Al-Ansar Society

Al-Ansar Society Helping people in gardening with style All the office bearers work as volunteers.

This is a community based welfare organization founded in 1994.It was registered with the social welfare department NWFP,Pakistan in 1995.It works for the welfare of widows and orphans who are unable to earn their livelihood due to some unavoidable reasons.Its aim is to make such deserving people stand at their own feet economically.For this purpose Al Ansar Society (AAS) has a three prong strateg

y.Under short term and quick relief it provides monthly stipend to widows and orphans.As a long term strategy it provides education to the deserving children free of cost at its educational project,Al-Ansar Academy.To improve the level of wisdom and as a project for character building it has a School of Islamic education; Al -Ansar Madrasa-tul-Quraan.All the work is financed by general donations .

https://www.facebook.com/share/p/1ChxCCKKEf/
13/06/2026

https://www.facebook.com/share/p/1ChxCCKKEf/

بجٹ 2026-27 ؟؟؟

سمت درست ہو تو منزل مل ہی جاتی ہے لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔ معاشی استحکام کی خواہش رکھتے ہوئے بھی اس کے لوازمات پورے نہ کرنا منزل کو دور تر کر دیتا ہے۔
اس منزل کے حصول کے لئے پہلا قدم اخراجات پہ قابو پانا ہے جس کا بظاہر کوئی امکان نہیں۔
دوسرا قدم دستیاب وسائل کا دانشمندانہ استعمال ہے۔ زرعی شعبے میں کئے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں زرعی پیداوار تو کسی حد تک بڑھ گئی ہے لیکن اس پیداوار سے معاشی فائدہ اٹھانے کی تدبیر نہ کرنے کے نتیجے میں کسان اپنے نقصان کا رونا رونے پہ مجبور ہے۔
تیسرا قدم درپیش مسائل کا حل اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ باہمی مشاورت ہے جو نمائشی سے عملی درجے میں داخل نہیں ہو سکی۔
چوتھا اہم قدم قرض کی لعنت سے جان چھڑانا ہے لیکن بجٹ سے متعلق اخباری خبروں کے مطابق 800 ارب صرف سود کی ادائیگی کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔
اس سے آگے کچھ لکھنے کی ہمت نہیں۔ اللہ ہمارے وطن پہ رحم فرمائے۔ اپنی زندگی میں ملک میں معاشی استحکام دیکھ لیں تو مرنا آسان ہو جائے گا۔

https://www.facebook.com/share/p/1HKHYvcRjM/
11/06/2026

https://www.facebook.com/share/p/1HKHYvcRjM/

ثمرات۔۔۔؟؟؟؟

قومی اقتصادی سروے کے مطابق 2025 میں سات لاکھ سے زائد پاکستانی روزگار کے لئے بیرون ملک گئے۔ کل ہی کی خبر کے مطابق مئی 2026 میں ساڑھے چار ارب ڈالر کی ترسیلات زر پاکستان آئیں۔ یہ اعدادو شمار سرکاری اداروں کے پیش کردہ ہیں۔ ان سے قومی پالیسی کی درست سمت کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔ دونوں اعشارئے گزشتہ سالوں کی نسبت بڑھوتری ظاہر کرتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں نوجوانوں کے باہر جا کے روزگار حاصل کرنے پہ تشویش نہیں ہونی چاہئے کیوں کہ وہ ملکی معیشت کی بہتری میں کردار ادا کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ آبادی میں اضافے کو اپنے سر پہ سوار کر کے اسے کم کرنے کے لئے قومی خزانہ سے خرچ کرنے کی بجائے اسے قومی وسائل کی فہرست میں شامل کرنا چاہئے اور ہیومن ریسورس کی بہتر مینیجمنٹ پہ وسائل لگا کے مزید بہتر نتائج حاصل کرنے پہ توجہ مبذول کرنی چاہئے۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ آبادی میں اضافہ اور پھر مسلسل کمی ایک قدرتی عمل ہے جس کا ادراک اور پیشگی تیاری آبادی میں خوفناک اور بے ترتیب زیادتی اور کمی جیسے چیلنج سے نمٹنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں بسنے والے تمام لوگ اپنے کنبے کے کم از کم ایک فرد کو ضرور باہر بھیجنے کی منصوبہ بندی کریں۔ یہ نہ صرف آپ کے کنبے کے لئے اچھا ہے بلکہ قومی معیشت کے لئے بہتر ہے۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ براہ مہربانی غیر قانونی طریقے اور بدنام زمانہ ایجنٹوں کو لاکھوں روپے دینے سے گریز کریں۔ یہ اولاد کو مگرمچھ کے حوالے کرنے کے مترادف ہے۔ قانونی ذرائع اختیار کریں اور بہتر منصوبہ بندی کی طرف توجہ دے کر بھی جائز طریقے سے باہر روزگار کے حصول کے مواقع مل جاتے ہیں ۔ اس عمل کا تسلسل نہ صرف معیشت کے لئے سہارا ہو گا بلکہ اندرون ملک روزگار کے مواقع بڑھانے میں بھی مددگار ہو گا۔ تنخواہ اور معاوضے کی شرح بھی بہتر ہو گی۔ نئی سرمایہ کاری بھی ممکن ہو سکے گی۔

