Arfa Shehroz Novels

Arfa Shehroz Novels Pakistan
Novelistic
Online work also available
Contact for paid promotion in DM
Live in Gujranwala.. welcome to Arfa Shehroz Novels official page..��

💯 Agree
03/07/2024

💯 Agree

03/07/2024

Asslam o Alaikum!🥰🥰sb Kesy hn??? sorry me janti hn k me ny novel ki episode deny me bht bht waqt lga diya😞😞or ho b sakta h ap sb ko gussa aya ho or naraz b hn lkin Mera asa koi irada ni tha bss kch muamlat asy thy k me Kisi ko b koi response ni Dy ski.. lkin ab INSHALLAH INSHALLAH hr hafty bd epi post o gi INSHALLAH bss duaon me yad rakhna or APNA bht bht khayal rakhna Allah Hafiz 💞

20/07/2023



#قسط10

******

شاہ کہاں ہے؟؟
شاہ لایا تھا نا مجھے یہاں؟؟
یقیناً اسے احساس ہو گیا ہو گا کہ اس نے غلط کیا میرے ساتھ...
کہاں ہے شاہ؟؟؟
میم کون شاہ؟؟؟
وو__وقار__شاہ...
نہیں میم وہ آپ کو یہاں نہیں چھوڑ کے گئے بلکہ جنہوں نے آپ کو یہاں چھوڑا ہے نا انہوں نے ایک پیغام بھی دیا ہے آپ کے لئے...
مجھے اپنا محسن سمجھو...میں دو دن بعد آؤں گا ابھی کسی ضروری کام سے جانا پڑ رہا ہے مجھے... اللہ حافظ....
کون ہے یہ شخص...
سوری میم ہم آپ کو انکا نام نہیں بتا سکتے..سر نے منع کیا ہے....
میم یہ ڈوز لے لیں پھر آپکو بریک فاسٹ بھی کرنا ہے...
نہیں چاہئے مجھے کوئی ڈوز اور بریک فاسٹ...
مجھے گھر جانا ہے...
سوری میم آپ یہاں سے تب تک نہیں جا سکتیں جب تک سر نہیں آ جاتے...
ایسے کیسے نہیں جا سکتی ہٹو پیچھے وہ دھکا دے کہ آگے بڑھی اور دروازے تک گئی تیزی سے..
لیکن یہ کیا..
ہٹو میرے راستے دو گارڈز تھے دروازے کے باہر...
سوری میم پلیز آپ ہماری ڈیوٹی کرنے دیں ہمیں پلیز..
ایک گارڈ نہایت ادب سے نظریں جھکا کے بولا...
وہ بےبس سی اندر کی جانب آ گئی اور اپنا سر ہاتھوں میں گرا لیا...
مجھے جانے دو خدا کا واسطہ ہے
پلیز مجھے جانے دو.
شاہ مجھے ڈھونڈ رہا ہو گا وہ میرے بغیر ایک پل بھی نہیں رہ سکتا..
دیکھو تم بھی تو عورت ہو نا میرا درد کیوں نہیں سمجھتی...
نرس کو دکھ ہو رہا تھا اسکی حالت دیکھ کے اس نے خاموشی سے قدم باہر کی جانب بڑھا لئیے...
اور باہر آ کے کسی کو فون کرنے لگی...
سر میڈم کی حالت سنبھل نہیں رہی وہ بار بار ایک ہی رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ انہیں شاہ کے پاس جانا ہے.. اور وہ آپ کا نام بھی پوچھ رہیں تھیں...
میں لگاؤں گا ایک دو دن تک چکر لیکن ابھی کیسے بھی کر کے اسے سنبھالو.. اور ہو سکے تو ہوش میں نا آنے دو نہیں تو اس طرح وہ اپنا اور اپنے بچے کا نقصان نا کر دے...
ٹھیک ہے سر..
اللہ حافظ خیال رکھنا اسکا....
اتنا کہہ کہ فون بند ہو گیا..
ایسا کرتی ہوں ڈاکٹر سے پوچھ کہ نیند کا انجیکشن دے دیتی ہوں...
*****

فون کب سے بج رہا تھا لیکن نجانے ان کادھیان کہاں تھا...
اسفند نے آ کہ انکی توجہ فون کی طرف کروائی...
بابا جان کب سے فون بج رہا ہے...
او ابھا میرا دھیان نہیں گیا اس طرف...
اٹھاؤ فون کس کا ہے...
اسلام وعلیکم...
وعلیکم السلام جینٹل مین...کیسے ہو تمہارا بہنوئی بات کر رہا ہوں...
اسفند یار کے چہرے کا رنگ یکلخت اڑا تھا...
کون ہے اسفندیار ؟؟؟ وقار شاہ نے سوال کیا...
بابا جان ودید کا فون ہے...
وہ بھی اچانک الرٹ ہوئے تھے...
مجھے دو مجھ سے بات کرواؤ اسکی...
ودیدکہاں ہے میری اناہیتا میری بیٹی کو چھوڑ دو تمہیں جو کہنا ہے وہ مجھ سے کہو تمہاری دشمنی مجھ سے میری بیٹی سے نہیں...اور مجھے نہیں یاد پڑتا کہ تم کون ہو اور کس بنا پہ مجھ سے دشمنی نبھا رہے ہو...
ودید کاقہقہ گونجا...
وقار شاہ صبر...صبر سے کام لو سب کچھ جان جاؤ گے اتنی بھی کیا جلدی...
اور میرا تو حوالہ ہی ایسا ہے کہ سن کہ تمہاری روح تک کانپ اٹھے گی...
جاننا چاہتے ہو نا کہ میں کون ہوں تو کچھ تصویریں بیجھ رہا ہوں اور رہی بات دشمنی کی تو وہ بھی بڑی گہری اور کافی سال پرانی ہے...
تو سنو وقار شاہ...
میں سید ودید شاہ تم سے اپنی ماں کی بربادیوں کا بدلہ لے رہا ہوں ...
جسے تم نے اپنا کہ بے سرو سامان اپنی زندگی سے بےدخل کیا...
صرف اور صرف ایک غلط فہمی کی بنا پہ جب کہ تم جانتے تھے تمہارے گھر میں میری ماں کے سارے ہی دشمن تھے...
تمہاری ماں نے اور بہن نے سرے سے ہی قبول نا کیا تھا میری ماں کو..
میری ماں نے تمہاری آس پہ اپناگھر چھوڑا اور تم نے کیا کیا اسے ایسی حالت میں اپنی زندگی سے بے دخل کیا جب اسے تمہاری محبت اور توجہ کی سب سے زیادہ ضروت تھی...
جب وہ ماں بننے کے مراحل تہ کر رہی تھی تو اسے طلاق دی..
تمہارے طلاق دینے کے باوجود بھی وہ کتنی دفع تمہارے در پہ بھیک مانگنے گئی..
لیکن تمہاری ماں نے اور بہن نے دھکے دے کہ اسے وہاں سے نکال دیا اور تم نے بھی اسے دھتکار دیا...
وار شاہ تو سناٹوں کی زد میں آ گئے تھے...
یہ کیسا انکشاف تھا جو آج ودید نے کیا تھا کیا وہ اس کا بیٹا تھا...
نہیں نہیں ودید اتنا بڑا ظلم و گناہ نہیں کر سکتا...
تم یہ گناہ نہیں کر سکتے ودید تم نہیں کر سکتے یہ گناہ کہہ دو کہ تم یہ سب جھوٹ بول رہے ہو...
وقار شاہ کیوں نہیں کر سکتا یہ گناہ اگر تم گناہ کر سکتے ہو تو مجھے کیا ہے..
مجھے بس اپنی ماں کا بدلہ چاہیے تھا اور وہ میں بھرپور طریقے سے لے رہا ہوں..
میری ماں کا ظرف اتنا ہے کہ وہ تو کب سے معاف کرنے کا کہہ رہی تھی مجھے لیکن اپنی ماں کے ایک ایک آنسو کا بدلہ لوں گا...
اور ہاں تصویریں یاد سے دیکھ لینا...
اتنا کہہ کہ ودید نے کھٹک سے فون بند کر دیا...
ودید ودید میری بات سنو...
فون بند ہو چکا تھا لیکن وقار شاہ پھر بھی التجائیں کر رہے تھے...
اور پاگلوں کی طرح بار بار نمبر ڈائل کر رہے تھے لیکن اگلے بندے کو کوئی پرواہ نا تھی...
کچھ دیر بعد تصویریں آنا شروع ہو گئیں...
وقار شاہ نے دیکھا کہ اناہیتا عاشی کے سینے سے لگی رو رہی تھی..
ایک تصویر میں اس نے عاشی کے سامنے ہاتھ جوڑے ہوئے تھے..بے شمار ایسی تصاویر تھیں جو عاشی اناہیتا اور ودید کی تھیں...
اس بات کی تصدیق ہو چکی تھی کہ ودید عاشی کا ہی بیٹا ہے...لیکن اگر رشتہ دیکھا جائے تو وہ رشتے سے اس کا بھائی لگتا تھا...
نہیں نہیں استغفرُللہ...
ایسا نہیں ہو سکتا ایسا نہیں ہو سکتا میرے گناہ کی اتنی بڑی سزا نہیں مل سکتی مجھے نہیں...
وقار شاہ نے کمرے کی چیزوں کو ادھر ادھر پھینکنا شروع کر دیا اور چیخیں مارنے لگے اسفند جو فون باپ کو پکڑا کہ باہر نکل گیا تھا چیخوں کی آواز پہ بھاگا کمرے کی جانب...
جب کہ گھر کہ تمام افراد جمع ہو گئے تھے وقار شاہ ہے کمرے کہ باہر...
اسفند بہت مشکل سے باپ کو سنبھال رہا تھا...
نہیں اسفند اس سے کہو کہ یہ سب جھوٹ ہے ایسا نہیں کر سکتا وہ میرے ساتھ مجھے جیتے جی نہیں مار سکتا...
بابا میں بات کرتا ہوں آپ پریشان نا ہوں پلیز بابا...
وقار شاہ اپنا ہوش گنواتے چلے گئے...
*****

