Chakwal Group

Chakwal Group "Hamesha meethay alfaz bolo,taa k kabhi wapis leny parren to karrvay na lagein" "KEEP SMILING"

14/08/2026

کیا ہم آزاد ہیں؟

Absolutely NOT

جاز کی فرنچائزز پر SIM بند کروانے کا نیا اصول؟ صارفین سے جواب طلب کیا جائے!آج ایک انتہائی اہم مسئلہ سامنے آیا جس پر Jazz...
13/08/2026

جاز کی فرنچائزز پر SIM بند کروانے کا نیا اصول؟ صارفین سے جواب طلب کیا جائے!
آج ایک انتہائی اہم مسئلہ سامنے آیا جس پر Jazz اور PTA سے وضاحت ضروری ہے۔

ماڈل ٹاؤن کی Jazz Franchise پر SIM مستقل طور پر بند (Disown/Terminate) کروانے کے لیے گیا تو فرنچائز کے نمائندے نے بتایا کہ اگر آپ اپنے نام پر موجود کوئی بھی SIM مستقل طور پر بند کروانا چاہتے ہیں تو اسی وقت ایک نئی SIM لینا لازمی ہے، جس کی قیمت تقریباً 350 روپے بتائی گئی۔

جب میں نے کہا کہ مجھے نئی SIM نہیں چاہیے، صرف اپنے نام پر موجود ایک غیر ضروری SIM مستقل طور پر بند کروانی ہے، تو جواب ملا کہ:

’’اگر نئی SIM نہیں لینی تو پرانی SIM بھی بند نہیں ہوگی۔‘‘

مزید حیران کن بات یہ بتائی گئی کہ یہ کوئی نیا اصول نہیں بلکہ تقریباً گزشتہ دو سال سے یہی طریقہ کار چل رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ:

اگر کسی شخص کے نام پر 5 SIMs فعال ہیں اور وہ صرف ایک SIM مستقل طور پر بند کروانا چاہتا ہے، تو اسے زبردستی ایک نئی SIM خریدنے کی ضرورت کیوں پیش آئے؟

خاص طور پر ایسے افراد جو BISP کے تحت ملنے والی SIM کے لیے اپنے CNIC پر موجود اضافی SIMs کم کروانا چاہتے ہیں، وہ کیا کریں؟ اگر ایک SIM بند کروانے کے لیے دوسری SIM لینا لازمی ہے تو پھر SIMs کی تعداد کم کیسے ہوگی؟

اسی طرح ایک اور مسئلہ بھی سامنے آیا۔ اگر کسی صارف نے Jazz سے مثلاً 60 روپے کا Advance/Loan لیا ہو تو SIM بند کرواتے وقت اس پر 270 روپے یا اس سے زائد کی رقم وصول کرنے کی بات کی جاتی ہے۔ اگر یہ رقم واقعی واجب الادا ہے تو اس کی مکمل تفصیل، calculation اور باقاعدہ رسید صارف کو کیوں نہ دی جائے؟

میں نے جب اس معاملے پر سوال کیا تو جواب دینے کے بجائے کہا گیا:

’’بحث نہ کریں، Head Office جا کر بتا دیں۔‘‘

یہ رویہ بھی صارفین کے لیے قابلِ تشویش ہے۔

Jazz اور PTA سے چند سیدھے سوالات:

1. کیا SIM مستقل طور پر بند/Disown کروانے کے لیے نئی SIM خریدنا لازمی ہے؟
2. اگر ہاں، تو اس پالیسی کا PTA یا Jazz کا باقاعدہ تحریری نوٹیفکیشن/قانون/شرائط کہاں موجود ہیں؟
3. اگر صارف نئی SIM نہیں لینا چاہتا تو کیا اسے اپنی غیر ضروری SIM بند کروانے سے روکا جا سکتا ہے؟
4. کیا Franchise صارف کو نئی SIM خریدنے پر مجبور کر سکتی ہے؟
5. Advance Balance/Loan کی صورت میں SIM بند کرواتے وقت اصل واجب الادا رقم کس اصول کے تحت وصول کی جاتی ہے؟
6. صارف کو اس رقم کی مکمل breakdown اور رسید کیوں نہ دی جائے؟
7. اگر یہ Jazz کی باقاعدہ پالیسی ہے تو کیا یہی اصول Jazz کی تمام franchises اور customer service centers پر یکساں طور پر نافذ ہے؟

Jazz کی اپنی شائع شدہ شرائط میں SIM کے disowning/termination کا ذکر موجود ہے، جبکہ نئی SIM کے charges الگ درج کیے گئے ہیں۔ مجھے دستیاب سرکاری/کمپنی معلومات میں ایسا واضح اصول نہیں ملا جس میں یہ لکھا ہو کہ ایک موجودہ SIM بند کروانے کے لیے نئی SIM خریدنا لازمی ہے۔

