S.N.S household

S.N.S household New and preloved crokery ,decor and house hold items.

03/09/2026
24/08/2026

کل انڈوں کی بات ہورہی تھی ، ہمارے گھر انڈے زیادہ استعمال ہوتے ہیں ، میں خود 3 انڈے روز کھاتی ہوں ، ناشتے میں دو بوائل انڈے اور ایک سادہ آملیٹ عصر کے وقت۔۔۔ سردیوں میں 5 بھی ہوجاتے ہیں ۔ زردی صرف دو انڈوں کی استعمال کرتی ہوں باقی سفیدی ۔۔۔ کہ زردی میں good فیٹ پائے جاتے ہیں تو اسے مکمل نکالنا نہیں چاہیے ۔ پوسٹ پر ہی کسی نے کہا گرمی میں انڈے نہیں کھانے چاہییں ۔ میڈیکل سائنس کی طرح میں بھی اس بات پر یقین نہیں رکھتی کہ انڈے گرم یا ٹھنڈے ہوتے ہیں ۔
جن لوگوں کو معدے کے مستقل مسائل ہیں وہ کچھ بھی کھا لیں تو معدے میں تیزابیت یا گرمی بنے گی ، پروٹین ذرا دیر سے ہضم ہوتا ہے تو معدے کے مریض کے لیے یہ انڈا ذرا بھاری ہو جاتا ہے ، مگر گرم نہیں ۔ اس لیے معدے کا علاج کروائیں ۔ انڈوں کا گرمی سے کوئی تعلق نہیں ، ہم تو جون جولائی میں بھی کھاتے ہیں۔

میرے بچے بھی انڈے شوق سے کھاتے ہیں ، کبھی آملیٹ، کبھی ہاف فرائی اور کبھی سینڈوچ میں بوائل انڈے میش کرکے ۔۔۔۔ بیٹا بڑا ہو رہا ہے ، تو لازمی 4 انڈے روز دیتی ہوں ۔ بیٹی نخرہ کرتی ہے تو صرف 2 ہی کھاتی ہے۔
پچھلے سال بھی لکھا تھا آپ جس عمر میں بھی ہیں ، روز کم ازکم 1 یا دو انڈے ضرور کھائیں ، جس پر کچھ نے لکھا اس مہنگائی میں انڈے کیسے افورڈ کریں ؟ خرچے کے علاوہ لوگ انڈوں کو بلڈ پریشر اور گرمی سے بھی جوڑ دیتے ہیں ۔
جہاں تک بلڈ پریشر کا تعلق ہے وہ سوڈیم یعنی نمک سے ہائی ہوتا ہے انڈے سے نہیں ، جن کو کولیسٹرول کے مسائل ہیں وہ زردی نکال کے کھا لیں لیکن سفیدی تو ضرور کھائیں۔۔۔۔ بلڈ پریشر انڈا بنانے کے طریقے سے تعلق رکھتا ہے اگر اس میں آپ زیادہ نمک ، زیادہ گھی ڈالیں گے تو ظاہر ہے وہ بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہی ہوگا۔

جہاں تک خرچے کی بات ہے ، جو لوگ سوچتے ہیں روز انڈا کیسے افورڈ کریں ۔۔۔ وہ 70 روپے کا Lays یا پاپڑ روز بچوں کو خرید کر دے رہے ہوتے ہیں ، جبکہ 70 روپے میں 3 انڈے آ جاتے ہیں ۔ 300 کی سیگریٹ پھونک لیں گے مگر درجن انڈے ان کے لیے مہنگے ہیں ۔ سب سے سستا سالن بھی آلو انڈے ہی ہے ۔ چھوٹے چھوٹے فضول میں خرچے اور بازاری کھانے سے پیسے بچا کر ماہانہ تین چار درجن انڈے خریدے جاسکتے ہیں۔

