجن سے تیار ہونے والے مرکبات درج ذیل ہیں۔ بنائیں اور فائدہ اٹھائیں۔

جریان خون:
سفوف چھال ارجن چھ گرام، سفوف صندل سرخ تین گرام، مصری 9گرام، تینوں کو باہم ملا کر صبح و شام چاولوں کے پانی کے ساتھ استعمال کرنے سے جریان خون میں فائدہ ہوتا ہے۔

دیگر:
ارجن کی چھال 18 گرام کو 100 گرام پانی میں رات کو بھگو رکھیں۔ صبح اُبال کر نتھار کر پی لیں۔ خون بند ہو جائے گا۔

تقطیر البول:
ارجن کی چھال 18 گرام کا جوشاندہ صبح شام استعمال کرنے سے تقطیرالبول کی شکایت دور ہو جاتی ہے۔

خونی دست:
ل
ارجن کی چھال 12گرام250 گرام دودھ بھیڑ کے ساتھ پیس کر شہد ملا کر دینے سے خونی دست بند ہو جاتے ہیں۔

دل کی کمزوری ودھڑکن:
چھال درخت ارجن ایک حصہ، پانی دس حصہ، جوشاندہ بنائیں اور آدھا سے ایک اونس پلائیں۔ محرک ومقوی دل ہے۔ اسہال، پیچش اور سنگرہنی میں مفید ہے۔

دیگر:
چھال ارجن تین گرام چینی ، 25 گرام، ابلتا ہوا گائےکادودھ 480 گرام، تینوں کو ایک جان کر کے استعمال کرائیں۔ دل کی سوجن اور درد دل کے لئے مفید ہے۔ یہ علاج ایک سال تک جاری رکھنا چاہئے۔

منہ کے کیل اور مہاسے:
چھال ارجن کا سفوف 6 گرام، شہد 12 گرام، ملا کر منہ کے کیلوں اور مہاسوں پر لگائیں۔ آرام آجائے گا۔ یہ نسخہ پراچین گرنتھ واگ بھٹ کاہے۔

زخم:
ارجن کی چھال 12 گرام، صاف پانی 60 گرام، جوشاندہ تیار کرکے چھان لیں اور اس سے زخم کو دھوئیں ۔ چند دن کے استعمال سے زخم بھر جاتے ہیں۔

کمزورئ دِل:
درخت ارجن کی چھال 25 گرام، گائے کا دودھ آدھا کلو، پانی آدھا کلو۔ تینوں کو ملاکر جوش دیں۔ جب پانی اڑ جائے تو دودھ کو چھان کر حسب ذائقہ چینی ملا کر پی لیں۔ اس سے دل کو بہت تقویت ملے گی۔

بلغم میں خون:
ارجن کی چھال کا سفوف 50 گرام، بانسہ کے پتوں کے رس میں تر کر کے کھرل کریں اور خشک کریں۔ ایسا سات بار کریں۔ پھر اس سفوف میں چینی ملا کر رکھیں،تین سے چھ گرام ہمراہ تازہ پانی دیں۔دِق کہ وہ مریض جنہیں بلغم کے ساتھ خون آتا ہو، کے لئے ازحد مفید ہے۔

ہڈی ٹوٹنا:
دودھ و گھی کے ساتھ ارجن کی چھال کا سفوف 3 گرام کا استعمال ہڈی ٹوٹنے میں ازحد مفید ہے۔

دل کی کمزوری کا علاج:
الکوحل 51 فیصد، درخت ارجن کی چھال ایک فیصد، چھال کوموٹاموٹا کوٹ کر الکوحل میں ملا کر بوتل میں ڈال دیں اور بوتل کا منہ ڈاٹ سے بند کر دیں۔ دن میں دو یا تین بار ہلا دیا کریں۔ تین دن میں چھال کا اثر الکوحل میں آ جائے گا۔ پھر نہایت احتیاط سے الکوحل کو چھان کرشیشی میں ڈال لیں اور شیشی پر مضبوط کارک لگا کر رکھ دیں۔ پانچ سے دس قطرے 25گرام تازہ پانی میں حل کرکے ہر چار گھنٹے بعد دیں۔

فوائد:
امراض دل مثلا کلیجہ جلنا، دل کا کانپنا، دل میں درد ہونا اور دل کی کمزوری میں ازحد مفید ہے۔

ارجن ماڈرن تحقیق کی روشنی میں

ڈاکٹر بوس( ایم بی بی ایس):

اس کا ایکسٹریکٹ تیار کیا گیا ہے جو امراض قلب و استسقاء بہت مفید پایا گیا ہے۔ارجن اپنے افعال و خواص میں وہی فائدہ کرتا ہے جو انگریزی دوا ڈیجی ٹیلس کاہے۔ اس سلسلہ میں:۔

1۔ ارجن کی چھال 10گرام، پانی 200 گرام، دودھ 400 گرام ملا کر نرم آگ پر پکائیں۔ جب پانی جل جائےتو چھان کر مصری ملا کر پلائیں۔ نہایت عمدہ مقوی قلب ہے جو ورم غلافِ دل اور درد ِدل میں خاص طور پر مفید ہے۔

2۔ سفوف چھال ار جن دو گرام، صندل سرخ ایک گرام، مصری کوزہ تین گرام، سب کاسفوف بنالیں۔ خوراک 6 گرام صبح اور شام اور چھ گرام شام ہمراہ پانی دیں۔ نفث الدم کے لئے مفید ہے۔

3۔ دُنبلوں اور پھوڑوں پر ارجن کی چھال پلٹس کے طور پر استعمال کرنے سے پھوڑے جلد پک جاتے ہیں۔

4۔ چوٹ و سوجن میں ارجن کا پلانا اور لگانا دونوں ہی طرح سے مفید ہے۔

5۔ جریان کے لئے 3 گرام چھال کا جوشاندہ بنا کر آدھا آدھا کپ صبح و شام دونوں وقت پلائیں۔

دِل کےمریض کے لئے ار جن درخت کی چھال:

ار جن درخت کی چھال کے استعمال سے دل کا مریض پوری طرح ٹھیک ہو سکتا ہے۔ بنارس دِشودیالیہ میں کی گئی کھوج سے یہ سامنے آیا ہے کہ اس علاج سے پوری طرح ٹھیک ہوئے لوگوں ایک ایسا مرض بھی ہے جس کی 90 فیصد دھمنیاں رک جاتی تھیں اور ڈاکٹروں نے اسے پیس میکر لگوانے کی صلاح دی تھی۔ یہ معلومات ڈاکٹر کے این اڈوپہ نے دیں۔