دبئی چلو نہ سہی، باہر چلو کا نعرہ تو لگایا ہی جا سکتا ہے۔

https://www.facebook.com/share/p/1GW1nVFfSn/
09/06/2026

https://www.facebook.com/share/p/1GW1nVFfSn/

دلِ کافر ؟؟؟

آج صبح موبائل کھولتے ہی ایک پوسٹ نظر کے سامنے آ گئی۔ سفید داڑھی کے ساتھ ایک خوبصورت تصویر نے پوسٹ پڑھنے پہ مجبور کیا۔ معلوم ہوا کہ یہ تصویر کراچی میں مبینہ طور پہ اپنی بیوی کو قتل کرنے والے شخص کی ہے جس نے اعترافی بیان دیتے ہوئے جنسی تعلق سے انکار پہ اپنی بیوی قتل کر دی۔ یہاں تک تو بات خبروں کے حوالے سے تھی لیکن آگے مسلمانوں والا نام رکھنے والے نے اس واقعے کو براہ راست دین سے جوڑتے ہوئے قرآنی آیات کا حوالہ دیا اور دینی تعلیمات کو اس کا ذمہ دار قرار دیا۔ خالق کائنات کے احکام کو مسلمانوں کے تنزل کی وجہ قرار دیتے ہوئے دین کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا انداز ظاہر کر رہا تھا کہ اگر موصوف کے اختیار میں ہوتا تو قرآنی احکامات (نعوذباللہ) منسوخ کرنے سے دریغ نہ کرتا۔ اسلامی احکامات کے خلاف موصوف کے جذبات کی شدت نے مجھے ساری پوسٹ پڑھنے سے روک دیا اور میں نے پوسٹ ڈیلیٹ کر دی۔ لیکن سوچتا رہا کہ کیا نور مقدم کا معاملہ بھی دین پہ عمل کا نتیجہ تھا؟؟

اے دل کافر آخر ترا کروں میں کیا

قرآنی آیات کا ترجمہ جان لینا کافی نہیں۔ جب تک اس کا مکمل پس منظر اور فلسفہ سمجھ نہ لیا جائے تب تک گمراہ ہونے کے امکانات بھی موجود رہتے ہیں۔ انسان اپنی آزادیء فکر کی وجہ سے اشرف المخلوقات بن گیا لیکن میدان عمل پہ دین کی لگائی گئی قدغن کو نظر انداز کرنا گمراہی کا سبب بن جاتا ہے۔ سوچ و فکر کا بے لگام استعمال اسی قسم کے نتائج دیتا ہے۔ سوچ و فکر ضرور کریں لیکن حدود وقیود کا خیال رکھیں۔ علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا؛

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور

اگر قرآن کی آیات سمجھنے میں دشواری ہو تو شہوت کی زیادتی سے بچنے کا نسخہ اللہ کے رسول ﷺ نے بھی بتا دیا ہے کہ کثرت سے روزے رکھو تا کہ حیوانی جبلت قابو میں رہے۔ اگر اس بوڑھے شخص کا عمل دینی تعلیمات کا نتیجہ تھا تو پھر روزے رکھنے کی دینی تعلیم اس کی نظروں سے اوجھل کیسے رہ گئی؟؟ مغرب میں ناقابل یقین حد تک ہونے والے دلخراش جنسی جرائم کے پیچھے کونسی دینی تعلیمات کارفرما ہیں؟؟؟ اصل وجہ دین نہیں بلکہ من کی خرابی ہے۔

