Zor yadgar

Zor yadgar Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Zor yadgar, Shopping & retail, Bajauri Koruna.

01/10/2023
01/10/2023

پارٹ (3)
چنانچہ حالات اورموقع کے مطابق ناوگئی کے لوگوں کی رائے یہی تھی کہ شکوہ و شکایت اپنوں سے کی جاتی ہے، اور اس کو جرگے کے ذریعے ختم کیا جانا چاہئے اور اسی وجہ سے خزینی ورسک کے مقام پر ایک جرگہ بھی ہوا، کیونکہ ناوگئی اور مہمند کے لوگوں کے درمیان بہت سی قرابتیں اور تعلقات تھے اور لمبے عرصے سے ان دونوں کے درمیان مضبوط تعلقات قائم تھے، سخت ترین حالات میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ مدد و تعاون کرتے تھے، دونوں طرف سے لوگ ایک دوسرے سے تعارف، رشتہ داری اور آنا جانا رکھتے تھے، اگرچہ مہمند، شینواری ناوگئی کے شریک دار و حصہ دار تو نہیں لیکن ان کے اس اعتراض میں وزن ہے یعنی یہ شکایت سننے کے قابل اور عمل کے قابل ہے۔ اور اسی طرح شکوہ شکایت اپنوں سے کی جاتی ہے نہ کہ پرائیوں سے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ چند بے وقوفوں نے ناوگئی کے خان کو ورغلایا کہ اگر آپ ان قوموں کے پاس جائیں گے تو آپ کی عزت کم ہو جائی گی اور آپ کو وہ لوگ کمزور سمجھیں گے۔ اسی وجہ سے معاملہ جوں کا توں رہ گیا۔

موجودہ وقت میں بھی مہمند قوم کے غم و غصے کی بنیادی وجہ یہی ہے جو حکومت پاکستان کے ناوگئی آتے وقت پیدا ہوئی تھی۔ بہت تحیر سے کہتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت بننے کی وجہ سے ناوگئی کی قوموں کو بے تحاشہ طور پر نقصان پہنچا تھا۔ لیکن پھر بھی حکومتی عہدیداروں کو لوگوں کا کسی قسم کا احساس نہیں ہے اور نہ ریکارڈ، کم ازکم آج بھی حکومتی عہدیدار اگر حالات کا صحیح جائزہ لے کر علاقے کو درپیش مسائل کا فوری حل نکالیں تو دیرآیددرست آید کے مصداق صورتحال میں بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔

بدقسمتی سے یہی حالات جوں کے توں جاری تھے، دونوں اقوام کے درمیان تعلقات خراب ہوتے چلے گئے، یہاں تک کہ مہمند کے علاقے میں ناوگئی کے خلاف جرگے اور منصوبے شروع ہوئے اور ان جرگوں اور منصوبوں میں مہمند اقوام کے ساتھ ناوگئی کا ایک فرد بھی شامل تھا، جو دن دیہاڑے کھلم کھلا ناوگئی کے لوگوں اور ناوگئی کی زمینوں کو نقصان پہنچاتا تھا، ناوگئی کے عوام اور خان کیسے یہ سنگین غداری بھول پائیں گے۔کئی سالوں سے آرہی ہے، ناوگئی کی حدود میں شینواری، صافی اور مومند اقوام کی ایک بالشت زمین بھی نہیں ہے۔ اگر کسی نے ان حدود میں کوئی زمین خریدی ہو تو اس کی قیمت ادا کی ہو گی۔ وہ یا ناوگئی کے خان سے یا عوام سے قیمت پر خریدی گئی اراضی ہے۔ مامدگٹ کے مقام پر گرڈ سٹیشن اور تھوڑے فاصلے پر ملیشا (FC)کیمپ بھی ناوگئی کی زمین پر بنایا گیا ہے۔ مامدگٹ سے ناواپاس اور گونگٹ جھوڑ تک روڈ بھی ناوگئی کی زمین پر بنایا گیا ہے جس کا آج تک ان کو معاوضہ نہیں دیا گیا ہے، حکومت کے عہدیداروں کو اس پر خاموش نہیں ہوناچاہے۔ صرف اسٹیٹ بینک سے تنخواہ لینے کی حد تک کھاتہ محدود نہیں ہے۔ عوام کی دیانتداری سے خدمت کرنا اور ان کو ان کے حقوق پہنچانا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔باز نہیں آئے تو یاد رکھیں کہ باجوڑ کا ایک فرد بھی اس دعوے سے پیچھے نہیں ہٹے گا بلکہ اپنی ایک انچ زمین بھی نہیں چھوڑے گا۔باجوڑ کا تاریخی علاقہ ناوگئی تاریخ میں ایک الگ مقام رکھتا ہے۔ یہاں کے لوگ، کیتھی باڑی اور مزدوری کے علاوہ تجارت میں مصروف رہتے ہیں جبکہ یہاں کے پہاڑ قدرتی معدنیات سے مالا مال ہیں، جو کہ باقاعدہ ایک منظم سروے کے محتاج ہیں۔ناوگئی کی مخصوص قوم کے بارے میں یہ بات بھی ظاہر کرتے ہیں کہ جب کسی ظالم یا تخریب کار سے جرمانہ وصول کیا جاتا تھا تو روایات یہ ہیں کہ اس میں شینواری قوم کا ایک حصہ، صافی قوم مسعود اور گریز قوموں قندہاروں تک دو حصے جبکہ چوتھا حصہ ناوگئی کی قوم کا ہوتا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناوگئی نے اپنا تشخص اپنا حصہ ہر قوم میں برقرار رکھا ہے۔ کوئی ان پر کسی قسم کا احسان نہ جتلائے، ناوگئی کے عوام نہ تو کسی اور پر حملہ آور ہو کر ان کا حق مارتے ہیں اور نہ اپنا حق کسی کو مارنے دیتے ہیں، ناوگئی کے مرد و عورت ہر وقت اپنی زمین و جائیداد کے حفاظت کے لئے تیار ہیں۔کوئی بھی ان کو کمزور سمجھ کر نظر اور دباؤ نہ ڈالیں۔

موجودہ وقت میں آفریدی قوم کے جرگے کو مکمل اختیار اور ذمہ داری دی گئی ہے۔ ہماری تجویز یہی ہے کہ باجوڑ اور مہمند کی اقوام ان کے فیصلے کو من و عن تسلیم کریں اور جرگے والے مامدگٹ کو فاصل اور حد بندی کا مقام بنائیں اور دونوں اقوام کو مزید اختلافات سے باز رکھیں جبکہ حکومت کو چاہئے کہ مامدگٹ کے مقام پر ایک بڑا دروازہ بنائے جہاں مہمند اور باجوڑ کے لوگ ایک دوسرے کو خوش آمدید اور فی امان اللہ کہہ سکیں۔ اس دروازے پر مہمند اور باجوڑ زندہ باد لکھنا چاہئے۔ مہمند اور باجوڑ کے عوام کو چاہئے کہ زندگی بھائیوں جیسی گزاریں، آج کا دور امن، سیاست، معیشت اچھے تعلقات اور ترقی کا ہے، ہمیں چاہئے کہ نفرتوں اور حسد کو چھوڑ کر امن و محبت والی زندگی اپنائیں۔سارے پشتون علاقے اور خصوصاً باجوڑ و مہمند کے علاقوں کو جنگ، انتہاپسندی، دہشت گردی اور فوجی آپریشن نے بہت متاثر کیا ہے، نظام زندگی مکمل طور پر بیٹھ گیا ہے، جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں اور گھروں، بازاروں، مساجد، مدارس و سکولوں کو تباہ کیا گیاہے، ان سب نقصانات میں بعض غلطیاں ہماری اور بعض حکومت کی غلط پالیسیاں ہیں، ہمارے بزرگوں سیاسی و مذہبی راہنماؤں کو ایک ایک کر کے بے دردی سے شہید کیا گیا ہے۔ اب جب حالات ایسے ہوں کہ قوموں کے بڑوں کو راستے سے ہٹایا جائے تو پھر اس قوم پر اپنی رائے اور اپنا تسلط ہر کوئی قائم کر سکتا ہے۔ موجودہ وقت میں حکومت کے پاس بھی کوئی خاص منصوبہ برائے ترقی نظر نہیں آرہا، اب ہمیں چاہئے کہ ہم باجوڑ اور مہمند کے لوگ مشترکہ طور پر اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر اپنے حقوق کے لیے حکومت سے پوچھیں کہ کیوں اس علاقے کو ترقی نہیں دی جاتی، ووٹ حاصل کرنے کے لئے مہمند قوم کو اختلافات پر ابھارنا اچھی بات نہیں ہے۔