ڈاکٹر اڈوپہ نے بتایا کہ 100 دل کے مریض اس سفوف کو کھا رہے تھے اور اس کے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سفوف کا استعمال تازہ پانی سے کیا جاسکتا ہے یا اس کا جوشاندہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں کھوج سے یہ ثابت ہو گیا کہ ارجن درخت کی چھال کا استعمال دل کے مریضوں کے لئے مفید ہے۔ یہی بات ہزاروں سال پہلے طب آیوروید نے کہی تھی۔

‎جڑی بوٹیوں کی معلومات اور مزید نسخہ جات کے بارے میں جاننے کے لیے ہمارے پیج کو لائک فالو اور شئیر
‎کریں
Green Pakistan

آملہمختلف نام:مشہور نام آملہ، ہندی آنولہ، سنسکرت انورا، گجراتی آنواولہ، بنگالی آملہ، لاطینی فیلنتھس ایمبلیکا (emblic...
28/07/2026

آملہ

مختلف نام:
مشہور نام آملہ، ہندی آنولہ، سنسکرت انورا، گجراتی آنواولہ، بنگالی آملہ، لاطینی فیلنتھس ایمبلیکا (emblic myrobalan)

مزاج:
سرد پہلے درجے میں ،خشک دوسرے درجے میں۔

افعال خواص:
مقوی اعضا ء رئیسہ ،مقوی معدہ،مسکن حدت صفراء وخون ، مقوی چشم ،مقوی و مسود ،شعر ،قابض ، خفیف،مدر خفیف۔

فوائد:
حافظہ اور دماغ کو تیز کرتا ہے۔قوت بصر کو طاقت دینے کو علاوہ خفقان ،ضعف قلب اور ضعف معدہ کو دور کرنے کے لئے آملہ کا استعمال بکثرت کیا جاتا ہے ۔صفراء اور خون کے جوش کو تسکین دینے کے علاوہ پیاس کو زائل کرنے اور دستوں کو روکنے کے لئے مفید ہے۔ آملہ کا پانی یا عصارہ تیار کر کے تقویت چشم کے لئے آنکھوں میں لگاتے ہیں۔ آملہ کے خیساندہ یا جوشاندہ کے ساتھ بال دھونے سے بال مضبوط اور سیاہ ہوجاتے ہیں۔ وٹامن سی کی وجہ سے دل و دماغ اور پٹھوں کو طاقت دیتا ہے۔رحم اور آنکھوں کے لئے مقوی ہے۔ اعضاء کی زائد رطوبت کو خشک کرتا اور ہائی بلڈ پریشر میں مفید ہے ۔جب کہ بلڈ پریشر زیادہ ہائی نہ ہو ۔اس میں ترش تیزاب ہونے کی وجہ سے بھوک لگتی ہے لیکن آنتوں پر اس کا خاص اثر نہیں ہوتا ۔دماغ کی طرف اجتماع خون کو کم کرتا ہے۔اس لئے صداع ،تبخیر معدہ ،مالیخولیا اور فالج میں مفید ہے۔ وٹامن سی کی وجہ سے بہتے پھوڑے پھینسیوں میں فائدہ مند ہے اگر برگ نیم کے ساتھ ملا کر پانی کے سا تھ کھلایا جائے تو مصفی خون ہے۔ مسوڑھوں کے ورم، زخم میں اس کے جوشاندے کے غرغرے کرنا مفید ہے۔ احتلاج القلب میں مفید ہے۔ بالوں کو گرنے سے روکنے کے علاوہ اس کا روغن بالوں (روغنی اجزاء) کو سیاہ کرتا ہے۔جوارش آملہ اس کا مشہور مرکب ہے جو کہ معدہ کو طاقت دیتا ہے ،دستوں کو روکنے اختلاج القلب اور تبخیر معدہ کے لئے مشہور فا ئندہ مند دوا ہے۔

آملہ مثانہ و تلی کے لئے مضر، پیٹ میں قولنج پیدا کرتا ہے۔ بادام روغن، تازہ دودھ، شہد خالص سے اس کی مضرت زائل ہوجاتی ہے، مقوی اعصاب، مفرح دل و دماغ، معدہ اور مسوڑھوں کو طاقت دیتا ہے۔ قبض پیدا کرتا ہے، پیچش و دستوں کو مفید ہے۔

آملہ کو برابر وزن ہلدی کے ساتھ سفوف بناکر 9 ماشہ روزانہ ہمراہ دودھ گائے لینا پیشاب کی نالی کی سوجن کے لئے ازحد مفید ہے۔ نکسیر کو روکنے کے لیے اس کا گاڑھا لعاب ماتھے پر لگانا چاہیے۔ آنکھ کے لئے تازہ آملے کا رس آنکھ میں ڈال لیں۔

آملہ کے مجربات

آملہ ہیئر آئل:
آملہ ایک سیر کو دو سیر پانی میں پکائیں۔ جب آدھ سیر پانی باقی رہ جائے تو خوب چھان کر علیحدہ کرلیں اور اس پانی کو چار سیر تیل تلی صاف شدہ میں ملا کر آگ پر رکھیں۔ یہاں تک کہ تمام پانی جل جائے۔ پھر اسے اتار کر سرد کر لیں اور چھان لیں۔ اس میں معمولی خوشبو آملہ ملا دینے سے مزید خوشبو آ جاتی ہے۔

آملہ ہیرآئل مرکب:
آملہ خشک بغیر گٹھلی دس تولہ، برہمی دس تولہ، ناگرموتھا ڈیڑھ تولہ، بال چھڑ ڈیڑھ تولہ، دھنیہ خشک دس تولہ، مہندی کے پتے دس تولہ، برادہ صندل سفید دس تولہ۔

تمام اشیاء کو پانچ سیر پانی میں بھگو دیں۔ پہلے تمام چیزوں کو تھوڑا تھوڑا کوٹ لیں۔ ایک رات دن ویسے پڑا رہنے دیں۔ دوسرے دن اس میں خالص دُھلی تلی کا صاف شدہ تیل پانچ سیر ملا کر کسی بڑے برتن میں آگ پر رکھ دیں۔ آگ دھیمی رکھیں ورنہ تیل ابال( جوش) کھا کر باہر آ جائے گا۔ جب پانی بخارات بن کر اڑ جائے تو تیل کو آگ سے اتار لیں اور چھان کر رنگ دار کر لیں اور اس میں حسب پسند تیلوں میں حل ہونے والا رنگ ملا کر چھان کر شامل کریں نہایت اعلی درجے کا تیل تیار ہوگا۔

