08/07/2022
وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۹۶)
اور اگر بستیو ں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے مگر انہوں نے تو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے پکڑلیا۔
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ(۱۰)یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ(۱۱)وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ(۱۲)
تو میں نے کہا: (اے لوگو!) اپنے رب سے معافی مانگو، بیشک وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے۔وہ تم پر موسلا دھار بارش بھیجے گا۔اور مالوں اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغات بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا۔
لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ
اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا
لَوْ أَنَّكُمْ تَوَكَّلْتُمْ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ (قال عمر فی سنن ترمذی)
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم اللہ پر ویسے بھروسہ کرو جیسا کہ بھروسہ کرنے کا حق ہے تو تمہیں ایسے رزق دیا جائے جیسے پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے۔
مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَه(متفق علیہ)
جو کوئی چاہتا ہے اس کے رزق کو اس کے لئیے پھیلا اور بڑھا دیا جائے وہ رشتے داروں سے صلہ رحمی کرے( یعنی تعلقات میں قطع تعلقی ختم کرے)
أنفِقْ يا ابن آدم يُنفَقْ عليك
خرچ کرو اللہ کی مخلوق پر تم پر خرچ کیا جائے گا!
قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم وَإِذَا قُلْتَ: اللهُمَّ ارْزُقْنِي قَالَ اللهُ: قَدْ فَعَلْتُ
دعا سے بھی رزق ملتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تو "اللهم ارزقني" اے اللہ! مجھے رزق دے،تو اللہ تعالیٰ کہے گا: میں نے تجھے رزق دینے کا فیصلہ کر دیا۔