اب وقت آیا ہے کہ باجوڑ و مہمند کے بڑے اور جرگے کے لوگ جرگے و اتفاق کے ساتھ حدبندی کر کے دونوں اقوام کو مشکلات سے نکالیں۔ اگر ناوگئی باجوڑ کے لئے ماتھے کا جھومر ہے تو مہمند کے لئے آرام گاہ ہے، دونوں اقوام کو چاہئے کہ ناوگئی کو زخمی ہاتھ کے جیسے احتیاط سے رکھیں، ناوگئی کا امن مہمند و باجوڑ کے لئے ترقی کی بنیاد ہے۔ ناوگئی کے لوگ بھی حسب روایات تمام اقوام کی قدر و احترام کرتے رہیں گے۔!

01/10/2023
30/09/2023

پارٹ (2)
ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے مہند کے بعض عناصر نے بغیر تحقیق اور کچھ خاص مقصد کے اپنے کارندوں کو باجوڑ کے ناوگئی کی جغرافیائی حدود میں داخل کرایا اور لوگوں کے گھروں کے سامنے انہوں نے بدامنی اور انتشار پھیلایا، جبکہ باجوڑ پشاور قومی راستے (روڈ) کو تیرہ دن تک مسلسل بند کر رکھا جس کی وجہ سے مسافر و بیمار لوگوں کو تکلیف میں سفر طے کرنا پڑا۔ سارا دن مہمند کے اراکین اسمبلی، علماء اور قوم کے بڑے غیرذمہ دارانہ بیانات دیتے رہے اور لوگوں کو انتشار پر ابھارتے رہے، ان کی تقاریر میں سوائے اختلافات، تضادات اور تذبذب کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ کوئی فائدے کی بات تو تھی نہیں البتہ آگ کی چنگاری کو بھڑکانے کا کام انہوں نے خوب کیا۔

باجوڑ کی طرف سے ان کے ساتھ کوئی زیادتی بھی نہیں ہوئی تھی لیکن پھر بھی مہمند کے لوگ زبردستی کر رہے تھے۔ حالانکہ باجوڑ، مہمند سمیت پوری دنیا میں کرونا کی وباء نے سب کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے، پھر کیوں مہمند کے بعض لوگ اس حساس وقت میں باجوڑ کے علاقے پر قبضہ کی ناکام کوشش کر رہے ہیں جبکہ دونوں طرف انتظامیہ نے بھی غفلت کا مظاہرہ کیا۔ اسی غفلت کی وجہ سے اہلیان باجوڑ بھی ناوگئی کے مقام پر جمع ہوئے اور اپنی قوم کو پرمغز خطابات سے سمجھایا اور مہمند قوم کو خبردار کیا کہ اب بے بنیاد دعوؤں، بے جا الزامات اور زبردستی سے باجوڑ کی حدود کو قبضہ کرنے کا وقت نہیں ہے۔

احتجاج میں باجوڑ کے عوام نے غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا نہ کوئی توڑ پھوڑ کی اور نہ ہی روڈ کو بند کیا، سیاسی جدوجہد کی وجہ سے کالا قانون ایف سی آر ختم ہو چکا ہے، اب کوئی اگر کسی اور کی جگہ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے تو عدالت کے راستے سے طویل جدوجہد کر کے طویل عرصے کے بعد قبضہ کر کے اس جگہ جا سکتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جو پرندہ بادمخالف کی طرف جاتا ہے وہ اپنے پروں کو تڑوا دیتا ہے۔ باجوڑ اور مہمند کے لوگوں نے انگریزوں کے خلاف نحقی، کڑپہ اور شبقدر کے مقام پر مشترکہ جہاد کر کے اور اپنے سروں کی قربانی دے کر ایک طرف جہاد جیسا عظیم اسلامی فریضہ انجام دیا تھا تو دوسری طرف مہمند کے علاقے کو چالاک انگریزوں کے قبضے سے محفوظ کیا تھا۔ لہذا مہمند کے لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ باجوڑ کے لوگوں کی قربانی کو یاد رکھیں کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر شدید وقت میں سخت ترین مقام باجوڑ والوں کے حوالے کیا جاتا تھا۔

