25/06/2023
#قسط8
*****
اناہیتا کا یکلخت رنگ اڑا تھا...
اناہیتا میں کچھ پوچھ رہا ہوں...تم جانتی تھی نا یہ سب پہلے سے ہی...
بولو...
و__ود__ودیی__ودید...
ہممم...
ودید.. مم__ممیری__ب__بات__سن__سنیں...
اناہیتا میں تمہیں سننے کے لیے ہی بیٹھا ہوں.. بولو...
ودید وہ..
مجھے__مجھے سونا ہے پلیز مجھے سونے دیں..
بڑی ہمت جمع کر کے اناہیتا نے یہ بات بغیر اٹکے کہی تھی...
سو جانا میں کوئی ہل نہیں چلانے کو نہیں بولا میری بات کا جواب چاہیے بسس مجھے..
اب کی بار ودید کا لہجہ خاصا برہم سا تھا.. غصے کا اندازہ اس کا چہرہ دیکھ کے لگایا جا سکتا تھا...
اناہیتا کچھ نا بولی بسس خاموش رہی..
اناہیتا بولو تم جانتی تھی نا یہ بات پہلے سے.. اب کہ وہ دھاڑا تھا اناہیتا کے کان کے پاس...
اناہیتا کا دل سہم گیا تھا...ودید نے زور سے اس کے بازو کو دبوچا ہوا تھا..
ودید __مجھے__درد__ہو__رہا__ہے..
میری بات کا جواب دو..
ج_ججی___اناہیتا سر جھکا کے بولی تھی..
ودید نے اس کے بازو کو جھٹکا دیا تھا .. مجھ سے کیوں چھپائی یہ بات بولو ...
میں بار بار تم سے پوچھتا رہا کہ کیا وجہ ہے تم نے مجھے اس قابل ہی نہیں۔ سمجھا کہ مجھے کچھ بتا سکو...
اب ودید کی آواز بہت اونچی تھی...
ودید مجھے درد ہو رہا ہے پلیز مجھے چھوڑیں اب وہ اپنا منہ چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی جو ودید نے دبوچا ہوا تھا...
اماں جان جو کہ ڈاکٹر کو رخصت کر کے مسرور سی آ رہیں تھیں اندر کا منظر دیکھ کہ دہل گئیں...
ودید.. یہ کیا طریقہ ہے پیش آنے کا.. چھوڑو اناہیتا کو..
اماں جان آپ کو کچھ نہیں پتا..
کیا نہیں پتا.. بات جو بھی ہو لیکن اپنی بیوی سے پیش آنے کا یہ کونسا طریقہ ہے.. وہ بھی تب جب اس آپ کے پیار کی خاص ضرورت ہو...
اماں جان میں نے اس کے باپ کے لیے کی سزا اس نا دینے کا فیصلہ کیا.. میں نے اپنے اور اس کے رشتے کو سچے دل سے نبھا رہا ہوں ہر ممکن کوشش کی کہ یہ نارمل ہو جائے اپنے کیئے پہ شرمندہ ہوں لیکن پھر بھی یہ مجھ سے مخلص نہیں ہے...
مجھے کچھ بتاؤ گے کہ کیا ہوا ہے..
اماں جان یہ ماں بننے والی ہے اس بات کا علم پہلے سے تھا اناہیتا کو لیکن یہ بات چھپائی ہے اس نے .. میں صبح شام پوچھتا تھا انا تم ٹھیک.. کوئی بات ہے کیا .. لیکن ہمیشہ اس کا سر نا میں ہی ہلتا تھا... مجھے بتائیں نا میں اگر اس کے ساتھ غلط طریقے سے پیش آ جاتا یا کبھی غصے میں اس کو کوئی نقصان پہنچا دیتا.. تو پھر کیا ہوتا... وہ تو اللہ نے میرے دل میں رحم ڈالا اور میں نے اس کو سچے دل سے عزت اور محبت دی لیکن اس نے ثابت کر ہی دیا کہ یہ وقار شاہ کی اولاد ہے... اس کے خون میں شامل ہے دھوکہ...
اناہیتا اس الزام پہ تڑپ گئی تھی...
نہیں ودید ایسی بات نہیں..
بکواس بند کرو تم اپنی... خبردار جو میرا نام بھی لیا تم نے...