خود اپنی مستی ہے جس نے مچائی ہے ہلچل
نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل

دین پہ تنقید کرنے سے پہلے دین کو سمجھ لیا جائے تو تنقید کی نوبت ہی نہیں آتی اور انسان گمراہی سے بچ جاتا ہے۔

https://www.facebook.com/share/p/1ELdfV57ng/
07/06/2026

https://www.facebook.com/share/p/1ELdfV57ng/

آزادی نہیں چاہئے ۔۔؟؟؟

وطن عزیز میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جن کا رویہ عجیب ہے اور دانش میں غریب ہیں۔ پرہشر گروپ بنا لینا اور مطالبات کی لمبی فہرست بنا کے ایک ایک کو پیش کر کے احتجاج کی آڑ میں توڑ پھوڑ کرنا، گھیراؤ جلاؤ کرنا، قتل و غارت کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ ایک مطالبہ مان لو تو تین اور پیش کر دیتے ہیں۔ تین مان لو تو پانچ اور آ جاتے ہیں۔ یہ بلیک میلر نام بدل بدل کر اور بھیس بدل بدل کر کاروائیاں کرتے ہیں۔ پرانے لوگ ان سے خوب واقف ہیں لیکن نئی نسل ان کے فریب میں آ جاتی ہے اور انہیں مظلوم سمجھ کے انہیں اخلاقی اور بعض اوقات عملی مدد فراہم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں جرائم پیشہ لوگوں کا نیٹ ورک وسیع سے وسیع تر ہو جاتا ہے۔

حکومت سے درخواست ہے کہ ان کے وطن دشمن عزائم کے خلاف باقاعدہ آگاہی مہم چلائی جائے تا کہ معصوم نوجوان ان جتھوں کے ہتھے چڑھنے سے محفوظ رہیں۔

یاد رکھئے! ہر وہ آزادی جو ملکی استحکام کو متزلزل کرے مسترد کی جاتی ہے کیوں کہ غیرت مند لوگ جان تو قربان کر سکتے ہیں لیکن اپنے وطن پر آنچ نہیں آنے دیتے۔ ایسی آزادی کو ہم لات مارتے ہیں جس سے دشمن ہماری صفوں میں دراڑیں ڈالنے کے قابل ہو جائے۔ ہر ایسا حق جس کے مطالبے کے نتیجے میں وطن کا نقصان ہو حق نہیں کہلاتا بلکہ وطن فروشی کہلاتا ہے۔ ایسے حقوق اور ایسے مطالبات کرنا محب وطن لوگوں کا شیوہ نہیں ہوتا۔

پیار سے نہ سمجھنے والوں کی بلیک میلنگ ختم کرنا ملکی کی بقا، استحکام اور خوشحالی کے لئے از بس ضروری ہے۔ حکومت ایسے گروہوں کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کرے تا کہ پچیس کروڑ عوام کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے۔

پاکستان زندہ باد
پاکستانی عوام پائندہ باد

https://www.facebook.com/share/p/18vW3quBNu/
05/06/2026

https://www.facebook.com/share/p/18vW3quBNu/

امرود کی حفاظت ؟؟؟

فروٹ فلائی کا شکار گرمی میں پکنے والی فصل پہ ہوتا ہے۔ جس کے نتیجے میں امرود پکتے ہی سنڈی سے بھر جاتا ہے اور قابل خوراک نہیں رہتا۔ گھروں میں لگے پودوں کا پھل اسی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے۔ پھل کوئی بھی ہو اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے اسے ضائع ہونے سے بچانا چاہئے۔ خود بھی کھائیں اور پڑوسیوں کو بھی کھلائیں۔

امرود کے پھل کی مکھی (فروٹ فلائی )

پھل کی مکھی پھل میں ڈنک مار کر زخم کرتی ہے جس سے پھلوں پر پنکچر کے نشانات بن جاتے ہیں ۔
پھلوں میں لاروا پھل کا گوا کھاتا رہتا ہے جس سے حملہ کی جگہ پھلوں کی جسامت نرم ہوجاتی ہے ۔
امرود پھل کی مکھی کی لمبائی تقریباً 5 ملی میٹر ہوتی ہے اور اس کا رنگ سیاہ اور پیلا ہوتا ہے ۔

