Storyline

Storyline Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Storyline, Shopping & retail, Karachi.

06/07/2023

story STORY.kahani,sad story .dil chups kahanistory STORY.kahani,sad story .dil chups kahani

28/07/2022
02/10/2021

*سب بیٹیوں کی نذر*

گھر کا ماحول خوشگوار بنانے ، اور *سسرال* میں اپنی *عزت* بنانے کے کچھ *ٹوٹکے* ۔

(1) شوہر کی روٹین یہ بنائیں کہ گھر آئے پر ، وہ پہلے اپنی ماں کے پاس جائے ، بعد میں آپ کے پاس آئے ۔

(2) جب بھی بازار جائیں ، ساس کے لئے کوئی ناں کوئی تحفہ ضرور لے کر لائیں ، چاہے وہ ، لون کا سوٹ ہو ، یا دس روپے کی مونگ پھلی ۔

(3) کپڑے بدلنے لگیں تو اپنے دو پسندیدہ جوڑے ، ساس کے پاس لے جائیں ، ان سے پوچھیں کہ میں ان دونوں میں سے کون سا جوڑا پہنوں ۔ پھر جو وہ کہیں ، وہ پہن لیں ۔

(4) جب جب آپ کے شوہر آپ کے ساتھ کوئی اچھا سلوک کریں ، ساس کے سامنے ، ساس کی تعریف کریں ، کہ انہوں نے اپنے بیٹے کی بہت اچھی تربیت کی ہے ۔

(5) گاڑی میں بیٹھنا ہو ، تو بڑی محبت کے ساتھ ساس کو فرنٹ سیٹ پر بٹھائیں ، اور ان سے کہیں کہ یہ آپ کا حق ہے ، کیونکہ آپ کی دعاؤں کی وجہ سے ہی ہمیں اللہ نے یہ گاڑی دی ہے ۔

(6) گھر میں کھانا بنانے لگیں تو ساس سے پوچھ لیں کہ آج کیا بنائیں ۔ اکثر وہ یہ معاملہ آپ پہ چھوڑ دیں گی ۔ لیکن اگر وہ کسی خاص چیز کی فرمائش کریں تو وہی پکائیں ۔

(7) کبھی بھی ، کسی کے بھی سامنے ، اپنے میاں ، اپنی ساس اور کسی بھی دوسرے سسرالی رشتہ دار کی برائی نہ کریں ، کیونکہ یہ بھی غیبت ہے ۔ اور غیبت ایسی منحوس چیز ہے ، جو گھروں کے گھر اجاڑ دیتی ہے ۔

(8) اگر کبھی آپ کی ساس اور آپ کے میاں ، اکٹھے بیٹھے باتیں کر رہے ہوں ، تو پوری کوشش کریں ، کہ میاں کو بلا کر ، وہاں سے نہ اٹھائیں ۔

(9) ساس کی ہر پسند کی تعریف کریں ۔ اور انہیں یقین دلائیں کہ آپ ، ان کے اعلی ذوق کی معترف ہیں ۔

(10) اپنی ساس کے پاس بیٹھ کر ، ان سے ان کے ماں باپ کی باتیں کیا کریں ۔ ان کے بچپن اور جوانی کے قصے سنا کریں ۔

(11) کبھی کبھی ، ان کے کہے بغیر ان کے پاؤں دبا دیں ۔ ان کے سر کی کنگھی کر دیا کریں ۔

(12) اپنے پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے سامنے ، اپنی ساس کی تعریف کرتی رہا کریں ۔

اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو ۔

02/10/2021

*ایک انتہائی نفع بخش مسنون دعا*

سيدنا عبد الله بن مسعود رضي الله عنه نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، آپ یے دعا فرماتے تھے :

*❐ ’’اَللّٰھُمَّ اِنِّی أَسۡأَلُكَ الۡھُدٰی، وَالتُّقٰی، وَالۡعَفَافَ، وَالۡغِنٰی.‘‘*

"اے ﷲ میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاکدامنی اور مخلوق سے بے نیازی کا سوال کرتا ہوں۔"

📙 - *[ صحيح مسلم : 6904 ]*

*تشريح:*

یہ دعا سب سے زیادہ جامع اور نافع دعاؤں میں سے ہے اور اس دعا میں دین اور دنیا دونوں کے خیر کا سوال شامل ہے۔