یہ سچ تھا کہ عاشی تب تک ہسپتال میں رہی جب تک اس کا محسن نہیں آ گیا واپس جب وہ واپس آ تو عاشی نے اس سے وقار شاہ کے گھر جانے کی التجا کی جسے وہ مان بھی گیا فوراً...
جب وہ وقار شاہ کے گھر گئی تو اس کی ماں اور بہن نے اسے دھکے دے کہ گھر سے نکال دیا بدکرداری کا طعنہ دے کہ...
وہ بہت بار آئی اور ہمیشہ کی طرح اسے دھتکار ہی ملی دروازے سے اندر ہی کوئی جانے نہیں دیتا تھا...
اسی دوران قسمت نے اس کا ساتھ دیا اور وقار شاہ سے اس کا سامنا ہوا ..
شاہ میری بات سنو وہ جو اسے دیکھ کہ تھوڑا نرم ہوا تھا لیکن عاشی کے ساتھ اپنے سے بھی زیادہ خوبرو نوجوان کو دیکھ کہ کلس گیا..
ماں ٹھیک ہی کہتیں ہیں تم جیسی لڑکیاں ایک مرد پہ اکتفا نہیں کر سکتی..
اگر میں نے اس دن غصے میں وہ لفظ بول ہی دیے تھے تو تم رک جاتیں...
لیکن نہیں تمہیں تو تب اپنے آشنا کے ساتھ وقت گزارنا تھا اور تم مجھے چھوڑ کہ چلی گئیں...
کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا میں نے تمہیں میری ماں نے بھی کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں تمہیں تلاشا ہو..
مگر تمہیں تو مجھ سے بھی اچھا مل گیا تھا کوئی...
شاہ میری بات سن....
بسسس!!!! بہت سن لیں تمہاری میں نے...
تم جیسی عورت کی میری زندگی میں کوئی جگہ نہیں ہے...
وقار نہیں میں تمہاری تھی اور تمہاری ہی ہوں.. میں آج بھی پاکیزہ ہوں مجھے بدکردار مت کہو وقار...
بکواس بند کرو اپنی...
نہیں رکھنا چاہتا تم جیسی عورت سے کوئی بھی تعلق...
اور اس گند کو میرا نا کہو جو عورت شوہر کی غیر موجودگی میں کسی اور کے ساتھ راتیں رنگین کر سکتی ہے وہ کچھ بھی کر سکتی ہے...
چٹاخ.... تھپڑ کی گونج اٹھی...
بس کر دو خدا کے لئے بس کر دو اب ایک لفظ اور نہیں ...
نہیں رکھنا چاہتے تعلق تو نا رکھو میں بھی مزید اپنی محبت کی بھیک نہیں مانگ سکتی...
تم نہیں رکھنا چاہتے مجھے تو نا رکھو اللہ کی زمین بہت بڑی ہے ایک در بند ہو تو وہ اور بہت سے در کھول دیتا ہے..
تین بار طلاق دے چکا ہوں میں تمہیں... اب ںا تو کوئی گنجائش نکلتی ہے اور نا ہی میں نکالنا چاہتا ہوں..حق مہر مل جائے گا تمہیں ڈیلیوری کے بعد..
اور ہاں ایک اور بات ابھی تم عدت میں ہو... جانتی ہو نا کہ طلاق کے بعد عدت بھی ہوتی ہے تو تب تک صبر کر لو اور شرم و حیا کے گھونٹ بھرو...
ڈیلیوری تک تم عدت میں ہی ہو جانتا ہوں کہ تمہارا گزارا ایک مرد کے بغیر بالکل بھی نہیں ہے.. اب عدت کا دورانیہ بھی لمبا ہے مشکل کام ہے لیکن ناممکن نہیں...
اب اپنی شکل گم کرو اور آئندہ مجھے نا دکھانا یہ چہرہ ناؤ گیٹ لاسٹ...
عاشی مرے مرے قدموں سے باہر ہی اور باہر آتے ہی زمین بوس ہوگئی...
اس کے محسن نے جلدی سے اسے گاڑی میں ڈالا اور ہسپتال بھاگا..
سر انہوں نے بہت زیادہ سٹریس لیا ہے اس حالت میں ان کے لئے اسر ان کے بچے کے لئے بہت نقصان دہ ہے...
جب وہ ہسپتال پہنچا تو ڈاکٹر اس دیکھنے کے بعد بتانے لگی..
آپ نے ایک چیز کا خاص خیال رکھنا ہے یہ عدت میں ہیں اور کوئی بھی میل ڈاکٹر یا سٹاف لاپروائی نا کریں جب تک یہ ٹھیک نہیں ہو جاتی تب تک ہاسپٹل میں ہے لیکن ٹھیک ہوتے ہی میں گھر لے جاؤں گا..
ان کے شوہر کی ڈیتھ ہو گئی ہے کیا؟؟
نہیں طلاق دی ہے..
اس حالت میں طلاق دی ہے.. یہ کیسے ممکن ہے..
تین دفع طلاق دے چکا ہے اب رجوع کی کوئی گنجائش نہیں اور جب تک بچہ نہیں ہو جاتا یہ عدت میں ہی یہ دورانیہ گزاریں گی..
سر یہ تو بہت لمبا پیریڈ ہو جائے گا...انکی ڈیلیوری میں ابھی تین ساڑھے تین ماہ رہتے ہیں...
ہو جائے گا بس آپ لوگ کوآپریٹ کریں میرے ساتھ...
یہ میرے خاندان کی عزت ہیں ...
دیکھتے ہی دیکھتے وہ وقت بھی آن پہنچا اور عاشی نے ایک بہت ہی خوبصورت لیکن نہایت ہی کمزور بیٹے کو جنم دیا..
وہ خود بھی بہت کمزور ہو چکی تھی لیکن زخم نہیں بھر رہا تھا اسکا...

____________________"_____________________

جاری ہے.....

