Maria Rahim

Maria Rahim please support me like shear follow and order now

12/08/2025

میں Maria Rahim یہ واضح کرتی ہوں کہ میں اپنی ذاتی معلومات اور تصاویر کے استعمال کے لیے فیس بک یا میٹا کو کوئی اجازت نہیں دیتی۔
کل ایک اہم دن ہے جس پر رات 9:20 بجے باضابطہ مہر لگائی گئی ہے اور یہ خبر ٹی وی پر نشر کی گئی ہے۔ فیس بک کے نئے قوانین کل سے نافذ ہوں گے جو آپ کی تصاویر کے استعمال کی اجازت دیتے ہیں۔
مدت آج ختم ہو رہی ہے۔ براہِ کرم اس پیغام کو کاپی کریں اور اپنے پروفائل پر ایک نئی پوسٹ بنا کر پیسٹ کریں۔ جو لوگ ایسا نہیں کریں گے، انہیں اجازت دینے والا سمجھا جائے گا۔
پرائیویسی کی خلاف ورزی پر قانونی نتائج ہو سکتے ہیں۔
میں اپنی ذاتی معلومات اور تصاویر کے استعمال کے لیے فیس بک یا میٹا کو کوئی اجازت نہیں دیتی

02/08/2025
31/07/2025

ہم نے محمد کے ورثاء کی تلاش کے لیے پوسٹ لگائی تھی
ہزاروں لوگوں نے پوسٹ شئیر کی لیکن محمد کے ورثاء نہیں ملے۔ یہ بات کنفرم ہوچکی ہے کہ محمد کراچی کا ہے۔
کل میں نے کراچی کی سبزی منڈی سے لیکر گلبرگ پیالہ ہوٹل تک محمد کو ویڈیو کال پر علاقے دکھائے۔
محمد جس مدرسے میں پڑھتا تھا وہ گلبرگ کے علاقے میں ہے۔ 12 نمبر ایک مدرسہ ہے بنام دار العلوم جامعہ معارف اسلامیہ گلبرگ۔ جو محمدی مسجد کے نام سے بھی شاید مشہور ہے۔
اپنا مدرسہ پہچان لیا محمد نے۔ محلے کے قریب بچوں کو محمد کی تصویر دکھائی تو بچوں نے پہچان لیا کہ یہ ہمارے ساتھ آج سے چار سال قبل پڑھتا تھا۔
محمد کے والد کا نام صابر ہے والدہ کا نام آسیہ ہے۔
صابر مستری ہے۔صابر کا بھائی جنید بھی مستری ہے۔ اس علاقے میں ایک ٹھیکیدار سے ملاقات کی انہوں نے کہا صابر نام کا ایک مستری میرے ساتھ کام کرچکا ہے لیکن مجھے یاد نہیں وہ کہاں رہتا تھا۔
فی الحال یہ کنفرم ہوچکا ہے کہ محمد پیالہ ہوٹل کے سامنے والے علاقے کا رہائشی تھا جب گم ہوا تھا۔ شاید والدین کرایہ کے مکان میں رہتے ہوں وہ گھر بدل چکے ہوں۔
مدرسے کے ایک ذمہ دار سے فون پر بات کی ان سے ریکارڈ چیک کرنے کی گزارش کی ہے(ادارے نے اپنا ریکارڈ بھی چیک کیا ہے اور ہو طرف سے کوشش بھی کررہے ہیں بچہ یہاں شاید ایک گھنٹے کے لیے پڑھنے آتا تھا)۔
میں کراچی کے تمام دوستوں سے گزارش کرتا ہوں کہ اس پوسٹ کو خوب وائرل کریں۔ گلبرگ پیالہ ہوٹل کے آس پاس اپنے تمام دوستوں کو بھیجیں۔ گلبرگ اور سرجانی پولیس اسٹیشنز سے بھی گزارش ہے اپنے ریکارڈ میں ایف آئی آر چیک کرکے صابر کا فون نمبر نکالیں۔ ایک اہلکار نے رابطہ کرکے بتایا کہ سرجانی تھانے میں تین چار سال قبل ایک خاتون روز روز آتی تھی اپنے بچے کا پوچھتی تھی اور اس بچے کا نام محمد تھا۔
محمد کراچی سے اغواء کاروں کے ہاتھوں اغواء ہوکر رحیم یار خان پہنچا تھا۔ اس وقت ایک ادارے میں موجود ہے۔
اس بچے کو ورثاء سے ملانے میں مدد کریں۔۔
کسی بھی اطلاع کے لیے دئیے گئے نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829

