Akhtar Nadwi

Akhtar Nadwi public figure

02/04/2026

طالب علم تین باتوں کی گارنٹی دے تو میں اسے گارنٹی دیتا ہوں کہ وہ بڑا عالم بن جائے گا۔

دینی مدارس اور جامعات میں نئے سال کا آغاز ہو رہا ہے اور چند دنوں میں اسباق شروع ہو جائیں گے، طلبہ کرام کی خدمت میں حضرت تھانوی رح کا ایک ملفوظ پیش خدمت ہے

حضرت تھانوی رح نے فرمایا کہ مجھے طالب علم تین باتوں کی گارنٹی دیدے تو میں اسے گارنٹی دینے کے لیے تیار ہوں کہ وہ بڑا عالم بن جائے گا

(۱) روزانہ اگلے سبق کا مطالعہ اس طرح کرے کہ اسے مجہول اور معلوم کا علم حاصل ہوجائے، کونسی بات اسے معلوم ہوئ اور کونسی نہیں معلوم اس میں تفریق کر لے۔

(۲) استاد سے سبق کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرے، جو جگہ سمجھ نہ آئے وہ کسی عالم سے سمجھ لے اور کسی بھی سبق کو بغیر سمجھے آگے نہ جائے۔

(۳) نئے سبق کو کم از کم ایک بار دہرا لے، جو طالب علم دوسرے طلبہ کو تکرار نہیں کرا سکتا وہ درسگاہ کی تپائیوں کو سامنے رکھ کر بلند آواز سے سبق دہرائے

حضرت مولانا سعید احمد پالن پوری رح فرماتے ہیں امام اخفش کی بکری تھی وہ اپنا سبق بکری کے سامنے دہراتے تھے، بکری تو جاہل رہی لیکن اخفش امام بن گئے۔

سال کے آغاز سے ہی ان تین باتوں پر مضبوطی سے عمل پیرا ہو جائیے ان شاء اللہ آپ بڑے عالم دین بن جائیں گے۔

امام عطاء اللہ خان۔

12/11/2025
12/11/2025

PASHMINA WOOL SHANDAR QUALITY KA KAPDA

PANA 58 INCH DUBLE ARZ

RATE 199₹ MITR

Book your order now

https://wa.me/+918572083161

12/11/2025

*Original korean lachka*

*Best quality*

Pana 58 inch duble arz

Retail rate 250₹ mitr

Book your order

👇👇
https://Wa.me/+918572083161

خوشخبری خوشخبری ✨صرف آج  لئے اسپیشل آفر 🎉*جمعہ اسپیشل آفر**آنلاین شاپنگ کی جانب سے ایک اور شاندار آفر*🔸 ون ڈے آفر 🔸*👉 ای...
31/10/2025

خوشخبری خوشخبری ✨
صرف آج لئے اسپیشل آفر 🎉

*جمعہ اسپیشل آفر*

*آنلاین شاپنگ کی جانب سے ایک اور شاندار آفر*

🔸 ون ڈے آفر 🔸
*👉 ایک تولہ (399 روپے) خریدیں*
*👉 دوسرا تولہ بالکل فری پائیں 🎁*

💎 مشہور CR7 (کریشٹینو رونالڈو) خوشبو
✔ خوشبو: ہلکی میٹھی (Sweet)

📌 یاد رکھیں!
یہ آفر صرف آج رات 10 بجے تک ہے ⏳
اس کے بعد یہ موقع ختم ہو جائے گا۔

📲 ابھی آرڈر کرنے کے لئے دیے گئے WhatsApp نمبر پر رابطہ کریں۔
یہ سنہری موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں ✨

👇👇👇

https://Wa.me/+918572083161

21/07/2023

کیا آپ نے یونیفارم سول کوڈ کے مخالفت میں لا کمیشن کو اپنا جواب بھیج دیا ہے؟؟؟؟؟

اگر نہیں تو جلد از جلد نیچے دئیے گئے لنک کے ذریعے اپنا جواب لا کمیشن تک پہنچادیں۔

📌 واضح رہے لا کمیشن کو جواب بھیجنے کا یہ آخری دن ہے، آج رات بارہ بجے سے پہلے خود بھی جواب بھیجیں اور اپنے گھر والوں اور ساتھیوں کے ذریعے بھی جواب بھجوانے کی فکر کریں۔

👇👇🏽👇👇🏽👇👇🏽👇👇🏽
https://tinyurl.com/nouccisAIMPLB

https://topdeal.app.link/nwJcBcl9iAb
02/06/2023

https://topdeal.app.link/nwJcBcl9iAb

I have earned over Rs 5000 using EarnKaro.com. Try it now, it is a ZERO investment App to earn money from home. Just share amazing deals & earn maximum profits!

