Makki Cloth Market

Makki Cloth Market 1977 Me Jab Marshal Law laga Tb Iski Tameer ka Hukam G.

Zia Ul Haq Ne Dia
1981 Me Ye Market Ki Hasiat Se Ubhri
Qayam E PAKISTAN ky Time yahan Gala Mandi Thi
Alotment K tehat Ye Market Logo me Taqseem ki Gyi
2000 Me Is Market Ko Malkanay Haqooq Diay Gye ..

20/07/2023
🔴 الیکشن مکی کلاتھ مارکیٹ 🔴 تاجر اتحاد گروپ بلا مقابلہ منتخب، گروپ صدر شیخ یاسین قادری، شیخ یوسف گچھا✅ 🔥صدر شیخ فاروق سی...
20/07/2023

🔴 الیکشن مکی کلاتھ مارکیٹ 🔴
تاجر اتحاد گروپ بلا مقابلہ منتخب، گروپ صدر شیخ یاسین قادری، شیخ یوسف گچھا✅
🔥صدر شیخ فاروق سیکریٹری میاں رضوان نوید بلا مقابلہ منتخب، تقریب میں صدر وکلاں والی گلی
ڈاکٹر محمود یوسف شیخ ، صدر مندر گلی صابر صاحب سابق اپٹپما چیئرمین چودھری حبیب گُجر ، امیرِ شہر سابق MPA خواجہ اسلام، رانا کاشف، شیخ فیاض، شیخ احمد قادری، میاں یوسف سلیم، ملک نیّر، مجاہد صاحب، چودھری ایوب، ناصر نقشبدی، احمد گچھا و دیگر موجود 🌹🌹

🔴 الیکشن مکی کلاتھ مارکیٹ 🔴 تاجر اتحاد گروپ بلا مقابلہ منتخب، گروپ صدر شیخ یاسین قادری، شیخ یوسف گچھا✅ 🔥صدر شیخ فاروق سی...
20/07/2023

🔴 الیکشن مکی کلاتھ مارکیٹ 🔴
تاجر اتحاد گروپ بلا مقابلہ منتخب، گروپ صدر شیخ یاسین قادری، شیخ یوسف گچھا✅
🔥صدر شیخ فاروق سیکریٹری میاں رضوان نوید نے کاغذات نامزدگی الیکشن کمیشن میں جمع کروا دیے جن کے مقابلہ میں کسی نے کاغذات جمع نہیں کروائے اور الحمدللہ بلا مقابلہ منتخب ہوئے، کاغذاتِ نامزدگی میں صدر وکلاں والی گلی ڈاکٹر محمود یوسف شیخ ، صدر مندر گلی صابر صاحب سابق اپٹپما چیئرمین چودھری حبیب گُجر ، امیرِ شہر سابق MPA خواجہ اسلام، رانا کاشف، شیخ فیاض، شیخ احمد قادری، میاں یوسف سلیم، ملک نیّر، مجاہد صاحب، چودھری ایوب، ناصر نقشبدی، احمد گچھا و دیگر موجود 🌹🌹

