Kitab Ghar Online

Kitab Ghar Online ہر قسم کی کتابیں اب آپ کی دسترس میں اور انتہائی کم قیمت کتاب گھر آن لائن" میں"

📚✨ الحمد للہ ✨📚🌹 دنیا کی مقبول ترین کتاب کاانگریزی سے براہِ راست اردو ترجمہ❌ گوگل ٹرانسلیٹ اور مصنوعی ذہانت کی لفظی خامی...
16/06/2026

📚✨ الحمد للہ ✨📚

🌹 دنیا کی مقبول ترین کتاب کا
انگریزی سے براہِ راست اردو ترجمہ

❌ گوگل ٹرانسلیٹ اور مصنوعی ذہانت کی لفظی خامیوں سے پاک
✅ ایک محقق کی دیانت
✅ ایک ادیب کا دلکش اسلوب

📖 پیشِ خدمت




🌟 زندگی کے 150 ایمان افروز واقعات
🌟 150 یادگار قصے
🌟 150 سنہرے زاویے
🌟 150 روشن گوشے

📚 چار کتابوں پر مشتمل عظیم سیریز کی
پہلی کتاب

🔹 مستند تاریخی حوالوں کے ساتھ
🔹 تحقیق اور روایت کا حسین امتزاج
🔹 سبق آموز اور روح پرور واقعات
🔹 ہر عمر کے قارئین کے لیے مفید

🖨️ اعلیٰ معیار کا نفیس کاغذ
📘 شاندار سرورق
📖 عمدہ طباعت و خوبصورت کمپوزنگ

📑 صفحات: 256

💰 قیمت: 1000 روپے
🎁 خصوصی رعایتی قیمت: صرف 800 روپے

🚚 پورے پاکستان میں ڈاک خرچ بالکل فری

⏳ محدود مدت کی پیشکش

📞 ابھی اپنا آرڈر بک کروائیں:
☎️ 0321-2043587

✍️ ابن آس محمد




#مطالعہ







الحمد للہ دنیا کی مقبول ترین کتاب  کا انگریزی سے اردو ترجمہ گوگل اور اے آئی کی نحوست سے پاک ترجمہ ۔ایک محقق کی کتاب ایک ...
16/06/2026

الحمد للہ
دنیا کی مقبول ترین کتاب کا انگریزی سے اردو ترجمہ
گوگل اور اے آئی کی نحوست سے پاک ترجمہ
۔
ایک محقق کی کتاب
ایک ادیب کے قلم سے
۔
امیر المومنین ، خلیفہ ثانی
حضرت عمر رضی اللہ عنہ
کی زندگی کے 150 قصے
150 گوشے
150 سنہرے زاویے
۔
یہ اس سیریز کی دوسری کتاب ہے جو چھپنے چلی گئی
۔
بہترین اور نفیس کاغذ
عمدہ طباعت
مستند اور حوالوں کے ساتھ
ایمان افروز قصائص ، واقعات
۔
صفحات : 256
قیمت 1000
رعایتی قیمت : 800 روپے
ڈاک خرچ فری
۔
ابھی آرڈر بک کرائیں
فون : 03212043587
۔

06/04/2026
الحمد للہ ڈراما رائٹنگ تکنیک پر اہم کتاب " ابن اس کے مشہور ڈرامے" تیار ہو کر ہمارے پاس پہنچ گئی ہے ۔۔۔۔۔۔یہ کتاب خاص طور...
16/09/2025