پھل کی مکھی کی روک تھام

متاثرہ پھل کو توڑ کر زمین میں دبا دیا جائے۔
امرود کے پھلوں کی مکھیوں سے متاثرہ درختوں کے اڈوں کے ارد گرد ہل چلانا مکھی کے پیوپے کو سورج کی تپش اور قدرتی دشمنوں سے نقصان پہنچانے کا باعث بنتا ہے۔
امرود کے پھلوں کی مکھیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے کچھ علاقوں میں فیرومون ٹریپ کا کامیابی سے استعمال کیا جاتا ہے۔
فلوریڈا میں سالانہ لاکھوں جراثیم سے پاک کیریبین پھلوں کی مکھیاں متعارف کرائی جاتی ہیں تاکہ سٹرس پر آبادی کو کنٹرول کیا جاسکے۔

کیمیائی کنٹرول

کلوتھیانیڈن 100 ملی لیٹر فی 100 لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔

(Guava advisory)

https://www.facebook.com/share/p/1D283mSDq6/
04/06/2026

https://www.facebook.com/share/p/1D283mSDq6/

جرائم کی شرح؟؟؟

باقی دنیا کو چھوڑئیے، اپنے وطن پاکستان میں جرائم کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ کوئی راز نہیں۔ ہم وہ وقت نہیں بھولے جب کسی شہر میں ایک قتل ہو جانا بھی کئی ہفتوں تک خبروں میں رہتا تھا۔ اب تو ہر چھوٹے بڑے شہر میں کئی انسان اپنی جان سے روزانہ کی بنیاد پہ ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ کسے یاد رکھیں اور کس کس کا ماتم کریں؟

آخر انسان درندہ کیوں بن جاتا ہے؟؟؟ اس سوال پہ غور نہ کرنا ہی جرائم میں اضافے کا بڑا سبب ہے۔ مجموعی طور پہ ہمارے معاشرے میں انسانی اقدار کی اہمیت ختم ہو چکی ہے۔ چھوٹے چھوٹے جرائم سے چشم پوشی بڑے جرائم کے ارتکاب کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔

پہلے محلے کے بچوں کو سانجھا سمجھا جاتا تھا اور ان کی تربیت محلے کے بزرگ مشترکہ طور پہ کرتے تھے۔ اب تو اپنے بچے بھی تربیت کرنے پہ آنکھیں دکھاتے ہیں۔ سلام کا رواج بلکہ فریضہ تو ترک کیا ہی ہے لیکن دوسرے کو دیکھ کے مسکرانا تک بھول گئے ہیں۔ دکان ہو یا دفتر ، داخل ہوتے ہی سلام کا تبادلہ کیا جاتا تھا لیکن اب دکان اور دفتر والے موبائل کے ساتھ اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ آنے والے کو لازماً اس کے فارغ ہونے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

دودھ میں ملاوٹ، گلے سڑے پھل اور سبزیوں کی فروخت، جھوٹ بول کے اپنا کام نکلوانا، اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا اور دوسرے کے حق سلب کرنا، دوسرے سے اچھے رویئے کی امید اور خود کا فرعونی انداز ، وغیرہ کہیں باہر سے درآمد نہیں کئے گئے۔ یہ سب اسی معاشرے میں نسل در نسل سکھایا جا رہا ہے۔ کا روباری ہوں یا ملازمت پیشہ، سیاسی ہوں یا غیر سیاسی، قیادت ہو یا عوام؛ اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کے دیکھ لیں کہ آپ کس برائی کی ٹریننگ دے رہے ہیں؟

یہ ٹریننگ قوت برداشت کا خاتمہ کر رہی ہے۔ غلط کام کرنے والا بھی اسے اپنا حق سمجھتا ہے جب کہ دوسرا اسے غلط کہتا ہے اور اپنی حق تلفی سمجھتا ہے۔ یہ مفادات کا ٹکراؤ ہی انسان کے اندر موجود درندے کو باہر نکال دیتا ہے۔ اس کے بعد ہر برائی نیکی نظر آنے لگتی ہے۔ دھوکہ، جھوٹ، چغلی، خیانت، آبروریزی، قتل، ڈکیتی، وغیرہ نیکی کی طرح لگنے لگتا ہے۔ ہر برے کام سے پہلے اس کا جواز تلاش کر کے خود کو مطمئن کر لیا جاتا ہے کہ میں حق پہ ہوں۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حق اور ناحق کا فیصلہ بھی ایک دن ہونا ہے۔ یہ حقیقت ہم بھول جاتے ہیں۔

