23/08/2026
بہت کڑوی اور سچی بات
ہمارے معاشرے میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مہمان کی دل جوئی کے لیے دسترخوان پر کھانے کے ساتھ ساتھ اپنے ہی گھر کے کسی فرد کی برائی پیش کر دی جاتی ہے۔ جیسے اس کے بغیر محفل مکمل ہی نہیں ہوتی۔
رشتہ دار سنتے ہیں، سر ہلاتے ہیں، ہنستے ہیں اور چلے جاتے ہیں، لیکن اس کے بعد دو نقصان ہوتے ہیں:
1. جو باہر سے آیا تھا وہ آپ کے گھر کی کمزوری لے کر جاتا ہے، اور کل وہی بات دس جگہوں پر آپ ہی کے نام سے بیان ہوتی ہے۔ 2. اور جس گھر والے کی برائی آپ نے دوسروں کو خوش کرنے کے لیے کی، اس کے دل میں آپ کے لیے فاصلہ آ جاتا ہے۔
اصل میں یہ خوش کرنا نہیں ہے، یہ اپنی ہی دیواروں کو کمزور کرنا ہے۔ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنوں کی برائی کرنا پڑے تو سمجھ لیں کہ وہ لوگ آپ سے محبت کرنے والے رشتہ دار نہیں، بس تماشا دیکھنے والے ہیں۔
اس کا بہترین حل یہ ہے کہ جب کوئی آپ سے آپ کے گھر والوں کی برائی سننا چاہے تو بات کا رخ نرمی سے بدل دیں۔ "بس جی گھر کی باتیں گھر میں ہی اچھی لگتی ہیں" جیسا ایک جملہ بہت سی عزتیں بچا لیتا ہے۔ جو رشتہ دار واقعی مخلص ہوگا وہ آپ کی اس بات کی عزت کرے گا، اور جو ناراض ہو جائے گا اس نے ویسے بھی صرف غیبت ہی کرنی تھی۔
اپنا گھر، اپنے لوگ، اپنے پردے - یہی ہماری اصل دولت ہیں۔
از قلم بندہ ناچیز
حاجی ریحان شاہ دُنیا پوری