Allied Bazar

Allied Bazar online store, garments, cosmetics, Health,

17/01/2022

‏‎حالانکہ یہ صرف فارمیسیوں پر نہیں ہے بلکہ سب ریٹیلرز پر ہے اور ہے بھی ایڈوانس ٹیکس جو ایڈجسٹبل ہوتا .
15/07/2021

‏‎حالانکہ یہ صرف فارمیسیوں پر نہیں ہے بلکہ سب ریٹیلرز پر ہے اور ہے بھی ایڈوانس ٹیکس جو ایڈجسٹبل ہوتا .

07/07/2021
07/07/2021

’میں اپنے گھریلو اخراجات کا پچاس فیصد سے زائد حصہ قومی بچت سکیموں میں کی گئی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع سے پورا کرتا ہوں۔ اس منافع پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کے بعد حکومت مجھے بتائے کہ اب میں کہاں سرمایہ کاری کروں کیونکہ سٹاک مارکیٹ اور رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ لگانا میرے بس کی بات نہیں ہے۔‘

یہ الفاظ لاہور میں مقیم 70 سالہ محمد طارق کے ہیں جنھوں نے اپنی جمع پونجی قومی بچت سکیموں میں لگا رکھی ہے۔ اُن کی اہلیہ کا، جو ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہیں، پیسہ بھی قومی بچت سکیموں میں لگا ہوا ہے۔

محمد طارق منافع پر ٹیکس کی شرح بڑھانے پر شکوہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قومی بچت سکیموں میں پیسے اس لیے لگائے تھے کہ ’بڑھاپے میں آرام سے ایک لگی بندھی آمدن حاصل ہو سکے اور گھریلو اخراجات پورے کیے جا سکیں، مگر پہلے شرح سود میں کمی کی وجہ سے منافع کی شرح میں کمی واقع ہوئی تو اب منافع پر ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی ہے۔‘

انھوں نے ٹیکس کی شرح بڑھانے کو اس معاہدے کی بھی خلاف ورزی قرار دیا جو قومی ادارہ بچت اور سرمایہ کار کے درمیان اس وقت کیا جاتا ہے جب وہ اپنا پیسہ لگا رہے ہوتے ہیں۔

محمد طارق حکومت کی بچت سکیموں پر ٹیکس کی شرح بڑھنے پر پریشانی کا شکار ہونے والے اکیلے شخص نہیں ہیں۔

سرکاری ملازمت سے 20 سال قبل ریٹائر ہونے والے چوہدری اظہر علی نے حکومت کی جانب سے ملنے والی گریجویٹی اور پراویڈنٹ فنڈ کی رقم قومی بچت سکیموں میں لگا دی تھی۔ پنشن اور قومی بچت سکیموں میں سرمایہ کاری سے ملنے والے منافع سے چوہدری اظہر علی کا اچھا گزر اوقات ہو رہا ہے اور ضعیف العمری میں بھی ان ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن کی وجہ سے وہ کسی مالی تنگی کا شکار نہیں ہیں۔

تاہم قومی بچت سکیموں پر حاصل ہونے والے نفع پر نئے مالی سال 22-2021 کے بجٹ میں ٹیکس کی شرح پچاس فیصد تک بڑھانے پر چوہدری اظہر علی نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے بوڑھے اور ضعیف افراد کے ساتھ زیادتی کے مترادف قرار دیا ہے۔

ان افراد کے پاس سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد قومی بچت سکیموں میں سرمایہ کاری کر کے ایک معقول نفع کمانے کا پرکشش ذریعہ تھا تاہم ٹیکس کی شرح بڑھنے سے ان کی آمدنی میں کٹوتی ہوگی اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب مہنگائی کی شرح بلندی کی جانب گامزن ہے۔

قومی بچت سکیموں میں سرمایہ کاری سے ملنے والے نفع پر ٹیکس کی شرح بڑھنے پر بزرگ خاتون شگفتہ حلیم نے بھی شکوہ کیا۔

شگفتہ حلیم کے شوہر سرکاری ملازمت کرتے تھے اور بیس اکیس برس قبل ریٹائرڈ ہونے کے بعد انھوں نے بھی اپنا سرمایہ قومی بچت سکیموں میں لگا دیا۔ ان کی وفات کے بعد ان کی بیوہ کو اس سرمایہ کاری پر ایک معقول منافع ملنا شروع ہو گیا تھا۔