یہ دعا کئی طرح کے شرور سے حفاظت کا سوال ہے۔ ہدایت گمراہی سے، تقویٰ گناہ سے، عفاف و عفت غیر شریفانہ عادتوں اور بے حیائی سے، غنائے قلب طمع و بخل سے اور غنائے ظاہری دنیوی ضروریات کے لیے کسی کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے سے حفاظت کا باعث ہے۔

29/09/2021

🍁غموں کو کبھی اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں

غموں سے جتنا ممکن ہو دور رہنا چاہیے بہت دور کیونکہ یہ بھی ایک ایڈیکشن ہے اور جب آپ کو عادت ہو جاۓ نا کسی چیز کی تو آپ نکل نہیں سکتے

اس عادت سے اس لیے جتنا ممکن ہو اس سے بہت دور رہیں آپ
اپنے آپ کو خوش رکھیں ہمیشہ وہ سوچ سوچیں جو آپ کو خوشی دے ہمیشہ حسن زن رکھنے کی کوشش کریں

اور اگر آپ غموں سے نکل نہیں رہے تو اللہ سے دعا کریں کہ اے اللہ مجھے اس آزماٸش سے نکال دے اللہ کے آگے اپنے غم رکھیں اور رو دیں پھر اللہ سے دعا کریں اللہ مجھے غموں سے نجات دے دے

واللہ اس کی عادت لگ جاۓ تو چھٹکارا بہت مشکل ہے ہاں ہم انسان ہیں یہ فطرت میں ہے کہ غم میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ آج سے پچاس ہزار سال پہلے اللہ کا عرش جب پانی پر تھا تب اس نے ہماری تقدیر لکھی ہم قضا و قدر پر ایمان لاتے ہیں اور

یہ ہمارے ایمان کے ارکان میں سے ایک رکن بھی ہے
ہاں پر دعا وہ ہمارے اختیار میں ہے وہ ہم کر سکتے ہیں اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے جو چاہیے وہ اس سے مانگو اس یقین کے ساتھ کے وہ دے گا اور وہی دے سکتا ہے ہم اس اللہ پر شک کرتے ہیں کہ وہ دعا نہیں سنتا ..

وہ جس نے زمین و آسمان پیدا کیے تم اس ذات پر کیسے شک کر سکتے ہو کہ وہ تمہاری دعا قبول نہیں کرے گا؟؟؟ ہم اس پر شک کرتے ہیں جو موسی کا رب ہے کہ جب اس فرعون کے لشکر نٕے پیچھا کیا آگے کوٸی راستہ نہ تھا لیکن اس ذات نے کیسے راستہ بنا دیا ,تم اس اللہ پر شک کر رہے ہو کہ جو زکریا کا رب ہے جب کہ جب اس نے چپکے سے اپنے رب کو پکارا جبکہ وہ بڑھاپے میں تھے اور بیوی بانجھ تھی اوراللہ نے انہیں یحیی کی خوشخبری دی , تم اس ذات پہ شک کرتے کہ وہ نہیں تمہاری دعا نہیں سنے گا کہ جب ابراہیم نے پکارا حسبنا اللہ ونعم الوکیل تو کیسے آگ کو ٹھنڈا کر دیا تم اس ذات پر شک کر رہے ہو کہ وہ دعا نہیں سنے گا کہ جب یونس نے مچھلی کے پیٹ میں پکارا تو اس نے سن لی ،بتاٶ تم کیسے شک کر سکتے ہو؟؟؟
پتا ہے کیا ہم دعا تو مانگ رہے ہوتے ہیں لیکن ہمیں شاٸد یقٕین نہیں ہوتا اس کی قبولیت کا ،دعا بھی یقین مانگتی ہے سچی تڑپ مانگتی ہے ، صبر مانگتی ہے ایک خوبصورت صبر ،قبولیت کے اوقات مانگتی ہے ، کیسے نا اللہ سنے گا کہ اس کا بندہ تڑپ کر اس سے وہ چیز مانگ رہا ہے کیسے نا وہ دے گا وہ تو القدیر ہے وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تمہارے سارے غم تم سے د