جس وقت مہمند کے چند لوگوں نے باجوڑ کے علاقے کو قبضہ کرنے کے لئے حملہ کیا عین اس وقت مہمند کے بعض سنجیدہ اور قابل ترین لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے رہے، انہوں نے اپنے چھوٹوں کو نہ تو کوئی نصیحت کی اور نہ ان کو اس انتشار اور غلط کام سے روکے رکھا، جبکہ باجوڑ کے بڑوں نے مہمند کے لوگوں کو دعوت دی کہ اپنی پرانی روایات کو یاد کریں اور اگر کچھ دعوی ہے آپ کا تو ثبوت کے ساتھ باجوڑ کے جرگے، شریعت یا ملکی قانون کے سامنے لائیں تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے۔چند دن انتظار کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی اور مہمند کے لوگوں سے زبردستی مین سڑک کو خالی کرایا، اگر مہمند والے باجوڑ کے بڑوں کی بات مانتے تو ان کی عزت رہ جاتی۔ باجوڑکے جرگے نے یہ اعلان کیا کہ اگر مہمند کے لوگ اپنی بغاوت سے باز نہیں آئے تو ہم اپنی تاریخ دوبارہ زندہ کر کے ایک ایسا حملہ کریں گے کہ دروازگئی کے مقام پر اپنا علاقائی جھنڈا لہرا کر دم لیں گے، لیکن باجوڑ کے بزرگوں نے ان کو اس حرکت سے منع کیا اور کہا کہ اقوام باجوڑ اور اقوام مہمند بھائی ہیں اور بھائیوں کے درمیان اس طرح اختلافات آتے رہتے ہیں، ہم جرگہ اور اپنی روایات کو بروئے کار لا کر یہ مسئلہ حل کریں گے، کسی قسم کے انتشار اور اختلاف کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے اور ان کی حدود متعین ہیں، جو اونچ نیچ ہے اس کو جرگے کے ذریعے حل کریں گے۔ کسی قسم کی افراتفری کی ضرورت نہیں ہے۔

خوش قسمت قوم کے پاس اسی وقت پختون بھائی شاہ جی گل کی سربراہی میں آفریدی قوم کا ایک معزز جرگہ پہنچ گیا، جنہوں نے دونوں فریقوں سے مذاکرات کیے اور بالآخر یہ بات طے ہوئی کہ فریقین مذکورہ جرگے کو مکمل اختیار دیں گے اور جو فیصلہ انہوں نے کیا وہ فریقین کو بلا چوں و چراں تسلیم کریں گے، جرگہ والے ثبوتوں، تحقیق اور شریعت کے مطابق حدبندی کریں گے تاکہ ہمیشہ کیلئے یہ حسد وکینہ ختم ہو جائے اور دونوں علاقوں کے لوگ آرام اور پرسکون زندگی گذار سکیں۔ افسوس کہ دنیا کے لوگ جہازوں کو اڑاتے ہیں اور ہم ایک دوسرے سے دست وگریباں ہیں۔باجوڑ کی حدود معلوم اور ظاہر ہیں، جیسا کہ میدان تروکہ، اسمار، سرکانڑو، سوری تیگہ، سور کمر اور پخہ دروازگئی ظاہری حدود تھے۔ باجوڑ میں نوابی مرکز ناوگئی تھا، شینواری اور صافی قوموں کے مقامات قندہاروں، سوران، کرکنڑوشاہ اور دویزو تک نواب کے زمانے میں حدود کا پھیلاؤ تھا۔ مہمند کے بہت سے علاقوں سے عشر لیا جاتا تھا، ناوگئی خان کی ہدایت پر مہمند کے بزرگ اپنے قومی مسائل حل کرتے تھے، خان اور عوام ایک جگہ فرش پر بیٹھتے تھے، مثالی دور تھا، مظلوم کی فریاد سنی جاتی تھی، اور ظالم سے بازپرس کی جاتی تھی۔ نواب صفدر خان اپنے اردگرد لوگوں سے اچھا برتاؤ رکھتے تھے، سید، میاں، ملا کا بڑا احترام کیا جاتا تھا، اور سیرئی کے نام سے ان کو زمین بھی دی جاتی تھی۔