آملہ ہیئر آئل:
دس یا بارہ سیر تازہ( ہرا) آملہ خرید کر کولہو یا کسی ادویات کوٹنے کے برتن میں ڈال کر رس حاصل کریں۔ اس کو دس سیر سفید تلی کے تیل میں ملا کر آگ پر گرم کریں۔ آگ دھیمی ہونی چاہئے۔ جب تمام رسختم ہو جائے توتیل اتار کر چھان کر ٹھنڈا ہونے کے لئے رکھ دیں۔ دوسرے دن خوشبو آملہ تین اونس،بنزائیل ایسی ٹیٹ تین اونس ملا کر آئیل کلر سبز سے تمام تیل کو حسب منشا رنگین کرلیں۔ بس عمدہ کوالٹی کا آملہ ہیئر آئل تیار ہیں۔ شیشیوں میں بھر کر لیبل سے آراستہ کرکے فروخت کریں۔

برہمی آملہ ہیئر آئل:
ہرے سبز آملوں کا پانی آدھ سیر، دھنیے کا پانی ایک پاؤ، بھنگرے سیاہ کا پانی ایک پاؤ،خس عمدہ ایک پاؤ، گلاب کے تازہ پھول ایک پاؤ، پانڑی ایک پاؤ، برادہ صندل سفید ایک پاؤ، بال چھڑ پانچ تولہ، برہمی بوٹی آدھ سیر۔

ترکیب تیاری:
ان تمام چیزوں کو سوائے پانیوں کے رات کے وقت دس سیر پانی میں بھگو دیں۔ صبح جوش دیں۔ جب پانی آدھا رہ جائے، چھانلیں اور اس میں مذکورہ ابالا ہوا پانی اور دھوئی ہوئی تلی کا تیل پانچ سیر ملا لیں اور نہایت ہلکی آگ پر پکائیں۔ یہاں تک کہ صرف تیل رہ جائے۔ اب اس تیل کو صاف کنستر میں ڈالیں۔ عطر حنا، عطر گلاب، عطر موتیا ہر ایک تین تین ماشہ کا اضافہ کرکے منہ بند کر کے رکھ دیں۔ ہفتہ کے بعد استعمال کریں۔ بہترین برہمی آملہ ہئیرآئیل تیار ہیں اگر رنگ دینا ہو تو آئل کلر سبز دے دیں۔

شربت آملہ:
آملہ کا پانی ایک سیر، دودھ گائے دوسیر۔ دونوں کو ملا کر قلعی دار برتن میں آگ پر رکھیں۔ جب دودھ پھٹ جائے تو اتار کر چھان لیں اور شکر سفید برابر آملہ کے پانی سے ملا کر شربت کا قوام تیار کریں۔ دو تولہ شربت، عرق سونف چھ تولہ یا خمیرہ گاؤزبان عنبری تین ماشہ کے ساتھ استعمال کریں۔ دوران ِسرکے لئے مفید ہے۔ دماغ میں تازگی، فرحت اور قوت پیدا کرتا ہے۔

مربہ آملہ:
مربہ آملہ بنارسی خاص مشہور ہے۔ فوائد بھی افضل ہے۔ مریضوں کو تقویت دل کے لئے معالجین تجویز کرتے ہیں۔ آملہ میں سب قسم کے وٹامن موجود ہیں۔ اس کا مربہ مندرجہ ذیل ترکیب سے تیار کیا جاتا ہے۔

چار سیر بڑھیا بنارسی آملے لے کر ان کو دھو لیں۔ اب انہیں لکڑی کی سلائی سے اچھی طرح گودلیں۔ اس کے بعد انہیں چونے کے پانی میں بھگو دیں۔ ہر دوسرے دن یہ پانی بدل دیں۔ چار پانچ دن کے بعد چونے کا پانی نکال کر تازہ پانی سے سات بار اچھی طرح دھو لیں۔ اب انہیں پانی میں ڈال کر آگ پر رکھیں۔ جب ایک دو جو ش آ جائیں تو پانی نکال کر اب آٹھ سیر چینی لے کر مربع کی چاشنی بنائیں۔ اس گرم چاشنی میں میں ٹھنڈے و خشک کئے ہوئے آملے ڈال دیں اور پکائیں۔ جب آملے گل جائیں اور دوبارہ چاشنی تیار ہو جائے تو نیچے اتار کر چھوٹی الائچی وغیرہ ڈال دیں اور سٹرلائزڈ مرتبانوں میں ڈال دیں۔

ایک آملہ پانی سے دھوکر ورق چاندی میں لپیٹ کا استعمال کریں۔ دماغ، معدہ اور جگر کو تقویت دیتا ہے۔ وسواس کو دور کرتا ہے، فرحت پیدا کرتا اور دورانِ سر، دست اور بواسیر کو فائدہ کرتا ہے۔

آملہ پلزبرائے پانی چشم:
مغز بیج آملہ، مغز بیج ہرڑزرد، برابر وزن لے کر تین پہر تک پانی میں کھرل کرکے نخودی گولیاں بنا لیں۔ رات کو سوتے وقت دو گولیاں روزانہ کھائیں۔ان کے استعمال سے پانی رُک جاتا ہے۔

آملکیہ آدی چورن:
آملہ( گٹھلی خارجی کردہ)، مگھاں، چھلکا جڑ چترک، چھلکا ہرڑزرد، نمک سیندھابرابر وزن، تمام ادویات کا سفوف بنا لیں، خوراک دوسے تین ماشہ تک ہمراہ گرم پانی دن میں دو سے تین بار دیں۔

فوائد:
ہر قسم کے بخاروں کے لئے نافع ہے۔ قبض کشا اور ہاضم ہے، بلغم اور بدہضمی کو رفع کرتا ہے۔ بھوک خوب لگاتا ہے۔ پاخانہ صاف لاتا ہے۔ ہلکا ہلکا بخار رہتا ہو تو یہ چور ن نہایت مفید ہے۔

جوارش آملہ:
معدہ کو تقویت دیتی ہے، دل کی حرکات کو دور کرتی ہے اور صفراوی دستوں کو بند کرتی ہے۔

