Maktaba-e-azad patna

Maktaba-e-azad patna stockist of islamic , arabic , persian urdu , turkish and english etc

09/08/2025

"یہ ویڈیو صرف تعلیمی مقاصد کے لیے ہے۔ کسی بھی نفرت یا تشدد کی حمایت نہیں کی جا رہی۔"

22/06/2025

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جُرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات!

تقدیر کے مفتی نے ازل کے دن سے فتویٰ دے رکھا ہے، کمزوری کے جرم کی سزا ناگہانی موت کے سوا کچھ نہیں، یعنی جو کمزور اور بے قوت ہیں وہ اسی طرح دوسروں کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔جس طرح تیتر شکار ہو گیا۔ اگر وہ اپنے اندر شاہین کی قوت پیدا کر کے بلندیوں پر اڑتا رہتا تو کسی شکاری کا تیر اس تک نہ پہنچ سکتا۔ دنیا میں طاقتور قوم زندہ اور آزاد رہ کر حکومت کرتی ہے اور کمزور قوم مر مٹ جاتی ہے۔

اس شعر میں علامہ اقبالؒ نے قوموں کی زندگی، ان کے عروج و زوال اور قوت و کمزوری کے اصول پر روشنی ڈالی ہے۔ "تقدیر کے قاضی" سے مراد وہ آفاقی قانون یا الٰہی نظام ہے جو کائنات پر حکم فرما ہے۔ اقبال یہاں تقدیر کو ایک قاضی (جج) سے تشبیہ دیتے ہیں، جو عدل و انصاف کے اصولوں کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔"یہ فتویٰ ہے ازل سے" یعنی یہ فیصلہ یا اصول ازل سے طے شدہ ہے، یعنی ازل سے اٹل اور غیر متبدل قانون ہے کہ جو قوم یا فرد کمزوری، بزدلی، یا بے عملی اختیار کرتا ہے، وہ تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔"جرمِ ضعیفی" سے مراد صرف جسمانی کمزوری نہیں بلکہ کرداری، فکری، اخلاقی اور ایمانی کمزوری ہے۔ اقبال کے نزدیک اگر کوئی قوم اپنی خودی، غیرت، حریت فکر اور قوتِ عمل کھو دے، تو وہ کمزور ہو جاتی ہے۔ "مرگِ مفاجات" یعنی اچانک موت۔ یہ ایک ایسی موت ہے جو غفلت، بے خبری یا تیاری کے بغیر آ جائے۔
اقبال اس شعر کے ذریعے خبردار کرتے ہیں کہ دنیا کی کوئی قوم اگر کمزور ہو جائے، فکری، عملی یا روحانی طور پر ،تو اس کی سزا یقینی اور فوری تباہی ہے۔یہ کائنات میں ایک ناگزیر اور اٹل قانون ہے جسے "تقدیر کا فیصلہ" کہا جا سکتا ہے۔یہ شعر امتِ مسلمہ، بالخصوص نوجوانوں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ اگر وہ سستی، کم ہمتی، غلامی اور مایوسی جیسے جذبات کو اپنائیں گے، تو ان کے مقدر میں ذلت اور نابودی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

اقبال کا پیغام یہ ہے کہ قوت، خودی، اور عمل کے بغیر بقا ممکن نہیں!

نظم: ابو العلا معرّیؔ
کتاب: بالِ جبریل

22/06/2025

اس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے
قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف

شرح:
علامہ اقبال اس شعر میں قوموں کی زبوں حالی اور ان کے زوال کا بنیادی سبب بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ وہ قوم جو اپنی "خودی" یعنی اپنی اصل، اپنی شناخت، اپنی باطنی طاقت، اپنے روحانی وقار اور مقام کو نہ پہچان سکے اور نہ ہی اس کے ساتھ انصاف کر سکے، اس قوم کی تقدیر میں غلامی (محکومی) اور ذلت (مظلومی) لکھی جا چکی ہے۔
یہاں "خودی" صرف انفرادی شعور نہیں بلکہ قومی خودداری، خود شناسی اور خود مختاری کا استعارہ ہے۔ اقبال اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اگر کوئی قوم اپنی عزت، خوداری، تہذیب، تاریخ، دینی شعور اور اپنے فکری ورثے کو بھول جائے یا نظرانداز کرے، تو ایسی قوم آزادی کے باوجود غلام ہو جاتی ہے — اس کے فیصلے دوسروں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں، وہ ذلیل ہوتی ہے، محکوم بنتی ہے، اور دنیا کی امّتوں میں اپنا وقار کھو بیٹھتی ہے۔
اقبال کا پیغام واضح ہے کہ قوم کی عزت، ترقی اور آزادی "خودی" کی پہچان میں پنہاں ہے۔ جب تک قوم اپنی خودی سے انصاف نہیں کرتی، یعنی اس کو پہچانتی اور اس پر عمل نہیں کرتی، تب تک اس کے حالات بدلنے کی کوئی امید نہیں۔

نظم:دِین و تعلیم
کتاب: ضربِ کلیم

22/06/2025
05/06/2025
04/06/2025

غزہ میں اسرائیل کے ظلم و ستم پر بے حسی کا لبادہ اوڑھے تمام مسلم ممالک ( ماسوائے ایران) کے مکافاتِ عمل کا وقت عنقریب شروع ہونے والا ہے۔داعش (ISIS) نامی عفریت...

04/06/2025

Lahore University 1998 Urdu MushairaMuzaffar Warsi Poetry in UrduMuzaffar Warsi Poetry - He is a heart-touching and famous Hamd poet, who has written several...

Address

Opposite Government Polytechnic
Patna
800007

Opening Hours

Monday 9am - 10pm
Tuesday 9am - 10pm
Wednesday 9am - 10pm
Thursday 9am - 10pm
Friday 9am - 10pm
Saturday 9am - 10pm
Sunday 9am - 9pm

Telephone

+918789934730

Website

http://www.hotmail.com/, http://www.twitter.com/

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maktaba-e-azad patna posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Maktaba-e-azad patna:

Share

Category