اکثر لوگ ہاف بوائل انڈے کو اور ہاف فرائی انڈے کو پسند کرتے ہیں لیکن خیال رکھیے کہ اب ڈاکٹر نیم کچے انڈے سے پرہیز کا مشورہ دیتے ہیں ، خوپ پکائیں ، کچے انڈے میں سالمونیلا نامی ایک بیکٹیریا ہوسکتا ہے ، کریک انڈا بھی مت خریدیں ۔ بوائل کر کے کھائیں املیٹ بنا کے کھائیں یا سالن میں ڈال کے کھائیں مگر کھائیں ضرور۔۔۔
اپنی جیب ، طبیعت اور پسند کو دیکھ کر جو بھی کھائیں ، مگر انڈوں کو اپنا دشمن نہ سمجھیں ۔ صحت کے مسائل ہیں تو اپنے معالج سے مشورہ کرلیں مگر اپنی خوراک میں 1 انڈہ تو لازمی شامل کریں ۔ مجھے نہیں لگتا کوئی ڈاکٹر انڈہ منع کرتا ہے ۔ یہ بہترین پروٹین ہے جس سے آپ کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں ، یہ جسم پر وہ انویسٹمنٹ ہے جو آپ کو 50 سال کے بعد دو گنا ہوکر وصول ہوگی ۔

16/08/2026
16/08/2026

16/08/2026

#

16/08/2026

‏اکثر پوچھا جاتا ہے کہ ایک اصلی نسلی مرد کو کیسا ہونا چاہیئے یا قوام مرد کی تعریف کیا ہے تو فائزہ افتخار Faiza Iftikhar نے ایک شاہکار کردار تخلیق کیا ہے ۔۔۔۔۔ !

ہارون ملک اس کردار کو اسٹڈی کریں ۔۔۔۔۔
یہ ہوتا ہے 'مرد' ۔۔۔۔۔

1. ہارون ملک آپ تب بنتے ہیں جب آپ اپنے لئے خود کماتے ہیں اپنے اخراجات خود پورے کرتے ہیں خرچوں کے لئے اپنے باپ کا منہ نہیں دیکھتے یا باپ کے پیسے پر عیاشی نہیں کرتے ۔
آپ کی روٹین مختلف ہے تو آپ پورے گھر کی روٹین تلپٹ کرنے کے بجائے الگ اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں ۔
لیکن اس کا مطلب ماں باپ سے یا اپنے گھر سے لاتعلقی بالکل بھی نہیں ہے۔ آپ ان سے رابطے میں ہیں جب دل چاہتا ہے آ کے رہ بھی جاتے ہیں کھانا بھی کھاتے ہیں ۔ ان کے مسئلے سنتے ہیں انہیں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ جب ضرورت پڑے آپ کو ایک کال کر کے بلا لیتے ہیں اور آپ موجود ہوتے ہیں۔۔۔۔۔
آپ خود کفیل ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بدتمیز ہیں یا بے ادب ہیں یا بد لحاظ ہیں یا آپ کا اپنے گھر والوں سے تعلق ختم ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔

تو ہارون ملک بننے کے لئے پہلے تو فائنانشل اسٹبلش ہونا ضروری ہے معاشی خودمختاری اور استحکام پہلی شرط ہے
اور اس کے لئے سخت محنت کرنی پڑتی ہے نام بنانا آسان نہیں ۔ جب نام بن جاتا ہے تو دوست چند ہی رہ جاتے ہیں اور مخالف زیادہ مگر اپنی شخصیت مضبوط ہو ، انسان غلط صحیح کا ادراک رکھتا ہو اور اس کو پتہ ہو کہ اس نے یہ مقام محنت سے بنایا ہے تو وہ ڈرتا نہیں ۔۔۔۔۔
اپنے اندر اتنی قابلیت اور صلاحیت پیدا کرو کہ تم لوگوں کی مجبوری بن جاو چاہے وہ تمہیں پسند نہ بھی کرتے ہوں تب بھی ۔
تمہارا نام برینڈ ہو تمہاری وجہ سے لوگوں کے کاروبار چلتے ہوں تم لوگوں کے کاروبار کی وجہ سے نہ چلتے ہو ۔
اس لے ہارون ملک کو فکر ہی کوئی نہیں نوکری چلی جائے گی اعتماد ہے کہ محنت کروں گا کہیں اور نام بنا لوں گا۔۔۔۔