آملہ آٹھ تولہ، قند سفید ایک سیر، آملہ کو ایک سیر گائے کے دودھ میں 24 گھنٹہ تک تر رکھیں۔ بعدازاں آملہ کو دھوکر پانی میں جوش دے کر مل چھان کر اسی پانی میں چینی شامل کرکے قوام بنائیں۔خوراک چھ ماشہ صبح وچھ ماشہ شام ہمراہ عرق گاؤزبان یا پانی دیں۔ دیر ہضم اور بادی غذاؤں سے پرہیز رکھیں۔

‎جڑی بوٹیوں کی مزید معلومات کے لیے ہمارے پیج کو لائک فالو اور شئیر
‎کریں
Green Pakistan

بلبوس ، مسکاری ، بصل المسک ، کلاغک ، ☘️🧅☘️                           ، Muscari comosum ، Grape Hyacinthاردو : بلبوس ، ( ...
15/05/2026

بلبوس ، مسکاری ، بصل المسک ، کلاغک ، ☘️🧅☘️
، Muscari comosum ، Grape Hyacinth

اردو : بلبوس ، ( یونانی زبان سے لیا گیا ) ، مسکاری ،

ھندی : ھائیسنتھ ،

عربی : بصل المسک ، بصل الذئب ، بلبوس ، بصل الزيز ،

فارسی : کلاغک ، پیاز مشک ،

یونانی : بلبوس ،

انگریزی : Muskari ،Tassel Hyacinth ، Tassel Grape Hyacinth ، Muscari comosum

سائنسی نام : Muscari comosum ،
تاھم ، جدید نباتیاتی درجہ بندی میں اسے اب اکثر اس نام سے بھی پکارا جاتا ھے ـ

متبادل سائنسی نام : Leopoldia comosa ،

خاندان : Asparagaceae ( سابقہ Liliaceae یا Hyacinthaceae ) ۔

جنس : Muscari ( یا بعض اوقات Leopoldia کے تحت درجہ بند کی جاتی هے ) ۔

نوع : Muscari

🪻مسکاری ، جڑی بوٹی کا مقام پیدائش ، پہچان اور خصوصیات :

🪻🌍 بنیادی طور پر بحیرہ روم ( Mediterranean ) کے علاقے کا مقامی پودا هے ۔ یہ پودا جنوبی اور وسطی یورپ، شمالی افریقہ ، اور مغربی ایشیا میں کثرت سے پایا جاتا هے ۔

🪻⛳ اس کی دنیا بھر میں تقسیم اور رھائش کی تفصیلات درج ذیل هیں :

🪻⛳ بنیادی مقامی علاقے ( Native Range ) :

🪻⛳ بحیرہ روم کا خطہ ، اسپین ، پرتگال ، اٹلی ، فرانس ، اور یونان ۔ شمالی افریقہ ، مراکش ، الجزائر ، تیونس ، اور لیبیا ۔ مغربی ایشیا اور مشرق وسطیٰ ، ترکی ، عراق ، ایران ، لبنان ، شام ، اور قبرص ، جزائر ، کینری جزائر ۔

🪻⛳ دیگر علاقوں میں موجودگی :

🪻یہ پودا شمالی یورپ ، بشمول برطانیہ ( Great Britain ) میں بھی قدرتی طور پر ( naturalized ) پایا جاتا هے ۔
شمالی امریکہ ( USA کے مختلف حصوں ) ، نیوزی لینڈ ، اور آسٹریلیا میں بھی یہ متعارف کرایا گیا ھے ـ

💡🪻پاکستان 🇵🇰 میں موجودگی :

💡🪻پاکستان کے وہ علاقے جن کی آب و ھوا بحیرہ روم کے خطے سے ملتی جلتی ہے ( یعنی جہاں سردیاں سخت اور بہار معتدل ھوتی هے ) ، وھاں اس کے پائے جانے کے امکانات زیادہ ھوتے هیں ـ

🪻💡آزاد کشمیر : نیلم اور لیپہ ویلی کے بالائی مقامات ۔

🪻💡خیبر پختونخوا ( KPK ) : سوات ، چترال ، پارا چنار اور مری کے ارد گرد کے پہاڑی سلسلے ۔ ان علاقوں میں جنگلی سنبل کی بعض اقسام خود بخود بھی اگتی هیں ۔

💡🪻گلگت بلتستان : استور اور ہنزہ کے کچھ حصوں میں اس کی ملتی جلتی اقسام دیکھی گئی هیں ۔

🪻💡بلوچستان کے خشک پہاڑوں میں :

💡🪻چونکہ یہ پودا پتھریلی اور خشک زمین پسند کرتا هے ، اس لیے بلوچستان کے علاقے جیسے زیارت اور کویٹہ کے گردونواح میں اس کی نشوونما کے لیے ماحول سازگار هے ۔ یہاں کے بعض مقامی حکیم اسے پہاڑوں سے حاصل کرتے هیں ۔

🪻💡پنجاب اور سندھ ( کاشت کی حد تک ) :

💡🪻 پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں یہ پودا قدرتی طور پر نہیں پایا جاتا کیونکہ یہاں کی گرمی یہ برداشت نہیں کر سکتا ۔ تاھم پتوکی اور لاھور کی نرسریوں میں اسے آرائشی پودے ( Grape Hyacinth ) کے طور پر اگایا جاتا هے ۔

🩺 طبی مقاصد کے لیے اسے پنسار سٹورز پر زیادہ تر ایران یا افغانستان سے درآمد کر کے لایا جاتا هے ، جسے وھاں " بصل المسک " یا "کلاغک" کے نام سے فروخت کیا جاتا هے ۔

🪻🧅پاکستان میں پنسار سے خریدتے وقت پہچان :

🪻اگر آپ پاکستان میں اسے ڈھونڈ رھے هیں ، تو یہ آپ کو تازہ پودے کی شکل میں ملنا مشکل ھو گا ۔ آپ پنسار سٹور پر " بصل المسک " یا " پیازِ مشک " کے نام سے اس کی خشک گانٹھیں ( Bulbs ) طلب کر سکتے هیں ۔

💡ایک اھم مشورہ :

