17/07/2023
💎💎شیخ_عبدالقادر_جیلانی_رحمتہ_اللّه_علیہ💎💎
نے مرید صالح کو خرقہ ولایت عنایت فرماتے ہوئے نصیحت فرمائی... "فرزند! دو باتیں ہمیشہ یاد رکھنا!
اول یہ کہ کبھی خدا ہونے کا دعوی' نہ کرنا
دوئم یہ کہ کبھی نبی ہونے کا دعوى' نہ کرنا"
مرید نے استفسار کیا "یا شیخ! ایک بندہ گنہہ گار خدا کیسے بن سکتا ہے؟ پھر نبی پاک صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کا امتی ہو کر ان کو نبی آخرالزماں تسلیم کر کے نبوت کا دعویدار کیسے هو سکتا ہے؟؟؟ العياذ با الله و نعوذ با الله من ذالك"
فرمایا " کبھی خدائی کا دعوی' نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسا کبھی گمان نہ کرنا, نہ ہی زبان سے نکالنا کہ میں ایسا کر دوں گا, میں چاہوں تو ایسا ہو جائے گا میں ایسا کہوں گا تو ایسا ہو جائے گا, ... کہ کن فیکون اسی وحدہ لا شریک کی شان ہے کہ جس بات کا ارادہ کرتا ہے تو فرماتا ہے ' کن' (ہو جا) 'فیکون ' (پس وہ ہو جاتی ہے).
نبوت کے دعوے سے مراد یہ کہ کبھی کسی بات پہ ڈٹ نہ جانا کہ میں ہی سچا ہوں ,یا میری کہی ہوئی بات ہی حرف آخر ہے, یا صرف وہی حقیقت ہے جو میں نے کہی, سوچی یا سمجھی ہے کہ یہ شان صرف نبی پاک صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کی ہے جو نبی صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے نکلے وہی حق ہے, وہی سچ ہے کیونکہ وہ اپنی جانب سے کچھ نہیں کہہ رہا ہوتا اسے من جانب اللّه وحی,الہام یا کشف ہو رہا ہوتا ہے نبی کی زبان پہ سوائے حقیقت اور سچائی کے کچھ اور نہیں آتا""
(فتح الباری صفحہ نمبر 214)