17/03/2024
جس طرح فزیکل ڈس ایبلڈ لوگ ہوتے ہیں، اندھے و بہرے و گونگے بھی ہوتے ہیں اور اسی طرح مینٹلی ڈس ایبلڈ لوگ ہوتے ہیں
یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ ڈس ایبیلٹی ہے
ڈس ایبیلٹی کا مطلب کہ آپ کے جسم کا کوئی خاص آرگن یا عضو قدرتی طور پر پرفارم نہیں کر پاتا
اس طرح خواجہ سرا بھی ڈس ایبیلٹی کی کیٹیگری میں آنے چاہئیں
قدرت نے ان کے اندر بھی ڈس ایبیلٹی رکھ دی ہوتی ہے لیکن ہمارا معاشرہ ان کو قبول نہیں کرتا
اور پھر وہ در در کے دھکے کھا رہے ہوتے ہیں
ان کے لیے بھی سپیشل ادارے ہوں جہاں پر ان کو کتابی و فنی تعلیم دی جا سکے اور معاشرے کا مفید شہری بنایا جا سکے۔
مجھے یقین ہے کہ خواجہ سرا ڈس ایبلڈ لوگ باقی سپیشل بچوں سے زیادہ اچھا پرفارم کر پائیں گے کیونکہ ان میں سینسز کا لاس نہیں ہوتا۔
عبد الرحمن سائیکالوجسٹ