🧅 پاکستان میں جنگلی پیاز ( Wild Onion ) کی اور بھی بہت سی اقسام پائی جاتی هیں جو زھریلی ھو سکتی هیں ۔ اس لیے اگر آپ خود جنگل سے اسے تلاش کر رھے هیں ، تو جب تک اس کے بنفشی ٹسل ( جھالر ) والے پھول نہ دیکھ لیں ، اسے استعمال کے لیے ھرگز نہ نکالیں ـ

🪻پھولوں کا منفرد گچھا (Tassel Shape) :

🪻اس کی سب سے بڑی پہچان اس کے پھولوں کا انداز ھے ۔ اس کے تنے کے سب سے اوپر والے حصے پر دو طرح کے پھول ھوتے هیں :

🪻اوپری پھول :

🧅🪻چوٹی پر بنفشی یا گہرے نیلے رنگ کے پھولوں کا ایک گچھا ھوتا هے جو جھالر یا " ٹسل " ( Tassel ) کی طرح نظر آتا هے ۔ یہ پھول بانجھ ہوتے ہیں ( ان سے بیج نہیں بنتا ) اور صرف کیڑوں کو متوجہ کرنے کے لیے ھوتے هیں ۔

🪻 نچلے پھول :

🪻🧅 اس ٹسل کے نیچے تنے پر چھوٹے چھوٹے گھنٹی نما پھول ھوتے هیں جن کا رنگ بھورا یا زیتونی سبز ھوتا هے ۔ یہ وہ پھول هیں جن سے بیج بنتے هیں ۔

🧅 پیاز ( The Bulb ) :

🪻اگر آپ پودے کو زمین سے نکالیں تو نیچے ایک چھوٹی پیاز ملے گی :

🧅 یہ پیاز عام طور پر سفید یا کریمی رنگ کی ھوتی هے لیکن اس پر گلابی یا ارغوانی ( Purple ) رنگ کی جھلی ھو سکتی هے ۔
اس کا سائز ایک بڑے اخروٹ کے برابر ھوتا هے ۔

🪻🌱 پتے ( Leaves )

🌱🪻اس کے پتے لمبے ، تنگ اور زمین کے قریب سے نکلتے هیں ( جیسے پیاز یا لہسن کے پتے ) ۔

🌱 پتوں کا رنگ گہرا سبز ھوتا هے اور یہ تھوڑے گوشت دار ( Succulent ) محسوس ہوتے هیں ۔

🪻یہ عام طور پر بہار کے شروع میں نکلتے هیں ۔

🪻قد و قامت :

🪻اس کے پھولوں والا تنا عموماً 20 سے 60 سینٹی میٹر ( تقریباً 8 سے 24 انچ ) بلند ھوتا هے ۔

🪻تنا سیدھا اور مضبوط ھوتا هے جس پر کوئی پتا نہیں ھوتا ، پتے صرف جڑ کے پاس ہوتے ہیں۔
⛳ موسم اور مقام :

🪻یہ پودا زیادہ تر بہار کے آخر اور گرمیوں کے شروع میں نظر آتا هے ۔

🪻یہ خشک زمینوں ، کھیتوں کے کناروں ، اور پتھریلے راستوں پر خود بخود اگتا هے ۔
خلاصہ :

🧅🪻اگر آپ کو ایسا پودا نظر آئے جس کے پتے پیاز جیسے ھوں اور تنے کے اوپر بنفشی رنگ کی خوبصورت " جھالر " ھو جبکہ نیچے چھوٹے بھورے مٹکے جیسے پھول ھوں ، تو سمجھ لیں کہ یہ مسکاری ، کو موسم ہی هے ـ

🛡️ صحت کے فوائد :

🧅اس پودے کے پیاز ( Buls ) روایتی طور پر دواؤں اور خوراک کے طور پر استعمال ھوتے رھے هیں ۔

😋 اشتہا انگیز ( Appetizer ) :

📍یہ بھوک بڑھانے کے لیے استعمال کی جاتی هے ۔

✅ مدر بول ( Diuretic ) :

💦 یہ پیشاب آور خصوصیات رکھتی هے جو جسم سے فاسد مادوں کے اخراج میں مدد دیتی هے ۔

✅ دافع ورم :

🌀 روایتی طب میں اسے ورم اور سوزش کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا هے ۔

💪 قوتِ باہ ( Aphrodisiac ) :

🧅 اسے جنسی صحت اور قوت کے لیے بھی مفید مانا جاتا هے ۔

🛡️ اینٹی آکسیڈنٹ :

🔬 حالیہ تحقیق کے مطابق اس کے عرق میں آکسیڈیٹیو تناؤ ( Oxidative stress ) کو کم کرنے کی صلاحیت جوتی هے ۔

🌀 بیرونی استعمال :

🧅اس کے پیاز کو کچل کر جلد کی سرخی یا جلن پر بطور ضماد ( Poultice ) پولٹیس ، بھی لگایا جاتا هے ۔

💊 یونانی طبی اھمیت :

🧅 یونانی طب میں اس کے پیاز ( Bulb ) کو درج ذیل مقاصد کے لیے تجویز کیا جاتا هے ـ

💎 مدرِ بول ( Diuretic ) :

🌀 گردے اور مثانے کی صفائی کے لیے ۔

🌝 جالی ( Detergent ) :

💎 جلد کے داغ دھبے صاف کرنے کے لیے بطور ابٹن یا ضماد ۔

💪 مقویِ باہ ( Aphrodisiac ) :

💎 جنسی قوت کی ادویات میں جزو کے طور پر ۔

✅ محللِ اورام ، ( Anti inflammatory ) :

🌀 اندرونی اور بیرونی سوزش کو ختم کرنے کے لیے ۔

🧅🪨 کیمیائی اجزاء، وٹامنز اور معدنیات :

🧅اس پودے کے پیاز ( Bulbs ) میں قدرت نے درج ذیل اھم اجزاء رکھے هیں :

🛡️ وٹامنز :

🧅اس میں وٹامن C ( قوت مدافعت کے لیے ) اور وٹامن B6 پایا جاتا هے جو اعصابی نظام اور توانائی کے لیے ضروری هے ۔

🪨 معدنیات ( Minerals ) :

💎 یہ پوٹاشیم ، فاسفورس ، کیلشیم اور میگنیشیم کا اچھا ذریعہ ہے۔ فاسفورس اور میگنیشیم مردانہ ہارمونز کی پیداوار میں مددگار ثابت ھوتے هیں ۔

🧪🔬 فعال کیمیائی اجزاء ( Phytochemicals ) :

💎 سیپوننز ، Saponins :