  12؍مئی 2023ء🎯 ازدواجی زندگی اور اُسوۂ نبوی ﷺنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم امابعد! أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ...
12/05/2023

12؍مئی 2023ء

🎯 ازدواجی زندگی اور اُسوۂ نبوی ﷺ

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم امابعد! أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (النساء : ۱۹) صدق الله العظيم
میزبان کا مہمان کے ساتھ ، تاجر کا گاہک کے ساتھ ، ملازم کا افسر کے ساتھ اور ایک دوست کا دوسرے دوست کے ساتھ بہتر برتاؤ کرنا دشوار نہیں ، ان لوگوں کے ساتھ بھی خوش اخلاقی کا ثبوت دینا آسان ہے ، جن سے گاہے گاہے ملاقات ہوتی ہو ؛ لیکن شوہر اور بیوی کا رشتہ ایسا رشتہ ہے ، جس میں ہر وقت کا ساتھ ہے ، خلوت میں اور جلوت میں ، دن کی روشنی اور رات کی تاریکی میں ، صبح و شام اور شب و روز ، اس ہمہ وقتی رفاقت میں خوشی کے لمحات بھی آتے ہیں ، رنج و غم کی ساعتیں بھی آتی ہیں ،اور غصہ ا ور ناراضگی کے واقعات بھی پیش آتے ہیں ؛ اس لئے انسان دوسروں کے ساتھ تو مصنوعی خوش اخلاقی برت کر کام چلا سکتا ہے اور دو چہروں کے ساتھ زندگی گزارسکتا ہے ، ایک اس کا مصنوعی چہرہ جس میں نرمی ، خوش اخلاقی ، شرافت اور اظہار محبت ہو ، وہ باہر کی دنیا میں اسی چہرے سے اپنا تعارف کرائے ، دوسرا چہرہ اس کا حقیقی چہرہ ہو ، جس میں بد اخلاقی ، سخت کلامی ، غیظ و غضب اور درشتی و تند خوئی ہو ۔لیکن شوہر اور بیوی کا تعلق چوںکہ ہر سرد و گرم میں ہوتا ہے ؛ اس لئے یہاں مصنوعی اخلاق کے ذریعے اپنی بد اخلاقی کو چھپایا نہیں جاسکتا ؛ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے بہترین شخص اس کو قرار دیا ، جس کے اخلاق اچھے ہوں ، پھر فرمایا کہ تم میں بہتر شخص وہ ہے ، جس کا رویہ اس کے گھر والوں کے ساتھ بہتر ہو ، اور یہ کہ میں تم سب سے زیادہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ بہتر برتاؤ کرنے والاہوں ’’ خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلہٖ وَاَنَا خَیْرُکُمْ لِاَھْلِی‘‘ ( سنن ترمذی ) اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول اللہﷺ کی حیاتِ طیبہ اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کا بہترین نمونہ ہے !
رسول اللہ ﷺ کو ’دعوت دین ‘ علوم نبوت کی اشاعت اور مختلف قبائل کی دل داری کے مقصد سے خصوصی طورپر چار سے زیادہ نکاح کی اجازت دی گئی تھی؛ چنانچہ بحیثیت مجموعی گیارہ پاک بیویاں آپ کے نکاح میں رہیں : حضرت خدیجہ بنت خویلدؓ ، حضرت سودہ بنت زمعہؓ ، حضرت عائشہ بنت ابی بکرؓ ، حضرت حفصہ بنت عمرؓ ، حضرت زینب بنت خزیمہؓ ، حضرت اُم سلمہ بنت ابی اُمیہؓ ، حضرت زینب بنت جحشؓ ، حضرت جویریہ بنت حارثہؓ ، حضرت اُم حبیبہ بنت ابی سفیانؓ ، حضرت صفیہؓ ، حضرت میمونہؓ ،ازواج کی کثرت کے باوجود آپ ﷺ کا اپنی ازواج کے ساتھ ہمیشہ اعلیٰ درجے کا سلوک رہا ، اور کیوں نہ ہو کہ اللہ تعا لیٰ نے بیویوں کے ساتھ بہتر سلوک کا حکم فرمایا ہے : ’’وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ‘‘ (النساء : ۱۹) یعنی بیویوں کے ساتھ بہتر طریقہ پر زندگی گزارو ، یہ ایک جامع تعبیر ہے ، جس میں خوش اخلاقی ، مروت اور پاس و لحاظ کی تمام صورتیں داخل ہیں اور حیاتِ طیبہ بیویوں کے ساتھ اس مثالی طرز زندگی کی عملی شکل پیش کرتی ہے۔