الحمد للہ
ڈراما رائٹنگ تکنیک پر اہم کتاب
" ابن اس کے مشہور ڈرامے" تیار ہو کر ہمارے پاس پہنچ گئی ہے
۔۔۔۔۔۔
یہ کتاب خاص طور پر ان احباب کے لیے لکھی گئی ہے ، جو ڈراما لکھنے کے شوقین ہیں ۔
ٹی وی ڈراما ، فلم ،اسکرین پلے لکھ کر نام ، دولت ،شہرت کمانا چاہتے ہیں ۔
یا محض ۔۔ اپنی ذات کی تکمیل کے لیے ، ایک ہنر سیکھنا چاہتے ہیں ،
اسکرین پلے رائٹنگ کی تکنیک ،سمجھنے ، سیکھنے اور برتنے کا طریقہ جاننا چاہتے ہیں ۔
سمجھنا چاہتے ہیں کہ ڈراما لکھنے کا طریقہ کیا ہوتا ہے ۔
کیسے وہ اپنی کہانی کو اسکرین پلے میں ڈھال سکتے ہیں ۔
کیسے براہ راست ایک مربوط اسکرین پلے تیار کرسکتے ہیں ۔
اس ضمن میں وہ لوگ ، وہ ذہین اور سمجھ دار لکھاری جو چاہتے ہیں کہ انہیں کوئی لکھا ہوا مکمل اسکرپٹ مل جائے جس کی کرافٹنگ دیکھ کر وہ سمجھ جائیں کہ اسکرین پلے کیا ہوتا ہے ، کیسے لکھا جاتا ہے ۔۔۔۔ ان کی آسانی کے لیے کئی اہم مضامین کے علاؤہ کچھ مکمل اسکرپٹ بھی اس کتاب میں موجود ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔
کتابوں کی تعداد محدود ہے ۔
یہ عام قارئین کے پڑھنے کی چیز تو ہے ہی ۔مگر اہل قلم خواتین و حضرات کا اوزار ہے ۔۔۔ ان کا مکتب ہے ۔
۔۔۔۔۔
مجھے کامل یقین ہے کہ سمجھ دار لکھنے والے پورے دھیان سے اس کتاب کو صرف ایک مرتبہ پڑھ لیں ۔۔ تو وہ ڈراما رائٹر بن جائیں گے ۔
ان کی سمجھ میں سب کچھ آجائے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی کاپی طلب کرنے کے لیے دیے گئے نمبر پر رابطہ کیجیے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں کہ کتاب کم تعداد میں شایع کی گئی ہے اس لیے عام بازار میں دستیاب نہیں ۔
صرف اسپیشلی آن لائن منگوائی جا سکتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
رابطہ : 03212043587( واٹس ایپ )
قیمت : 1950 روپے
ڈاک خرچ فری آس پبلی کیشن ۔اردو بازار ۔کراچی

عدلیات ۔۔۔۔۔ از عادل علی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آس پبلی کیشن کی نئی کتاب شایع ہوگئی ۔۔۔۔آٹو گراف کاپی حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیجی...
18/08/2025