لہٰذا گزارش ہے کہ Jazz Pakistan اور PTA اس معاملے پر واضح جواب دیں کہ گوجرانوالہ کی فرنچائز میں صارفین کو یہ کون سا اصول بتایا جا رہا ہے اور اس کی قانونی/ریگولیٹری بنیاد کیا ہے؟

اگر یہ واقعی کمپنی کی باقاعدہ پالیسی ہے تو اس کا Official Notification/Policy Number عوام کے سامنے لایا جائے، اور اگر یہ صرف کسی Franchise کا اپنا طریقہ کار ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

صارف سے اس کے اپنے نام پر موجود غیر ضروری SIM بند کرنے کے بدلے زبردستی نئی SIM خریدوانا کس قانون یا پالیسی کے تحت جائز ہے؟

PTA اور Jazz سے جواب درکار ہے۔

اگر کسی دوسرے صارف کو بھی یہی مسئلہ پیش آیا ہے تو اپنا تجربہ ضرور شیئر کریں تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ صرف ایک Franchise کا معاملہ ہے یا واقعی ملک بھر میں یہی طریقہ اپنایا جا رہا ہے۔

10/08/2026

گڈز ٹرانسپورٹ ہڑتال کے اثرات، چکوال میں ڈیزل کی قلت کی اطلاعات

چکوال: گڈز ٹرانسپورٹروں کی ملک گیر ہڑتال کے اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، چکوال شہر میں ڈیزل کی دستیابی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف پٹرول پمپس پر ڈیزل کی فراہمی میں مشکلات پیدا ہوگئی ہیں، جبکہ بعض پمپس پر ڈیزل دستیاب نہ ہونے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم چکوال شہر کے تمام پٹرول پمپس پر ڈیزل مکمل طور پر ختم ہونے کی آزادانہ سرکاری تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن نے ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں سمیت اپنے دیگر مطالبات کے حق میں 8 اگست سے غیر معینہ مدت تک ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ مطالبات تسلیم ہونے تک ہڑتال جاری رہے گی۔

ٹرانسپورٹ ذرائع کے مطابق گڈز گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہونے کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کا نظام بھی دباؤ کا شکار ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر ڈیزل کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی عدم دستیابی برقرار رہی تو ٹرانسپورٹ، زرعی سرگرمیوں اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل متاثر ہونے کا امکان ہے۔

مشترکہ کھاتے ختم ۔۔زمین کی تقسیم کا مسئلہ حل ۔ کسی فریق کے انکار کے باوجود بھی زمین کے ونڈے ہوں گے۔جائیداد کے مشترکہ کھا...
10/08/2026

مشترکہ کھاتے ختم ۔۔زمین کی تقسیم کا مسئلہ حل ۔
کسی فریق کے انکار کے باوجود بھی زمین کے ونڈے ہوں گے۔
جائیداد کے مشترکہ کھاتے پنجاب کا ایک انتہائی پیچیدہ اور سنگین مسئلہ ہے۔ جو لڑائی جھگڑوں کا باعث بنتا ہے اور دیہاتوں میں لوگوں کی جان و مال پر بھاری پڑتا ہے۔
اس سنگین مسئلے کے حل کےلئے بورڈ آف ریونیو نے قانون میں اہم تبدیلی کی ہے۔
جس سے اب زمینوں کا مشترکہ رہنا مشکل ہو گیا ہے اور اگر کوئی فریق انکار بھی کرتا ہے پھر بھی زمین تقسیم ہو گی۔۔
طریقہ کار پر بات کریں تو ۔۔
سب سے پہلے تو جو لوگ باہمی رضا مندی سے کھاتے تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو وہ پٹواری تحصیلدار یا اراضی ریکارڈ سنٹر پر جا کر بیان دے کر کھاتے تقسیم کروا سکتے ہیں۔
دوسرا معاملہ سنگین ہے کہ مشترکہ کھاتوں میں ایک دو فریق صاف انکار کر دیتے ہیں تو ایسی زمین کی تقسیم کیسے ہو گی۔
سیکرٹری ریونیو شفقت اللہ مشتاق کے مطابق
سب سے پہلے متعلقہ فریقین کو تحصیلدار کے سامنے درخواست دینی ہو گی۔ وہ پٹواری کے ذریعے تمام فریقین کو بلائے گا۔ اگر کوئی فریق نہیں آئے گا تو تحصیلدار پٹواری اور نمبر کے ذریعے زمین کی کمرشل ویلیو اور قبضے کو دیکھ کر کھاتہ تقسیم کر دے گا۔
اگر تحصیلدار 2 مہینے میں ونڈہ نہیں بنائے گا تو اس کا متعلقہ تحصیل سے تبادلہ کرنے کے ساتھ ساتھ پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کیس خود بخود اسسٹنٹ کمشنر کو ٹرانسفر ہو جائے گا۔
اگر کو فریق تحصیلدار یا اے سے فیصلے سے متفق نہیں ہوتا تو وہ ضلع کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کے پاس اپیل کر سکتا ہے اور اگر پھر بھی کسی فریق کو اختلاف ہوتا ہے تو کیس سیدھا ممبر بورڈ آف ریونیو کے پاس آئے گا جس کا فیصلہ حتمی ہو گا۔ سیکنڈ اپیل یعنی کہ اب کیس کمشنر آفس نہیں جائے گا سیدھا بورڈ آف ریونیو آئے گا۔
سیکرٹری ریونیو کا کہنا ہے چیف سیکرٹری پنجاب اور سنئیر ممبر بورڈ آف ریونیو نے بہترین فیصلہ کیا ہے۔ شہریوں کو فائدہ اٹھا کر جائیداد کے مشترکہ کھاتوں کے جھنجھٹ سے جان چھڑا لینی چاہے
چکوال نیوز

