07/11/2024
پی آئی اے کی نجکاری جاری ہے۔
سوچیں اگر پی آئی اے کو وڑائچ طیارے والوں نے خرید لیا تو کیا بنے گا؟
سب سے پہلے جہاز کو رنگ برنگے رنگ روغن کیے جائیں گے۔
پھر جہاز کے اندر رنگین ناڑے اور پراندے وغیرہ ٹانک کر سجاوٹ کی جائے گی۔
جہاز کے پیچھے "ہارن دو، راستہ لو" لکھوایا جائے گا۔
جہاز کے رونوں طرف اردو میں وڑائچ طیارہ لکھوا کو نیچے درج ذیل شعر لکھوائے جائیں گے۔
وہ ہمیں بے وفا کہتے ہیں تو کہتے رہیں فراز
امی کہتی ہیں، جو کہتا ہے، وہ خود ہوتا ہے
ایک فائدہ یہ بھی ہو گا آپ کو ایڈوانس ٹکٹ وغیرہ لینے کے جھنجھٹ سے آزادی مل جائے گی، آپ نے صرف جہاز میں آ کر بیٹھنا ہے اور جہاز کے ٹیک آف کرتے ہی کنڈیکٹر خود ہی آپ سے سٹاپ پوچھ کر ٹکٹ کاٹ دیا کرے گا۔۔ ٹکٹ لیتے وقت اسٹوڈنٹ کارڈ پر ڈسکائونٹ بھی ملے گا۔
جیسے ہی جہاز بلندی پر پہنچے گا، آپ کو ایک آواز آئے گی، "اے پائی صیب، بندہ حقیر تواڈی خدمت وچ۔۔۔۔" اور اس کے ساتھ ہی پھکی اور عطر بیچنے لگ جائے گا۔
آپ کا سٹاپ آنے سے پہلے ہی کنڈیکٹر آواز لگائے گا، "چلو وئی چلو، جدہ والے اتر جاؤ"۔
جہاز میں جو ہارن لگوایا جائے گا، اس کو سن کر پورا آسمان جہازوں سے خالی ہو جایا کرے گا۔
ٹیک آف کرتے کرتے بھی سواریاں بٹھانے کی گنجائش ہو گی۔
پائیلٹ، وردی کی بجائے کندھے پر صافہ رکھے گا اور نسوار دانتوں کے نیچے دبا کر بیٹھا کرے گا
اسٹاپوں کے نام بدل جائیں گے،جیسے کوالالمپور شریف، بنکاک منڈی وغیرہ۔
موسم چاہے سرد ہو یا گرم،، جہاز کی کھڑکیاں کھلی ہی رہا کریں گی
اس بات کا تعین ابھی ہونا باقی ہے کہ جہاز ایئرپورٹ سے اڑا کرے گا یا لاری اڈے سے