ان سکیموں پر ملنے والے نفع سے شگفتہ حلیم کی مالی ضروریات پوری ہو رہی ہیں لیکن نفع پر ٹیکس کی شرح بڑھنے سے وہ مضطرب ہیں اور انھوں نے آمدن میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان میں ٹیکس اور قومی بچت سکیموں کے امور پر نظر رکھنے والے افراد نے ٹیکس کی شرح بڑھانے کو چھوٹے سرمایہ کاروں خاص کر پنشنرز، بیواؤں اور بوڑھے افراد کے ساتھ ایک ’ناانصافی‘ قرار دیا ہے جن کے لیے یہ شعبہ ایک پُرکشش ذریعہ آمدن رہا ہے۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے قومی بچت سکیموں سے حاصل ہونے والے نفع پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کا اقدام اس وقت اٹھایا گیا ہے، جب ان سکیموں میں پچھلے کچھ عرصے سے سرمایہ کاری میں کمی واقع ہوئی ہے۔ جس کے پس پردہ بہت سارے عوامل ہیں جن میں سے ایک اینٹی منی لانڈرنگ کے قوانین میں سختیاں بھی شامل ہیں، جس نے اس شعبے میں بھی سرمایہ کاری کو متاثر کیا ہے۔

ٹیکس کی شرح میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟

وفاقی وزارت خزانہ کے تحت چلنے والے ادارہ برائے قومی بچت کی جانب سے جاری کیے گئے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق نئے مالی سال میں قومی بچت سکیموں میں سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس فائلر کو 15 فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑے گا تو دوسری جانب نان فائلر کے منافع سے 30 فیصد ٹیکس کٹوتی ہوگی۔

واضح رہے کہ ٹیکس کی نئی شرح کے اطلاق سے پہلے ان سکیموں میں سے پانچ لاکھ تک کے منافع پر فائلر سے 10 فیصد اور نان فائلر سے 20 فیصد ٹیکس وصول کیا جاتا تھا جب کہ پانچ لاکھ سے زائد کے منافع پر ٹیکس کی شرح 15 فیصد فائلر اور 30 فیصد نان فائلر کے لیے تھی۔

ٹیکس کی نئی شرح کے مطابق 15 فیصد فائلر اور 30 فیصد نان فائلر پر ٹیکس کا اطلاق ان سرمایہ کاروں پر ہو گا، جن کا منافع پانچ لاکھ تک ہے۔ پانچ لاکھ سے منافع تجاوز ہونے پر یہ ریٹ 35 فیصد تک جا سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے نئے ٹیکس کا اطلاق موجودہ مالی سال کے آغاز یعنی یکم جولائی سے ہو چکا ہے اور اس کا اطلاق قومی بچت کی تمام سکیموں ماسوائے بہبود سرٹیفکیٹ، پنشن بینفٹ سرٹیفکیٹ اور شہدا فنڈ پر ہوگا۔

ٹیکس کی نئی شرح کن سرمایہ کاروں کو متاثر کرے گی؟

حکومت کی جانب سے قومی بچت سکیموں پر ٹیکس کی شرح بڑھانے سے کون سے سرمایہ کار متاثر ہوں گے؟ اس بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سکمیوں میں زیادہ تر چھوٹے سرمایہ کار ہوتے ہیں جو ایک ایک ریگولر اور محفوظ منافع چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ان سرمایہ کاروں میں بوڑھے افراد، بیواؤں، پنشنرز کے ساتھ وہ افراد بھی شامل ہیں جو سرمایہ کاری کے دوسرے ذرائع جیسے سٹاک مارکیٹ یا بینکوں میں پیسہ نہیں لگاتے کیونکہ سٹاک مارکیٹ ایک رسکی بزنس ہے تو دوسری جانب بینکوں کے مقابلے میں قومی بچت سکیمیں سرمایہ کاری کے لیے زیادہ پرکشش ذریعہ رہی ہیں۔