09/07/2023



#قسط9
******

اناہیتا کب سے ودید کا انتظار کر رہی تھی لیکن ودید کا کہیں کوئی نام و نشان نہیں تھا... ودید کہاں رہ گئے ہیں آپ پلیز آپ گھر آ جائیں مجھے پریشانی ہو رہی ہے... ودید میں آپ سے ڈرتی تھی میں آپ کے غصے سے خوفزدہ تھی مجھے یہی لگتا تھا کہ پتا نہیں آپ یہ سب کچھ قبول کریں گے کہ نہیں...جو کچھ پہلے ہمارے درمیان ہوا میں اس سب سے بہت ڈر گئی تھی اور سمجھی کہ یہ بھی آپ کے انتقام کا حصہ ہے...
ودید پلیز گھر آ جائیں میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی مر جاؤں گی آپ کے بغیر آپ نے مجھے اتنی محبت عزت توجہ دی کہ میں آپ کا دیا ہر زخم بھلا کہ آپ سے شدید محبت کر گئی.. مجھے اس مقام پہ لا کہ تنہا نا کریں...
یہ کیسا اعتراف تھا اور کس موقعے پہ ہوا تھا..
اگر حالات کچھ اور ہوتے اور اناہیتا یہ اعتراف ودید سے کرتی تو وہ خوشی سے جھوم جاتا لیکن آج جب اناہیتا نے اپنا دل کھول کہ رکھا تو اسے سننے والا اس کے پاس نہیں تھا بلکہ روٹھ کہ گیا تھا...
اماں جان جو اناہیتا کو دیکھنے آئیں تھی اس طرح سے روتا گڑگڑاتا دیکھ کہ حقیقت میں پریشان ہوئیں تھیں...اور انکو دلی طور پہ خوشی بھی ہوئی تھی کہ اناہیتا ہر چیز کو بھلا کہ مخلصی سے یہ رشتہ نبھا رہی ہے...
دروازے پہ دستک ہوئی...
اناہیتا نے سر اٹھا کہ دیکھا…
انا.. میں آ جاؤں بیٹا اندر...
آئیں نا اماں جان آپ باہر کیوں کھڑی ہیں..
میرا بچہ کیا ہوا کیوں اتنا تو رہی او... ودید آ جائے گا پریشان نا ہو میرا بیٹا بسس.. اور ودید کو اچھا نہیں لگے گا اس طرح سے رونا.. کچھ کھاؤ گی..
نہیں اماں جان مجھے ابھی بھوک نہیں ہے.. جب لگے گی تو کچھ کھا لوں گی...
کچھ کھا لینا لازمی...
جی اماں جان...
اچھا میں کمرے میں جا رہی ہوں بسس تمہیں دیکھنے آئی تھی...
اماں جان...
ہممم...
وہ آپکی ودید سے کوئی بات ہوئی وہ کب تک آئیں گے..
میری جان وہ آ جائے گا بس وقتی غصہ ہے اسے..
آپ__آپ__مجھے__اپنا__موبائل__دے__سکتیں ہیں___
اناہیتا نے سر جھکا کہ یہ بات کہی جیسے کہ اسے بہت شرم آ رہی ہو موبائل مانگتے ہوئے...
کیوں نہیں میرا بیٹا میں ابھی نوری کے ہاتھ بجھواتی ہوں آپ پریشان نا ہو...
جی.. شکریہ...
نوری تھوڑی دیر بعد موبائل دے گئی تھی اسے...
اللہ تعالیٰ جی انکا دل میرے لئے نرم کر دے پلیز اللہ تعالیٰ جی...
رنگ ہو رہی ہے فون اٹھا لیں پلیز...
جی اماں جان...
ودید نے فون اٹھایا تو دوسری طرف خاموشی چھا گئی..
اماں جان کیا ہوا.. سب خیریت ہے نا...
وو___ودی___ودیید..مم__میں__انا__اناہیتا...
پلیز کال نا کاٹنا آپ پلیز آپ کو قسم ہے اماں جان کی..
ودید جو فون رکھنے کا ارادہ رکھتا تھا اناہیتا کی یہ بات سن کے فون کو گھورنے لگا گیا...
جلدی کہو کیا کہنا ہے میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے.. کسی بھی فضول قسم کی بات( بکواس کہنے سے روکا...) کیلئے..
ودید.. اناہیتا نے ایک آس سے اسکا نام پکارا...
ودید نے محسوس کیا کہ زیادہ رونے سے اناہیتا کی آواز بدلی بدلی سی ہے...
ودید میں آپ سے کچھ بھی چھپانا نہیں چاہتی تھی میرا یقین کریں کہ میں بس آپ کے غصے سے خائف رہتی تھی..
اب بھی تو مجھے غصہ آیا ہے نا...اب کونسا مجھے غصہ نہیں آیا...
ودید پلیز آپ گھر آ جائیں میں آپ کو ہر بات کی وضاحت دوں گی..میں کبھی بھی آپ کو دھوکا نہیں دے سکتی میرا یقین کریں...
اللہ کے بعد آپ ہی میرا آسرا ہیں..
اناہیتا کی آواز رندھ گئی...
ودید کو بھی اس چھوٹی لڑکی پہ ترس آنے لگا تھا..
ودید..میں___آپ__کے__بغیر__نہیں__رہ__سکتی__آپ__گھر___آجائیں__آپ__کو__قسم____ہمارے....
اناہیتا خاموش ہوگئی..
ودید کو یہ اظہار سکون دے رہا تھا...اس کا غصہ اتر گیا تھا...
ہمارے کیا؟؟؟بولو اناہیتا...اس نے آواز میں تھوڑا روعب پیدا کیا...جب کہ لب مسکرا رہے تھے...
ہہ__ہم__ہمارے...
کیا...
بس گھر آ جائیں...
ساتھ ہی اس نے فون بند کر دیا...
تھوڑی دیر بعد موبائل پہ میسج موصول ہوا...
اناہیتا نے بے قراری سے میسج دیکھا تواس کا رنگ اڑ گیا..
میں گھر نہیں آ رہا تم نے مجھے بہت دکھی کیا ہے اور اب مجھے فون کر کے تنگ نا کرنا...ورنہ انجام کی زمہ دار تم ہو گی.. صاف صاف وارننگ تھی...
اناہیتا سر پکڑ کے بیٹھ گئی اور آنسو رواں تھے اسکی آنکھوں سے...
ودیییید....وہ کرب سے چلائی...
ایک اور میسج آیا..
اناہیتا فوراً سے متوجہ ہوئی..
میں ابھی مرا نہیں ہوں جو یہ حالت بنائی ہوئی ہے تم نے اپنی.. روز کی طرح فریش ہو کہ کپڑے چینج کرو میری مرضی کے مطابق تیار ہو کہ لیٹو...تھوڑی دیر تک سو جانا میں نہیں چاہتا کہ تمہاری یہ لاپروائی میرے بچے کو ڈسٹرب کرے... آئی سمجھ...
اناہیتا جہاں ودید کا نام دیکھ کہ خوش ہوئی تھی..وہیں ودید کی باتوں نے اس پھر سے دکھی کر دیا تھا..
اس نے رونا ترک کیا اور ودید کی خواہش کے مطابق چینج کر کے خود پہ سپرے کیا بالوں میں برش کر کے لیٹ گئی...
ودید...مجھے آپ کے بغیر نیند نہیں آتی پلیز گھر آ جائیں مجھے آپ کی عادت ہو چکی ہے پلیز یہ ظلم نا کریں میرے ساتھ..
اناہیتا سوچوں کے تانوں بانوں میں کب نیند کی وادیوں میں اتری اسے پتا ہی نا چلا...
اسے سوئے ہوئے آدھا گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ کوئی دبے قدموں سے کمرے میں داخل ہوا..اور کمرے کے دروازے کو لاک لگایا...
کمرے میں گھپ اندھیرا تھا...
کوئی چلتا ہوا اناہیتا کے قریب آیا اور اس کے نیند میں ہونے کی تصدیق کر کے اپنا کام سر انجام دینے لگا...
اناہیتا جو کسی احساس کے تحت جاگیر تھی اپنے علاؤہ کسی دوسرے کی موجودگی کو محسوس کر کے سہم گئی..اور کانپنے لگی...
ابھی وہ چیختی کہ کسی نے پھرتی سے اس کے منہ پہ اپنا ہاتھ رکھا...
ہششششش...
امممممم___امممممم....