29/09/2021

*مثبت سوچ کیسے پیدا ھوتی ھے*


میاں کمرے میں ہیں۔
سامنے بچے کھیل رہے خاتون گھر میں پوچھا لگا رہی ہے
کہ کچن میں دودھ جلنے کی بو آتی ہے۔
خاتون دوڑ کر کچن کی طرف جاتی ہے۔
اسی لمحے *مین گیٹ* پر کوئی بیل بجاتا ہے۔
میاں *مین گیٹ* کی طرف جانے کیلئے نکلتے ہیں اور سامنے رکھی پوچھے کی بالٹی سے انہیں ٹھوکر لگتی ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
*دو ۔۔۔۔۔۔ ردِعمل ممکن ہیں*۔

💙 *مثبت ردِ عمل:*
خاتون جلدی سے آکر پوچھتی ہے: ’’آپ کو چوٹ تو نہیں لگی، میں نے جلدی میں بالٹی راستے سے ہٹانی بھول گئی.....!
میاں نے کہا: ’’نہیں، آپ کی غلطی نہیں ہے۔ مجھے ہی دیکھ کر چلنا چاہئے تھا۔ میں نے ہی جلد بازی میں دھیان نہیں دیا۔‘‘

❤‍🔥 *منفی رد عمل:*
میاں نے چیخ کر کہا: ’’یہ کوئی بالٹی رکھنے کی جگہ ہے۔ تمہیں کوئی عقل نہیں....؟‘‘
بیگم بھی چیخ کر کہتی ہے: ’’یہاں کچن بھی دیکھوں، پوچا بھی لگاؤں، بچے بھی سنبھالوں وغیرہ وغیرہ۔‘‘ اور جھگڑا شروع ہو جاتا ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دونوں جگہ بچے مشاہدہ کر رہے ہیں۔
ایک جگہ وہ مسکرا دیں گے، دوسری جگہ وہ سہم جائیں گے۔
ایک جگہ انہوں نے سیکھا غلطی مان لو تا کہ دوہرائی نہ جائے۔
دوسری جگہ بچوں نے سیکھا اگرغلطی ہوگئی تو ہماری شامت آجانی ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


ایسے چھوٹے بڑے واقعات ہمارے گھروں میں اور ہماری روزمرہ کی زندگی میں روزانہ ہی رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم انہیں مثبت انداز میں ہینڈل کریں یا منفی انداز میں۔

ہمارا مثبت رویہ خوشگوار ماحول اور امن و سکون فراہم کرتا ہے

جبکہ ہمارا منفی رویہ جھگڑا برپا کرکے ماحول کی خرابی اور امن و سکون کو غارت کرنے کا باعث بنتا ہے اور ہماری زندگی کو پریشان کن بناتا ہے۔

ہم اپنی سوچ اور رویے سے اپنے ماحول کو خوشگوار یا بدبودار بناتے ہیں۔ ہم اپنے امن سکون کے خود خالق ہیں۔

*’’اپنی غلطی کو مان لینا یا دوسروں کی غلطی سے درگزر کرنا‘‘، دونوں ہی مثبت رویہ اور مومن کی صفات ہیں۔*

جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’۔ ۔ ۔ جو غصہ کو پی لیتے ہیں اور لوگوں کو معاف کرتے ہیں ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔‘‘ (134) سورة آل عمران ۔

لہٰذا ہمیں دین کی ان باتوں کو سیکھنا، سمجھنا اور ان

28/09/2021

*پانچ چیزوں سے پانچ چیزوں کی پہچان ہوتی ہے*

۱- درخت کی پہچان پھل سے،
۲- بیوی کی پہچان شوہر کی تنگ دستی میں،
۳- شوہر کی پہچان بیوی کی بیماری میں،
۴- دوست کی پہچان مصیبت میں،
۵- مؤمن کی پہچان آزمائش میں،

*پانچ چیزوں کو پانچ چیزیں ترقی عطا کرتی ہیں*:

۱- تواضع علماء کو ترقی عطا کرتا ہے،
۲- مال کمینوں کو بڑھاوا دیتا ہے،
۳- خاموشی لغزش کو دور کرتی ہے،
۴- حیاء اخلاق کو بلندی عطا کرتی ہے،
۵- دل لگی تکلف کو دور کرتی ہے،

