06/12/2023
صَبر سرمایۂ دِل ، صَبر مناجاتِ ضمیر
صَبر خُوشبو کی طرح ٫ پھُول کے سینے میں اَسیر
صَبر صَحرا سے ، گُزرتے ھُوئے بادل کا سَفیر
صَبر سُقراط کے ھونٹوں پہ ، تبسّم کی لکیر
صَبر ایوانِ سلاطیں میں ، کہاں مِلتا ھے
صَبر کا پُھول ، سَرِ نوکِ سِناں کِھلتا ھے
صَبر مُنہ زور ھَواؤں کی ، ہتھیلی پہ چراغ
صَبر مہتاب کے سینے میں ، دَمکتا ھُوا داغ
صَبر تشکیک کے جنگل میں ، تیقّن کا سُراغ
صَبر کلیوں کا تکلّم ، کبھی خُوشبو کا دِماغ
صَبر ھر جَور و سِتَم ، خود سے بُھلا دیتا ھے
صَبر دُشمن کو بھی ، جینے کی دُعا دیتا ھے
"محسن نقوی"