*****

عاشی سناٹوں کی زد میں تھی اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ اس کا شاہ جو ہر وقت ایک ہی گردان کرتا تھا کہ عاشی مجھے تم سے عشق ہے تم سکون ہو میرا وجود تمہارے بغیر کچھ بھی نہیں جس دن تم سے جدا ہوا سمجھو وقار شاہ مر گیا..
اور اس نے عاشی کو مار دیا تھا آج...
عاشی سکتے میں چلی گئی تھی اور نجانے کب بیہوش ہوئی اس کوئی خبر نہیں تھی...
جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو انجان جگہ پہ پایا..
وہ خود کو کمپوز کرنا چاہ رہی تھی ... لیکن دل کا درد حد سے بڑھ رہا تھا...
کہاں ہوں میں ..
بڑی مشکل سے پاؤں گھسیٹ کہ بیڈ سے اتری اور دروازے تک گئی.. ابھی وہ دروازے تک پہنچی ہی تھی کوئی اندر داخل ہوا...
میم آپ اٹھ گئیں..اب کیسی طبعیت ہے آپ کی..
نرس نے کافی مہذب انداز میں پوچھ رہی تھی ...
میں کہاں ہوں یہ کونسی جگہ ہے...
میم یہ ہاسپٹل ہے آپکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی آپ دو دن سے یہاں ہیں...
دو دن سے مجھے ہوش نہیں تھا؟؟؟؟
جی میم اب آپ کیسا فیل کر رہیں ہیں...
عاشی تو سن ہو گئی تھی کہ وہ دو دن سے یہاں ہے...
____________________""""___________________

جاری ہے...