ماہر ٹیکس امور ڈاکٹر اکرام الحق نے حکومت کی جانب سے قومی بچت سکیموں سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کو ایک منفی پیش رفت قرار دیا ہے اور ان کے مطابق یہ اقدام ان سکیموں پر سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرے گا۔ انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا اگرچہ بہبود سرٹیفکیٹ، پنشنرز سرٹیفکیٹ پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے تاہم یہ لازمی نہیں ہے کہ ضعیف افراد اور بیوہ خواتین صرف ان دو سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کریں گے۔

ڈاکٹر اکرام نے بتایا کہ اس اقدام سے چھوٹا سرمایہ کار سب سے زیادہ متاثر ہوگا کیونکہ ان بچت سکیموں میں اب زیادہ تر یہ افراد پیسہ لگاتے ہیں۔

قومی بچت سکمیوں میں زیادہ تر سرمایہ کاری کرنے والے افراد چھوٹے سرمایہ کار ہیں جنھیں سالانہ منافع پانچ لاکھ سے کم ملتا ہے اور ان میں اکثریت نان فائلر کی ہے جو 30 فیصد ٹیکس ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔ ان افراد کے ٹیکس فائلر نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایسے افراد نے جب ان سکیموں میں پیسہ لگایا تھا تو اس وقت ملک میں ٹیکس ریٹرن اور فائلر بننے کا رجحان کم تھا اور اس میں اس وقت اضافہ دیکھنے میں آیا جب حکومت نے فائلر بننے پر رعایتیں دینے کا اعلان کیا، جیسے کہ گاڑی، مکان اور بینک ٹرانزیکشن پر فائلر ہونے کی صورت میں رعایتیں حاصل ہوتی ہیں۔

ادارہ برائے قومی بچت کے سابق ڈائریکٹر جنرل ظفر شیخ نے ان سکیموں کے منافع پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کو چھوٹے سرمایہ کاروں خاص کر ضعیف العمر افراد اور بیوہ خواتین کے ساتھ ’ناانصافی‘ قرار دیا ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ظفر شیخ نے کہا کہ ’یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک بیوہ یا بوڑھے شخص کو دس لاکھ کی سرمایہ کاری پر ماہانہ دس ہزار ملیں اور اس کے نان فائلر ہونے کی وجہ سے آپ 30 فیصد ٹیکس کاٹ لیں‘۔

ڈاکٹر اکرام الحق نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سے آنے والے بیرونی سرمائے پر دس فیصد ’وِد ہولڈنگ‘ ہے جبکہ مقامی طور پر آنے والی سرمایہ کاری پر ٹیکس زیادہ کر دیا گیا ہے، جو مقامی سرمایہ کاروں کی ’حوصلہ شکنی کے مترادف ہوگا‘۔

ٹیکس میں اضافہ بچت سکیموں میں سرمایہ کاری کو کیسے متاثر کرے گا؟

پاکستان میں حالیہ عرصے میں قومی بچت سکمیوں میں آنے والی سرمایہ کاری کی شرح میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ مالی سال کے پہلے دس مہینوں یعنی جولائی تا اپریل تک ان سکیموں میں آنے والی سرمایہ کاری میں ایک سو ارب روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔

سرمایہ کاری میں کمی کی ایک وجہ حکومت کی جانب سے ادارہ جاتی سرمایہ کاری پر پابندی تھی تو اس کے ساتھ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے تحت زیادہ جانچ پڑتال نے بھی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ اس کے ساتھ حکومت کی جانب سے 40000، 25000 اور 15000 کے پرائز بانڈ پر مارکیٹ میں کھلی فروخت پر پابندی نے بھی ان سکیموں میں سرمایہ کاری کو متاثر کیا ہے۔

ڈاکٹر اکرام الحق نے بتایا کہ ٹیکس ریٹ میں اضافہ مزید سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرے گا اور اس میں سرمایہ کاری گرنے کا خدشہ ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں سیونگ ٹو جی ڈی پی یعنی جی ڈی پی کے حساب سے قومی بچتوں کا تناسب پہلے ہی کم ہے اور عالمی سطح کے ساتھ علاقائی سطح پر بھی یہ تناسب کم سطح پر موجود ہے۔