عدلیات ۔۔۔۔۔ از عادل علی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آس پبلی کیشن کی نئی کتاب
شایع ہوگئی ۔۔۔۔
آٹو گراف کاپی حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیجیے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
گئےزمانوں میں عدل کے لیے تلوار ہی ہو اکرتی تھی ۔غدر سے عدل تک ہر کارنامہ تلوار ہی کا مرہون منت تھا۔گردشِ زمانہ کے بعد تلوار کی جگہ قانون نے لے لی ۔۔عدل کے لیے اَب قانون سے وُہی کام لیا جاتاہے ،جو پہلے کبھی تلوار سے لیا جاتا تھا۔
عادل علی ؔنے عدل کے لیے ،بلکہ "عادلیات" کے لیے تلوار یا قانون کی بہ جائے۔۔قلم کا سہارا لیا ہے ۔۔قلم کو اپنی تلوار ،اور قلم کو ہی اپنا قانون بنایا ہے ۔وہ اپنے قلم سے عدل کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔حیاتِ انسانی کے لیے ،نئے مسائل کو دیکھتے ہوئے قانون ،بلکہ قوانین وضع کرتے دکھائی دیتے ہیں ،اور اِسی قلم کو بہ طور ہتھیار اور بہ طور قانون استعمال کرتے ہیں۔معاشرے میں پھیلی بے انصافیوں ،بے اعتدالیوں کے تن آور درختوں کو جڑ سے کاٹنے کے لیے اپنے قلم کو کام میں لاتے ہیں ۔
فی زمانہ قلم کا استعمال کم کم ہی ہونے لگا ہے ۔لوگ لکھنے کے لیے کی بورڈ ،یا موبائل فون استعمال کرنے لگے ہیں ،بعض لکھنے والے اَب بول کر بھی لفظ ٹائپ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔گوگل نے جہاں بہت سی علتوں کو فروغ دیا ہے وہاں بہت سی سہولتیں بھی فراہم کی ہیں ۔۔مگر یہ سب ٹولز ہیں ۔۔طریقے ہیں ۔۔جیسے قلم ٹول ہے ۔
اللہ نے قلم کی حرمت کی قسم کھائی ہے ۔۔یہاں قلم استعارہ ہے ،مراد بال پوائنٹ ،روشنائی والاقلم ۔۔یا لکڑی کا قلم نہیں ۔۔مراد وہ ٹول ہے ،جس سے انسان ،جو سوچتا ہے ،جو سمجھتا ہے ،سمجھانا چاہتا ہے ،بتانا چاہتا ہے ۔۔اُس کا اظہار کرتا ہے ۔۔یعنی اللہ نے قلم کو استعارے کے طور پر استعمال کیا ہے ۔لکھنے والاجو بھی طریقہ اختیار کرے ،مراد وہ " متن " ہے جوسوچنے والا،سمجھنے والا،سمجھانے اور سکھانے کے لیے " ڈلیور " کرے گا ۔سوچنے پر مجبور کرے گا۔ عادل علی بھی اس کام کو نہایت ایمان داری سے سر انجام دے رہے ہیں ۔کسی تساہل سے کام نہیں لے رہے ۔جو سیکھ چکے ،وہ سکھا رہے ہیں ،جو سمجھ چکے وہ سمجھا رہے ہیں ۔جو سوچتے ہیں،اُسے بتا کر سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں ۔
پہلی وحی میں پڑھنے کا حکم تھا ۔۔لکھنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔۔مگر سمجھنے والے جانتے ہیں کہ جو لکھا جائے گا وہی پڑھا جائے گا ۔پڑھنے کا عمل پہلے ہے ،لکھنے کا بعد میں۔۔جو لکھا نہ جائے اُسے پڑھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔
مالک کائنات نے وہ پڑھنے کا حکم دیا،جو اُس نے لکھ کر اُتارا، یعنی ،یہ لکھنا اور انسانوں کو پڑھنے کے لیے تحریر فراہم کرنا ۔۔ خدائی وَصف ہے ۔خدا نے انسانوں کوودیعت کیا ہے ۔۔مگر یہ ہر کس وناکس کے بس کی چیز نہیں ،ہر فرد لکھنے کی صلا حیت لے کر پیدا نہیں ہوتا،کچھ ہی لوگ ہوتے ہیں ،جنہیں خدا منتخب کرتا ہے ۔
خدا جنہیں خود لکھ کر بھیجتا ہے ،اُنہیں پیغمبر کہا جاتا ہے ۔۔اور جنہیں لکھنے کی صلاحیت دیتا ہے ،میں انہیں پیغام بر کہتا ہوں ۔لکھنے والاوہی لکھتاہے جو پیغام کی صورت دوسروں کو پہنچانا چاہتا ہے ۔ عادل علی بھی کوئی پیغام بر ہے ،جو اپنے تجربات سے کشید شدہ خیالات سب تک پہنچا نے کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں ۔
عادل سے میری ملاقات ایک عجیب اتفاق کے سبب ہوئی ۔۔اور عجیب اتفاق جلد ہی حسین اتفاق بن گیا کہ میرے ادارے سے ان کی پہلی کتاب " عادلیات " منظر عام پر آرہی ہے ۔عادلیات وہ فلسفہ ہے ۔۔جو عام الفاظ میں ،عام انسانوں کے لیے ایک خاص انسان نے لکھا ہے ۔آج کے مشینی ،جدید اور فری میڈیا عہد میں۔۔سب کے پاس،پڑھنے سے زیادہ سب کچھ ۔۔یا کچھ بھی دیکھنے کا وقت ہے ۔معاملہ یہ ہوگیا ہے کہ اب دیکھنے وا لے پڑھتے نہیں ہیں۔۔اور پڑھنے والے دکھائی نہیں دیتے ۔
اس قحط الرجالی میں عادل علی کا دَم غنیمت ہے کہ وہ کھلی آنکھوں سے جو کچھ دیکھتے ہیں ،اسے صرف دیکھتے نہیں ،اس پر سوچتے بھی ہیں ،اور ان سوچوں کو الفاظ کا روپ دے کر آگے منتقل کر دیتے ہیں ۔وہ اپنی زندگی کے تجربات سے فلسفہ حیات کو صرف سمجھتے نہیں ،سمجھانے کی کو شش بھی کرتے ہیں ۔چھوٹی چھوٹی تحریروں میں بڑے بڑے فلسفے بتانے کی کوشش کرتے ہیں ۔بات یہ ہے کہ انہیں بات سمجھ کر،بات کہنی اور سمجھانی آتی ہے ۔
عادلیات ۔۔عادل علی کا نقش اوّل ہے ۔۔نقش اوّل بھی ایسا عمدہ کہ دل بے اختیار" واہ" کہہ اُٹھے،اور بات واہ سے ۔۔واہ واہ تک جا پہنچے تو سمجھ لو بات عادل علی کی ہو رہی ہے ۔
شاباش عادل علی