25/06/2023



#قسط8
*****

اناہیتا کا یکلخت رنگ اڑا تھا...
اناہیتا میں کچھ پوچھ رہا ہوں...تم جانتی تھی نا یہ سب پہلے سے ہی...
بولو...
و__ود__ودیی__ودید...
ہممم...
ودید.. مم__ممیری__ب__بات__سن__سنیں...
اناہیتا میں تمہیں سننے کے لیے ہی بیٹھا ہوں.. بولو...
ودید وہ..
مجھے__مجھے سونا ہے پلیز مجھے سونے دیں..
بڑی ہمت جمع کر کے اناہیتا نے یہ بات بغیر اٹکے کہی تھی...
سو جانا میں کوئی ہل نہیں چلانے کو نہیں بولا میری بات کا جواب چاہیے بسس مجھے..
اب کی بار ودید کا لہجہ خاصا برہم سا تھا.. غصے کا اندازہ اس کا چہرہ دیکھ کے لگایا جا سکتا تھا...
اناہیتا کچھ نا بولی بسس خاموش رہی..
اناہیتا بولو تم جانتی تھی نا یہ بات پہلے سے.. اب کہ وہ دھاڑا تھا اناہیتا کے کان کے پاس...
اناہیتا کا دل سہم گیا تھا...ودید نے زور سے اس کے بازو کو دبوچا ہوا تھا..
ودید __مجھے__درد__ہو__رہا__ہے..
میری بات کا جواب دو..
ج_ججی___اناہیتا سر جھکا کے بولی تھی..
ودید نے اس کے بازو کو جھٹکا دیا تھا .. مجھ سے کیوں چھپائی یہ بات بولو ...
میں بار بار تم سے پوچھتا رہا کہ کیا وجہ ہے تم نے مجھے اس قابل ہی نہیں۔ سمجھا کہ مجھے کچھ بتا سکو...
اب ودید کی آواز بہت اونچی تھی...
ودید مجھے درد ہو رہا ہے پلیز مجھے چھوڑیں اب وہ اپنا منہ چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی جو ودید نے دبوچا ہوا تھا...
اماں جان جو کہ ڈاکٹر کو رخصت کر کے مسرور سی آ رہیں تھیں اندر کا منظر دیکھ کہ دہل گئیں...
ودید.. یہ کیا طریقہ ہے پیش آنے کا.. چھوڑو اناہیتا کو..
اماں جان آپ کو کچھ نہیں پتا..
کیا نہیں پتا.. بات جو بھی ہو لیکن اپنی بیوی سے پیش آنے کا یہ کونسا طریقہ ہے.. وہ بھی تب جب اس آپ کے پیار کی خاص ضرورت ہو...
اماں جان میں نے اس کے باپ کے لیے کی سزا اس نا دینے کا فیصلہ کیا.. میں نے اپنے اور اس کے رشتے کو سچے دل سے نبھا رہا ہوں ہر ممکن کوشش کی کہ یہ نارمل ہو جائے اپنے کیئے پہ شرمندہ ہوں لیکن پھر بھی یہ مجھ سے مخلص نہیں ہے...
مجھے کچھ بتاؤ گے کہ کیا ہوا ہے..
اماں جان یہ ماں بننے والی ہے اس بات کا علم پہلے سے تھا اناہیتا کو لیکن یہ بات چھپائی ہے اس نے .. میں صبح شام پوچھتا تھا انا تم ٹھیک.. کوئی بات ہے کیا .. لیکن ہمیشہ اس کا سر نا میں ہی ہلتا تھا... مجھے بتائیں نا میں اگر اس کے ساتھ غلط طریقے سے پیش آ جاتا یا کبھی غصے میں اس کو کوئی نقصان پہنچا دیتا.. تو پھر کیا ہوتا... وہ تو اللہ نے میرے دل میں رحم ڈالا اور میں نے اس کو سچے دل سے عزت اور محبت دی لیکن اس نے ثابت کر ہی دیا کہ یہ وقار شاہ کی اولاد ہے... اس کے خون میں شامل ہے دھوکہ...
اناہیتا اس الزام پہ تڑپ گئی تھی...
نہیں ودید ایسی بات نہیں..
بکواس بند کرو تم اپنی... خبردار جو میرا نام بھی لیا تم نے...
ودید بس بھی کرو بیٹا.. اماں جان جو کہ کھڑے کھڑے پتا نہیں کن سوچوں میں گم ہو گئیں تھیں... ایک دم سے ہوش کی دنیا میں واپس آئیں ...
پوری بات تو سن لو پہلے اناہیتا کی شاید وہ کچھ بتانا چاہتی..
مجھے کوئی بات نہیں۔ سننی اس کی...
آپ ہی سنیں اس کی باتیں..
ودید غصے سے کہتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر کو نکل گیا جب کہ اناہیتا نے اندر پھوٹ پھوٹ کے رونا شروع کر دیا...
انا میرا بچہ چپ... روتے نہیں ایسے... چپ میری جان میں سمجھاؤں گی ودید کو ابھی وہ بہت غصے میں ہے..لو پانی پیو..
اماں جان نے اناہیتا کو اپنے سینے سے لگایا ہوا تھا اناہیتا بھی ماں جیسی آغوش میں جا کے خود پہ کیا ضبط کھو چکی تھی...
اماں جان می__میں__نے__سوچا__کہ__مم__میں__ودید__کو__بتا__دوں__یی__یہ__بات__لیکن__مجھے__ان__سے__ببہ__بہت__ڈر__لگتا__ہے...__ممیں__نے__ہی__ودید__,سے___ضد__کی__تھی __کہ___آپپ___آپکو___شہر__بلائیں___آپ__سمجھیں___گی__میری___بات__کو___
اناہیتا ہچکیوں کے دوران اٹک اٹک کے بولی...
میں جانتی ہوں چپ ہو جاؤ میرا بچہ... ودید تمہارے معاملے میں اب بہت حساس ہو گیا ہے.. بس اس وجہ سے وہ ایسا کر رہا ہے...
اٹھو جاؤ فریش ہو کہ آؤ منہ ہاتھ دھو میں کچھ منگوائی ہوں تمہارے لیے...اٹھو میرا بیٹا..ایسے نہیں روتے...
اناہیتا بھی مجبوراً انکی بات سن کے اٹھ گئی...
واشروم میں جا کے اس نے منہ پہ اچھے خاصے پانی کے چھینٹے مارے جیسے اندر کا غبار نکال رہی ہو...وہ چند لمحوں میں ہی نڈھال ہو گئی تھی...
ودید آپ کیوں ایسے کر رہے ہیں میرے ساتھ.. اب تو اللہ کے بعد آپ ہی میرا آسرا ہیں...اگر آپ نے یہی بے رخی دکھانی تھی تو اتنی مہربانیاں کیوں کی مجھ پہ.. آنسو پھر سے تواتر سے بہہ رہے تھے...میرا دل پھٹ جائے گا...ودییید.....میں کہاں جاؤں..
اناہیتا پاگل سی ہو رہی تھی....باہر تو وہ فریش ہو کہ نکلی تھی واشروم سے لیکن اس کے دل کی حالت بڑی عجیب سی ہو رہی تھی...
انا یہ لو بیٹا یہ فریش جوس اور ساتھ فروٹس بھی ہیں جو آسانی سے کھا سکتی ہو وہ لے لو..
نہیں اماں جان میں بس جوس ہی پیوں گی...
میں اپنے کمرے میں جاؤں...
یہ میرے سامنے پیو تو پھر چلی جانا...
اس نے بمشکل سارا جوس ختم کیا...
اب میں جاؤں...
ہممم جاؤ لیکن بیٹا پریشان نہیں ہونا ودید گھر آئے گا تو اس کا غصہ بھی اتر جائے گا.. بسس وقتی ہے.. انہوں نے اناہیتا کا ماتھا چوما...
جی اماں جان... فقط اتنا ہی بولی وہ...
اناہیتا مرے مرے قدموں سے اپنے کمرے میں گئی تو کمرہ بھی اسے کھانے کو دوڑ رہا تھا.. بےچینی سی بےچینی تھی اس کے دل میں...ودید.....
اناہیتا چکر لگا رہی تھی کمرے میں اور ودید ودید کا ورد تھا اسکی زبان پہ...
******
آغا ہاؤس میں اس وقت سناٹا چھایا ہوا تھا...
عاشی اس وقت مجرم بنی کھڑی تھی سب کے درمیان اور آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے...
شاہ تم کہاں ہو کیوں یہ عذاب مسلط کیا مجھ پہ کیوں اکیلے بھیجا تم نے اپنی امی کو...وہ دل ہی دل میں اپنے شاہ سے مخاطب تھی...
میں تو اپنے خاندان سے ہی کوئی لڑکی لانا چاہ رہی پر کیا کروں میرا بیٹا آپکی بیٹی کے سحر میں ایسا جکڑا ہوا ہے کہ کسی اور کا نام نہیں لینے دیتا...
آپکو بھی اپنی بیٹی کو اتنی چھوٹ نہیں دینی چاہیے تھی...
دیکھیں نا اب آپ لوگ اسے ہاسٹل بھیج کہ بالکل ہی غافل ہو گئے.. وہاں یہ گھومتی پھرتی رہی سیر سپاٹے کرتی رہی میرے بیٹے کے ساتھ آپ کو نظر رکھنی چاہیے تھی...
وہ زہر پہ زہر اگل رہی تھیں مگر ہر کوئی ادھر ایسے خاموش تھا جیسے سانپ سونگھ گیا ہو...
میں چاہتی ہوں کہ آپ اپنی بیٹی کا نکاح میرے بیٹے سے کر دیں...
آپ نے سوچا بھی کیسے کہ اتنی سب باتوں کے بعد میں آپ کو ہاں کروں گا... آغا جان کی آواز گونجی..
یہی تو میں چاہتی ہوں کہ تم لوگ نا کرو وہ دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہوئیں...
لیکن آپکی بیٹی بھی...
بسسس!!! آغا جان نے ہاتھ اٹھا کے خاموش کروا دیا میں اپنی بیٹی کو سنبھال لوں گا آپ فکر نا کریں..
عاشی پہلو پہ پہلو بدل رہی تھی..
آغا جان پلیز میری بات..سس__سنیں__
عاشی کی بات بھی مکمل نا ہوئی تھی کہ وہ دھڑام سے زمین بوس ہوئی...
عائشہ.. عائشہ بیٹا کیا ہوا... سب لوگ اسکی طرف لپکے تھے..
لو جی نئی ڈرامے بازی شروع ہو گئی باپ کو راضی کرنے کی.. ڈاکٹر کو فون کرو..جلدی.. آغا جان گرجے تھے...
تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر وہاں موجود تھی لیکن ڈاکٹر نے جو سب کو خبر دی اس نے سب کے پیروں کے نیچے سے زمین ہی کھینچ لی.. سمیت شاہ کی والدہ اور بہن کے...