رمضانُالمبارک کا پہلا جمعہ مبارک           #مکیمارکیٹ
24/03/2023

رمضانُالمبارک کا پہلا جمعہ مبارک


#مکیمارکیٹ

24/03/2023

👇 تمام امت مسلمہ کو رمضان کا پہلا جمعہ مبارک 👇👇
*کل موٹر وے سڑک حادثہ میں سات نوجوانوں کی موت ہوگئی*۔
وجہ گاڑی کا ٹائر پھٹنا تھا۔ نئے بننے والے ایکسپریس وے پر ان دنوں گاڑیوں کے ٹائر پھٹنے کے واقعات منظر عام پر آ رہے ہیں۔ جس میں روزانہ کئی لوگ جان کی بازی ہار رہے ہیں۔ ایک دن میرے ذہن میں سوال آیا کہ ملک کی جدید ترین سڑکوں پر سب سے زیادہ حادثات کیوں ہو رہے ہیں؟ اور حادثے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ بھی صرف ٹائر پھٹنے سے۔ ہائی وے بنانے والوں نے سڑک پر ایسی کون سی اسپائکس ڈال دی ہیں کہ سب کے ٹائر پھٹ گئے۔ دماغ طوفانی ہو گیا ہے تو میں نے سوچا کہ آج اس چیز کا پتہ لگا لینا چاہیے۔ اس لیے ٹیم کو جمع کیا۔ اب سنو ہم نے تجربے کے لیے ایک دوست کو بلایا اور ہم Scorpio SUV میں سوار ہو گئے (نوٹ کریں کہ اصل مسئلہ فلیٹ ٹائر کا ہے) پہلے ہم نے کولڈ ٹائر کا پریشر چیک کیا اور اسے بین الاقوامی معیارات کے مطابق ایڈجسٹ کیا جو 25 psi ہے۔ (تمام ترقی یافتہ ممالک کی گاڑیوں میں ہوا کا ایک ہی دباؤ رکھا جاتا ہے۔ جب کہ ہمارے ملک میں لوگوں کو اس کا علم نہیں ہوتا یا وہ ایندھن بچانے کے لیے ٹائروں میں ضرورت سے زیادہ ہوا بھرا لیتے ہیں۔ جو عموماً 35 سے 45 پی ایس آئی ہوتا ہے۔ اچھا آئیے اب آگے بڑھتے ہیں۔ اس کے بعد ہم فور لین پر چڑھ گئے اور کار دوڑا دی۔ گاڑی کی رفتار 120 - 140 کلومیٹر فی گھنٹہ رکھی گئی تھی۔ دو گھنٹے تک اتنی تیز رفتاری سے گاڑی چلانے کے بعد ہم ایک ریسٹ ایریا کے قریب پہنچ گئے۔ جب ہم نے رک کر دوبارہ ٹائر کا پریشر چیک کیا تو یہ چونکا دینے والا تھا۔ اب ٹائر کا پریشر 52 psi تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹائر کا پریشر اتنا کیسے بڑھ گیا؟ چنانچہ جب اس کے لیے ٹائر پر تھرمامیٹر لگایا گیا تو ٹائر کا درجہ حرارت 92.5 ڈگری سیلسیس تھا۔ یہ سارا معمہ اب کھل گیا ہے کہ سڑک پر ٹائروں کی رگڑ اور بریک رگڑنے سے پیدا ہونے والی گرمی کی وجہ سے ٹائروں کے اندر کی ہوا پھیل رہی ہے۔ B2B ٹائر کے اندر ہوا کا دباؤ بہت بڑھ گیا ہے۔ چونکہ ہمارے ٹائروں میں ہوا پہلے سے ہی بین الاقوامی معیار کے مطابق تھی، اس لیے وہ پھٹنے سے بچ گئے۔ لیکن ٹائر جن میں ہوا کا دباؤ پہلے سے زیادہ ہے (35-45 PSI) یا ایک ٹائر جس میں کٹ ہے اس کے پھٹنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے اپنے ٹائر پریشر کو ٹھیک کریں اور فور لین کی طرف جانے سے پہلے محفوظ سواری کا لطف اٹھائیں۔ میں ایکسپریس وے اتھارٹی سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ ڈرائیوروں کو آگاہ کریں۔ تاکہ شاہراہ کا سفر آخری سفر نہ بن جائے۔ آپ تمام فیس بک اور واٹس ایپ دوستوں سے گزارش ہے کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ ایسا کرنے سے اگر آپ ایک جان بھی بچائیں گے تو آپ کو انسانیت بچانے کا اجر بھی ملے گا۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم بھی ہے کہ جس نے ایک انسان کو بچایا گویا اُسنے انسانیت کو بچایا شیئر کر کے اپنے پیاروں کو ضرور آگاہ کرے۔
جزاک اللہ خیر۔


20/03/2023


آرمی چیف سے بزنس مینوں کی میٹنگ

گوہر اعجاز چنیوٹی شیخ فیملی سے تعلق رکھتے ہیں‘ دادا زمین دار تھے لیکن یہ 1947میں کراچی شفٹ ہوئے اور کاروبار شروع کر دیا۔