🩸 یہ خون کی گردش کو بہتر بناتے هیں ۔

💎 فلیوونائڈز ، Flavonoids :

🛡️ طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس جو خلیوں کی ٹوٹ پھوٹ روکتے هیں ۔

💎 موسلیج ، Mucilage :

🌀 یہ مادہ سوزش کو کم کرتا هے اور رطوباتِ صالحہ پیدا کرتا هے ۔

💪 مردانہ جنسی طاقت کے لیے استعمال :

💎 طبِ یونانی اور بحیرہ روم کی روایتی طب میں اسے جنسی کمزوری دور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا هے ۔ اس کے بنیادی فوائد خون کی نالیوں کو کھولنے اور ٹیسٹوسٹیرون ( Testosterone ) کی سطح کو بہتر بنانے سے منسوب هیں ۔

🍽️ استعمال کے طریقے :

🥗 اچار کی شکل میں ( Lampascioni ) :

🌀 اٹلی اور یونان میں اسے " Lampascioni " کہا جاتا هے ۔ پیاز کو ابال کر اس کا کڑوا پانی نکال دیا جاتا هے اور پھر اسے زیتون کے تیل اور سرکے میں محفوظ کر لیا جاتا هے ۔ یہ طریقہ ہاضمے اور قوتِ باہ کے لیے بہترین سمجھا جاتا هے ۔

🧅 🎊 سفوف ( Powder ) کا طریقہ :

🧅 اس کے پیاز کو خشک کر کے باریک پیس لیں ۔

🥄🌑 ایک مخصوص مقدار میں سفوف کو رات سونے سے پہلے ایک گلاس نیم گرم دودھ کے ساتھ استعمال کیا جاتا هے ۔ ( یہ اعصابی طاقت کے لیے مفید هے ) ۔

🍯 شہد کے ساتھ معجون :

🧅🧉اس کے خشک پیاز کے سفوف کو ھم وزن شہد میں ملا کر معجون بنا لیں ۔ ایک محدود مقدار میں صبح اور شام استعمال کرنے سے مادہ منویہ کی کمی اور سستی دور ھوتی هے ۔

🧅✅ کڑواھٹ نکالنے کا طریقہ ( Des bittering ) اس کے لیے دو طریقے سب سے زیادہ مستعمل هیں :

✅ طریقہ الف : پانی میں بھگو کر رکھنا ( روایتی طریقہ ) ـ

🧅صاف شدہ پیازوں کو ایک برتن میں ڈال کر اس میں اتنا پانی ڈالیں کہ وہ مکمل ڈوب جائیں ۔

🕘 انہیں 24 سے 48 گھنٹوں کے لیے بھگوئے رکھیں ۔

🌀 ھر 6 سے 8 گھنٹے بعد پانی تبدیل کرتے رھیں ۔ جتنا زیادہ پانی تبدیل کریں گے ، کڑواھٹ اتنی ھی جلدی ختم ھو گی ۔

✅ ابالنے کا طریقہ ( تیز رفتار طریقہ ) :

🥣 ایک بڑے برتن میں پانی ابالیں اور اس میں پیاز ڈال دیں ۔

🫕 انہیں 15 سے 20 منٹ تک ابالیں ۔

🫗 ابلا ھوا پانی ( جو اب گہرا اور کڑوا ھو چکا ھو گا ) پھینک دیں اور پیاز نکال کر ٹھنڈے پانی سے دھوئیں ۔

🧅 اگر کڑواھٹ باقی محسوس ھو ، تو اس عمل کو ایک بار پھر دھرائیں ۔

🥣 ذائقہ بہتر بنانا ( اختیاری ) :

📍کڑواھٹ نکالنے کے بعد ، اسے مزید بہتر بنانے کے لیے درج ذیل کام کیے جا سکتے هیں :

🍶سرکہ اور نمک :

🫕 ابالنے کے بعد انہیں کچھ دیر کے لیے نمک ملے سرکے والے پانی میں رکھ دیں ، اس سے اس کی باقی ماندہ ناگواری بھی ختم ھو جاتی هے ۔

🫒🥃 زیتون کا تیل :

✅ طبی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ھو تو کڑواھٹ نکالنے کے بعد انہیں زیتون کے تیل میں ڈبو کر رکھنا ان کی افادیت کو بڑھا دیتا هے ۔

⚠️ ایک ضروری نوٹ :

🧅 اس کا کڑوا پانی پینا یا کچا پیاز زیادہ مقدار میں کھانا پیٹ میں شدید درد یا الٹی کا سبب بن سکتا هے ، اس لیے اوپر دیے گئے طریقے سے کڑواھٹ نکالنا لازمی هے ۔

🧅✅ بلبوس کا سفوف بنانے کا طریقہ :

🧅✅ خشک کرنے کا طریقہ :

☔سایہ میں خشک کرنا ( بہترین طریقہ ) : ایک صاف سوتی کپڑا بچھائیں اور ان قاشوں کو الگ الگ پھیلا دیں ۔ انہیں براہ راست تیز دھوپ میں رکھنے کے بجائے کسی ھوا دار کمرے یا سائے والی جگہ پر رکھیں ۔ دھوپ سے پودے کے نازک کیمیائی اجزاء ضائع ہو سکتے هیں ۔

🕘 وقت : اس عمل میں 3 سے 7 دن لگ سکتے هیں ، جب تک کہ پیاز بالکل سخت اور کڑک نہ ہو جائیں ( ایسے کہ ہاتھ سے توڑنے پر پاپڑ کی طرح ٹوٹیں ) ۔

🎊 سفوف بنانا (Grinding) :

🌀 جب قاشیں مکمل خشک ھو جائیں تو انہیں گرائنڈر میں ڈال کر باریک پیس لیں ۔
اس سفوف کو باریک چھلنی سے چھان لیں تاکہ موٹے ذرات نکل جائیں ۔

🫙 محفوظ کرنا ( Storage ) :

🎊🫙 تیار شدہ سفوف کو شیشے کے ایک خشک اور صاف جار ( Air tight Jar ) میں بھر کر رکھیں ۔
اسے نمی اور روشنی سے دور رکھیں تاکہ اس کی طبی طاقت برقرار رھے ۔

💪📍مردانہ طاقت کے لیے خوراک ( Dosage ) چونکہ یہ ایک طاقتور دوا مانی جاتی هے ، اس لیے عام طور پر اس کی مقدار درج ذیل رکھی جاتی هے ـ