آپ ٹھیک سے چیک اپ کریں آپکو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ڈاکٹر میری بیٹی ایسا نہیں کر سکتی ...
میں آپکا دکھ سمجھ سکتی ہوں لیکن یہی حقیقت ہے...
وہ پلو میں منہ چھپا کے رونے لگ گئیں...
آپ کو جتنا ہو سکتا ہے خیال رکھیں کیوں کہ عائشہ زیادہ ٹینشن برداشت نہیں کر سکتی...
ڈاکٹر میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں میری بیٹی کی عزت رکھ لیں یہ بات کسی سے بھی نا کہیں.. کیسی باتیں کر رہیں ہیں آپ آپ کے ساتھ ہمارے فیملی ٹرمز ہیں...وہ میری بھی بہن بیٹی جیسی ہے آپ فکر نا کریں..
عاشی جو ہوش میں آ چکی تھی اب آغا جان کی طرف بڑھ رہی تھی...
وہیں رک جاؤ مر گیا ہوں میں تمہارے لئے اور تم میرے لئے.. فون کرو اس لڑکے کو اور کہو لے جائے تمہیں یہاں سے عزت کے ساتھ..
آغا جان..
بسسس!!
آج کے بعد تمہارا ہم سے کوئی رشتہ نہیں..
میں نے تمہیں کھلی آزادی دی لیکن اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ تم حلال حرام کا فرق ہی بھول جاؤ..ایک بار مجھ سے کہتی کہ تم کسی کو پسند کرتی ہو میں دیکھ بھال کہ تمہاری شادی اس سے کرواتا میں تو اولاد کے ساتھ زبردستی کے حق میں نہیں ہوں...
میں نے ارمغان کو زبان دی کہ میرا اپنا خون ہے وہ میں نے سوچا بچپن سے تم اس کے ساتھ اٹیچ ہو بہت خوش رکھتا وہ تمہیں..اسکی بیوی کی وفات کے بعد مجھے اسکی تنہائی کا خیال بھی تھا اور تمہاری خوشیوں کا بھی.. تم سے اچھا تو وہ نکلا جس نے مجھ سے دغا بازی نہیں کی اور صاف صاف کہا کہ آغا جان میں پہلے سے شادی شدہ ہوں اور ایک بچے کا باپ بھی ہوں مجھے نہیں لگتا کہ میں عائشہ کے قابل ہوں وہ کنواری ہے اور کم عمر ہے اس کے سو ارمان ہوں گے وہ آپ کے آگے خاموش ہو جائے گی لیکن میں بچپن سے اسے خوش رکھتا آیا ہوں اب دکھ نہیں دے سکتا...
تم نے کیا کیا میرے ساتھ میرا دل زخمی کیا میری روح کو چھلنی کیا.. تم اب سارے حق کھو چکی ہو...
بلاؤ اسے اور جاؤ اپنی خوشیاں مناؤ جا کے..
آغا جان...وہ ان کے پاس جانے ہی لگی تھی کہ انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا اور وہاں سے چلے گئے.
آغا جان.. وہ پھوٹ پھوٹ کے روئی شاہ کواس نے کال کی اور فوراً سے پہلے حویلی آنے کا کہا...
کچھ گھنٹوں بعد وہ حویلی میں تھا اور اس نے آغا جان سے بات کرنے کی بہت کوشش کی لیکن انہوں نے ایک بھی بات نا سنی.. اور نکاح کا حکم دیا.. شاہ تو نکاح ہی چاہتا تھا لیکن اس کی والدہ نے خوب واویلا کیا..
قاضی صاحب بھی آ گئے اور نکاح شروع ہوا...
عائشہ عبید کیا آپکو وقار حیدر کے ساتھ یہ نکاح قبول ہے...
ایجاب و قبول کے بعد جب وہ آغا جان کے کمرے کی طرف گئی تو کمرہ لاکڈ تھا.. نکاح کے فوراً بعد وہ وہاں سے چلے گئے تھے..
آغا جان دروازہ کھولیں پلیز میری بات سنیں آغا جان..
نا انہیں دروازہ کھولنا تھا اور نا ہی انہوں نے کھولا...
ایسے ہی رخصتی ہوئی اور وقار حیدر کے ساتھ وہ رخصت ہو کے شاہ ولا میں آ گئی جہاں اسکا کوئی استقبال نا ہوا...
عاشی کا شاہ ہی اسکی دلجوئی میں لگا رہا...
فرحت بیگم (شاہ کی والدہ) کا برا حال تھا..اگر میں نے تمہیں اپنے بیٹے کی زندگی سے نا نکالا تو میرا نام بھی فرحت حیدر شاہ نہیں..انہوں نے خود سے ٹھان لی تھی..
دن گزرتے جا رہے تھے اور وقار شاہ کے دل میں عاشی کی محبت دن بہ دن بڑھ رہی تھی..
ایک دن وقار شاہ کام کے سلسلے میں دوسرے شہر گیا ہوا تھا اور عاشی کا دل بڑا ہی بےچین تھا... شاہ آ جاؤ نا گھر میرا دل گھبرا رہا ہے..
میری جان میں آ جاؤں گا ایک دو دن میں بسس تھوڑا کام رہ گیا ہے..شاہ میرا دل نہیں لگتا تمہارے بغیر....
میں آ جاؤں گا تم اپنا اور ہمارے بچے کا خیال رکھنا... اب سو جاؤ...
اماں جان میں آ جاؤں گا آپ عاشی کا بہت بہت خیال رکھیے گا وہ پریشان ہے میں ادھر نہیں ہوں نا.. تم پریشان نا ہو میرا بچہ میں کیوں خیال نہیں رکھوں گی اسکا.. اسکی بھی ماں ہوں میں..تو پریشان نا ہو بس..
اگلی صبح سب کے لئے ہی حیران کن تھی.. کیونکہ وقار شاہ اپنے گھر میں موجود تھا..
اماں ابھی تک اٹھی نہیں عاشی...
نہیں بیٹا میں نے اٹھایا ہے دو تین دفع کمرے سے ہی بولی مجھے سونے دیں تنگ نا کریں بار بار..
ایسا کہا اس نے... وقار کو شدید حیرانی ہوئی کہ عاشی ایسا کبھی نہیں کہہ سکتی...
بیٹا میں کیوں جھوٹ بولنے لگی تم سے..اسی لئے تم سے کچھ کہتی نہیں کہ تم یقین نہیں کرو گے...
نہیں ایسی بات نہیں ہے اماں...
بس رہنے دے بیٹا..
اچھا میں دیکھتا ہوں اسے خود.. طبیعت نا خراب ہو گئی ہو اسکی...
وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا....
جبکہ فرحت بیگم کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی عجیب سی...
اماں اماں... وقار کی زور زور سے آوازیں آ رہی تھی...
کیا ہو گیا بیٹا آ رہی ہوں...
چابیاں کہاں ہیں کمرے
عاشی دروازہ نہیں کھول رہی..کہیں بیہوش تو نہیں ہو گئی.. فون بھی نہیں اٹھا رہی...
لاؤ جلدی چابیاں وہ ملزمہ پہ چلائی..
جب وقار نے دروازہ کھولا سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی...
کیونکہ عاشی بیڈ پہ بے ترتیب حالت میں تھی...اور بستر کی حالت بھی عجیب سی تھی..
عاشی کے چہرے پہ لاؤڈ میک اپ تھا...
اور واشروم سے کسی کے نہانے کی آوازیں آ رہیں تھی اور بیڈ کے پاس جینٹس جوتے تھے...
توبہ توبہ...یہ سب کیا ہے بیٹا..
عاشی اٹھو___عاشی..وقار کی آواز کسی کھنڈر سے آتی ہوئی محسوس ہوئی تھی..
میں تم سے مخاطب ہوں..عاشی...
وہ دھاڑا تھا...
لیکن عاشی پہ غنودگی طاری تھی..
وہ مدہوش سی لگ رہی تھی..
شاہ___مجھے...
جان اٹھ گئی تم..
کوئی واشروم سے نکلا جس کی آواز تھی یہ...
یہ کون ہے؟؟ تم کیا کر رہے ہو میرے بیٹے کے کمرے میں...
باہر آنے والے کا بھی رنگ اڑا تھا..
کچھ پوچھا ہے میں نے تم سے.. فرحت بیگم کروفر سے بولیں....
انہوں نے تین چار تھپڑ اس لڑکے کے منہ پہ مارے..
جب کہ وقار شاہ تو سکتے کی کیفیت میں عاشی کو ہی دیکھ رہا تھا...
نکال اسکو گھر سے باہر یہ اس قابل ہی نا تھی کہ اسے اتنی عزت دی جائے..یہ ہمیشہ تیری غیر موجودگی میں یہی کچھ کرتی آئی ہے مگر میں خاموش تھی کہ میرا بیٹا خوش ہے اس بدذات کے ساتھ..
عاشی کے منہ پہ انہوں نے پانی پھینکا تھا تو وہ تھوڑا ہوش میں آئی تھی..
شاہ تم کب آئے اور یہ سب کیا ہو رہا ہے ...
وہ دکھتے سر کے ساتھ شاہ سے مخاطب ہوئی اور پوچھنے لگی لیکن شاہ نے اسے خود سے پرے دکھیلا..
خبردار اگر اسے کچھ بھی کہا تو .. میں ابھی یہیں ہوں.. وہ لڑکا بولا جبکہ عاشی اسے بھی حیرانگی سے دیکھ رہی تھی...
یہ__یہ کون ہے..
عاشی تم کیوں ڈر رہی ہو جان میں ادھر ہی ہوں بات تو ویسے بھی کھل ہی گئی ہے اب چھپانے کا کیا فائدہ...
بکواس بند کرو تم اپنی کون ہو تم..عاشی کافی حد تک بات سمجھ چکی تھی….
شاہ میں نے نہیں جانتی اسے یہ جھوٹ بول رہا ہے..
ہاں تمہارا حلیہ بھی جھوٹ ہے اس کا تمہارے بستر پہ ہونا بھی جھوٹ ہے... اس کا واشروم سے دھڑلے شاور لے کے آنا سب جھوٹ ہے...
شاہ میری بات سنو یہ سب آنٹی کی کوئی سازش ہے..یہ مجھے...
چٹاخ...وقار شاہ کا ہاتھ اچانک اٹھا تھا..
میں تمہیں طلاق دیتا ہوں...
شاہ نہیں میری بات...
طلاق دیتا ہوں..
شاہ شاہ نہیں شاہ پلیز..
میں وقار شاہ اپنے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں...
اسکا بےجان سا وجود زمین بوس ہوا تھا...

