11/09/2026
چین کے جنوب مغربی علاقے چونگ چنگ کے گاؤں ٹونگ سن سے تعلق رکھنے والے چن شنگ ین صرف سات سال کے تھے جب بجلی کا شدید جھٹکا لگنے کے باعث ان کے دونوں بازو ضائع ہوگئے۔ اس معذوری کے باوجود انہوں نے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنے پاؤں اور منہ کو ہاتھوں کی طرح استعمال کرنا سیکھا۔ وہ پاؤں سے چولہا جلاتے، کھانا تیار کرتے، کھیتی باڑی کرتے اور مویشیوں کی دیکھ بھال بھی خود کرتے تھے۔
2015 میں جب چن شنگ ین 48 برس کے تھے تو ان کی 91 سالہ ماں فالج کے باعث بستر تک محدود ہوگئیں۔ اب وہ خود نہ کھانا اٹھا سکتی تھیں اور نہ اپنے منہ تک پہنچا سکتی تھیں۔ چن نے اپنی معذوری کو ماں کی خدمت میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ وہ پہلے پاؤں کی مدد سے کھانا تیار کرتے، پھر برتن کو اپنی ٹھوڑی اور کندھے کے درمیان سنبھالتے۔ اس کے بعد چمچ کو دانتوں میں مضبوطی سے دبا کر برتن سے کھانا اٹھاتے، اپنا سر اور دھڑ ماں کی طرف جھکاتے اور انتہائی احتیاط سے چمچ ان کے منہ تک پہنچاتے۔ ہر نوالے کے لیے انہیں دوبارہ برتن کی طرف جھک کر یہی پورا عمل دہرانا پڑتا، مگر وہ اپنی ماں کو روزانہ اسی طرح کھانا کھلاتے رہے۔
ماں کی خدمت کے ساتھ چن خاندان کی زمین پر فصل اگاتے، مکئی چھیلتے، ٹوکریاں بناتے اور 24 بھیڑوں، دو بھینسوں اور چار مرغیوں کی دیکھ بھال بھی کرتے تھے۔ مسلسل پاؤں سے کام کرنے کے باعث سردیوں میں انہیں شدید تکلیف اور فراسٹ بائٹ کا سامنا بھی کرنا پڑتا، لیکن انہوں نے محنت اور ماں کی خدمت نہیں چھوڑی۔ ان کا کہنا تھا: ’’میرے بازو نہیں، مگر میرے پاؤں سلامت ہیں۔‘‘
چن شنگ ین کی اپنی ماں کو دانتوں میں چمچ پکڑ کر کھانا کھلانے اور روزمرہ کے کام پاؤں سے انجام دینے کی اصل تصاویر بھی 2015 کی رپورٹ میں شائع ہوئیں—یہ تصاویر ایک ایسے بیٹے کی خدمت کا زندہ ثبوت ہیں جو خود دونوں بازوؤں سے محروم تھا، مگر اپنی بے بس ماں کے لیے اس کے اپنے ہاتھ بن گیا۔
حوالہ: The Telegraph