ٹیکس میں اضافے کے بعد سرمایہ کہاں جا سکتا ہے؟

ادارہ برائے قومی بچت کے سابق ڈی جی ظفر شیخ نے قومی بچت سکیموں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں آنے والا پیسہ حکومت کی بجٹ سپورٹ کے لیے سب سے سستا پیسہ ہوتا ہے۔ قومی بچت سکیموں میں آنے والے پیسے نے ملک کو نازک صورت حال میں کیسے سہارا فراہم کیا اس کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب پاکستان نے سنہ 1998 میں انڈیا کے مقابلے میں ایٹمی دھماکے کیے اور اس کے نتیجے میں ملک مالی مشکلات کا شکار ہوا تو قومی بچت سکیموں سے 150 ارب روپے نکال کر ملک کی مالی ضروریات پوری کی گئیں جو بعد میں حکومت نے واپس کر دیا تھا۔

ادراہ برائے قومی بچت کی ویب سائٹ پر موجود اعداد و شمار کے مطابق 31 جنوری 2021 تک قومی بچت سکیموں میں کی گئی سرمایہ کاری بشمول پرائز بانڈز کے 4600 ارب تھی۔ ظفر شیخ نے کہا کہ پاکستان کے ’بینکنگ کے شعبے کی اس خطیر سرمائے پر نظر ہے‘۔

اگر حکومت اس کے منافع پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرتی رہی تو یہ سارا پیسہ یہاں سے نکل کر بینکنگ سسٹم میں چلا جائے گا اور پھر حکومت کو یہی پیسہ کمرشل بینکوں سے زیادہ شرح سود پر اٹھانا پڑے گا، جو اسے قومی بچت سکیموں کے ذریعے سستے نرخوں پر مل جاتا ہے۔

ظفر شیخ نے ٹیکس میں اضافے کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک چھوٹا سرمایہ کار اس صورت حال میں مالی مشکلات کا شکار ہوگا۔

06/07/2021
30/06/2021

Federal Board of Revenue (FBR) has issued instructions to all the Field Offices to remain open and observe extended working hours till 12:00 midnight on 30th June, 2021(Wednesday) to facilitate the taxpayers’ in payment of duties and taxes.

FBR has further instructed the Chief Commissioners (IR) and Chief Collector Customs to liaise with the State Bank of Pakistan and authorized branches of National Bank of Pakistan to ensure transfer of tax collection by these branches on 30th June, 2021 to the respective branches of State Bank of Pakistan on the same date so as to account the same towards collection for the month of June, 2021.

ایف بی آر کے ذیلی دفاتر 30 جون رات 12 بجے تک کھلے رہیں گے

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تمام فیلڈ دفاتر کو ہدایات جاری کی ہیں کہ دفاتربدھ 30جون 2021 کو عوام کی سہولت کے لئے رات 12 بجے تک کھلے رکھیں جائیں تاکہ ٹیکس گزار آسانی سے ٹیکسز اور ڈیوٹیز جمع کرا سکیں ۔

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے مزید چیف کمشنرز آئی آر اور چیف کولیکٹر کسٹمز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور نیشنل بینک آف پاکستان کی نامزد برانچز کے ساتھ ملکر اس بات کو یقینی بنائیں کہ اسی دن ٹیکس کی ادائیگی اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ہو جائےتاکہ جون کےحاصل کردہ محاصل میں ان کا شمار ممکن ہو۔

30/06/2021

ISLAMABAD: The Finance Bill 2021 has not proposed changes to tax rates and slabs for salaried persons for tax year 2022, sources in Federal Board of Revenue (FBR) said.

Therefore the tax rate and slabs will remain unchanged for next tax year starting from July 01, 2021.

Following is the table for tax rates on taxable income of salaried persons prevailed during tax year 2021.

Where the income of an individual chargeable under the head “salary” exceeds seventy-five per cent of his taxable income, the rates of tax to be applied shall be as set out in the following table, namely:—