بیوی کے ساتھ حسن سلوک کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس کی خوبیوں کا ذکر کیا جائے اور اس سے محبت کا اظہار ہو ، یہ انسانی فطرت ہے کہ اگر اس کی تعریف کی جائے یا اس سے محبت کا اظہار کیا جائے تو اس کو خوشی ہوتی ہے ؛ لیکن خاص کر اگر شوہر اپنی بیوی کی تعریف کرے تو یہ اس کے لئے سب سے قیمتی سوغات ہوتی ہے ، اس کو لگتا ہے کہ اس کی محنت وصول ہوگئی ؛ چنانچہ آپ ﷺ اپنی بیویوں کے لئے تعریفی کلمات بھی فرمایا کرتے تھے ؛ چنانچہ حضرت عائشہؓ کے بارے میں فرمایا : جیسے تمام کھانوں میں ثرید عمدہ ہوتا ہے ، اسی طرح حضرت عائشہؓ تمام عورتوں میں بہترین عورت ہے : ’’إنَّ فَضْلَ عَائِشَۃ عَلَی النِّسَاءِ کَفَضْلِ الثَّرِیْدِ عَلیٰ سَائِرِ الطَّعَامِ‘‘ (بخاری )اُم المومنین حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد بھی آپﷺ ہمیشہ ان کا ذکر خیر فرماتے تھے ؛ اسی لئے حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حالانکہ میں نے حضرت خدیجہؓ کو نہیں دیکھا ؛ لیکن مجھے ان ہی پر سب سے زیادہ رشک آتا تھا ، آپ ﷺان کا بار بار تذکرہ فرماتے ، بکرا ذبح کرتے تو خود سے اس کے ٹکڑے کرتے اور حضرت خدیجہؓ کی سہیلیوں کو بھیجتے ، حضرت عائشہؓ نے ایک بار غلبۂ رشک میں عرض کیا کہ گویا دنیا میں خدیجہؓ کے سوا کوئی عورت ہی نہیں تھیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ إنَّھَا کَانَتْ وَکَانَ لِیْ مِنھَاوَلَد ‘‘ ( بخاری ) یعنی وہ بڑی خوبیوں کی مالک تھی ، اور ان ہی سے مجھے اولاد حاصل ہوئی۔(فتح الباری : ۷؍۱۳۷) ایک اور موقع پر آپ نے ان کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرمایا : جب لوگوں نے انکار کیا ، اس وقت وہ ایمان لائیں ، جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا ، اس وقت انھوں نے میری تصدیق کی ، جب لوگوں نے مجھے محروم کرنا چاہا، اس وقت انھوں نے اپنے مال سے میری غمگساری کی اور اللہ نے ان کے ذریعے مجھے اولاد عطا فرمائی ، ( مسند احمد ، حدیث نمبر :۲۴۹۰۴) — اکثر جب کسی شخص کی بیوی کا انتقال ہوجاتا ہے اور وہ دوسرا نکاح کرتاہے تو اپنی پہلی بیوی کی خدمات اور اس کی قربانیوں کو فراموش کردیتا ہے ، آپ ﷺنے اپنے اس ارشاد سے اس بات کا سبق دیا کہ ایسا نہ ہونا چاہئے کہ نئے رشتے کی وجہ سے پرانے رشتے کو فراموش کردیا جائے ۔آپ ﷺازواجِ مطہرات سے اپنی محبت کا اظہار بھی فرماتے تھے اور اس میں تکلف سے کام نہیں لیتے تھے ؛ چنانچہ آپ نے حضرت خدیجہؓ کے بارے میں فرمایا کہ مجھ کو ان کی محبت عطا فرمائی گئی ہے : ’’إنِّیْ رُزِقْتُ حُبّھَا‘‘ (مسلم ، کتاب الفضائل، حدیث نمبر : ۲۴۳۵) — حضرت عمرو بن عاصؓ نے ایک موقع پر دریافت فرمایا کہ آپ کو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : عائشہؓ سے ، (دیکھئے : اللؤ لؤ والمرجان ، حدیث نمبر : ۱۵۲۴) اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص لوگوں کے درمیان اپنی بیوی سے محبت اظہار کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔پھر آپ اپنے سلوک کے ذریعے بھی محبت کا احساس دلاتے تھے ؛ چنانچہ آپ ﷺ بعض دفعہ اپنی کم سن زوجۂ مطہرہ کو پیار سے ’’ یا عائش ‘‘ کہتے تھے ، ( مسلم ، کتاب الفضائل ، حدیث نمبر ۲۴۴۷) — اظہار محبت کی ایک تعبیر یہ ہے کہ آپ نے ایک بار حضرت عائشہؓ سے فرمایا : یہ جان لینے کے باوجود کہ جنت میں بھی تم میری بیوی رہوگی ، مجھے موت کی پرواہ نہیں رہی : ’’ مَا أبَا لِی بِالْمَوتِ بَعْد أنْ عَرَفْتُ أنَّکِ زَوْجَتِیْ بِالْجَنَّۃ‘‘ (کنز العمال ، حدیث نمبر : ۳۴۳۶۴) — غور کیجئے کہ محبت کے اس بول نے حضرت عائشہؓ کو کس قدر شاد کام کیا ہوگا کہ اس میں جنت میں رفاقت نبوی ﷺ کا مژدہ بھی ہے اور آپ ﷺ کی محبت کا اظہار بھی ، ایک موقع پر حضرت عائشہؓ نے دریافت کیا کہ آپ کی مجھ سے کیسی محبت ہے یعنی آپ مجھ سے کس درجہ محبت فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : رسی کی گرہ کی طرح ، یعنی گرہ جیسی مضبوط ہوتی ہے اور کھولے نہیں کھلتی ، اسی طرح تم سے میری محبت ہے ، حضرت عائشہ ؓنے استفسار کیا : یہ گرہ کیسی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جیسی تھی ویسی ہی ہے ، یعنی اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ (حلیۃ الاولیاء : ۲؍۴۴) — رسول اللہ ا نے نہ صرف خود ازواج مطہرات کے ساتھ اس طرح محبت اور لگاؤ کا اظہار کیا ؛ بلکہ اُمت کو بھی اس کی تلقین فرمائی ؛ چنانچہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا : تم جو بھی خرچ کروگے ، اس پر اجر پاؤگے ، یہاں تک کہ جو لقمہ اپنی بیوی کے منھ میں رکھوگے ، اس میں بھی اجر ہے : إنَّکَ لَنْ تُنْفِقْہ نَفْقَۃً إلَّا أجرت عَلَیْھا حَتّٰی اللُّقْمَۃ تَرْفَعُھَا إلٰی فِی إمْرَاتِکَ (نسائی ، کتاب عشرۃ النساء ، حدیث نمبر : ۹۱۸۶) اس میں یوں تو انفاق کی ترغیب دینا مقصود ہے ؛ لیکن ایک لطیف اشارہ بیوی کے ساتھ اظہار محبت کا بھی ہے کہ شوہر اپنے ہاتھوں سے بیوی کو لقمۂ کھلائے ، یہ لقمہ محبت پیٹ ہی کی نہیں دل کی بھی غذا بن جاتا ہے ۔آپ قدم قدم پر ازواج مطہرات کی دل داری کا لحاظ رکھتے تھے ، یہاں تک کہ سِن و سال کے تقاضوں کا بھی خیال فرماتے تھے ، حضرت عائشہؓ جب آپ کے نکاح میں آئیں تو ان کی عمر کم تھی اور انھیں اس طرح کے کھیل کا شوق تھا ، جو کم عمر بچیوں میں ہوا کرتا ہے ، ایک دفعہ عید کے موقع سے حضرت ابوبکرؓ حاضر خدمت ہوئے ، آپ ﷺ نے کپڑا اوڑھ رکھا تھا اور دو کم عمر لڑکیاں حضرت عائشہؓ کے سامنے دف بجا رہی تھیں ، حضرت ابوبکرؓ نے اس پر ناگواری ظاہر کی تو آپ نے روئے انور سے کپڑا ہٹا دیا اور حضرت ابوبکرؓ سے فرمایا : انھیں چھوڑ دو ، یہ عید کا دن ہے — حبشی لوگ ایسے خوشی کے موقع پر اپنے کرتب دکھاتے تھے ، حضرت عائشہؓ کو ان کے دیکھنے کی خواہش ہوئی ، تو آپ ﷺکھڑے ہوگئے ، اورحضرت عائشہؓ آپ کے مونڈھے پر ٹیک لگاکر حبشیوں کا نیزے کا کھیل دیکھتی رہیں اور جب تک خود تھک نہ گئیں ، آپ ان کی رعایت میں کھڑے رہے ۔(مسلم ، حدیث نمبر : ۸۹۲)

Address

Village Baskikita
Godda
814160

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Akhtar Nadwi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Akhtar Nadwi:

Share