2. پیسہ نام شہرت سب حاصل کرنے کے ساتھ اپنی شخصیت پر کام کرنا ضروری ہے ۔ یہ نہیں کہ کمانے کا نشہ ہی چڑھ گیا یا دماغ خراب ہو گیا گردن میں سریا آ گیا جو کمایا عیاشیوں میں لٹایا عورت ، شراب ، ڈرگز ، بلیک منی وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔
یا پھر پیسہ کمانے کی دھن میں صحیح غلط سب بھول گئے۔ہارون ملک نے پیسہ تو کمایا خوب کمایا مگر اس سے محبت نہیں رکھی۔ ایسے لوگوں کو کوئی خرید نہیں سکتا۔ دھمکا نہیں سکتا۔ بلیک میل نہیں کر سکتا۔
ٹھیک ہے لڑکیوں سے دوستیاں بھی رکھیں مگر حد کراس نہیں کی ۔۔۔۔

3. تیسری خوبی حق کا ساتھ دینا اور پرواہ نہ کرنا دوسری طرف چاہے اپنا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو بھائی کی مخالفت نہیں کر رہا مگر بھاوج کا بھرپور ساتھ دے رہا ہے اسے اکسا نہیں رہا بلکے یہ کہہ رہا ہے کہ تم جو فیصلہ کرو شادی میں رہو یا چھوڑ دو ، فیصلہ تمہارا ہونا چاہیئے میں ساتھ ہوں چاہے ساری دنیا مخالف ہے ۔۔۔۔
ہارون جس طرح اپنی بھابی ماہم کا ساتھ دے رہا ہے اس سے سیکھیں کہ ساتھ دینا کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔

اگر ایک فریق کے ساتھ کھڑے ہیں تو اس کا یہ مطلب بالکل بھی نہیں کہ دوسرے فریق کو گندا کر رہے ہیں نیچا دیکھا رہے ہیں اس سے لڑ جھگڑ رہے ہیں برا بھلا سنا رہے ہیں ۔
بس حق کے ساتھ جم کے کھڑے ہیں۔
اس فریق کی مکمل بات تحمل سے سننا
اور اس دوران اپنے جذبات کا اظہار بالکل بھی نہ کرنا۔
دوسرے فریق کو فیصلے میں آزاد چھوڑ دینا کہ وہ جو بہتر سمجھے فیصلہ کرے اور اس کے لئے جتنا مرضی وقت لے بس ہم غیر مشروط ساتھ ہیں۔۔۔۔۔

4. ہارون ملک جیسے مکمل مرد جب کسی خاتون کو پسند کر کے اس سے شادی کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کی شخصیت کو دیکھتے ہیں۔ اس کی خوبیوں کو پہچان کے آگے بڑھتے ہیں اور جب ایک بار کوئی بھا جائے تو اس کے پروفائل میں اس کی سابقہ ناکام شادی، بیٹی ، ٹوٹی ہوئی منگنی جیسی باتیں کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔ اہمیت ہے تو یہ کہ وہ کیسی انسان ہے ۔ بعض مرتبہ لوگ برے نہیں ہوتے ان کی قسمت برا کرتی ہے ۔
ہارون ملک اس فرق کو سمجھنے کی اہلیت رکھتا یے اور ہارون ملک نے جو ڈائیلاگ حسیب کے سامنے بولے کہ اب میں سمجھا کہ وہ جو خوش بخت ناز کسی پہ اعتماد نہیں کرتی اعتبار نہیں کرتی اس کی وجہ تم ہو ، تم نے دوست بن کے اس کا اعتبار خراب کیا ہے ۔ حسیب کی باتوں پہ نہ بھڑکا نہ بدگمان ہوا نہ جھگڑا کیا تحمل سے بات سنی، تہہ تک پہنچا، حسیب کو شرمندہ بھی کیا سمجھایا بھی اور اپنا دل خراب ہرگز نہیں ہونے دیا ۔۔۔۔۔

