14/10/2026
تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار سے بڑھ کر عوام کے حقوق ہوتے ہیں!
جب بھی اقتدار اور عوام کے حقوق میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا وقت آیا، تو بعض رہنماؤں نے اصولوں کو ذاتی مفادات پر ترجیح دینے کا دعویٰ کیا۔
سابق وزیراعظم پاکستان، مرحوم الحاج میر ظفر اللہ خان جمالی کا نام بھی اسی تناظر میں لیا جاتا ہے۔ بلوچستان میں فوجی آپریشن کے معاملے پر ان کے مؤقف اور اختلافات کو آج بھی سیاسی تاریخ کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔
آج خیبر پختونخوا کی سیاست میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حوالے سے بھی ایسے دعوے اور بحث سامنے آ رہی ہے کہ عوام کے حقوق، امن اور آپریشن سے متعلق فیصلوں پر اختلافات موجود ہیں۔ تاہم، ان معاملات کی اصل وجوہات اور دونوں واقعات کے درمیان مماثلت کو مستند شواہد کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے۔
کرسی عارضی ہے، لیکن اصولوں کی اہمیت ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔
تاریخ میں عہدے بدلتے رہتے ہیں، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، مگر عوام کے حقوق، امن اور جانوں کا تحفظ ہر حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ اقتدار کس کے پاس ہے، بلکہ یہ ہے کہ فیصلے کرتے وقت عوام کے حقوق، امن اور مستقبل کو کتنی اہمیت دی جاتی ہے۔
عوام کا تحفظ، امن کا قیام اور اصولوں کی پاسداری ہی کسی بھی جمہوری نظام کی اصل بنیاد ہیں۔