S. No. Taxable income Rate of tax
(1) (2) (3)
1. Where taxable income does not exceed Rs. 600,000 0%
2. Where taxable income exceeds Rs. 600,000 but does not exceed Rs. 1,200,000 5% of the amount exceeding Rs. 600,000
3. Where taxable income exceeds Rs. 1,200,000 but does not exceed Rs. 1,800,000 Rs. 30,000 plus 10% of the amount exceeding Rs. 1,200,000
4. Where taxable income exceeds Rs. 1,800,000 but does not exceed Rs. 2,500,000 Rs. 90,000 plus 15% of the amount exceeding Rs. 1,800,000
5. Where taxable income exceeds Rs.2,500,000 but does not exceed Rs. 3,500,000 Rs. 195,000 plus 17.5% of the amount exceeding Rs. 2,500,000
6. Where taxable income exceeds Rs. 3,500,000 but does not exceed Rs. 5,000,000 Rs. 370,000 plus 20% of the amount exceeding Rs. 3,500,000
7. Where taxable income exceeds Rs. 5,000,000 but does not exceeds Rs. 8,000,000 Rs. 670,000 plus 22.5% of the amount exceeding Rs. 5,000,000
8. Where taxable income exceeds Rs. 8,000,000 but does not exceeds Rs. 12,000,000 Rs. 1,345,000 plus 25% of the amount exceeding Rs. 8,000,000
9. Where taxable income exceeds Rs. 12,000,000 but does not exceeds Rs. 30,000,000 Rs. 2,345,000 plus 27.5% of the amount exceeding Rs. 12,000,000
10. Where taxable income exceeds Rs. 30,000,000 but does not exceeds Rs. 50,000,000 Rs. 7,295,000 plus 30% of the amount exceeding Rs. 30,000,000
11. Where taxable income exceeds Rs. 50,000,000 but does not exceeds Rs. 75,000,000 Rs. 13,295,000 plus 32.5% of the amount exceeding Rs. 50,000,000
12. Where taxable income exceeds Rs. 75,000,000 Rs. 21,420,000 plus 35% of the amount exceeding Rs. 75,000,000]

30/06/2021

کراچی: فالودے اور چینی والے کے بعد دیہاڑی دار مزدور پر جعلی اکاونٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کا الزام سامنے آگیا۔

ذرائع کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) نے نارتھ ناظم آباد کراچی کے رہائشی مزدور کو منی لانڈرنگ کے پیسوں سے جاپانی گاڑیاں خریدنےکے الزام میں تحقیقات کے لیے راولپنڈی طلب کرلیا ہے۔ کراچی کے مزدور پر 200 جاپانی گاڑیاں خریدنے کا الزام، نیب میں طلبی
کراچی کے مزدور پر 200 جاپانی گاڑیاں خریدنے کا الزام، نیب میں طلبیشیئرٹویٹ
اسٹاف رپورٹر منگل 29 جون 2021
شیئرٹویٹشیئرای میلتبصرے
مزید شیئر
مزید اردو خبریں
مزدوراکبرشٹرنگ کا کام کرتا ہے اور ملازمت میں ناکامی کے بعد 2017 میں سعودی عرب سے وطن واپس پہنچا تھا۔(فوٹو:فائل)
مزدوراکبرشٹرنگ کا کام کرتا ہے اور ملازمت میں ناکامی کے بعد 2017 میں سعودی عرب سے وطن واپس پہنچا تھا۔(فوٹو:فائل)


کراچی: فالودے اور چینی والے کے بعد دیہاڑی دار مزدور پر جعلی اکاونٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کا الزام سامنے آگیا۔

ذرائع کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) نے نارتھ ناظم آباد کراچی کے رہائشی مزدور کو منی لانڈرنگ کے پیسوں سے جاپانی گاڑیاں خریدنےکے الزام میں تحقیقات کے لیے راولپنڈی طلب کرلیا ہے۔


نیب کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے مطابق شہری محمد اکبر نے2016 اور 2017 کے درمیان جاپان سے چوری شدہ 200 کے قریب گاڑیاں خریدی، جن کی خریداری کے لیے منی لانڈرنگ کی رقم استعمال کی گئی۔
ذرائع کے مطابق نیب نے 15 جون کو اکبرنامی شہری کو تحقیقات کے لیے کال اپ نوٹس جاری کیا تھا، جس میں نیب حکام نے 24 جون گیارہ بجے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کے لیے کہا تھا، ذرائع کے مطابق اکبرشٹرنگ کا کام کرتا ہے، اور ملازمت میں ناکامی کے بعد 2017 میں سعودی عرب سے وطن واپس پہنچا تھا۔

Address


Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Allied Bazar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your business to be the top-listed Shop?

Share