*پانچ چیزیں پانچ چیزوں کو لاتی ہیں*:
۱- استغفار رزق لاتا ہے،
۲-پست نگاہ فراست ایمان پیدا کرتا ہے،
۳- حیاء بھلائی کی توفیق بخشتا ہے ،
۴- نرم گفتگو مسئلہ کا حل لاتا ہے،
۵- غصہ شرمندگی پیدا کرتا ہے،

*پانچ چیزوں کو پانچ چیزیں دور کردیتی ہیں*:
۱- نرم گفتگو غصہ کو دور کرتا ہے
۲- طلب پناہِ خداوندی، شیطان کو باز رکھتا ہے،
۳- غور و فکر شرمندگی کو دور کرتا ہے،
۴- زبان پر ضبط غلطی کو دور کرتا ہے،
۵- دعا بری تقدیر کو ٹال دیتی ہے،

*پانچ لوگوں کا قرب باعث سعادت ہے*:
۱- فرمانبردار لڑکا،
۲- نیک بیوی،
۳-وفا دار دوست،
۴- مؤمن پڑوسی،
۵-فقیہ عالم،

*پانچ چیزیں پانچ چیزوں کے ساتھ بھلی معلوم ہوتی ہیں*:
۱- تندرستی آسودہ حالی کے ساتھ،
۲- سفر بہترین ہم نشین کے ساتھ،
۳- خوبصورتی عمدہ اخلاق کے ساتھ،
۴- نیند سکون قلب کے ساتھ،
۵- رات ذکر خداوندی کے ساتھ

رفتار بقدر ہدف ہو؛
چنانچہ طلب رزق کے لیے فرمان باری تعالیٰ ہے: *فامشوا* ( چلو)
اور نماز کے لیے: *فاسعوا* (جلدی کرو )
اور جنت کے لیے: *وسارعوا* (لپکو )
اور خود اپنے لیے : *ففروا إلى الله*( اللہ کی جانب دوڑ لگاؤ )

27/09/2021

نفسیاتی مریضوں کے لیے ایک انمول تحفہ... 🥀🌺

مزہ تو اس وقت آتا ہے ...🖤🥀
جب بندہ اذان سے دس پندرہ منٹ وپہلے
ہی اٹھ پڑے، لیکن دس پندرہ منٹ
بہت لمبے ہو جائیں،
اور وہ اپنی جرابیں، اور جرسی،
اور کوٹ، اور ٹوپی اتار کر
ایک طرف رکھ دے، اور
اذان کا انتظار کرنے لگے،
لیکن اذان ہوتی سنائی نہ دے
، اور وہ سلیپر پہن کر
وضو کرنے چلا جائے،مزے سے وضو کرے
، ٹھہر ٹھہر کر،
تھوڑے ٹھوڑے پانی سے، 🖤🥀
اور ہر رکن پر یا اللہ تیرا شکر ہے،
الحمد للہ، سبحان اللہ،
ما شاء اللہ، اللہ اکبر، کہتا جائے،
وضو سے لطف اندوز ہو کر نکلے،
اور دیکھے ابھی اذان نہیں ہو رہی
، کان لگا کر سننے کی کوشش کرے،
لیکن اذان سنائی نہ دے،
اور پھر ایک ایک کر کے اپنی
ٹوپی جرسی، کوٹ، اور جرابیں پہننے لگے،
اور پھر بھی اذان سنائی نہ دے،
اور وہ ہاتھ باندھ کر بیٹھ جائے،
اور اللہ کا شکر ادا کرنے لگے،
اور پھر دور کوئی درود شریف
پڑھنا شروع کرے🖤🥀
، اور اس کے چہرے پر رونق بدل جائے
، اور پھر دور و نزدیک کی مسجدوں سے
اذانیں بلند ہونا شروع ہو جائیں،
اور اس کا دل و دماغ کِھل اٹھیں،
اس کے چہرے پر تبسم پھیل جائے،
اور وہ اذان کے الفاظ دہراتا جائے،
بہت ساری اذانیں اکٹھی سن کر
اس پر ایک وجد کی سی کیفیت
طاری ہو جائے، اور وہ اٹھ کر نماز کے لئے
""""مصلیٰ بچھانے لگے،
اور پھر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوا
مصلیٰ پر کھڑا ہو جائے،
اللہ اکبر،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو نماز کے انتظار کی
لذت سے نوازے اور بہرہ مند فرمائے، آمین۔ 🖤🥀