والد شیخ اعجاز احمد جوان ہوئے تو دادا نے ایک مربع زمین بیچی‘ بیٹے کو 50 ہزار روپے دیے اور خود ریٹائرمنٹ لے لی‘ والد نے کاروبار شروع کیا اور کمال کر دیا‘ یہ دو دہائیوں میں ارب پتی بن گئے‘ سینیٹر بھی بنے اور 18 سال چیمبر کی سیاست بھی کی‘ یہ بعدازاں گردوں کی خرابی کی وجہ سے ڈائلیسز پر چلے گئے۔

گوہر اعجاز اس وقت ہارورڈ یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے‘ والد نے انھیں بلایا اور کاروبار ان کے حوالے کر کے خود کو ویلفیئر کے کاموں کے لیے وقف کر دیا‘ یہ لوگ اس وقت اجناس کی ٹریڈنگ کرتے تھے‘گوہر اعجاز نے یہ کاروبار سنبھال لیا‘ 1991میں کراچی کے حالات خراب ہونے لگے تو والد نے انھیں لاہور بھجوا دیا‘ گوہر اعجاز نے لاہور آ کر 5 ٹیکسٹائل ملز لگا لیں‘ یہ اس کے بعد رئیل اسٹیٹ میں آئے اور 30 ہزار ایکڑ پر لیک سٹی بنا دیا۔

اپٹما کی سیاست میں بھی آئے‘باڈی بنائی‘ حکومت کے ساتھ مذاکرات کیے اور پاکستان کو ٹیکسٹائل ایکسپورٹر کنٹری بنا دیا‘ یہ اس وقت بھی پاکستان کے بارہ بڑے بزنس مینوں میں شامل ہیں لیکن ان کا اصل کمال ویلفیئر ہے‘ یہ 17 برسوں سے جناح اسپتال میں مریضوں کے مفت ڈائلیسز کرا رہے ہیں‘ اس سہولت سے سال میں 50 ہزار مریض مفت فائدہ اٹھاتے ہیں اور اس پر گوہر اعجاز کے 30 کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔

یہ اس کے ساتھ ساتھ جناح اسپتال کے مریضوں‘ لواحقین اور عملے میں روزانہ کھانے کے 10 ہزار پیکٹس بھی تقسیم کرتے ہیں‘ ان میں ناشتہ‘ لنچ اور ڈنر شامل ہوتا ہے اور یہ کام بھی یہ 16 برسوں سے کر رہے ہیں‘ یہ اس کے ساتھ ساتھ یتیم خانے‘ اسکول اور راشن کی اسکیمیں بھی چلا رہے ہیں۔

اب سوال یہ ہے گوہر اعجاز اس طرف کیوں اور کیسے آئے؟ اس کی وجہ بہت دل چسپ ہے‘ یہ 2008 میں 10 ارب روپے کے مقروض تھے‘ انھوں نے دعا کی اگر اﷲ تعالیٰ نے مجھے قرض سے نجات دے دی تو میں اپنی کمائی کا 50 فیصد اﷲ کی راہ پر خرچ کروں گا‘ اﷲ تعالیٰ نے یہ دعا قبول کر لی۔

یہ 2016میں قرض سے نجات پا گئے اور پھر وہ دن ہے اور یہ دن ہے یہ اپنی آمدنی کا آدھا حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتے ہیں اور اس کے بدلے اﷲ انھیں ہر قسم کے مسئلے اور مصیبت سے محفوظ رکھتا ہے‘گوہر اعجاز عمران خان کے بہت بڑے سپورٹر اور فنانسر تھے لیکن 2021 میں علیم خان کی وجہ سے اختلافات پیدا ہو گئے اور یہ عمران خان سے دور ہو گئے۔