اللہ کریم ہماری قوت برداشت میں اضافہ فرمائے۔ ہمیں حق اور سچ کا علمبردار بنائے۔ دوسروں کے حقوق کا احترام اور احساس کرنے والا بنائے۔ اور ہر انسان کے اندر موجود درندے سے ہماری حفاظت فرمائے، آمین یا رب العالمین

https://www.facebook.com/share/p/1U8ZRdDGVE/
03/06/2026

https://www.facebook.com/share/p/1U8ZRdDGVE/

ترقی کا ماڈل؟؟؟؟؟

بجٹ کی آمد آمد ہے۔ ٖحکومتی ادارے بہترین بجٹ پیش کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ عوام اپنے اپنے مفادات پہ بجٹ کے اثرات کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں۔ آئی ایم ایف ہمیں ڈیفالٹ کی طرف جانے سے بچانے کے لئے شرائط کے انبار کے ساتھ مستعد کھڑا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی مفادات قربان کرنے کے لئے تیار نہیں۔ عوام سے مشورہ کرنا ہمارے وطن میں ایک فضول عمل سمجھ کے قابل غور نہیں سمجھا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ کروڑوں عوام کے دماغ زنگ آلود ہو رہے ہیں اور پورا ملک چند دماغوں پہ تکیہ کرنے پہ مجبور ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق انکم سپورٹ کے نام سے بانٹی جانے والی خیرات کا حجم 716 ارب ہے۔ ایک کروڑ خاندان اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ سہ ماہی قسط 13500 روپے دی جاتی ہے۔ بظاہر یہ عمل بہترین ہے لیکن اسے بہتر بنانے کے لئے کچھ تجاویز پہ عمل کرنا سود مند ہو سکتا ہے۔

ایک کروڑ خاندان کو مستحق قرار دینا دراصل ایک غلط فہمی ہے۔ اس وقت مہنگائی کی رفتار کے نتیجے میں ایک کروڑ کو غیر مستحق اور باقی سب مستحق بن چکے ہیں۔ جن کی کفالت محدود 716 ارب روپے سے ممکن نہیں۔ کشکول کی عادت اور عزت نفس کا مجروح ہونا اس پہ مستزاد ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اس رقم میں سے آدھی ہی سبزی اور پھلوں کی ویلیو ایڈیشن کی صنعت لگانے کے لئے استعمال کی جائے۔ اس سے ایک تو چند ہزار ماہانہ کی بجائے ضرورتمندوں کو مستقل روزگار ملے گا اور دوسری طرف کسانوں کو اپنی پیداوار کا بہترین صلہ ملے گا۔ فصلیں ضائع ہونے سے بچیں گی۔ اگلے سال اس تجربے کو مزید پھیلایا جا سکتا ہے۔ ہر سال کا صوبے اور فصل کے حساب سے پلان ترتیب دیا جا سکتا ہے جو غربت کے خاتمے کے لئے دیر پا اثرات مرتب کرے گا۔

ترقی مچھلی کھلانے سے نہیں بلکہ مچھلی پکڑنا سکھانے سے آئے گی۔ اللہ ہمارے پیارے وطن کے ہر فرد کو خوشحال بنائے اور ملک کی خوشحالی میں اپنا حصہ ڈالنے کے قابل بنائے، آمین

https://www.facebook.com/share/p/1CWJUuZhT1/
31/05/2026

https://www.facebook.com/share/p/1CWJUuZhT1/

جمہوریت یا جارحیت؟؟؟؟

اس وقت پوری دنیا میں سے تین ممالک مرکز نگاہ ہیں۔ امریکہ جارحیت کی وجہ سے، ایران اپنے دفاع کی وجہ سے اور پاکستان ثالثی کوششوں کی وجہ سے۔ تینوں ممالک اپنے اپنے انداز کا جمہوری نظام رکھتے ہیں لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔ تینوں ممالک کے نظام میں عوام کی شراکت صفر کے برابر ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ مروجہ جمہوریت کتنی مفید ہے، ہم صرف یہ دیکھیں گے کہ اپنی ہی اپنائی ہوئے جمہوریت پہ کتنا عمل کیا جا رہا ہے؟