🎊 مقدار : 2 سے 3 گرام ( تقریباً آدھا چھوٹا چائے والا چمچ ) ۔

✅طریقہ : رات کو ایک گلاس نیم گرم دودھ کے ساتھ استعمال کریں ۔

📍مزید افادیت کے لیے : آپ اس میں برابر وزن مصری یا سفید موصلی کا سفوف بھی ملا سکتے هیں ۔

⚠️ احتیاط : اگر آپ کو گردے کا کوئی مسئلہ هے یا نظامِ ھاضمہ بہت کمزور هے ، تو پہلے کم مقدار سے شروع کریں ـ

🎊🌀💪 سفوفِ مغلظ و مقوی :

💎 اجزاء :

🧅 بصل المسک کا خشک سفوف ، 50 گرام ، سفید موصلی ، 50 گرام ، اسگندھ ، 50 گرام ، مصری ( حسبِ ذائقہ کڑواھٹ کم کرنے کے لیے ) ، 100 گرام ،

🥣 تیاری :

🪒 ان تمام اشیاء کو الگ الگ پیس کر باریک سفوف بنا لیں اور پھر آپس میں اچھی طرح مکس کر لیں ـ

✅ استعمال کا طریقہ اور وقت
مقدار :

🥄 ایک چھوٹا چائے والا چمچ ( تقریباً 5 گرام ) ۔

🕘 وقت :

🌠 رات کو سونے سے دو گھنٹے پہلے یا صبح نہار منہ ۔

🌀 ذریعہ :

🥛 ایک گلاس نیم گرم دودھ کے ساتھ استعمال کریں ۔ دودھ اس دوا کے جذب ھونے میں مدد دیتا هے اور خشکی پیدا نہیں ھونے دیتا ۔

✅ خاص فوائد :

😌 اعصابی سکون :

🌀 اگر کام کی زیادتی سے تھکن رھتی ھو تو یہ مرکب بہت جلد توانائی بحال کرتا هے ۔

💦 جریان اور سرعتِ انزال :

🌀 یہ ان مسائل کے لیے بہت مفید ثابت ھوتا هے ۔

💪 پٹھوں کی مضبوطی :

🏋️ باڈی بلڈنگ یا سخت محنت کرنے والوں کے لیے بھی یہ ایک بہترین ٹانک هے ۔

⚠️ ضروری نوٹ :

🧆⚠️ استعمال کے دوران تلی ہوئی اشیاء ، زیادہ مرچ مصالحے اور کھٹی چیزوں سے پرھیز کریں تاکہ دوا اپنا پورا اثر دکھا سکے ۔

⚠️ اھم احتیاطی تدابیر :

🌀 کڑواھٹ دور کرنا :

🧅 اس کے کچے پیاز میں کڑواھٹ اور ہلکا زھریلا پن ھو سکتا هے ، اس لیے اسے استعمال سے پہلے 24 گھنٹے پانی میں بھگو کر رکھنا یا ابال کر پانی پھینکنا ضروری هے ۔

📍مقدار : ضرورت سے زیادہ استعمال پیٹ میں گیس یا مروڑ پیدا کر سکتا ھے ۔

🩸💡مشورہ : اگر آپ بلڈ پریشر یا دل کے مریض هیں ، تو اسے استعمال کرنے سے پہلے کسی مستند حکیم یا ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں ۔



Green Pakistan

متنازعہ ادویاتی پودے ( خار دار پودے )طبی ادویات میں کئی کانٹے دار پودے استعمال ھوتے ھیں جو اپنے ملتے جلتے کانٹے دار پتوں...
29/01/2026

متنازعہ ادویاتی پودے

( خار دار پودے )

طبی ادویات میں کئی کانٹے دار پودے استعمال ھوتے ھیں جو اپنے ملتے جلتے کانٹے دار پتوں کی وجہ سے اکثر علیحدہ علیحدہ شناخت کرنا دشوار ھوتے ھیں اور کٹارا کٹیلا ، کٹائ ، کنڈیاری وغیرہ ناموں سے پکارے جاتے ہیں ایسے ہی چند پودوں کی علیحدہ علیحدہ شناخت پیش خدمت ھے دوستوں سے گزارش ھے کہ وہ ایسے تمام پودوں کی تصاویر کو محفوظ کر لیا کریں تاکہ مستقبل میں شناخت اور حوالہ کے کام آ سکیں

1، قرطم۔
( Carthamus tinctorious )

اردو قرطم ، کسنبہ عربی۔ معصفر ، قرطم فارسی۔ قرطم ، رنگ زعفران ، کانشہ پنجابی۔ کسنبہ سندھی۔ پواڑی
کثیر شاخوں والی کھڑی 45 تا 60 سینٹی میٹر بلند سالانہ پودا ھے جس کی خام شاخیں سبز اور پختہ سفید رنگ ھوتی ھیں اس کی دو قسمیں ہیں ایک کانٹے دار اور دوسری بغیر کانٹے دار
کانٹے دار قسم کو بیجوں سے تیل حاصل کرنے اور بغیر کانٹوں والی قسم کو پھولوں سے دنگ حاصل کرنے اور چارہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ھے
پھول آتشی سرخ ، سرخ و پیلے یا صرف پیلے ھوتے ھیں تخم سفید رنگ حجم میں بنولہ کے برابر صنوبری شکل کے کسی قدر چپٹے چو گوشہ اور سفید مغز سفید اور چکنا کئی علاقوں ( سکردو ) میں اس کے پھولوں کی پنکھڑیوں کو زعفران کہتے ھیں اور انہیں زعفران کی جگہ استعمال کیا جاتا ھے

2، پوہلی
( Carthamus oxycanthi )

قرطم کی یہ قسم پاکستان میں گندم کے کھیتوں میں بہت زیادہ تعداد میں پائی جاتی ھے جو گندم کی کٹائی مشکل بنا دیتی ھے چونکہ اسے جانور بالکل نہیں کھاتے اسلئے اسے تلف کرنا مشکل ہو جاتا ھے مئی جون میں اسکے پودے ھوا کے زور پر دور دور تک لڑکتے جاتے ہیں جس سے اس کے بیجوں کا پھیلاؤ بہت زیادہ ھو جاتا ھے _

3 ، کٹائی کلاں
( Solanum indicum )

اردو ، جنگلی بینگن ، کٹائی کلاں فارسی کٹائی کلاں ، بادنجان دشتی ہندی۔ کٹیلی ، بڑی کٹیلی