(ابن آس محمد)
۔۔۔۔۔۔۔
۔
عادل علی کی " عادلیات " شایع ہو گئی ہے ۔
قیمت : 2000 روپے
ڈاک خرچ فری
۔۔۔۔۔۔۔
دیے گئے نمبر پر رابطہ کرکے براہ راست
آٹو گراف کاپی منگوائی جا سکتی ہے ۔
رابطہ : 03352886113
۔۔۔۔۔
۔
آس پبلی کیشن
اردو بازار کراچی

شاہانہ خٹک کی کہانیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاہانہ خٹک کی کتاب "شاہانہ خٹک کی کہانیاں" بچوں کے ادب میں ایک اہم اضافہ ہے، جس میں انہوں...
09/09/2024

شاہانہ خٹک کی کہانیاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہانہ خٹک کی کتاب "شاہانہ خٹک کی کہانیاں" بچوں کے ادب میں ایک اہم اضافہ ہے، جس میں انہوں نے نہایت دل چسپ اور سبق آموز کہانیاں پیش کی ہیں۔ اس کتاب میں شامل دس کہانیاں نہ صرف بچوں کی ذہنی اور اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں بلکہ انہیں زندگی کے بنیادی اصولوں سے بھی روشناس کرواتی ہیں۔
کتاب میں شامل ہر کہانی ایک خاص سبق پر مبنی ہے جو بچوں کو اچھائی اور برائی، سچ اور جھوٹ، محنت اور سستی کے فرق کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس طرح کی کہانیاں بچوں کی اخلاقی تربیت کا اہم ذریعہ ہیں۔
یہ کہانیاں بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارتی ہیں۔ وہ کہانیوں کے کرداروں سے متاثر ہوکر خود بھی کہانیاں تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو ان کے ذہنی ارتقاء کے لیے بہت مفید ہے۔
شاہانہ خٹک نے اپنی کہانیوں میں عام زندگی کے تجربات کو سادہ اور پرکشش انداز میں پیش کیا ہے۔ اس سے بچوں کو زندگی کی مختلف صورتوں اور مسائل کا سامنا کرنے کا ہنر آتا ہے۔
شاہانہ خٹک پاکستان کی ممتاز بچوں کی ادیبہ ہیں، جنہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور بچوں کی نفسیات کو گہرائی سے سمجھتے ہوئے بچوں کے ادب میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ ان کی کہانیاں معصومیت، سادگی، اور گہری فکر سے بھرپور ہوتی ہیں۔ شاہانہ خٹک نے اپنی تحریروں کے ذریعے نہ صرف بچوں کو تفریح فراہم کی ہے، بلکہ ان کی کہانیوں میں چھپے اخلاقی اور تعلیمی پہلو بچوں کی شخصیت سازی میں بے حد اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا اندازِ تحریر ایسا ہے جو بچوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور انہیں ایک ایسی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں سچائی، بہادری، اور کردار کی مضبوطی جیسے اوصاف اُبھرتے ہیں۔