""____________________:__________________""
جاری ہے...

17/06/2023



#قسط7
*******
اناہیتا کی صبح آنکھ کھلی تو خود کو ودید کے سینے پہ سر تھا اسکا اور ودید نے اناہیتا پہ اپنا بازو اس طرح رکھا ہوا تھا جیسے اسے چھپایا ہو خود میں.. اب اناہیتا کے لیے مشکل مرحلہ تھا ودید کی ٹانگ اور بازو خود سے ہٹانا..ودید___ودید___
ہممممم..
صبح ہو گئی ہے.. اماں جان اٹھ گئیں ہیں..
ہممممم...تو
مجھے بھی اٹھنا ہے...
تو جانی اٹھ جاؤ نا... اچھا سمجھ گیا.. کس کروں تو اٹھو گی...
اناہیتا تو ودید کی اس بات پہ شرم سے پانی پانی ہو گئی...اور آنکھیں پھاڑ کہ دیکھنے لگی اسے...
نہیں نہیں ممیرا وہ مطلب نہیں تھا...
ودید نے مزید اپنے پاس کیا اناہیتا کو اور اس کے بالوں میں منہ دے کہ خوشبو محسوس کرنے لگا...
کیسا مطلب تھا پھر...
اناہیتا خاموش رہی...
اچھا جاؤ...
اناہیتا ابھی اٹھی ہی تھی کہ ودید نے آواز دی..
انا...
جی...
وہ جونہی پیچھے مڑی ودید نے اس کے بازو کو جھٹکے سے اپنی طرف کھینچا اور وہ سیدھا ودید کے سینے سے آ لگی ودید نے اسکی سانسوں کو قید کیا... اناہیتا ودید کے سینے پہ ہاتھ مارنے لگی زور زور سے.. ودید کو اسکی حالت پہ ترس آیا اور پھر چھوڑ دیا اناہیتا کو... اناہیتا ودید کے سینے پہ زور زور سے سانس لینے لگی جبکہ ودید کے چہرے پہ دلکش سی مسکراہٹ تھی اور وہ اناہیتا کی کمر سہلا رہا تھا......
کیا ہوا سویٹ ہارٹ....بڑی معصومیت سے سوال کیا؟؟
اناہیتا نے کوئی جواب نہ دیا...
بولو...
ککچھ__نہیں...
اچھا جاؤ...
اناہیتا فوراً سے پہلے اٹھی اور وہاں سے غائب ہو گئی... جانتی تھی کہ ودید کی آنچ دیتی نگاہیں اور لہجہ دونوں کے آگے بےبس ہو کہ رہ جاتی تھی...
اپنے کپڑے لے کے واشروم میں بند ہو گئی...
جبکہ ودید اناہیتا کی حرکتوں اسکی شرم گھبراہٹ اور معصوم حرکتوں پہ مسکرا رہا تھا...
اناہیتا میں نے جو بھی زیادتی کی ہے تمہارے ساتھ انشاللہ میں ہر چیز کا کفارہ ادا کروں گا تمہیں ہر وہ خوشی دوں گا جس کی تم حقدار ہو...میں اپنے ہر اس رویے پہ شرمندہ ہوں جس کی وجہ سے تمہیں تکلیف ہوئی اور تمہاری آنکھوں میں میری وجہ سے آنسو آئے...ودید دل ہی دل میں مخاطب تھا..اتنے میں اناہیتا کی واشروم سے الٹیاں کرنے کی آواز باہر آئی... ودید بےچینی سے اٹھا...
انا___کیا ہوا تم ٹھیک او... انا__ ودید نے دروازے پہ دستک دی...
اناہیتا کی جان اندر ہوا ہوئی...
انا__میں کچھ پوچھ رہا ہوں...
جی آتی ہوں.. ٹھیک ہوں...
تھوڑی دیر میں اناہیتا نڈھال سی نم حلیے میں دروازے پہ نمودار ہوئی... انا کیا ہوا تم ٹھیک نہیں ہو نا...
ودید دروازے پہ ہی کھڑا تھا... فوراً سے اناہیتا کو پکڑ کے بیڈ تک لایا اور گلاس میں پانی ڈال کہ پلانے لگا اسے...
اناہیتا نے تھوڑا سا پی کہ بس کر دیا... اب بتاؤ کیا ہوا ہے کیوں اتنی نڈھال ہو اور یہ الٹیاں کیوں کرتی ہو اتنی..
ممیں نے آپ کو بتایا تھا نا کہ ممیرا معدہ ٹھیک نہیں ہے...
اور شیمپو کی سمیل بہت بری ہے میرا دل خراب ہوتا ہے اس سے...
اچھا تم اپنی باقی کے کام ختم کر لو جب تک میں فریش ہو کے آتا ہوں... ودید کا اشارہ گیلے بالوں اور کی طرف تھا...
وہ میں نے آپ کے کپڑے نہیں نکالے ابھی... مجھے لگا آپ ابھی مزید لیٹیں گے.. اناہیتا جونہی اٹھی ودید نے پھر سے بٹھا دیا.. میں لے لیتا ہوں تم بیٹھو...
ودید نے اپنے لئے بھی بلیک کلر کا سوٹ نکالا اور واشروم کی طرف بڑھ گیا...
یا اللہ مجھے کوئی راستہ دکھائیں میں کیا کروں میں کس طرح ودید کو بتاؤں یہ بات..اگر انہوں نے غصہ کیا یا پھر مجھ پہ ہاتھ اٹھایا تو میں کیا کروں گی... اللہ جی آپکو پتا ہے نا کہ مجھے مار سے کس قدر ڈر لگتا ہے...
اور اگر ودید نے یہ بات قبول ہی نا کی تو میں کیا کروں گی... یہ بات ذہن میں آتے ہی اناہیتا کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے... اناہیتا نے اپنا منہ صاف کیا اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھ کے بال ڈرائے کرنے لگی....وہ اپنی سوچوں اور فکروں میں ڈوبی ہوئی تھی کہ ودید کے باہر آنے کی خبر ہی نا ہوئی...ودید محویت سے اسے دیکھ رہا تھا...
ودید نے اناہیتا کے ہاتھ سے بلوئر پکڑا اور خود اس کے بال ڈرائے کرنے لگا... اناہیتا نے کچھ دیر ودید کو دیکھا شیشے میں پھر اپنی نظریں جھکا لیں... اناہیتا کے بالوں سے فارغ ہو کہ وہ اپنی طرف متوجہ ہوا...
اناہیتا اٹھی تو ودید نے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے روکا..
سوالیہ نظروں سے ودید کی طرف دیکھا شیشے میں ...
جی؟؟؟
ایسے ہی باہر جاؤ گی کیا...
کیا مطلب کیسے...
لپسٹک لگاؤ لائٹ کلر... اور ...ودید خاموش ہوا...
اور...؟؟
کچھ لائٹ سی لپسٹک لگا لو ... اور بال ابھی باندھنا نا... آدھے کھلے رہنے دو...
جی.. اناہیتا نے آدھے بالوں میں کیچر لگایا..اور نیوڈ لپسٹک لگا کہ مڑی تو ودید نے اپنا پرفیوم اس پہ سپرے کیا...
اناہیتا کے ساتھ ساتھ تقریباً وہ بھی ریڈیو ہو چکا تھا...
اناہیتا بستر کی سلوٹیں دور کرنے لگی.. اور کمفرٹر بھی اچھے سے تہ کر کے بستر پہ ڈالا... ایک نگاہ کمرے پہ ڈالی...
چلیں ...
ہممم چلو...
اناہیتا نے سر پہ دوپٹہ لیا اور ودید کے سنگ چلنے لگی...
جب وہ نیچے پہنچے تو کچن سے مزے مزے کی خوشبو آ رہی تھی جس کی وجہ سے ان دونوں کی بھوک مزید چمکی...
اناہیتا کچن میں گئی تو اماں جان ہاتھ دھو رہیں تھیں..
اسلام وعلیکم اماں جان... اناہیتا نے شرمندہ سا ہو کہ سلام کیا...
وعلیکم السلام... انہوں نے محبت سے جواب دیا..
ودید نے بھی آ کے سلام کیا...
اماں جان آپ نے کیوں ناشتہ بنایا میں بس آنے ہی والی تھی.. کل سے میں اور جلدی اٹھ جایا کروں گی سوری...
اناہیتا بہت ہی خجل سی ہو رہی تھی..
ودید اور اماں جان مسکرا دیے...
نہیں بیٹا میں ناشتہ خود بناتی ہوں...
اماں جان جب شہر آتیں ہیں تو ہم ان کے ہاتھ کا کھانا ہی کھاتے ہیں... تم شرمندہ نا ہو...
اناہیتا نے مسکرا کہ سر ہلا دیا... اس بات پہ وہ ودید کو اتنی پیاری لگی کہ وہ اسے ہی دیکھے گیا..
میں ناشتہ ٹیبل پہ لگاتی ہوں...