بدقسمتی سے قندہارو کے کریز مقام پر ان کے بیٹے مندالی خان نے ستر لوگوں کو قتل کر ڈالا، جس کے بعد مندالی خانی کے نام سے لشکر وجود میں آیا، بعد میں اردگرد کے لوگوں کے مشورے سے ان کے دوسرے بھائی احمد جان خان کو چہارمنگ سے واپس بلایا گیا اور ناوگئی کے خان کا منصب انہوں نے سنبھالا، دوسری طرف خار کے نواب محمد جان خان نے احمد جان خان کے ساتھ پورے تیرہ سال تک اختلاف و جھگڑے جاری رکھے اور بندوق کی طاقت پر لاشوڑئی سے پیوری تک کے علاقے کو قبضہ کیا، ناوگئی اور خار کی لڑائی غلوغنڈ جنگ کے نام سے یاد کی جاتی ہےغلوغنڈ ایک پہاڑ ہے جو کہ ناوگئی کی کالونی کے اوپر ہے۔ ایک پکی اور تاریخی بات یہ بھی ہے کہ خار کے نواب نے پیرنگی یعنی انگریز کے ساتھ سمجھوتہ کیا تھا کہ ناوگئی اور مہمند کا علاقہ میں قبضہ کر کے اپنی ایک ریاست بناؤں گا جس کو انگریز بھی تسلیم کریں گے اور ساتھ ساتھ تعاون بھی کریں گے۔ لیکن اس کے مقابلے میں مومند، صافی اور شینواری اقوام کے لوگوں نے خار کے نواب سے بچنے کے لئے علینگار فقیر اور حاجی ترنگزو صاحب کے بیٹے پاچا گل صاحب کی سربراہی میں خار کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے اور ان کے ساتھ مالی و جانی تعاون جاری رکھا اور قربانیاں دیں جس کی بدولت خار نواب اور پیرنگی کی سازشیں اور منصوبے ناکام ہوئے۔ آخر کار 1937 میں سخت ترین جنگ کے بعد سلازرو اور ماموند کے لوگوں نے خار اور ناوگئی کے لئے زوربندر کے مقام کو حدبندی مقرر کیا۔ صافی شینواری اور مومند کے لوگ صرف مددگار تھے۔

اس لڑائی اور حدبندی میں، انہوں نے کبھی بھی خار نواب کے ساتھ زوربندر کی حد کو مقرر نہیں کیا۔جس دور میں احمد جان خان کے بیٹے معصوم جان خان ناوگئی کے سربراہ تھے اور اپنی حکومت چلارہے تھے تو ناوگئی کے علاوہ شینواری، ساگی، کوز چمرکنڈ، علینگار اور شیخ بابا کے لوگ صافی، مسعود گربزو اور مومندکی کوڈاخیل قوم کے ساتھ سفیروں کے ذریعے باقاعدہ تعلقات جاری رکھے ہوئے تھے، اور حکومت کے ساتھ مشورے کرتے تھے، کسی قسم کا گلہ و شکوہ نہیں تھا، لیکن جب 1960 میں خار کی جانب سے ناوگئی میں حکومت پاکستان نے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ اور ملیشا کے جوانوں کو داخل کیا تو صافی، شینواری اور مومند کے بڑوں کو ناوگئی کے خان سے سخت ناراضگی ہوئی کہ آپ نے حکومت لانے میں ہمارے ساتھ بالکل مشورہ نہیں کیا،تو کہا جاتا ہے کہ اسی وجہ سے ناوگئی کے خان اور مامدگٹ تک لوگوں کے تعلقات خراب ہوئے