7 مارچ2023کو آرمی چیف ہائوس میں ملک کے دس بڑے بزنس مینوں کی آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ملاقات ہوئی تھی‘ مجھے کسی ذریعے سے پتا چلا اس میٹنگ کے لیے گوہر اعجاز نے اہم کردار ادا کیا تھا لہٰذا میری اس بدھ اور جمعرات کو لاہور میں گوہر اعجاز سے دو ملاقاتیں ہوئیں‘ گوہر اعجاز نے بتایا میرے ساتھ پنجاب کے پانچ بزنس مین تھے جب کہ پانچ بزنس مینوں کو عارف حبیب کراچی سے لے کر آئے تھے یوں ہم دس لوگ اس میٹنگ میں شریک ہوئے۔

کراچی سے عارف حبیب‘ بشیر جان محمد‘ محمد علی تبہ‘ شاہد سورتی اور شہباز ملک تھے جب کہ پنجاب سے میں‘ فواد مختار‘ شہزاد اصغر‘ فیصل آفریدی اور میاں احسن تھے‘ میں نے پوچھا‘ آپ آرمی چیف سے کیوں ملے؟

ان کا جواب تھا پاکستان معاشی طور پر تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے‘ ہم دس لوگ یہ محسوس کرتے ہیں پاکستان کو اس وقت ہماری ضرورت ہے‘ ہم ملک کے بڑے ایکسپورٹرز بھی ہیں اور امپورٹرز بھی اور ہمارے پاس 10لاکھ لوگوں کی ورک فورس بھی ہے‘ ہم ریاست کو یہ یقین دلانا چاہتے تھے ہم ان حالات میں بھی ملک سے باہر نہیں جا رہے‘ ہم ملک کے ساتھ کھڑے ہیں‘ دوسرا ہمارا خیال تھا ہماری ملاقات کے بعد بزنس مین کمیونٹی کے اعتماد میں اضافہ ہو گا چناں چہ ہم نے آرمی چیف سے رابطہ کیا اور ہمیں مثبت جواب ملا۔

میں نے پوچھا‘ آپ حکومت کے پاس کیوں نہیں گئے؟ یہ ہنس کر بولے‘ حکومت عمران خان کی ہو یا پی ڈی ایم کی یہ فیصلہ سازی میں مار کھا جاتی ہے جب کہ معیشت فوری اور ٹھوس فیصلوں کے بغیر نہیں چل سکتی‘ معیشت میں آج اور ابھی بہت اہم ہوتا ہے جب کہ سرکاری فائربریگیڈ میں پانی بھروانے کا عمل بھی چھ دن میں مکمل ہوتا ہے چناں چہ جنرل باجوہ ہوں یا جنرل عاصم منیر ہم بالآخر فوج کے پاس جانے پرمجبور ہو جاتے ہیں۔

میں نے پوچھا ’’لیکن کیوں؟‘‘ یہ بولے ’’مثلاً پاکستان کی میجر ایکسپورٹ ٹیکسٹائل ہے‘ ہم نے 2021-22میں ساڑھے 19 بلین ڈالرز کی ٹیکسٹائل مصنوعات ایکسپورٹ کی تھیں اور یہ ہماری پوٹینشل کا آدھا ہے‘ ہم بڑی آسانی سے اسے ڈبل کر سکتے ہیں لیکن ٹیکسٹائل کے لیے کپاس چاہیے اور پاکستان میں کپاس کی پیداوار تیزی سے کم ہو رہی ہے‘ ہم ہر سال باہر سے چار بلین ڈالرز کی کپاس منگواتے ہیں‘ اس کا دھاگا اور کپڑا بنتا ہے اور پھر گارمنٹس بن کر ایکسپورٹ ہوتی ہیں چناں چہ ہمارے پاس اگر کپاس نہیں ہو گی تو ایکسپورٹ رک جائے گی اور کپاس خریدنے کے لیے چار بلین ڈالرز چاہئیں جب کہ ہمارے مالیاتی ذخائر تین بلین ڈالر سے بھی کم ہیں لہٰذا پھر کاروبار کیسے چلے گا؟