شاہانہ خٹک کے قلم میں وہ جادو ہے جو بچوں کے دلوں کو چھو لیتا ہے اور انہیں پڑھنے کی طرف راغب کرتا ہے۔ ان کی کہانیاں بچوں کی عام زندگی کے تجربات کو ایسے پیرائے میں پیش کرتی ہیں کہ وہ ان میں خود کو پہچان سکیں اور ان سے کچھ سیکھنے کا جذبہ پیدا ہو۔ ان کی کہانیوں کا اسلوب سادہ مگر دلکش ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ہر عمر کے بچے ان کی تحریروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ادبی دنیا میں شاہانہ خٹک کو ان کی خدمات کے اعتراف میں متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا ہے، اور ان کا کام نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ملک بھی سراہا جاتا ہے۔ ان کی تحریریں مختلف تعلیمی نصابوں کا حصہ بھی رہی ہیں، جو ان کی علمی حیثیت کا ثبوت ہیں۔

شاہانہ خٹک کی کہانیوں کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی معنوی گہرائی اور سادگی ہے۔ وہ اپنی تحریروں میں بچوں کے ذہن کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے موضوعات کا انتخاب کرتی ہیں جو بچوں کی اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی اُبھارتے ہیں۔ ان کی کہانیوں میں کردار کی مضبوطی، انسانی قدریں، معاشرتی مسائل اور بچوں کی دل چسپی کے موضوعات جیسے کہ دوستی، ایمان داری، بہادری اور محبت جیسے موضوعات کو بہترین انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

ان کے اسلوب میں مزاح اور سنجیدگی کا حسین امتزاج ہے، جو کہانیوں کو مزید دل کش اور متاثر کن بناتا ہے۔ وہ بچوں کو صرف نصیحتیں نہیں دیتیں، بلکہ اپنی کہانیوں کے ذریعے ایسے سبق آموز پیغامات پیش کرتی ہیں جو بچوں کے دل و دماغ میں رچ بس جاتے ہیں۔

شاہانہ خٹک کی کہانیوں کا یہ مجموعہ "شاہانہ خٹک کی کہانیاں" ان کی ادبی مہارت اور بچوں کے ادب سے ان کی محبت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

بچوں کے ادب میں اچھی کتابیں پڑھنے سے ان کی زبان و بیان کی صلاحیتوں میں بہتری آتی ہے۔ شاہانہ خٹک کی کہانیاں سادہ اور آسان زبان میں لکھی گئی ہیں، جو بچوں کی زبان کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

والدین کو چاہیے کہ وہ یہ کتاب اپنے بچوں کے لیے خریدیں کیونکہ اس سے بچوں کو تفریح کے ساتھ ساتھ علم اور تربیت بھی ملتی ہے۔ آج کل کے دور میں، جب بچے زیادہ تر وقت ٹی وی اور موبائل فون پر صرف کرتے ہیں، ایسی کتابیں ان کے لیے ایک بہترین متبادل فراہم کرتی ہیں۔ یہ کہانیاں نہ صرف ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارتی ہیں بلکہ ان میں مثبت سوچ اور اخلاقیات کو بھی فروغ دیتی ہیں۔

کہانیوں کے ذریعے بچوں میں اعلیٰ کردار کی تعمیر ہوتی ہے، وہ بہتر انسان بننے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔

کہانیوں کے کرداروں کی مشکلات سے نمٹنے کے انداز کو دیکھ کر بچے خود بھی مشکلات کا سامنا کرنے کے قابل بنتے ہیں، جس سے ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔

کہانیاں بچوں کی سوچ کو وسعت دیتی ہیں اور انہیں نئے تصورات سے روشناس کرواتی ہیں، جو ان کی تعلیمی ترقی میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔**شاہانہ خٹک کی کہانیاں: ایک تعارفی مضمون**

شاہانہ خٹک پاکستان کی معروف بچوں کی ادیبہ ہیں، جن کا نام بچوں کے ادب کی دنیا میں نہایت عزت اور احترام سے لیا جاتا ہے۔ ان کی کہانیاں نہ صرف بچوں کی دلچسپی کا باعث بنتی ہیں بلکہ ان میں پنہاں اخلاقی اور معاشرتی پیغامات بچوں کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ شاہانہ خٹک کی تحریریں بچوں کی نفسیات کو مدنظر رکھ کر لکھی گئی ہیں، اور ان کی کہانیوں میں سادہ زبان، دلچسپ موضوعات، اور بچوں کی زندگی سے متعلق مسائل کو انتہائی خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

شاہانہ خٹک کا یہ وصف ہے کہ وہ اپنی تحریروں میں بچوں کے روزمرہ مسائل، خوابوں، اور خیالات کو بہت ہی مؤثر طریقے سے بیان کرتی ہیں، جس سے بچے نہ صرف اپنی زندگی کی صورتحال کو سمجھتے ہیں بلکہ ان مسائل کا حل بھی پاتے ہیں۔ ان کی کہانیاں کبھی ہنساتی ہیں، کبھی رلاتی ہیں، اور کبھی بچوں کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔

شاہانہ خٹک کا کہانیوں کا مجموعہ "شاہانہ خٹک کی کہانیاں" بچوں کے ادب میں ایک اہم اضافہ ہے۔ اس کتاب میں کل دس کہانیاں شامل ہیں، جو ہر لحاظ سے منفرد اور دل چسپ ہیں۔ ان کہانیوں میں بچوں کے لیے وہ تمام عناصر موجود ہیں جو ان کی دل چسپی کو بڑھاتے ہیں، جیساکہ مزاح، معصومیت، مہم جوئی، پراسراریت، اور سبق آموز واقعات۔

کتاب میں شامل کہانیاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1: ایک تھی رانی ایک تھا راجا
یہ کہانی ایک میاں بیوی کے قصے پر مبنی ہے جس میں رانی اور راجا کے درمیان ہلکی پھلکی نوک جھونک اور محبت کے لمحات کو نہایت دلچسپ اور مزاحیہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کہانی بچوں کو خاندان کے رشتوں کی اہمیت سکھاتی ہے۔

2: بدی کی منزل
یہ کہانی جرم و سزا کے موضوع پر لکھی گئی ہے، جہاں بچے بدی کے نتائج اور اس سے بچنے کی ترغیب حاصل کرتے ہیں۔ کہانی کا موضوع بچوں کو صحیح اور غلط کے درمیان فرق کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

3: میں بہت پریشان ہوں
یہ کہانی ایک بچی کے گرد گھومتی ہے جو جنگ اور بچوں کی حالت زار کو محسوس کرتی ہے۔ کہانی دنیا کے ظلم و ستم اور بچوں کی مشکلات کو انتہائی حساس انداز میں بیان کرتی ہے۔

4: آخری شکست
کرکٹ کے پس منظر میں لکھی گئی اس کہانی میں ایک بچے کی جدوجہد اور محنت کے بعد کامیابی کی داستان ہے۔ یہ کہانی بچوں کو سکھاتی ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے بعد بھی کامیابی ممکن ہے، بس ہار نہ مانیں۔

5: ڈراؤنا اور ڈراؤنی
یہ ایک پراسرار کہانی ہے جو بچوں کو خوف اور بہادری کے درمیان ایک انوکھا رشتہ سمجھاتی ہے۔ کہانی میں شامل خوف کے پہلو بچوں کو بہادری سیکھنے اور اپنے ڈر پر قابو پانے کا سبق دیتی ہے۔

