21/07/2026
ایک اور پرجوش باصلاحیت نوجوان سے ملاقات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایویں ہی کسی کام سے سندھ گورنمنٹ کے فلم ڈپارٹمنٹ جانا ہوا تو وہاں ایک باصلاحیت نوجوان سے ملاقات ہوگئی۔ یہ میرے لیے ایک اتفاقی ملاقات تھی، مگر اُس کے لیے شاید برسوں کی خواہش پوری ہونے کا لمحہ۔
مجھے دیکھتے ہی اس کے چہرے پر خوشی دوڑ گئی۔ اتنے پرجوش انداز میں ملا کہ وہیں کھڑے کھڑے بتانے لگا کہ کب سے میری کہانیاں پڑھ رہا ہے، کب سے سوشل میڈیا پر مجھے فالو کر رہا ہے، اور کب سے میرے ڈرامے دیکھتا چلا آ رہا ہے۔
پھر اس نے یکے بعد دیگرے میری کہانیوں، کتابوں اور ڈراموں کے نام گنوانے شروع کر دیے۔ میں خاموشی سے سنتا رہا اور دل ہی دل میں اس کی محبت اور یادداشت پر حیران بھی ہوتا رہا۔
اس کے بعد اس نے اپنے سفر، اپنی جدوجہد، اپنے کام اور اپنے خوابوں کے بارے میں بتایا۔
میں اس کی باتیں سنتا رہا، اس کی محنت، لگن اور کامیابیوں سے خوش ہوتا رہا، اور اسے ستائشی نگاہوں سے دیکھتا رہا۔
ایسے نوجوان مجھے ہمیشہ امید دلاتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں اصل صلاحیت اب بھی زندہ ہے۔
ٹیلنٹڈ لوگوں کی کمی نہیں ہے ۔
اس نوجوان کا نام عزیر خان زئی ہے۔ تعلق حیدرآباد سے ہے۔ کسی کام سے کراچی آیا ہوا تھا۔ مجھے دیکھا تو اس محبت سے بغل گیر ہوا جیسے ہماری برسوں پرانی شناسائی ہو۔
۔
ویسے بھی حیدرآباد کے لوگوں کی یہی خوبی ہے۔ وہ محبت کا اظہار دل کھول کر کرتے ہیں۔ ایسی اپنائیت سے ملتے ہیں کہ چند لمحوں میں دل جیت لیتے ہیں۔
حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے بہت لوگ ہیں جو دل میں آئے تو دل میں ہی بس گئے ۔
میری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ ایسے محنتی، باصلاحیت اور اوریجنل لوگوں کے ساتھ کھڑا رہوں۔ جہاں تک ممکن ہو، ان کی حوصلہ افزائی کروں، انہیں آگے بڑھنے میں سہارا دوں، اور اس وقت تک ان کا ساتھ نہ چھوڑوں جب تک انہیں خود یہ احساس نہ ہو جائے کہ اب وہ اپنے قدموں پر مضبوطی سے کھڑے ہو چکے ہیں۔
یہ نوجوان تو پہلے ہی اپنے پیروں پہ کھڑا ہے ۔
تصویر میں عزیر خان زئی درمیان والے نوجوان ہیں، جبکہ ان کے بائیں جانب معروف ہدایت کار عامر صمد خان کھڑے ہیں، جن سے تقریباً دس بارہ برس بعد ملاقات ہوئی۔
عامر بھائی وہی ہدایت کار ہیں جنہوں نے میرا پہلا سوپ "ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے" ڈائریکٹ کیا تھا۔ اس سوپ کی پچاس سے زائد اقساط میں نے لکھی تھیں۔ اس منصوبے کا آغاز میرے مرحوم دوست ڈاکٹر وسیم نے کیا تھا، مگر انہوں نے ابتدائی چند ہی قسطیں لکھی تھیں ۔۔ وسیم بھائی کی یاد آج بھی دل میں تازہ ہے۔
برسوں بعد عامر بھائی سے ملاقات واقعی ایک یادگار لمحہ رہی ۔ وہ صرف ایک اچھے ہدایت کار ہی نہیں، بلکہ میرے بہترین دوستوں میں سے بھی ہیں۔ میرے ہم مذاق ہیں ۔۔ میرے شرارتی جملوں کو بالکل ویسے ہی سمجھ جاتے ہیں ۔۔ جیسے نادر شاہ خان ایک لمحے میں سمجھ جاتا ہے ۔۔۔
زندگی کے مشکل دنوں میں جو لوگ ساتھ کھڑے رہتے ہیں، وقت گزرنے کے ساتھ ان کی قدر اور بھی بڑھ جاتی ہے، اور عامر بھائی انہی لوگوں میں شامل ہیں۔
۔
۔