اناہیتا نے ٹیبل پہ ناشتہ لگایا... اور سب نے مل کر اچھے ماحول میں ناشتہ کیا.. اماں جان آج بہت عرصے بعد میں نے اتنا لذیذ ناشتہ کیا ہے آپ بہت اچھا کھانا بناتیں ہیں...
اناہیتا سراہے بنا نا رہ سکی..دیکھا اماں جان اناہیتا بھی آپ کے ہاتھ کے کھانے کی فین ہوگئ ہے.. وہ مسکرا دیں...
انا چائے کا دو مجھے ... ودید نے کہا..
جی ابھی لائی..اماں جان آپ کے لیے بھی لے آؤں چائے.. لے آؤ بیٹا...
اناہیتا کچن میں گئی اور چائے بڑی مشکل سے دونوں مگ میں ڈالی کیوں کہ چائے سے اس کا جی متلانا لگتا تھا.. اس نے فوراً نمک منہ میں رکھا اور چائے لے کہ باہر کی طرف بڑھی.. وہ ٹیبل سے تھوڑا دور ہی تھی کہ اس چکر آیا... اس نے فوراً خود کو سنبھالا لیکن ابھی ایک قدم اور اٹھایا ہی تھا کہ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا اور اس نے مدھم سی آواز دی ودییییی___ ابھی نام بھی پورا نہیں لیا تھا کہ دھڑام سے زمین بوس ہوئی..اور گرم گرم چائے بھی اس کے ہاتھوں اور پیروں پہ گری... گرنے سے پہلے اس کے منہ سے ودید کا نام نکلا تھا... ودید نے اپنے نام کی پکار پہ جونہی منہ پیچھے کیا تو اناہیتا کو اس سے پہلے کہ وہ پکڑتا... وہ گر چکی تھی...انا___وہ دونوں حواس باختہ سے اٹھے اور اناہیتا کو ودید نے آوازیں دیں ... انا__انا اٹھو میری جان کیا ہوا نوری پانی لاؤ.. اماں جان نے آواز لگائی...
بیٹا اناہیتا کو میرے کمرے میں لے چلو اور ڈاکٹر کو کال کرو...
ودید نے اناہیتا کو بازوؤں میں اٹھایا اور کمرے کی جانب بڑھا...
اناہیتا کو بستر پہ ڈال کہ ڈاکٹر کے نمبر پہ کال کی... اور خود اس کے ہاتھ سہلانے لگا...
بیٹا پریشان نا ہو انشاللہ سب ٹھیک ہو گا...
تھوڑی ہی دیر میں ڈاکٹر ان کے پاس تھی...
ڈاکٹر دیکھیں میری بیوی کو کیا ہو گیا ہے..
ڈاکٹر نے اناہیتا کی نبض چیک کی پھر آنکھیں اور ناخن ... کیا ہوا ہے انکو..
کافی دن ہو گئے ہیں یہ الٹیاں کرتی ہے بہت اور چکر بھی اکثر آتے ہیں... کوئی چیز کھانے پینے نہیں ہوتی اگر کھانے کا کہوں یا کھا لے تو پھر اس کی الٹیاں نہیں رکتیں...
تو آپ نے کسی ڈاکٹر کو نہیں دکھایا...
نہیں دکھانے کا کہا تھا لیکن انا نے کہا کہ اسے معدے کا مسئلہ ہے... آج لانا تھا اسے آپ کے پاس لیکن اتنی نوبت نہیں آئی...اچھا باہر انتظار کریں میں انکو ہوش میں لا کے چیک اپ کروں گی..
منہ پہ پانی کے چھینٹے پڑے تو اناہیتا نے مندی مندی آنکھیں کھولیں اسے تھوڑی دیر بعد سمجھ آئی کہ کیا ہوا تھا... بیٹا میں آپکی فیملی ڈاکٹر فریدہ خانم ہوں...
اب آپ مجھے اپنی طبیعت کے بارے میں بتاؤ اور جو جو میں پوچھوں وہ مجھے بتاؤ.. ڈاکٹر کا لہجہ بہت نرم تھا.. تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا تو ودید جو کب سے چکر کاٹ رہا تھا فوراً اندر کی طرف بڑھا... کیا ہوا انا کو کیسی طبعیت ہے اب کوئی مسئلے والی بات تو نہیں نا...اماں جان بھی ڈاکٹر کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی...
جی ماشاءاللہ ٹھیک ہے اناہیتا لیکن اب آپکو اس کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھنا ہو گا اور خوش رکھیں اسے کوئی پریشانی نا دیں اور خوراک اچھی رکھیں اب اسکی... اماں جان کافی حد تک سمجھ چکیں تھیں لیکن وہ ڈاکٹر کے منہ سے سننا چاہتیں تھیں...
مبارک ہو ودید بیٹا تم باپ بننے والے اور مسز شاہ آپ دادی...
ودید تو پہلے حیرانگی سے ڈاکٹر کی بات کو سن کے سکتے میں آ گیا.. اور پھر اتنا خوش ہوا کہ جس کا کوئی ٹھکانہ نہیں...سچی بتائیں کیا یہ بات سچ ہے.. ہاں بیٹا یہ بات سچ ہے لیکن تمہیں ایک دفع اسے کلینک بھی لانا ہو گا کیوں کہ یہ ایک مائنر سا چیک اپ ہے باقی کا اچھے سے وہیں پہ ہو گا... ودید اناہیتا کی طرف بڑھا اور اس کے ماتھے پہ اپنے پر حدت ہونٹ رکھے اناہیتا ودید کا لمس پاتے ہی خود پہ اختیار نہیں رکھ پائی اور آنسو اسکی آنکھوں سے جاری ہو گئے...
انا میرا بچہ بہت بہت مبارک ہو اللہ صحت تندرستی سلامتی اور ایمان والی اولاد سے نوازے آمین ثم آمین اور اللہ تمہیں بھی اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین ثم آمین.... انہوں نے دعائیں دیں اور اناہیتا کا ماتھا چوم کے اس کے آنسو صاف کئے...
مسز شاہ آپ اناہیتا کو لازمی طور پہ کلینک لائیں کیوں کہ پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے ..
کیا مطلب دیر ہو چکی ہے... ودید کے اس بات پہ کان کھڑے ہوئے تھے.. اور اناہیتا کے چہرے کا رنگ اڑا تھا...
ویسے تو چیک اپ کے بعد ہی پتا چلے گا لیکن اناہیتا کی بتائی گئی باتوں کے مطابق تھرڈ منتھ سٹارٹ ہونے والا ہے کچھ دن بعد اسکو... یہ اندر سے بہت ویک ہے میں کچھ سپلیمنٹ اور میڈیسن چیک اپ کے بعد ہی دوں گی... آپ لے آئیے گا اسے ادھر.. ڈاکٹر نے اماں جان کی طرف دیکھتے ہوئے پروفیشنل انداز میں کہا...
اناہیتا کے چہرے کا رنگ زرد ہو چکا تھا جب کہ ودید کے چہرے پہ کچھ دیر پہلے نظر آنے والی خوشی کہیں غائب تھی اب... اچھا اللہ حافظ اب میں چلتی ہوں ...
ارے نہیں ایسے کیسے.. میں ایسے نہیں جانے دوں گی آپکو باہر آئیں ناشتہ کر کے جائیے گا... نہیں نہیں مسز شاہ اس تکلف کی ضرورت نہیں ہے آپ رہنے دیں پلیز... پھر کبھی .. نہیں نہیں ایسے نہیں ڈاکٹر اور پیشنٹ کے علاؤہ بھی ہمارا کوئی رشتہ ہے.. یہ بات نا بھول جایا کرو... اچھا پھر ایسا کریں کہ چائے ہی پلا دیں اسکے علاؤہ کچھ نہیں... اماں جان نے چائے کے ساتھ اور بھی لوازمات منگوا لیے...وہ دونوں اپنی باتوں میں مصروف تھیں جبکہ اندر اناہیتا کا ایک رنگ آ رہا تھا اور ایک جا رہا تھا...
اناہیتا... ودید نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے آواز دی...
جج__جی___وہ اٹک کہ بولی..
کیا تمہیں خوشی نہیں ہوئی...
تم خوش نہیں ہو کیا ؟؟؟
ننہیں... ایسی __کوئی بات__نہیں..
اچھا... ودید نے اس کے ماتھے پہ پھر سے اپنے لب رکھے..
تمہیں یہ سب پتا تھا نا پہلے سے ہی..
اناہیتا کچھ پوچھا ہے میں نے...
"_______________________"______________________"
جاری ہے....

Address

Gujranwala

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Arfa Shehroz Novels posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category