5. ہارون ملک نے سوتیلے باپ کا ٹیگ خندہ پیشانی سے قبول کیا ، بچی کی ذمہ داری خوش اسلوبی سے اٹھائی جس نے اس کا مذاق اڑایا یا طنز کیا اسے ایسے پیارے پیارے جواب دیئے ۔۔۔۔
نہ معذرت خواہانہ رویہ نہ برا ماننا بلکہ خود کو نیا نیا باپ کہنا بچی سے اٹیچمنٹ بڑھانا اور بچی کو نئی شادی شدہ زندگی کی پرائیویسی میں مداخلت نہ سمجھنا ۔۔۔۔۔

6. کوئی افئیر چلائے بغیر سیدھا شادی کی پیش کش ۔ بڑے بڑے دعوے کئے بغیر شادی والے دن بیوی کو گھر گفٹ کر دینا اور بھلے خود اس کے گھر میں رہنے لگنا اس میں کوئی شرم جھجک نہیں ، انا کا مسئلہ نہیں مگر ایک گھر بیوی کے نام غیر مشروط طور پر پہلے دن کر دیا اب اس کی مرضی ہے وہ جہاں بھی رہے ۔۔۔۔۔۔ !

یہ ہے ھارون ملک۔۔۔۔۔ !!

7. شادی کے بعد بیوی کے سر پر مسلط نہ ہونا بلکہ اسے ٹائم دینا کہ وہ اس رشتے کو قبول کرے ۔ اپنی بیوی اور بیٹی کے لئے خود کو بدلنا ۔ روٹین بدلنا عادات بدلنا ۔۔۔۔
خوش بخت اپنی سابقہ شادی کی ناکامی طلاق اور سابقہ شوہر کے مینٹل ابیوز کے ٹراما سے نکل آئی تھی اپنا کیرئیر، لائف، شخصیت سب سیٹ کر چکی تھی ۔
مگر اس وقت اسے اپنے بہترین دوست اور کزن حسیب کی وجہ سے جو شاک لگا وہ بری طرح اس کے زیر اثر ہے ۔
وہ حسیب جو اس کا کزن تھا منگیتر بھی مگر وہ کسی اور کو پسند کرتا تھا خوش بخت نے خود اس سے منگنی توڑی اور اس کی شادی اس کی پسند سے کروائی ۔ اب اسی حسیب کا دل اتنے سالوں بعد اپنی بیوی سے اکتا جکا ہے اور وہ خوش بخت کے پیچھے ہے ۔۔۔۔۔
جبکہ خوش بخت کی اس کی بیوی سے بہت زیادہ دوستی ہے ۔ حسیب کو بھی وہ اچھا دوست سمجھتی ہے ۔
معاملہ کھلنے پر حسیب کی بیوی خوش بخت کو بھی حسیب کے ساتھ شامل سمجھتی ہے ۔ خوش بخت اس وقت دوستی اعتماد اعتبار ٹوٹنے کے اتنے بڑے بحران پہ کھڑی ہے کہ اس کا دنیا کے ہر شخص پر سے اعتبار اٹھ چکا ہے وہ ہارون ملک کو بھی اسی نظر سے دیکھ رہی ہے ۔ شک کر رہی ہے جھگڑ رہی ہے اور ہارون ملک سب کچھ خاموشی سے سن رہا ہے وہ خاموشی جو کسی کمزور شخصیت کی نشانی نہیں ہے بلکہ بردبار انسان کی شخصیت کا خاصہ ہے ۔
وہ اسے بولنے دے رہا ہے بھڑاس نکل جانے دے رہا ہے کوئی ردعمل نہیں دے رہا اور اس کے بعد بہت سادہ سا ایک جملہ بولتا ہے کہ خوش بخت میں حسیب نہیں ہوں ۔۔۔۔