ہم دس سال سے حکومت کے دروازے پر ٹکریں مار رہے ہیں آپ ملک میں کپاس کا نیا بیج آنے دیں تاکہ ہم اپنی ضرورت کی کپاس پیدا کر سکیں‘ ہمیں باہر سے نہ منگوانی پڑے لیکن وفاق ہمیں صوبوں کے پاس بھجوا دیتا ہے اور صوبے ’’ہمارے پاس اتھارٹی نہیں ہے‘‘ کا جواب دے کر ہمیں دوبارہ اسلام آباد روانہ کر دیتے ہیں‘ ہم پھر کیا کریں؟ دوسرا ہم ہر سال چھ بلین ڈالر کا کھانے کا تیل منگواتے ہیں جب کہ ہم بڑی آسانی سے ملک میں کارن‘ سورج مکھی‘ کینولا اور سویا بین اگا کر یہ چھ بلین ڈالر بچا سکتے ہیں مگر حکومت ہمیں پلہ نہیں پکڑاتی‘ ہم نے اس دن یہ حقیقت آرمی چیف کے سامنے رکھی اور فوری طور پر یہ فیصلہ ہو گیا۔

حکومت ہمیں زمینیں اکٹھی کر کے دے گی‘ ہم باہر سے کمپنیاں لے کر آئیں گے اور ملک میں کارپوریٹ ایگری کلچر فارمنگ شروع ہو جائے گی‘ سعودی عرب‘ قطر اور یو اے ای اس سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں مگر یہ حکومت کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتے‘ یہ بھی ہماری طرح اسٹیبلشمنٹ سے گارنٹی مانگتے ہیں اور ہم نے یہ حقیقت اس دن بتائی‘ بالکل اسی طرح مائننگ اور آئی ٹی میں بھی بے تحاشا پوٹینشل ہے اور چین اور عرب ممالک ان سیکٹرز میں بھی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں مگر ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہے لہٰذا کام کیسے ہوگا؟‘‘۔

میں نے پوچھا ’’کیا میٹنگ میں کوئی سیاسی گفتگو ہوئی تھی؟‘‘ یہ قطعی لہجے میں بولے ’’ہرگز نہیں‘ ہمارا ایجنڈا صرف معیشت اور بزنس تھا تاہم بشیر جان محمد (ڈالڈا کے مالک) نے اسحاق ڈار سے اتنا کہا تھا آپ الیکشن کرا دیں سیاسی استحکام کے بغیر ملک نہیں چل سکے گا‘‘ میں نے یہ سن کر بشیر جان سے پوچھا تھا ’’اگر پی ڈی ایم الیکشن جیت گئی تو کیا عمران خان نتائج مان لیں گے؟‘‘ میرے اس سوال کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا‘‘ میں نے پوچھا ’’آرمی چیف کا اس پر کیا رد عمل تھا؟‘‘

یہ بولے ’’انھوں نے کوئی ریسپانس نہیں دیا تھا‘‘ میں نے پوچھا ’’کیااسٹیبلشمنٹ موجودہ حالات سے پریشان ہے؟‘‘ یہ بولے ’’آرمی چیف نے ہمیں قرآن مجید اور احادیث کا حوالہ دے کر بتایا انسانوں اور قوموں پر ایسے مشکل وقت آتے رہتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ وقت پھیرتا رہتا ہے‘ ہم بھی بہت جلد اس مشکل سے نکل آئیں گے‘ مجھے ان کی گفتگو سن کر محسوس ہوا وہاں بھی تشویش موجود ہے لیکن پریشانی نہیں ہے‘یہ لوگ پرامید ہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا اسحاق ڈار آئی ایم ایف کی وجہ سے پریشان تھے؟‘‘

یہ بولے ’’جی ہاں یہ تھے‘ ان کا کہنا تھا تمام شرائط ماننے کے باوجود آئی ایم ایف ہماری ناک رگڑ رہا ہے اور جب تک یہ معاملہ نہیں نبٹے گا ہم بحران سے باہر نہیں آ سکیں گے‘‘ میں نے مشورہ دیا ’’ہمیں متبادل راستے بھی تلاش کرنے چاہئیں‘ ہمیں روس اور ایران سے سستا پٹرول لینا چاہیے‘ ہمیں انرجی میں بھی خود کفالت کا بندوبست کرنا چاہیے‘ ہم آخر کب تک اس طرح ہاتھ پھیلاتے رہیں گے؟‘‘ میں نے پوچھا ’’عمران خان نے آپ کی ملاقات کے بعد یہ کیوں کہا تھا یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہماری حکومت گرائی تھی؟‘‘