ودید بس بھی کرو بیٹا.. اماں جان جو کہ کھڑے کھڑے پتا نہیں کن سوچوں میں گم ہو گئیں تھیں... ایک دم سے ہوش کی دنیا میں واپس آئیں ...
پوری بات تو سن لو پہلے اناہیتا کی شاید وہ کچھ بتانا چاہتی..
مجھے کوئی بات نہیں۔ سننی اس کی...
آپ ہی سنیں اس کی باتیں..
ودید غصے سے کہتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر کو نکل گیا جب کہ اناہیتا نے اندر پھوٹ پھوٹ کے رونا شروع کر دیا...
انا میرا بچہ چپ... روتے نہیں ایسے... چپ میری جان میں سمجھاؤں گی ودید کو ابھی وہ بہت غصے میں ہے..لو پانی پیو..
اماں جان نے اناہیتا کو اپنے سینے سے لگایا ہوا تھا اناہیتا بھی ماں جیسی آغوش میں جا کے خود پہ کیا ضبط کھو چکی تھی...
اماں جان می__میں__نے__سوچا__کہ__مم__میں__ودید__کو__بتا__دوں__یی__یہ__بات__لیکن__مجھے__ان__سے__ببہ__بہت__ڈر__لگتا__ہے...__ممیں__نے__ہی__ودید__,سے___ضد__کی__تھی __کہ___آپپ___آپکو___شہر__بلائیں___آپ__سمجھیں___گی__میری___بات__کو___
اناہیتا ہچکیوں کے دوران اٹک اٹک کے بولی...
میں جانتی ہوں چپ ہو جاؤ میرا بچہ... ودید تمہارے معاملے میں اب بہت حساس ہو گیا ہے.. بس اس وجہ سے وہ ایسا کر رہا ہے...
اٹھو جاؤ فریش ہو کہ آؤ منہ ہاتھ دھو میں کچھ منگوائی ہوں تمہارے لیے...اٹھو میرا بیٹا..ایسے نہیں روتے...
اناہیتا بھی مجبوراً انکی بات سن کے اٹھ گئی...
واشروم میں جا کے اس نے منہ پہ اچھے خاصے پانی کے چھینٹے مارے جیسے اندر کا غبار نکال رہی ہو...وہ چند لمحوں میں ہی نڈھال ہو گئی تھی...
ودید آپ کیوں ایسے کر رہے ہیں میرے ساتھ.. اب تو اللہ کے بعد آپ ہی میرا آسرا ہیں...اگر آپ نے یہی بے رخی دکھانی تھی تو اتنی مہربانیاں کیوں کی مجھ پہ.. آنسو پھر سے تواتر سے بہہ رہے تھے...میرا دل پھٹ جائے گا...ودییید.....میں کہاں جاؤں..
اناہیتا پاگل سی ہو رہی تھی....باہر تو وہ فریش ہو کہ نکلی تھی واشروم سے لیکن اس کے دل کی حالت بڑی عجیب سی ہو رہی تھی...
انا یہ لو بیٹا یہ فریش جوس اور ساتھ فروٹس بھی ہیں جو آسانی سے کھا سکتی ہو وہ لے لو..
نہیں اماں جان میں بس جوس ہی پیوں گی...
میں اپنے کمرے میں جاؤں...
یہ میرے سامنے پیو تو پھر چلی جانا...
اس نے بمشکل سارا جوس ختم کیا...
اب میں جاؤں...
ہممم جاؤ لیکن بیٹا پریشان نہیں ہونا ودید گھر آئے گا تو اس کا غصہ بھی اتر جائے گا.. بسس وقتی ہے.. انہوں نے اناہیتا کا ماتھا چوما...
جی اماں جان... فقط اتنا ہی بولی وہ...
اناہیتا مرے مرے قدموں سے اپنے کمرے میں گئی تو کمرہ بھی اسے کھانے کو دوڑ رہا تھا.. بےچینی سی بےچینی تھی اس کے دل میں...ودید.....
اناہیتا چکر لگا رہی تھی کمرے میں اور ودید ودید کا ورد تھا اسکی زبان پہ...
******
آغا ہاؤس میں اس وقت سناٹا چھایا ہوا تھا...
عاشی اس وقت مجرم بنی کھڑی تھی سب کے درمیان اور آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے...
شاہ تم کہاں ہو کیوں یہ عذاب مسلط کیا مجھ پہ کیوں اکیلے بھیجا تم نے اپنی امی کو...وہ دل ہی دل میں اپنے شاہ سے مخاطب تھی...