20/07/2025

I got over 50 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

12/07/2025
27/06/2025

حضرت عمرؓ اپنے حجرہ خاص میں بیٹھے تھے کچھ مہمان آئے ہوئے تھے حضرت عمرؓ کے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ ملنے آئے فرمایا میں ملنے آیا ہو حضرت عمرؓ نے کہا وہاں باہر کھڑے ہو جاٶ میں فارغ نہیں اور کوئی بھی آئے تو اندر نا بھیجنا حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ تھوڑی دیر گزری تو
سیدنا امام حسنؓ آگئے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو کھڑے دیکھا تو پوچھا امیرالمومنین کہاں ہے فرمانے لگے وہ تو اندرہے مہمانوں سے باتیں کر رہےہیں انہوں نے بولا تھا کہ کوئی آئے تو اندر نہیں بھیجنا
عبداللہ بن عمرؓ نے کہا شہزادے آپ اندر جانا چاہیں تو میں نہیں روکتا آپ جانا چاہیں توآپ جا سکتے ہیں انہوں نے کہا کیا ضرورت ہے ابھی ظہر کی نماز ہوگی مسجد جاؤں گا اور عمرؓ سے ملاقات ہوگی تو مل لونگا اندر جانا ضروری تو نہیں
جناب سیدنا امام حسنؓ واپس چلے گئے جب بات چیت ختم ہوگئی مجلس برخاست کی تو حضرت عمر فاروقؓ باہر تشریف لائے عبداللہؓ سے کہا کہ کیا کام ہے کیوں آئے ہو
تو عبداللہ ڈرتے ہوئےکہنے لگے کہ حضور میری تو خیر ہے امام حسنؓ آئے تھے تو کہا پھرکیا ہوا تو نے روکا تو نہیں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہنے لگے میں نے تو کہا تھا آپ جانا چاہے تو اندر چلے جائے لیکن اس نے کہا کہ ظہر کے وقت مسجد میں مل لونگا کہتے ہے
حضرت عمرؓکے چہرے کا رنگ ہی بدل گیا سارے کام چھوڑ کر دوڑے گئے میں پیچھے پیچھے تھا امام حسنؓ کے دروازے پر دستک دی امام حسنؓ باہر آئے کہنے لگےشہزادے ملنے آئے تھے ملے کیوں نہیں واپس کیوں آگئے حضرت امام حسنؓ کہنے لگے امیر المومنین آپ کیوں تشریف لائے مجھے چھوٹا سا کام تھا مسجد میں ظہر کے وقت ملاقات ہو جاتی اور ویسے بھی آپ کا اپنا بیٹا دروازے پہ کھڑا تھا حضرت عمرؓ نے جب یہ لفظ سنے تو چیخ ہی نکل گئی رو پڑے کہنے لگے میرے بیٹے اور اپکا کیا مقابلہ شہزادے
کیا اس کے باپ کانام علیؓ ہے اس کی ماں کا نام فاطمہؓ ہے کیا اس کی نانی کا نام حدیجہؓ ہے کیا اس کے نانا کا نام بھی محمد مصطفیﷺ ہے اور پھر جوش وجذبات میں اپنے سر سے پگڑی اتار دی اور کہنے لگے بیٹا میں مکہ کی صحراو ں میں اونٹ چرایا کرتا تھا اور مجھ سے دس اونٹ نہیں سنبھالے جاتے تھے میرے والد خطاب مجھے ڈنڈوں سے مارا کرتے تھے یہ جو میرے سر پر عزت کے بال ہیں یہ تیرے نانا محمدمصطفیﷺ کے اگائے ہوئے ہے آپ ایسا نا کریں۔
(الصواعق المحرقة، ج:2، ص: -(521)

27/06/2025

ڈیجیٹل دنیا میں خواتین کہاں ہیں؟

کیا آپ نے کبھی اپنی فیس بک پروفائل کے پروفیشنل موڈ میں جا کر یہ اعدادوشمار دیکھے ہیں کہ آپ کی پوسٹیں کن لوگوں تک پہنچ رہی ہیں؟ میں کافی عرصے سے یہ مشاہدہ کر رہی ہوں کہ میری تحریریں بھلے خواتین کے مسائل سے متعلق ہوں ان پر مرد حضرات تو میٹھے پر مکھیوں کی طرح پہنچ رہے ہوتے ہیں لیکن خواتین خال خال ہی اپنی رائے دیتی نظر آتی ہیں۔

فیسبک کے مطابق بھی گزشتہ اٹھائیس روز میں میری پوسٹیں چالیس لاکھ سے زائد افراد تک پہنچیں، لیکن ان میں سے تقریباً 34 لاکھ مرد اور محض 6 لاکھ خواتین تھیں۔ اور یہ صرف میرے ہی نہیں، عموماً ہر پاکستانی فیس بک یوزر کے اعدادوشمار کم و بیش ایسے ہی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں مردوں اور عورتوں کی آبادی معمولی سے فرق کے ساتھ تقریباً برابر ہے اور یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ فیسبک پر بہت سارے مرد خواتین کے ناموں سے جعلی اکاونٹ بنا کر مختلف مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

تو پھر...کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ سوشل میڈیا کی اس ڈیجیٹل دنیا میں خواتین اتنی کم کیوں نظر آتی ہیں؟ کیا مردانہ بالادستی صرف حقیقی دنیا تک محدود نہیں بلکہ آن لائن پلیٹ فارمز تک بھی پھیل چکی ہے؟

میرے نزدیک پاکستان میں خواتین کی فیس بک پر مردوں کی نسبت انتہائی کم موجودگی کی چند اہم وجوہات یہ ہیں:

