31/05/2026
https://www.facebook.com/share/p/1CWJUuZhT1/
جمہوریت یا جارحیت؟؟؟؟
اس وقت پوری دنیا میں سے تین ممالک مرکز نگاہ ہیں۔ امریکہ جارحیت کی وجہ سے، ایران اپنے دفاع کی وجہ سے اور پاکستان ثالثی کوششوں کی وجہ سے۔ تینوں ممالک اپنے اپنے انداز کا جمہوری نظام رکھتے ہیں لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔ تینوں ممالک کے نظام میں عوام کی شراکت صفر کے برابر ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ مروجہ جمہوریت کتنی مفید ہے، ہم صرف یہ دیکھیں گے کہ اپنی ہی اپنائی ہوئے جمہوریت پہ کتنا عمل کیا جا رہا ہے؟
امریکہ خود کو جمہوریت کا قائد سمجھتا ہے لیکن اس وقت امریکی عوام اپنے صدر کے سامنے بے بس ہے۔ جارحانہ کاروائیوں کا تسلسل امریکہ کو غاصب اور ظالم لٹیرے کے روپ میں پیش کر رہا ہے۔ تمام تر احتجاج اور مخالفت کے باوجود صدر کے بے لگام اختیارات پہ قدغن لگانا ممکن نہیں ہو سکا۔ جس کے نتیجے میں امریکی عوام مہنگائی، عدم تحفظ اور بے چینی کا شکار ہے۔
ایران کی جمہوریت نے ملک کو ایسی تنہائی میں دھکیل رکھا ہے جو ظلم پہ مبنی جارحیت کے باوجود ختم نہیں ہو سکی۔ اس پہ لگائے جانے والے الزامات مختلف ممالک کی جانب سے دہرا ئے جا رہے ہیں لیکن اس کے خلاف ہونے والی جارحیت کی مذمت کرنے والے انگلیوں پہ گنے جا سکتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ تیل کی دولت سے مالا مال ملک کی عوام مہنگائی، بے روزگاری، عدم تحفظ اور پریشانی کا شکار ہے۔
پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے ایران کی طرف سے جارحیت کا سامنا بھی کیا لیکن جب ایران کے خلاف جارحیت کی گئی تو ایسی پالیسی کے ساتھ متحرک ہو گیا جو نہ صرف اس جارحیت کا خاتمہ کر سکے بلکہ پورے خطے کو امن کا گہوارہ بنا سکے۔ آفرین ہے پاکستان کی پچیس کروڑ عوام پہ کہ اس نے کھل کر اپنی حکومت کا ہر مشکل میں ساتھ دیا۔ پیٹرول کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ، مذاکرات کی سہولت کاری کے لئے کئی دن تک اسلام آباد میں سناٹے کا راج، سوشل میڈیا پہ حکومت پاکستان کی کاوشوں کی ستائش، وغیرہ جیسے مرحلوں میں استقامت کا مظاہرہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستانی قوم صابر بھی ہے اور شاکر بھی۔
کیا وقت آ نہیں گیا کہ آئی ایم ایف کی جی ایس ٹی کو 19 فی صد تک بڑھانے جیسی تجویز کو رد کرنے کے کے لئے عوام سے رجوع کیا جائے؟؟؟ کوئی پاکستانی اپنے ملک کو مشکل حالات میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ لیکن خود بھی مشکل میں نہیں رہنا چاہتا۔ ملک میں نہ ہی وسائل کی کمی ہے نہ ہی ٹیلنٹ کی۔ اس سے فائدہ تب ہی اٹھایا جا سکتا ہے جب حکومت اپنی عوام پہ بھروسہ کرتے ہوئے ملکی امور چلانے میں عوام سے براہ راست مشاورت کرے۔ وزیراعظم سے درخواست ہے کہ وفاقی سطح پہ آن لائن پورٹل قائم کیا جائے جہاں عوام مختلف معاملات پہ براہ راست تجاویز اور مشورے دے سکیں۔ اس پورٹل پہ وصول ہونے والی تجاویز کے جائزے اور ردعمل کے لئے تھنک ٹینک بنائے جائیں تا کہ انہیں قابل عمل بنایا جا سکے۔ آئی ایم ایف سے بھی جان چھوٹے اور عوام میں ملک کے لئے اپنائیت کا احساس پروان چڑھے۔
اللہ کا حکم بھی یہی ہے کہ مومن اپنے امور باہمی مشاورت سے طے کرتے ہیں۔ پاکستان کے استحکام کے لئے اس سے بہتر اور آسان کام کوئی نہیں ہو سکتا۔