میں تو اپنے خاندان سے ہی کوئی لڑکی لانا چاہ رہی پر کیا کروں میرا بیٹا آپکی بیٹی کے سحر میں ایسا جکڑا ہوا ہے کہ کسی اور کا نام نہیں لینے دیتا...
آپکو بھی اپنی بیٹی کو اتنی چھوٹ نہیں دینی چاہیے تھی...
دیکھیں نا اب آپ لوگ اسے ہاسٹل بھیج کہ بالکل ہی غافل ہو گئے.. وہاں یہ گھومتی پھرتی رہی سیر سپاٹے کرتی رہی میرے بیٹے کے ساتھ آپ کو نظر رکھنی چاہیے تھی...
وہ زہر پہ زہر اگل رہی تھیں مگر ہر کوئی ادھر ایسے خاموش تھا جیسے سانپ سونگھ گیا ہو...
میں چاہتی ہوں کہ آپ اپنی بیٹی کا نکاح میرے بیٹے سے کر دیں...
آپ نے سوچا بھی کیسے کہ اتنی سب باتوں کے بعد میں آپ کو ہاں کروں گا... آغا جان کی آواز گونجی..
یہی تو میں چاہتی ہوں کہ تم لوگ نا کرو وہ دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہوئیں...
لیکن آپکی بیٹی بھی...
بسسس!!! آغا جان نے ہاتھ اٹھا کے خاموش کروا دیا میں اپنی بیٹی کو سنبھال لوں گا آپ فکر نا کریں..
عاشی پہلو پہ پہلو بدل رہی تھی..
آغا جان پلیز میری بات..سس__سنیں__
عاشی کی بات بھی مکمل نا ہوئی تھی کہ وہ دھڑام سے زمین بوس ہوئی...
عائشہ.. عائشہ بیٹا کیا ہوا... سب لوگ اسکی طرف لپکے تھے..
لو جی نئی ڈرامے بازی شروع ہو گئی باپ کو راضی کرنے کی.. ڈاکٹر کو فون کرو..جلدی.. آغا جان گرجے تھے...
تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر وہاں موجود تھی لیکن ڈاکٹر نے جو سب کو خبر دی اس نے سب کے پیروں کے نیچے سے زمین ہی کھینچ لی.. سمیت شاہ کی والدہ اور بہن کے...
آپ ٹھیک سے چیک اپ کریں آپکو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ڈاکٹر میری بیٹی ایسا نہیں کر سکتی ...
میں آپکا دکھ سمجھ سکتی ہوں لیکن یہی حقیقت ہے...
وہ پلو میں منہ چھپا کے رونے لگ گئیں...
آپ کو جتنا ہو سکتا ہے خیال رکھیں کیوں کہ عائشہ زیادہ ٹینشن برداشت نہیں کر سکتی...
ڈاکٹر میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں میری بیٹی کی عزت رکھ لیں یہ بات کسی سے بھی نا کہیں.. کیسی باتیں کر رہیں ہیں آپ آپ کے ساتھ ہمارے فیملی ٹرمز ہیں...وہ میری بھی بہن بیٹی جیسی ہے آپ فکر نا کریں..
عاشی جو ہوش میں آ چکی تھی اب آغا جان کی طرف بڑھ رہی تھی...
وہیں رک جاؤ مر گیا ہوں میں تمہارے لئے اور تم میرے لئے.. فون کرو اس لڑکے کو اور کہو لے جائے تمہیں یہاں سے عزت کے ساتھ..
آغا جان..
بسسس!!
آج کے بعد تمہارا ہم سے کوئی رشتہ نہیں..
میں نے تمہیں کھلی آزادی دی لیکن اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ تم حلال حرام کا فرق ہی بھول جاؤ..ایک بار مجھ سے کہتی کہ تم کسی کو پسند کرتی ہو میں دیکھ بھال کہ تمہاری شادی اس سے کرواتا میں تو اولاد کے ساتھ زبردستی کے حق میں نہیں ہوں...