1- بہت سی خواتین تعلیمی مذہبی اور سماجی پابندیوں کی وجہ سے اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو پاتیں اور مالی طور پر اپنے مرد سرپرستوں (باپ، شوہر، بیٹا، بھائی) پر انحصار کرتی ہیں۔ اس وجہ سے وہ مردوں کے مساوی اسمارٹ فون خریدنے اور انٹرنیٹ پیکج لگانے کی استطاعت نہیں رکھتیں۔ فون اور انٹرنیٹ کے اخراجات اکثر گھر کے مرد حضرات کی ترجیح ہوتے ہیں، اور خواتین کو اس ضمن میں نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

2۔ پاکستان میں خواتین کی شرح خواندگی مردوں کے مقابلے میں کم ہے، جس کا براہ راست اثر ان کی ڈیجیٹل خواندگی پر بھی پڑتا ہے۔ بہت سی خواتین اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کا بنیادی استعمال بھی نہیں جانتیں۔

3۔ بہت سے گھرانوں میں، خاص طور پر قدامت پسند طبقوں میں، خواتین کو موبائل فون اور سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ رجحان اس فرسودہ سوچ کا نتیجہ ہے کہ فون اور سوشل میڈیا کا استعمال خواتین کے لیے غیر ضروری اور غلط سرگرمیوں کا ذریعہ ہے۔ مردوں کی یہ نام نہاد عقل اور عورت دشمن سوچ انہیں خود تو ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کی آزادی دیتی ہے مگر خواتین کو اس سے محروم رکھتی ہے۔

4۔ خواتین کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال بعض حلقوں میں اب بھی غیر اخلاقی سمجھا جاتا ہے۔ بدنامی، معاشرتی تنقید، اور ہراسانی کے خوف سے بچنے کے لیے بہت سی خواتین اپنی حقیقی شناخت چھپانے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنے شوہر، بیٹے یا باپ کے نام سے مردانہ اکاؤنٹس استعمال کرتی ہیں یا جعلی ناموں، فرضی پروفائل تصویروں (جیسے انٹرنیٹ سے لی گئی ماڈلز کی تصاویر، یا سر کٹی تصاویر) کا سہارا لیتی ہیں، اور اکثر اپنی پروفائلز کو لاک رکھتی ہیں۔

5- ہماری معاشرتی ساخت میں اکثر گھریلو خواتین فجر سے رات گئے تک گھر اور بچوں کی دیکھ بھال میں اس قدر مصروف رہتی ہیں کہ ان کے پاس تفریحی اور سوشل سرگرمیوں کے لیے وقت ہی نہیں بچتا۔ ڈیجیٹل دنیا میں فعال رہنا ان کی ترجیحات میں آ ہی نہیں پاتا۔

6۔ خواتین کو سوشل میڈیا پر مردوں کی طرف سے ہراسانی، بلیک میلنگ، اور غیر اخلاقی پیغامات کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ڈر اور ذہنی اذیت انہیں سوشل میڈیا سے کنارہ کشی اختیار کرنے یا کم استعمال کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

7۔ ذاتی معلومات اور تصاویر کے چوری ہونے یا غلط استعمال کا خوف بھی خواتین کو اپنی حقیقی آن لائن موجودگی سے روکتا ہے۔ یہ خوف انہیں اپنی اصلیت چھپانے یا انتہائی محتاط رہنے پر مجبور کرتا ہے۔

خواتین کی سوشل میڈیا پر کم موجودگی صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے گہرے سماجی مضمرات ہیں۔ یہ ڈیجیٹل دنیا میں خواتین کی آواز اور نمائندگی کو کمزور کرتا ہے، انہیں معلومات، تعلیم، کاروبار، اور سماجی نیٹ ورکنگ کے لاتعداد مواقع سے محروم کرتا ہے۔ ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل مہارتیں زندگی کے ہر شعبے میں لازم و ملزوم ہیں، خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت کے بغیر ہمارا معاشرہ ایک بڑے طبقے کے نقطہ نظر اور صلاحیتوں سے محروم رہتا ہے۔

اس قومی مسئلے سے نمٹنے کے لیے صرف تکنیکی رسائی کو بہتر بنانا ہی کافی نہیں، بلکہ ہمیں بحیثیت معاشرہ اپنے فرسودہ سماجی رویوں کو بدلنا ہوگا، خواتین کی ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دینا ہوگا، اور آن لائن پلیٹ فارمز کو ہر خاتون کے لیے ایک محفوظ اور بااختیار بنانے والی جگہ بنانا ہوگا۔ کیونکہ ایک روشن، مساوی اور ترقی یافتہ معاشرہ تبھی ممکن ہے جب اس کی نصف محروم آبادی کو بھی ڈیجیٹل دنیا میں مکمل آزادی اور نمائندگی حاصل ہو، جہاں وہ آٹے میں نمک کے برابر نہیں بلکہ بھرپور موجودگی کا مظاہرہ کر سکیں۔

اقصیٰ گیلانی

15/12/2024

Address

Street No 2
Karachi Lines
HMBH

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maria Rahim posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share