Kahanyo KY Dunya

Kahanyo KY Dunya I will write a book which will have more than 100 pages of famous personalities like 100 AZEEM ADMY

28/08/2021

EP #02:

ان کی زندگی کے اگلے ڈھائی برسوں میں عرب قبائل سرعت سے اس نئے مذہب کے دانے میں داخل ہوئے ۔ 632ء میں آپ کا انتقال ہوا تو آپ جنوبی جزیرہ ہائے عرب کے موثر ترین حکمران بن چکے تھے۔
عرب کے بدو قبائل تند خو جنگجوؤں کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ لیکن وہ تعداد میں کم تھے۔ شمالی زرکی علا قوں میں آباد و سی بادشاہتوں کی افواج کے ساتھ ان کی کوئی برابری نہیں تھی۔ تاہم آپ نے تاریخ میں پہلی مرتبہ انہیں یکجا کیا۔ یہ واحد راست غد اپر ایمان لے آئے ان مختصر عرب فوجوں نے انسانی تاریخ میں فتوحات کا ایک حیران کن سلسله قائم کیا۔ جزیرہ ہائے عرب کے شمال میں ساسانیوں کی نتی ایرانی سلطنت قائم تھی۔ شمال مغرب میں بازنطینی یا مشرقی سلطنت روما تھی جس کا محور کانسی اولیں تھا۔ بالحاظ تعداد عرب فوج کا اپنے حریفوں سے کوئی جوڑ نہیں تھا۔ تاہم میدان جنگ میں معاملہ مختلف تھا۔ ان پر جوش عربوں نے بڑی تیزی سے تمام میسوپوٹیمیا، شام اور فلسطین
کیا۔ 642ء میں مصر کو باز نطینی تسلط سے چھینا جبکہ 637ء میں جنگ قدسیہ اور 642ء میں نماوند کی جنگ میں ایرانی فوجوں کو تاخت و تاراج کیا۔
تاہم نبی اکرم کے جانشین اور قری صحابہ ابو بکر اور عمرابن الاب کی زیر قیادت ہونے والی ان عظیم فتوحات پر ہی مسلمانوں
نے اکتفا نہ کیا۔ 711ء تک عرب فوجیں شمالی افریقہ کے پار بحر اوقیانوس تک اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑ چکی تھیں۔ پھر وہ شمال کی طرف مڑے اور آبنائے جبرالٹر کو عبور کر کے پین میں " وی گو تھک“ سلطنت پر قبضہ کیا۔
ایک دور میں تو یوں معلوم ہو تا تھا کہ مسلمان تمام مسیحی یورپ پر قابض ہو جائیں گئے۔ تاہم 752ء میں طور کی مشہور جنگ میں
جبکہ مسلمان فوجیں فرانس میں داخل ہو چکی تھیں، فرانک قوم کی فوجوں نے انہیں بالا خر شکست فاش دی۔ جنگ و جدل کی اس صدی میں ان بدوی قبائل نے نبی کے الفاظ سے حرارت لے کر ہندوستان کی سرحدوں
سے بحر اوقیانوس تک ایک عظیم سلطنت استوار کر لی۔ اتنی بڑی سلطنت کی اس سے پہلے تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ جہاں ان افواج نے فتوحات حاصل کیں وہاں بڑے پلانے پر لوگ اس نے عقیدے کی جانب مائل ہوئے۔
لیکن یہ تمام فتوحات پائیدار ثابت نہیں ہو گئیں۔ ایرانی اگرچہ اسلام سے وفادار رہے لیکن انہوں نے عربوں سے آزادی حاصل کرلی۔ پین میں سات صدیاں خانہ جنگی جاری رہی اور بالاخر تمام جز سے دہانے پین پر چھرے بھی غلبہ ہو گیا۔ قدیم تہذیب کے یہ دو گوار نے میسوپوٹیمیا اور مصر عربوں کے تسلط میں ہی رہے۔ کی پاسداری شمالی افریقہ میں بھی قائم رہی۔ اگلی صدیوں میں یہ نیا نہ ہب مسلم مفتوحات کی حقیقی سرحدوں سے بھی پرے پھیل گیا۔ آج افریقہ اور وسطی ایشیا میں اس مذہب کے کروڑوں پیرو کار موجود ہیں۔ یہی حال پاکستان شمالی ہندوستان اور انڈونیشیا میں بھی ہے ۔ انڈونیشیا میں تو اس