میں نے ارمغان کو زبان دی کہ میرا اپنا خون ہے وہ میں نے سوچا بچپن سے تم اس کے ساتھ اٹیچ ہو بہت خوش رکھتا وہ تمہیں..اسکی بیوی کی وفات کے بعد مجھے اسکی تنہائی کا خیال بھی تھا اور تمہاری خوشیوں کا بھی.. تم سے اچھا تو وہ نکلا جس نے مجھ سے دغا بازی نہیں کی اور صاف صاف کہا کہ آغا جان میں پہلے سے شادی شدہ ہوں اور ایک بچے کا باپ بھی ہوں مجھے نہیں لگتا کہ میں عائشہ کے قابل ہوں وہ کنواری ہے اور کم عمر ہے اس کے سو ارمان ہوں گے وہ آپ کے آگے خاموش ہو جائے گی لیکن میں بچپن سے اسے خوش رکھتا آیا ہوں اب دکھ نہیں دے سکتا...
تم نے کیا کیا میرے ساتھ میرا دل زخمی کیا میری روح کو چھلنی کیا.. تم اب سارے حق کھو چکی ہو...
بلاؤ اسے اور جاؤ اپنی خوشیاں مناؤ جا کے..
آغا جان...وہ ان کے پاس جانے ہی لگی تھی کہ انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا اور وہاں سے چلے گئے.
آغا جان.. وہ پھوٹ پھوٹ کے روئی شاہ کواس نے کال کی اور فوراً سے پہلے حویلی آنے کا کہا...
کچھ گھنٹوں بعد وہ حویلی میں تھا اور اس نے آغا جان سے بات کرنے کی بہت کوشش کی لیکن انہوں نے ایک بھی بات نا سنی.. اور نکاح کا حکم دیا.. شاہ تو نکاح ہی چاہتا تھا لیکن اس کی والدہ نے خوب واویلا کیا..
قاضی صاحب بھی آ گئے اور نکاح شروع ہوا...
عائشہ عبید کیا آپکو وقار حیدر کے ساتھ یہ نکاح قبول ہے...
ایجاب و قبول کے بعد جب وہ آغا جان کے کمرے کی طرف گئی تو کمرہ لاکڈ تھا.. نکاح کے فوراً بعد وہ وہاں سے چلے گئے تھے..
آغا جان دروازہ کھولیں پلیز میری بات سنیں آغا جان..
نا انہیں دروازہ کھولنا تھا اور نا ہی انہوں نے کھولا...
ایسے ہی رخصتی ہوئی اور وقار حیدر کے ساتھ وہ رخصت ہو کے شاہ ولا میں آ گئی جہاں اسکا کوئی استقبال نا ہوا...
عاشی کا شاہ ہی اسکی دلجوئی میں لگا رہا...
فرحت بیگم (شاہ کی والدہ) کا برا حال تھا..اگر میں نے تمہیں اپنے بیٹے کی زندگی سے نا نکالا تو میرا نام بھی فرحت حیدر شاہ نہیں..انہوں نے خود سے ٹھان لی تھی..
دن گزرتے جا رہے تھے اور وقار شاہ کے دل میں عاشی کی محبت دن بہ دن بڑھ رہی تھی..
ایک دن وقار شاہ کام کے سلسلے میں دوسرے شہر گیا ہوا تھا اور عاشی کا دل بڑا ہی بےچین تھا... شاہ آ جاؤ نا گھر میرا دل گھبرا رہا ہے..
میری جان میں آ جاؤں گا ایک دو دن میں بسس تھوڑا کام رہ گیا ہے..شاہ میرا دل نہیں لگتا تمہارے بغیر....
میں آ جاؤں گا تم اپنا اور ہمارے بچے کا خیال رکھنا... اب سو جاؤ...
اماں جان میں آ جاؤں گا آپ عاشی کا بہت بہت خیال رکھیے گا وہ پریشان ہے میں ادھر نہیں ہوں نا.. تم پریشان نا ہو میرا بچہ میں کیوں خیال نہیں رکھوں گی اسکا.. اسکی بھی ماں ہوں میں..تو پریشان نا ہو بس..
اگلی صبح سب کے لئے ہی حیران کن تھی.. کیونکہ وقار شاہ اپنے گھر میں موجود تھا..
اماں ابھی تک اٹھی نہیں عاشی...
نہیں بیٹا میں نے اٹھایا ہے دو تین دفع کمرے سے ہی بولی مجھے سونے دیں تنگ نا کریں بار بار..
ایسا کہا اس نے... وقار کو شدید حیرانی ہوئی کہ عاشی ایسا کبھی نہیں کہہ سکتی...
بیٹا میں کیوں جھوٹ بولنے لگی تم سے..اسی لئے تم سے کچھ کہتی نہیں کہ تم یقین نہیں کرو گے...