27/09/2021

🍃🍃🍃🍃🌹🍃🍃🍃🍃

*شکر گزاری*

ایک نوجوان نے ایک بزرگ سے پوچھا کہ : اللہ تعالٰی اپنے نافرمان بندوں سے اپنی نعمتیں چھین لیتا ہے

لیکن میں نے دیکھا سب کے پاس پہننے اوڑھنے کو کھانے پینے کیلیۓ سب کچھ موجود ہوتا ہے اللہ تعالٰی تو کسی سے کچھ بھی نہیں چھینتے


بزرگ مسکراۓ اور پوچھا.....
کیاتمہاری نماز میں خشوع وخضوع ہے؟

نوجوان بولا: .... نہیں
کیا قرآن کی تلاوت کرتے وقت لذت محسوس ہوتی ہے؟

نوجوان بولا: .... نہیں
کیا پانچ وقت کی نماز پابندی سے پڑھتے ہو؟

نوجوان بولا:..... نہیں
کیا نیکی کرنےکیطرف دھیان جاتا ہے؟

نوجوان بولا:..... نہیں
کیا زبان اللہ کے ذکر کی عادی ہے؟

نوجوان بولا: ..... نہیں


تب بزرگ نے جواب دیا:.....
یہی اللہ کی وہ نعمتیں ھیں جنھیں وہ اپنے نافرمانوں سے چھین لیتا ہے


🍃🍃🍃🍃🌹🍃🍃

27/09/2021

ماسٹر صاحب بچے کو بڑی جان مار کے حساب سکھا رھے تھے. وہ ریاضی کے ٹیچر تھے. اُنھوں نے بچے کو اچھی طرح سمجھایا کہ دو جمع دو چار ہوتے ہیں-

مثال دیتے ہوئے انھوں نے اسے سمجھایا کہ یوں سمجھو کہ میں نے پہلے تمھیں دو کبوتر دئے. ..پھر دو کبوتر دئے...تو تمھارے پاس کل کتنے کبوتر ہو گئے؟

بچے نے اپنے ماتھے پہ آئے ہوئے silky بالوں کو ایک ادا سے پیچھے کرتے ہوئے جواب دیاکہ
*ماسٹر جی "پانچ"*

ماسٹر صاحب نے اسے دو پنسلیں دیں اور پوچھا کہ یہ کتنی ھوئیں؟
بچے نے جواب دیا کہ دو،
پھر دو پنسلیں پکڑا کر پوچھا کہ اب کتنی ہوئیں؟
*"چار" بچے نے جواب دیا.*

ماسٹر صاحب نے ایک لمبی سانس لی جو اُن کے اطمینان اور سکون کی کی علامت تھی.....
پھر دوبارہ پوچھا...

اچھا اب بتاؤ کہ فرض کرو کہ میں نے پہلے تمھیں دو کبوتر دئیے پھر دو کبوتر دیئے تو کُل کتنے ہو گئے....؟ *"پانچ" بچے نے فورًا جواب دیا.*

ماسٹر صاحب جو سوال کرنے کے بعد کرسی سیدھی کر کے بیٹھنے کی کوشش کر رہے تھے اس زور سے بدکے کہ کرسی سمیت گرتے گرتے بچے......
اؤ احمق‘‘‘پنسلیں دو اور دو "4" ہوتی ھیں تو کبوتر دو اور دو "5" کیوں ہوتے ہیں ؟

اُنھوں نے رونے والی آواز میں پوچھا...

*"ماسٹر جی ایک کبوتر میرے پاس پہلے سے ہی ہے" بچے نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ھم مسلمان تو ہو گئے مگر کچھ کبوتر ھم اپنے آباؤ اجداد سے لےآئے ہیں اور کچھ معاشرے سے لے لئے ہیں.
اسی لئے جب قرآن کی بات سنتے ہیں تو سبحان اللّہ بھی کہتے ہیں،

جب حدیث نبوی سنتے ہیں تو درود بھی پڑھتے ہیں،

*مگر جب عمل کی باری آتی ہے تو باپ دادا اور معاشرے والا کبوتر نکال لیتے ہیں،*

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Storyline posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share