“چھپڑ بازار” چکوال کا تاریخی اور قدیمی بازار ہے۔ برائے مہربانی اسے “چھپڑ بازار” ہی کے نام سے لکھا اور پڑھا جائے۔کیڈا سوہ...
10/08/2026

“چھپڑ بازار” چکوال کا تاریخی اور قدیمی بازار ہے۔ برائے مہربانی اسے “چھپڑ بازار” ہی کے نام سے لکھا اور پڑھا جائے۔

کیڈا سوہنڑا اساڈی ماں بولی وچ جچدا اے
اکھے کتھے او ،،جی اے چھپڑا تاں

اس جدید فیشن دے دور وچ “بی بی ڈی سی صاحبہ”، آپڑیں ناں نالو آپڑیں اجداد دی پہچانڑ “گوندل ” ہٹاؤنڑاں اگر نہیں پسند فرماوندے تے اساڈے اجداد دے ناں اور ورثے نال چھیڑن تو وی اجتناب فرماؤ۔

ایک اور ضروری وضاحت کرتا چلوں۔ بی بی ڈی سی صاحبہ! شاید آپ کی ضلعی انتظامیہ آپ کو یہ بتانے سے گریزاں ہو اور جو ٹک ٹاکرز آپ سے ملاقاتوں کا شرف حاصل کر رہے ہیں، وہ اسلاف کی قدروں سے ناواقف ہوں۔

بی بی جی! آپ کے وسطی پنجاب میں “چھپڑ” نالیوں، بارشوں اور گٹروں کے گندے پانی کے تالاب کو بولتے ہیں، مگر ہمارے اجداد “چھپڑ” اُس جگہ کو بولتے تھے جہاں سے، سوائے پینے کے، وہ اپنی تقریباً تمام ضروریاتِ زندگی کے لیے پانی استعمال کرتے تھے۔ ہمارے بارانی علاقے کے چھپڑ یا “بَھن” ہماری روایات میں بڑے مقدم جانے جاتے تھے۔

ابھی بھی اگر آپ کو دُھول یا گرمی نہ ستائے تو اپنے ڈرایئور سے کہیے، مجھے علاقہ دھن کے کچھ دیہاتوں کے چھپُڑ گھما کر لاؤ۔ اُن چھپڑوں پر بنے چوپال، پتھروں سے بنیں حفاظتی دیواریں اور صدیوں پُرانے درخت آپ کو گواہی دیں گے اور بُلا بُلا کر کہیں:

گوندلاں دی دھی ہو کے پُر کھاں دیاں یاداں مٹاونڑ تے لگی پئی ایں

پھر آپ کو یقیناً احساس ہو جائے گا کہ ہمارے ضلع چکوال کے بُزرگوں کے لیے یہ چھپڑ کتنے اہم تھے۔ لہٰذا ہماری اقدار و روایات کا پاس رکھا جائے۔ “چھپڑ” آپ کے لیے بے شک عجیب لفظ ہو گا، مگر ہمارے لیے اسلاف کی یادگار ہے۔

“پروجیکٹ بیوٹیفیکیشن” کی ہم قدر کرتے ہیں۔ آپ نے اور حکومتِ پنجاب نے یقیناً عوام کی آسانی اور بھلائی کے ساتھ ساتھ ہمارے شہر کی خوبصورتی میں حسین اضافہ کیا ہے۔

بے شک ہمیں اس پروجیکٹ کی وجہ سے بے روزگار ہونے والے دکانداروں اور ٹھیہ بانوں کا بے حد دکھ اور افسوس ہے، مگر دوسری طرف ہم ہزاروں عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو باعزت، پُرسکون اور محفوظ خریداری کی ضمانت ملنے پر مطمئن بھی ہیں۔

Copy

10/08/2026
09/08/2026

👈 پرانے باب چکوال پہ کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا
اس حکومت کو شاید پسند نہیں ایا برائے مہربانی کلمہ طیبہ للکھوا دیں بڑی مہربانی ہوگی 👌💯

Address

Chakwal
Chakwal

Telephone

+923482020851

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chakwal Group posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Chakwal Group:

Shortcuts

Share