چھوٹے چوبی تنے کا 2تا 4 فٹ اونچا پودا ھے جس کی کثیر تعداد میں شاخیں ہو تی ہیں تمام پودے پر تیز نوکدار اور تھوڑے پیچھے کی طرف مڑے ھوئے کانٹے ھوتے ھیں _ پتے بینگن کے پتوں کی مانند پھول ہلکے نیلے پھل بڑے آملے جتنا بالکل گول ملائم شاخ پر ایک ڈنڈی پر سیدھا لگا ہوا کچا سبز جس پر سفید داغ پختہ گہرا پیلا یا نارنجی پیلا

4، کٹائی خورد
( Solanum surattense )

اردو کٹائی خورد ، کٹیلی پنجابی۔ کنڈیاری
زمین پر پھیلا ہوا دائمی پودا شاخیں جڑ سے نکل کر چاروں جانب پھیلی ھو ئی پھیلاؤ 2 تا 4 فٹ شاخوں پر گھنے بربط نما پتے تمام پودے پر تیز اور باریک کانٹے پھول ستارہ نما ایک انچ قطر کا بنفشی یا جامنی مائل نیلا درمیان میں پیلے رنگ کے ریشوں کی ٹکیہ پھل بالکل گول کٹائی کلاں کے پھل کی مانند لیکن اس سے چھوٹے

5 ، ستیاناسی ( زرد پھول والی )
( Argemone mexicana )

چونکہ یہ ایک غیر ملکی پودا ھے اسلئے شروع میں اسکو بھی کانٹوں کی وجہ سے بھٹ کٹایا ، کٹیلا ، اجڑکانٹا ، شیال کانٹا وغیرہ نام دئیے گئے لیکن آخرکار اس کا نام ستیاناسی مشہور ھوا کیونکہ بقیہ نام اس کو دوسرے پودوں سے غلط ملط کر دیتے تھے
ایک تا چار فٹ اونچا نباتی تنے کا کھڑا یک سالہ پودا ھے پتے کٹائی خورد یا اونٹ کٹارا کی مانند تمام پودے پر تیز باریک کانٹے پودا زیادہ گھنا نہیں ھوتا پتوں پر سفید داغ پھول پیلے درمیان میں سرخ نشان ڈوڈا پون انچ چوڑا ڈیڑھ انچ لمبا پھانک دار جس میں گول سیاہی مائل خاکستری بیج ھوتے ھیں

ستیاناسی ( سفید پھول والی )
( Argemone munita )

یہ بھی زرد رنگ پھول والے پودے کی مانند ھے البتہ اس کے پتوں کا سائز چھوٹا ھوتا ھے پھول سفید رنگ جسکی چھ عدد بیضوی پنکھڑیاں درمیان میں پیلے رنگ کی ٹکیہ پھول مارچ تا ستمبر

7 ، اونٹ کٹارا
( Echinops cornigerus )

یہ وہ اصل اونٹ کٹارا ھے جس کا طبی کتب میں ذکر ھے تمام پودے پر تیز کانٹے شاخوں کے آخری سروں پر چھوٹے چھوٹے سفید پھولوں پر مشتمل گولے پھولوں کے ساتھ تیز باریک کانٹے شاخیں سفید رنگ قدیم دو تا چار فٹ

8 ، جگر کٹارا
( Silybum marianum )

انگریزی ، Milk thistle

یہ پودا بھی غیر ملکی ھے جو کچھ عرصہ قبل ھی پاکستان میں متعارف ھوا ھے اور جگر کو تندرست رکھنے کے لئے حیران کن شفائ تاثیر کا حامل ھونے کی وجہ سے مشہور ھو چکا ھے اسے عام طور پر اونٹ کٹارا کہا جاتا ھے لیکن میں نے خصوصیات کے لحاظ سے اسکا نام جگر کٹارا تجویز کیا ھے اور کتاب الادویہ جلد اول میں یہ اسی نام سے درج ھے
بڑے بڑے پتوں والا نباتی ناسوری تنے والا ایک تا ڈیڑھ میٹر بلند یک سالہ یا دوسالہ پودا ھے جسکا تنے کے علاوہ کوئی حصہ بھی کانٹوں سے خالی نہیں پتوں پر سفید رنگ کی بے ترتیب دھاریاں ھر شاخ کے سرے پر اکیلا پھول جس کے چاروں جانب افقی حالت میں لگے ہوئے کانٹے پھولداری تارینہ بہت زیادہ تعداد میں کرنی پنکھڑیاں کاسنی یا گلابی جامنی رنگت والی دنیا میں اسکی دو انواع ہیں جبکہ پاکستان میں اسکی ایک نوع اور دو اقسام ہیں سفید پھول اور گلابی جامنی پھول والی پھول میں 100 تا 190 عدد چھوٹے چھوٹے لمبوترے بھورے بیج ھوتے ھیں جن کے سروں پر باریک اور ملائم ریشے لگے ہوئے جنکی مدد سے یہ ھوا میں اڑتے پھرتے ہیں

9 ، برم ڈنڈی
( Tricholepis glaberrima )

انگریزی Globe Thistle

چھوٹی سالانہ 50 تا 100 سنٹی میٹر بلند بوٹی ھے جسکی زاویہ دار شاخیں ھوتی ھیں پتے بغیر ڈنڈی متبادل 3 تا 6 سینٹی میٹر لمبے نوکدار بیضوی لمبوترے خاردار دندانے دار پھول گلابی پنکھڑیاں کرنی ھر پھول سیدھی شاخ کے سرے پر اکیلا

Cirsium arvense ، 10

بنگالی ، سل کانٹا
دھلی ، کٹیلا ، کٹیلی
پنجاب ، بھُن بھُن

60 تا 100 سینٹی میٹر بلند سالانہ بوٹی ھے جس کے پتے بیضوی لمبوترے 5 تا 15 سینٹی میٹر اور کانٹے دار ھوتے ھیں پھول ہر شاخ کے سرے پر اکیلا ارغوانی یا سفید
یہ بوٹی گندم کے کھیتوں میں عام ھے جو نہ صرف اس کی کٹائی مشکل بنا دیتی ھے بلکہ اس کی پیداوار بھی 25 تا 30 فیصد کم کر دیتی ھے مدر بول ، قے آور ، مقوی اور دافع پیچش ھے

Address

Sharjah

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Green Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category