نہیں ایسی بات نہیں ہے اماں...
بس رہنے دے بیٹا..
اچھا میں دیکھتا ہوں اسے خود.. طبیعت نا خراب ہو گئی ہو اسکی...
وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا....
جبکہ فرحت بیگم کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی عجیب سی...
اماں اماں... وقار کی زور زور سے آوازیں آ رہی تھی...
کیا ہو گیا بیٹا آ رہی ہوں...
چابیاں کہاں ہیں کمرے
عاشی دروازہ نہیں کھول رہی..کہیں بیہوش تو نہیں ہو گئی.. فون بھی نہیں اٹھا رہی...
لاؤ جلدی چابیاں وہ ملزمہ پہ چلائی..
جب وقار نے دروازہ کھولا سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی...
کیونکہ عاشی بیڈ پہ بے ترتیب حالت میں تھی...اور بستر کی حالت بھی عجیب سی تھی..
عاشی کے چہرے پہ لاؤڈ میک اپ تھا...
اور واشروم سے کسی کے نہانے کی آوازیں آ رہیں تھی اور بیڈ کے پاس جینٹس جوتے تھے...
توبہ توبہ...یہ سب کیا ہے بیٹا..
عاشی اٹھو___عاشی..وقار کی آواز کسی کھنڈر سے آتی ہوئی محسوس ہوئی تھی..
میں تم سے مخاطب ہوں..عاشی...
وہ دھاڑا تھا...
لیکن عاشی پہ غنودگی طاری تھی..
وہ مدہوش سی لگ رہی تھی..
شاہ___مجھے...
جان اٹھ گئی تم..
کوئی واشروم سے نکلا جس کی آواز تھی یہ...
یہ کون ہے؟؟ تم کیا کر رہے ہو میرے بیٹے کے کمرے میں...
باہر آنے والے کا بھی رنگ اڑا تھا..
کچھ پوچھا ہے میں نے تم سے.. فرحت بیگم کروفر سے بولیں....
انہوں نے تین چار تھپڑ اس لڑکے کے منہ پہ مارے..
جب کہ وقار شاہ تو سکتے کی کیفیت میں عاشی کو ہی دیکھ رہا تھا...
نکال اسکو گھر سے باہر یہ اس قابل ہی نا تھی کہ اسے اتنی عزت دی جائے..یہ ہمیشہ تیری غیر موجودگی میں یہی کچھ کرتی آئی ہے مگر میں خاموش تھی کہ میرا بیٹا خوش ہے اس بدذات کے ساتھ..
عاشی کے منہ پہ انہوں نے پانی پھینکا تھا تو وہ تھوڑا ہوش میں آئی تھی..
شاہ تم کب آئے اور یہ سب کیا ہو رہا ہے ...
وہ دکھتے سر کے ساتھ شاہ سے مخاطب ہوئی اور پوچھنے لگی لیکن شاہ نے اسے خود سے پرے دکھیلا..
خبردار اگر اسے کچھ بھی کہا تو .. میں ابھی یہیں ہوں.. وہ لڑکا بولا جبکہ عاشی اسے بھی حیرانگی سے دیکھ رہی تھی...
یہ__یہ کون ہے..
عاشی تم کیوں ڈر رہی ہو جان میں ادھر ہی ہوں بات تو ویسے بھی کھل ہی گئی ہے اب چھپانے کا کیا فائدہ...
بکواس بند کرو تم اپنی کون ہو تم..عاشی کافی حد تک بات سمجھ چکی تھی….
شاہ میں نے نہیں جانتی اسے یہ جھوٹ بول رہا ہے..
ہاں تمہارا حلیہ بھی جھوٹ ہے اس کا تمہارے بستر پہ ہونا بھی جھوٹ ہے... اس کا واشروم سے دھڑلے شاور لے کے آنا سب جھوٹ ہے...
شاہ میری بات سنو یہ سب آنٹی کی کوئی سازش ہے..یہ مجھے...
چٹاخ...وقار شاہ کا ہاتھ اچانک اٹھا تھا..
میں تمہیں طلاق دیتا ہوں...
شاہ نہیں میری بات...
طلاق دیتا ہوں..
شاہ شاہ نہیں شاہ پلیز..
میں وقار شاہ اپنے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں...
اسکا بےجان سا وجود زمین بوس ہوا تھا...
""____________________:__________________""
جاری ہے...