6: ٹک ٹاک، ٹک ٹاک
یہ کہانی گھڑی کی سوئیوں کی ہے جو ایک دن اپنی ترتیب سے انحراف کرتی ہیں اور کہانی میں مزاح اور حیرانی پیدا کرتی ہیں۔ بچوں کو وقت کی پابندی اور نظم و ضبط سکھانے والی یہ کہانی انتہائی دلچسپ انداز میں پیش کی گئی ہے۔

7: کول کی گلابی جوتیاں
یہ کہانی ایک بچی کی ہے جسے گلابی جوتیوں سے عشق ہوتا ہے۔ کہانی بچپن کی معصومیت اور خوابوں کی اہمیت کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔

8: چالاک اجنبی
یہ کہانی ایک چالاک اجنبی کی ہے جو دیہاتیوں کو بے وقوف بنا کر ان کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ یہ کہانی بچوں کو ہوشیار اور ذہین رہنے کا درس دیتی ہے، تاکہ وہ زندگی میں چالاک لوگوں کے فریب سے بچ سکیں۔

9: ناکام جادوگر
ایک جادوگر کی کہانی جو مسلسل ناکام ہو رہا ہوتا ہے۔ اس کہانی میں مزاح کے ساتھ بچوں کو سکھایا جاتا ہے کہ ناکامی کبھی کبھار زندگی کا حصہ ہوتی ہے اور ہر بار جیتنا ضروری نہیں۔

10: کومل کی پہلی شرارت
یہ کہانی ایک بچی کومل کی ہے جو اپنی پہلی شرارت کرتی ہے۔ کہانی بچوں میں معصومیت، کھیل اور شرارت کے عناصر کو بیان کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بچوں کو حدود کا شعور بھی سکھاتی ہے۔

کتاب کی قیمت اور اہمیت
۔۔۔۔۔۔۔۔
"شاہانہ خٹک کی کہانیاں" کی قیمت صرف 400 روپے ہے، جو کہ اس معیار کی کتاب کے لحاظ سے انتہائی مناسب ہے۔ والدین کے لیے یہ کتاب ایک خزانہ ہے جو بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے، ان کے اخلاق کو سنوارنے اور ان کی شخصیت کو مثبت انداز میں ڈھالنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ کتاب بچوں کی پسندیدہ بننے کے ساتھ ساتھ والدین کے لیے بھی اطمینان کا باعث بنے گی، کیونکہ اس میں نہ صرف تفریح ہے بلکہ بچوں کے لیے اہم اخلاقی سبق بھی ہیں۔

یہ کتاب بچوں کے لیے کیوں ضروری ہے؟
یہ کتاب ہر بچے کے اسکول بیگ کا حصہ ہونی چاہیے کیونکہ:
- یہ کہانیاں بچوں کی اخلاقی تربیت میں مدد دیتی ہیں۔
- کہانیوں کا انداز نہایت دلچسپ ہے جو بچوں کو بوریت محسوس نہیں ہونے دیتا۔
- ہر کہانی میں ایک سبق پوشیدہ ہے جو بچوں کو زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
- بچوں کے تخیل اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں یہ کہانیاں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

آخر میں، والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ایسی کتابیں فراہم کریں جو ان کی ذہنی اور اخلاقی نشوونما میں مددگار ثابت ہوں، اور "شاہانہ خٹک کی کہانیاں" اس سلسلے میں بہترین انتخاب ہے۔
۔
تحریر : ادارہ
۔
آس پبلی کیشن
اردو بازار کراچی ۔۔۔
رابطہ : 03212043587
قیمت 400 روپے ۔ ڈاک خرچ فری ( پاکستان پوسٹ)
۔۔۔۔۔۔
کوریر ( ٹی سی ایس ) سے :
700 روپے ( کیش آن ڈلیوری)

Address

کتاب گھر آن لائن، اردوبازارکراچی
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kitab Ghar Online posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category