20/06/2026
*حضرت حُر (ع) کا واقعہ*
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی زندگی میں توبہ کرنے اور نادم ہونے کے لیے اب بہت دیر ہو چکی ہے، لیکن اللہ کے ہاں مانگنے کا وقت اس دن تک ختم نہیں ہوتا جب تک تم مر نہ جاؤ، تو اللہ کی پکار سنو اور اس کی طرف پلٹ آؤ۔
اس کی بہترین مثال حضرت حُر بن یزید الریاحی (ع) ہیں۔ ہم سب اس عظیم شخص کا قصہ جانتے ہیں، وہ شخص جو شاید امام (ع) اور ان کے اہلِ خانہ کے کربلا پہنچنے کا ذمہ دار تھا۔
حضرت حُر (ع) یزید کے لشکر کے سپہ سالار تھے، جنہوں نے کوفہ کے قریب امام حسین (ع) کا راستہ روکا تھا، اور انہیں کربلا کے صحرا کی طرف لے گئے۔
اس رات سے وہ اپنا سارا وقت ندامت اور شدید گناہ کے احساس میں گزار رہے تھے کہ انہوں نے رسول (ص) کے نواسے کا راستہ روکا اور خود کو امام (ع) کو کربلا لانے کا ذمہ دار ٹھہرا رہے تھے۔ لشکر کے افسر اور سپاہی اس پراسرار غمگین خاموشی اور سنجیدہ متفکر حالت پر مسلسل حیران تھے جس میں حضرت حُر (ع) اپنا سارا وقت گزارتے تھے۔
10 محرم کی صبح حضرت حُر (ع) نے اپنے بیٹے کو بلایا اور اپنے خادم کے ساتھ، وہ تینوں چپکے سے دشمن کے خیموں سے نکلے اور امام کے کیمپ کی طرف بڑھے۔
وہ امام حسین (ع) کے سامنے آنکھوں میں آنسو لیے حاضر ہوئے، اور اپنے کیے کی معافی مانگنے لگے۔ امام اور ان کے اصحاب نے ان کا بہت گرمجوشی سے استقبال کیا، اور خاص مہمان کی طرح ان کے ساتھ برتاؤ کیا۔
یہ ہمیں دکھاتا ہے کہ امام (ع) کتنے درگزر کرنے والے تھے، اور وہ تو اللہ تعالیٰ، جو سب سے زیادہ بخشنے والا ہے، کے ایک بندے ہیں۔
کیا ہم اندازہ بھی لگا سکتے ہیں کہ اللہ کتنا بخشنے والا ہے؟
سبق یہ ہے کہ اپنے رب کی طرف خلوص سے پلٹ آؤ اور تم کبھی مایوس نہیں ہو گے، کیونکہ وہ فرماتا ہے: "مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا"۔
بولے حبیبؑ آمدِ حُرؑ پر زُھیرؑ سے
لو! کربلا میں آگیا بھٹکا غدیر کا !