امریکہ خود کو جمہوریت کا قائد سمجھتا ہے لیکن اس وقت امریکی عوام اپنے صدر کے سامنے بے بس ہے۔ جارحانہ کاروائیوں کا تسلسل امریکہ کو غاصب اور ظالم لٹیرے کے روپ میں پیش کر رہا ہے۔ تمام تر احتجاج اور مخالفت کے باوجود صدر کے بے لگام اختیارات پہ قدغن لگانا ممکن نہیں ہو سکا۔ جس کے نتیجے میں امریکی عوام مہنگائی، عدم تحفظ اور بے چینی کا شکار ہے۔

ایران کی جمہوریت نے ملک کو ایسی تنہائی میں دھکیل رکھا ہے جو ظلم پہ مبنی جارحیت کے باوجود ختم نہیں ہو سکی۔ اس پہ لگائے جانے والے الزامات مختلف ممالک کی جانب سے دہرا ئے جا رہے ہیں لیکن اس کے خلاف ہونے والی جارحیت کی مذمت کرنے والے انگلیوں پہ گنے جا سکتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ تیل کی دولت سے مالا مال ملک کی عوام مہنگائی، بے روزگاری، عدم تحفظ اور پریشانی کا شکار ہے۔

پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے ایران کی طرف سے جارحیت کا سامنا بھی کیا لیکن جب ایران کے خلاف جارحیت کی گئی تو ایسی پالیسی کے ساتھ متحرک ہو گیا جو نہ صرف اس جارحیت کا خاتمہ کر سکے بلکہ پورے خطے کو امن کا گہوارہ بنا سکے۔ آفرین ہے پاکستان کی پچیس کروڑ عوام پہ کہ اس نے کھل کر اپنی حکومت کا ہر مشکل میں ساتھ دیا۔ پیٹرول کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ، مذاکرات کی سہولت کاری کے لئے کئی دن تک اسلام آباد میں سناٹے کا راج، سوشل میڈیا پہ حکومت پاکستان کی کاوشوں کی ستائش، وغیرہ جیسے مرحلوں میں استقامت کا مظاہرہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستانی قوم صابر بھی ہے اور شاکر بھی۔

کیا وقت آ نہیں گیا کہ آئی ایم ایف کی جی ایس ٹی کو 19 فی صد تک بڑھانے جیسی تجویز کو رد کرنے کے کے لئے عوام سے رجوع کیا جائے؟؟؟ کوئی پاکستانی اپنے ملک کو مشکل حالات میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ لیکن خود بھی مشکل میں نہیں رہنا چاہتا۔ ملک میں نہ ہی وسائل کی کمی ہے نہ ہی ٹیلنٹ کی۔ اس سے فائدہ تب ہی اٹھایا جا سکتا ہے جب حکومت اپنی عوام پہ بھروسہ کرتے ہوئے ملکی امور چلانے میں عوام سے براہ راست مشاورت کرے۔ وزیراعظم سے درخواست ہے کہ وفاقی سطح پہ آن لائن پورٹل قائم کیا جائے جہاں عوام مختلف معاملات پہ براہ راست تجاویز اور مشورے دے سکیں۔ اس پورٹل پہ وصول ہونے والی تجاویز کے جائزے اور ردعمل کے لئے تھنک ٹینک بنائے جائیں تا کہ انہیں قابل عمل بنایا جا سکے۔ آئی ایم ایف سے بھی جان چھوٹے اور عوام میں ملک کے لئے اپنائیت کا احساس پروان چڑھے۔

اللہ کا حکم بھی یہی ہے کہ مومن اپنے امور باہمی مشاورت سے طے کرتے ہیں۔ پاکستان کے استحکام کے لئے اس سے بہتر اور آسان کام کوئی نہیں ہو سکتا۔

Address

Mandian
Abbottabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Ansar Society posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Al-Ansar Society:

Shortcuts

Share