یہ ہنس کر بولے ’’میں نے دسمبر 2022 میں تین بزنس مینوں کے ساتھ زمان پارک میں عمران خان سے ملاقات کی تھی‘ میں نے انھیں مشورہ دیا تھا آپ صوبوں میں اسمبلیاں نہ توڑیں‘ مدت پوری کریں اور الیکشن وقت پرہونے دیں ورنہ ملک میں عدم استحکام ہو جائے گا‘ معیشت بھی جائے گی اور آپ کو الیکشن بھی نہیں ملیں گے لیکن ان کا جواب تھا مجھے میرے وکیل بتا رہے ہیں حکومت 90 دنوں میں ہر صورت الیکشن کرائے گی اور یوں میں دونوں صوبوں میں دوبارہ حکومت بنا لوں گا‘ میں نے انھیں بتایا‘ آپ میری بات لکھ لیں۔

آپ نے اگر اسمبلیاں توڑ دیں تو 90 دنوں میں الیکشن نہیں ہو سکیں گے اور آپ صوبوں سے بھی جائیں گے مگر یہ نہ مانے اور آج آپ صورت حال دیکھ لیں چناں چہ ہم نے ان کی حکومت نہیں گرائی تھی‘ ہم تو دسمبر 2022میں بھی انھیں بچا رہے تھے‘ یہ گڑھا عمران خان نے خود کھودا ہے اور یہ روز دوسروں کو اس کا ذمے دار قرار دے رہے ہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’آپ کی آرمی چیف سے ملاقات کا کیا فائدہ ہوا؟‘‘ یہ ہنس کر بولے ’’بہت فائدہ ہوا۔

بزنس مین کمیونٹی کے اعتماد میں اضافہ ہوا‘ پنجاب حکومت نے 45267 ایکڑ زمین اکٹھی کر کے فوج کے حوالے کر دی‘نوٹی فکیشن جاری ہو چکا ہے‘ ہم اب اس زمین پر غیرملکی کمپنیوں کے ساتھ جوائنٹ وینچر کریںگے‘ زراعت ترقی کرے گی اور ہم کم از کم اجناس میں خود کفیل ہو جائیں گے اور اس سے اربوں ڈالر کا سرمایہ بچے گا‘‘ میں نے پوچھا ’’عمران خان کا ایشو کیا ہے؟‘‘ یہ ہنس کر بولے ’’یہ بہت جلد دوسروں کی باتوں میں آ جاتے ہیں‘‘

19/03/2023

Indeed Daddy is SuperHero! ❤️❤️❤️

16/03/2023

Islam phobia Day

 #گجرات انڈیا سے تعلق رکھنے والے مھیش شیوانی نے اپنی بیٹی کی شادی میں جہیز دینے کے بجائے ہر مذہب سے تعلق رکھنے والی 470 ...
12/03/2023

#گجرات انڈیا سے تعلق رکھنے والے مھیش شیوانی نے اپنی بیٹی کی شادی میں جہیز دینے کے بجائے ہر مذہب سے تعلق رکھنے والی 470 ایسی لڑکیوں کی شادی کرواٸی جن کا باپ نہیں تھا.تمام لڑکیوں کیلۓ وہ سب کیا جو اپنی بیٹی کیلۓ کیا..
کیا کوئی پاکستانی لیڈر امیرزادہ ایسے کر سکتا ھے ؟

Afsoos sad afsoos
11/03/2023

Afsoos sad afsoos

Kyaa ye Such hy ?
11/03/2023

Kyaa ye Such hy ?

Address

B/w Karkhana Bazar Nd Rail Bazar
Faisalabad
38000

Opening Hours

Monday 08:00 - 23:00
Tuesday 08:00 - 23:00
Wednesday 08:00 - 23:00
Thursday 08:00 - 23:00
Saturday 08:00 - 23:00
Sunday 08:00 - 23:00

Telephone

+923146466767

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Makki Cloth Market posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share