29/09/2023

پارٹ (1)
نواب صفدر خان اپنے اردگرد لوگوں سے اچھا برتاؤ رکھتے تھے، سید، میاں، ملا کا بڑا احترام کیا جاتا تھا، اور سیرئی کے نام سے ان کو زمین بھی دی جاتی تھی
تاریخی اوراق اور تاریخی طوفانوں میں دنیا کی ہر قوم اور قبیلہ اپنا ایک حق ملکیت اور تصرف رکھتا ہے۔ کبھی کبھار تو ایک دوسرے پر حملہ آور بھی ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی اس کا نتیجہ شر و فساد اور نقصان کی صورت میں نکلا ہے، جیسا کہ پشتوکی ایک کہاوت ہے کہ پہاڑ چاہے کتنا بڑا ہو اس کی بلندی پر بھی راہ ہوتی ہے۔ جبکہ تاریخ نے بھی ایسے لوگوں کو ظالم، حملہ آور کے نام سے یاد کیا ہے۔

پختون کی تاریخ میں بھی ہزاروں سال سے ہر قبیلے کی اپنی زمین اور جگہوں کا تعین اور حدود متعین ہیں، ہر چھوٹے بڑے اختلاف، مسائل کے حل کے لئے ہماری تاریخ کے سینے میں لکھے ہوئے قانون پختون کے رسم ورواج موجود ہیں، اسی طرح اس علاقے میں حق و باطل کو معلوم کرنے کیلئے اسلام کا قانون بھی چمکتے ہوئے سورج کی مانند ہے۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ پختون کبھی بھی بغیر قانون کے نہیں رہے۔ یہاں مظلوم کی فریاد رسی ہوئی ہے جبکہ ظالم کے ہاتھ کو پکڑا گیا ہے۔۔لیکن پٹھانوں کی بدبختی یہ رہی ہے کہ انہیں خودغرضی، حسد اور جہالت کے اندھیروں میں رکھا گیا ہے اور اغیار اور دیگر بیرون قوموں نے ان پر پرائی جنگوں کو مسلط کیا، پٹھان انہیں بے فائدہ جنگوں اور حملوں کا ایندھن بنے رہے۔ اگرچہ ان کے سمجھدار اور زیرک بزرگوں نے وقتاً فوقتاً ان کو سوچ اور فکر سے کام لینے کا کہا اور ان کو امن و سلامتی کی نصیحت و وصیت کی لیکن افسوس کہ پختون اکثر کام پہلے کرتے ہیں اور سوچتے بعد میں ہیں، پھر مکھی کی طرح افسوس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے اور کہتے ہیں کہ جو عقل بعد میں آتی ہے وہ پہلے آنی چاہیے تھی۔

باجوڑ اور مہمند کے پٹھان کئی سو سال پہلے سے ایک دوسرے کے ساتھ متصل واقع ہیں۔ ایک مذہب، ایک قوم اور ہمسایوں جیسے رہتے ہیں۔ دونوں علاقوں میں بے روزگاری، کم علمی اور بدامنی اور معاشی بدحالی کی وجہ سے پچاس فیصد لوگ سفر میں اپنی زندگیاں گذار رہے ہیں۔ کاش یہ دونوں اپنے مشترکہ مسائل کے حل کے لئے ایک ہوتے اور دونوں اپنے مشترکہ مسائل مل جل کر حل کرتے۔

ایسے ہی نہیں ہنستا کوئیکچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو مسکرا کر ہی چپھائے جاتے ہیں😱😭
06/08/2022

ایسے ہی نہیں ہنستا کوئی
کچھ درد ایسے ہوتے ہیں
جو مسکرا کر ہی چپھائے جاتے ہیں😱😭

Prayer Lamie
16/03/2022

Prayer Lamie

Pakistan ke prim manester
22/02/2022

Pakistan ke prim manester

Address

Bajauri Koruna

Telephone

+923497306985

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zor yadgar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Zor yadgar:

Share