27/08/2021

100 Azeem Admy:
1) HAZRAT MUHAMMAD (SAW):

EP #01:
ممکن ہے کہ انتہائی متاثر کن شخصیات کی فہرست میں حضرت محمد کا شمار سب سے پہلے کرنے پر چند احباب کو حیرت ہو اور کچھ معترض بھی ہوں۔ لیکن یہ واحد تاریخی ہستی ہے جون ہیں اور دنیاوی دونوں محاذوں پر برابر طور پر کامیاب رہی۔
(حضرت) ممنے عاجزانہ طور پر اپنی مائی کا آغاز کیا اور دنیا کے عظیم مذاہب میں سے ایک مذہب کی بنیاد رکھی اور اسے پھیلایا۔ وہ ایک انتہائی موثر سیاسی رہنما بھی ثابت ہوئے ۔ آج تیرہ سو برس گزرنے کے باوجود ان کے اثرات انسانوں پر ہنوز مسلم اور گہرے ہیں۔
اس کتاب میں شامل متعدد افراد کی یہ خوش قسمتی رہی کہ وہ دنیا کے تہذیبی مراکز میں پیدا ہوئے اور وہیں ایسے لوگوں میں پلے بڑھے جو عموما على تهذیب یافتہ یا سیاسی طور پر مرکزی حیثیت کی اقوام تھیں۔ اس کے بر عکس ان کی پیدائش جنوبی عرب میں مکہ شہر میں 570ء میں ہوئی۔ یہ تب تجارت فون اور علم کے مراکز سے بہت دور دنیا کار قیا نوسی گوشہ تھا۔ وہ چھ برس کے تھے جب ان کی والدہ کا انتقال ہوا۔ ان کی پرورش عام وضع پر ہو گی ۔ اسلامی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ وہ ان پڑھ تھے۔ ہپیں برس کی عمر میں جب ان کی شادی ایک اہل ثروت عورت سے ہوئی تو ان کی مالی حالت میں بہتری پیدا ہوئی۔ تاہم چالیس برس کی عمر تک پہنچتے پہنچے لوگوں میں ان کا ایک غیر معمولی انسان ہونے کا تاثر قائم ہو چکا تھا۔
تب زیادہ تر عرب اصنام پرست تھے۔ وہ متعدد دیو ماؤں پر ایمان رکھتے تھے ۔ مکہ میں البتہ عیسائیوں اور یہودیوں کی مخقر آبادیاں بھی موجود تھیں۔ انہی کے توسط سے آپ واحد خدائے مطلق کے تصور سے شناسا ہوئے۔ جب ان کی عمر چالیس برس تھی انہیں احساس ہوا کہ خدائے واحد کی ذات مبارک ان سے اپنے فرشتے جبرئیل کی وساطت سے ہم کلام ہے اور یہ کہ انہیں کے عقیدے کی تبلیغ کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔
تین برس تک وہ اپنے قریبی اعزاء و اقربا میں ہی اپنے نظریات کا پرچار کرتے رہے۔ قریب 615 عیسوی میں انہوں
نے کھلے عام تبلیغ شروع کی ۔ آہستہ آہستہ انہیں ہم خیالوں کی معیت حاصل ہوئی تو مکہ کے با اختیار لوگوں نے ان کی ذات میں اپنے لیے خطرہ محسوس کیا۔ 622ء میں وہ اپنی حفاظت جان کی غرض
سے مدینہ چلے گئے۔ (یہ مکہ کے شمال میں دو سو میل کے فاصلے پر واقع ایک شہر ہے)۔ وہاں انہیں ایک بڑے سیاست دان کی حثیت حاصل ہوئی۔
- اس واقعہ کو ہجرت" کہا جا تا ہے ۔ یہ نبی کی زندگی میں ایک واضح موڑ تھا۔ مکہ میں تو انہیں چند رفقاء کی جمعیت حاصل تھی مدینہ میں ان کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی۔ جلد ہی ان کی شخصیت کے اثرات واضح ہوئے اور وہ ایک مکمل فرمانروا بن گئے۔ اگلے چند برسوں میں ان کے پیرو کاروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا اور مدینه و مکہ کے چند جنگیں دی گئی ۔ جن کا اختتام 630ء میں آپ کی فتح مندی اور مکہ میں بطور فاتح واپسی پر ہوا۔

27/08/2021

HI friends ap logo ko daily basis per 1 episode miligy

Address

P/o & Village Sangolai Payeen District Dir Lower KPK
Kpk

Telephone

+923408611557

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kahanyo KY Dunya posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Kahanyo KY Dunya:

Share