07/01/2026
میری بیٹی کو فیس بک کی اجازت نہیں
میری بیٹی کے پاس آئی فون ہے جو میرے پاس بھی نہیں ، میری بیٹی کا لیپ ٹاپ بھی مجھ سے بہتر ہے ،لیکن اسے فیس بک پر اکاونٹ بنانے کی اجازت بالکل نہیں
کیا آپ میرے متعلق سوچیں گے کہ میں ایک تاریک خیال انسان ہوں یا پھر مجھے لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف سمجھیں گے ؟
ایسا بالکل بھی نہیں
میری بیٹی پندرہ سال کی ہے اور الحمدللہ میری گاڑی اعتماد سے ڈرائیو کرتی ہے ،البتہ میں اسے شہر میں یا کسی بھی مین روڈ پر چلانے کی اجازت تب تک نہیں دونگا جب تک وہ قانونا لایسنسن یافتہ نہ ہوجائے
میری بیٹی جب صرف آٹھ سال کی تھی تو میں اسے ایم ایس ورڈ ایکسل اور پاور پوائنٹ کی بیسک پڑھا چکا تھا ، دس سال کی عمر تک فوٹوشاپ اور کورل میں اس نے کئی کام کیے ،اور اب پنرہ سال کی عمر میں الحمدللہ وہ ورڈ پریس پڑھانے میں میری معاون ہے ، اے آئی کے ٹولز اس تیزی سے دریافت کرتی ہے کہ مجھے اپنے کورس کے لئے اوٹ لائن بنانے میں مدد مل جاتی ہے
لیکن فیس بک اور ٹویٹر اسے الاؤ نہیں
کیوں کہ یہاں طوائفوں نے ڈھیر ڈال لئے ہیں اور ان کے دلالوں نے کوٹھے کھول لئے ہیں
ان طوائفوں اور ان کے دلالوں کی پہچان بہت آسان ہے
جب بھی کوئی بیہودہ وڈیو لیک ہوتی ہے ،یہ لوگ حظ اٹھاتے ان وڈیوز کے کرداروں کے نام اپنی وال پر پوسٹ کرتے ہیں ،ان وڈیوز سے سبق آموز طنزیہ اسباق بیان کرتے ہیں
کیا ان کی بیٹیاں نہیں ہوتیں ؟ کیا انہیں اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ فیس ک پر یہ چھوٹی بچیاں اور بچے بھی تو ہوسکتے ہیں
آپ نے لاکھ انہیں فالو نہ کیا ہو ،آپ کی فرینڈ لسٹ میں موجود کسی شخص کے کمنٹ کی وجہ سے ان کی پوسٹ آپ کی نیوز فیڈ میں آ ہی جاتی ہے
فیس بک سے گزارش ہے کہ ان طوائفوں اور ان کے دلالوں کے لئے الگ فیس بک بنادے یا کم از کم اٹھارہ سال تک بچوں کے لئے اے آئی کے تحت کوئی فلٹر نظام بنادے
اس حوالے سے یوٹیوب بہت کام کرچکا ہے ،ان کے کام سے مدد لی جاسکتی ہے
سکندر حیات بابا #