22/05/2026
سفیرِ امام حسین شھیدِ وفا جناب قیس بن مسھّر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جناب قیس بن مسھر الصیداوی سید السادات جناب امام حسینؓ کے جانثار ساتھیوں میں سے ایک تھے اور اہلبیت اطہار سے عشق و مودت رکھنے کی پادش میں اذیت ناک طریقے پر شھید کئے گئے۔
جناب مسلم بن عقیلؓ نے جب امام کو اہل کوفہ کی بیعت اور تابعداری کے متعلق خط لکھا تھا اس خط کے جواب میں جناب امام حسینؓ نے حضرت قیس بن مسھر کو ایک خط دیکر جناب مسلم کے پاس روانہ فرمایا تھا۔ لعین عبیداللہ بن زیاد کی کوفہ آمد کے بعد کوفہ کے حالات پھر گئے ، مسلم بن عقیل شھید کیے گئے اور امام حسینؓ کے یہ دوسرے سفیر جناب قیس بن مسھرؓ یزیدی سپاہ سالار حصین بن نمیر کے ہاتھوں گرفتار ہوئے اور انہیں لعین عبیداللہ بن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا۔ ابن کثیر البدایہ والنھایہ میں لکھتے ہیں :
ابن زیاد نے جناب قیس بن مسھر کو حکم دیا کہ دارالامارہ کے چھت پر چڑھ کر کذاب بن کذاب (حسینؑ بن علیؑ) پر سب و شتم کریں (العیاذباللہ) سیدی امام حسین کے سفیر تختہ دار پر چڑھتے ہیں اور موت کو سامنے دیکھ کر حسینی شیر گرجتا ہے :
إِنَّ هَذَا الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ خَيْرُ خَلْقِ اللَّهِ، ابْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا رَسُولُهُ إِلَيْكُمْ، وَقَدْ فَارَقْتُهُ بِالْحَاجِزِ مِنْ بَطْنِ الرُّمَّةِ، فَأَجِيبُوهُ. ثُمَّ لَعَنَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ وَأَبَاهُ، وَاسْتَغْفَرَ لِعَلِيٍّ وَالْحُسَيْنِ. فَأَمَرَ بِهِ ابْنُ زِيَادٍ، فَأُلْقِيَ مِنْ رَأَسِ الْقَصْرِ فَتَقَطَّعَ، وَيُقَالُ: بَلْ تَكَسَّرَتْ عِظَامُهُ وَبَقِيَ فِيهِ بَقِيَّةُ رَمَقٍ، فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ اللَّخْمِيُّ فَذَبَحَهُ، وَقَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ إِرَاحَتَهُ مِنَ الْأَلَمِ. (البدایة والنھایة)
اے لوگو! یہ حسین بن علی ہے جو خدا کی مخلوق میں سے سب سے بہتر ہے اور یہ فاطمہ بنت محمد رسول خدا ہے۔ میں حسین کی جانب سے تمھاری طرف بھیجا گیا ہوں پس تم (اہل کوفہ) ان کی آواز پر لبیک کہو ۔ یہ کہہ کر قیس نے عبید اللہ اور اس کے باپ پر لعنت کی اور جناب امام علی بن ابی طالب و امام حسینؓ کے لیے دعا و استغفار کیا۔
یہ سننا تھا کہ ابن زیاد نے اسے دار الامارہ سے نیچے گرانے کا حکم دیا۔ انھیں جب قصر امارت سے گرایا گیا تو ان کی جسم کے تکڑے تکڑے ہوگئے یا جسم کی تمام ہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں ابھی سانس کچھ باقی تھی کہ عبد الملک بن عمیر لخمی نے ان کا سر تن سے جدا کردیا ۔(انا للہ وانا الیہ راجعون)
گویا جو حقیقی علی والے ہوں تو تختہ دار پر چڑھ کر بھی وہ حب اہلبیت فراموش نہیں کرتے۔ بنو امیہ کے گورنروں کی یہ عام روش تھی کہ جب بھی وہ کسی محبان اہلبیت کو گرفتار کرتے اسے علیؓ و آل علی پر سب و شتم کا حکم دیا کرتے تھے، منبروں پر اہلبیت اطہار پر سب و شتم کا بھی اس پرآشوب دور میں عام رواج تھا۔ گویا محبت اہلبیت کو سرکاری سطح پر جرم بنادیا گیا تھا۔
ضروری ہے کہ جب اہل کوفہ کی غداری کا ذکر ہو تو امام کے ان مخلص جانثاروں کا تذکرہ بھی کیا جائے کہ جو امام کے حکم پر لبیک کہہ کر اپنی جانوں پر کھیل گئے۔
سلام ان پہ تہِ تیغ بھی جنہوں نے کہا
جو تیرا حکم ، جو تیری رضا،جو تو چاہے
منقول : سید وجاہت عفی عنہ