اور بس بات ختم ۔۔۔۔۔

فائزہ افتخار مرد کے اس قدر خوبصورت کردار کو لکھنے پر میرا دل چاہتا ہے آپ کے ہاتھ چوم لوں ۔
ہم ہمیشہ بات کرتے ہیں کہ لوگ کیسے ہوتے ہیں مرد کیسے ہوتے ہیں عورتیں کیسی ہوتی ہیں مگر ہم یہ نہیں بتاتے کہ مرد کو کیسا ہونا چاہیئے یا ایک قوام مرد کیسا ہوتا ہے ۔۔۔۔

ہارون ملک کا کردار ایک کیس اسٹڈی ہے جس کو احد رضا میر نے شاندار نبھایا ہے ۔
شاید اس کردار کو احد رضا میر سے بہتر کوئی پرفارم نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔

اس ڈرامے میں ہر فنکار نگینے کی طرح فٹ ہیں ۔

مجھے پتہ ہے ہر کوئی اتنا پرفیکٹ نہیں ہوتا لیکن کوشش تو کی جاسکتی ہے اچھا انسان بننے کیلئے ۔۔۔۔۔ !!!

14/08/2026

14/08/2026

فلم والے ڈرامہ چیپٹر میں کسی مہربان نے ڈرامہ "آپ کی عزت"
کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس ڈرامے کو فی الفور بند کیا جائے ۔۔اس سے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔
ان کے مطابق اسلام میں دوسری شادی کی اجازت ہے،تو کیا عورت کو شوہر کی دوسری شادی کرنے پر گھر سے فرار ہو جانا چاہیئے؟؟؟

میں بھی عورت ہونے کے ناطے مرد کے 'بلاوجہ' دوسری شادی کرنے کی سخت مخالف اور ناقد ہوں۔
مگر اس تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں ہم دوسروں پر اپنی سوچ یا خواہشات مسلط نہیں کر سکتے۔بلکہ معاملات کی درستگی کے لیے زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھ کرچلنا ہوگا۔
اور عمـــــــیرہ احمد یہی کر رہی ہیں۔
کبھی کبھی زخم کو ٹھیک کرنے کے لیے نشتر سے چیرا لگا کر فاسد مواد کو نکال دیا جاتا ہے

جنریشن بومرز اور جنریشن ایکس سے جین ذی تک آتے آتے ہم ڈائل والے فون سے ٹچ موبائل پر آگئے۔پہلے اکا دکا خواتین پڑھائی کے بعد جاب کرتی تھیں،اب لڑکیوں میں سے چند ہی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گھر بیٹھتی ہیں۔
پہلے برقعے عام تھے،اب لیڈیز جینز عام ہیں۔
پہلے گھریلو تقریبات میں کوڈک فیوجی کی ریلیں ڈال کر تصاویر لی جاتی تھیں جن کی ڈیویلیپنگ پر اچھا خاصا خرچہ ہوتا تھا ۔۔
اب موبائل فون کیمروں کی بدولت لا متناہی تصاویر لینے کی سہولت موجود ہے ۔جس کے نتیجے میں نئی نسل میں سیلفی کے جنون نے خود پسندی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ میک اپ،جیولری اور ملبوسات کی انڈسٹری کو بھی بام عروج پر پہنچا دیا ہے ۔
دوسری طرف ٹک ٹاک جیسی علتوں نے معاشرے میں اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے ۔
لوگ مادہ پرستی میں حلال حرام کا احساس کئے بغیر فوری دولت حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں ۔
کئی خواتین کو شادی کے لیے "مالدار" مرد چاہیے ہوتا ہے تاکہ زندگی انجوائے کر سکیں ۔اس مقصد کے لیے کسی شادی شدہ مرد سے شادی کرنا انہیں معیوب نہیں لگتا۔

سوشل میڈیا پر موجود خواتین کے گروپس میں اکثر خواتین اپنے شوہروں کی ناالتفاتی کا گلہ کرتی اور ان کے ایکسٹرا میریٹل افئرز کا ذکر کرتی پائی جاتی ہیں ۔۔
عمیرہ احمد آج کے اسی مسئلے کو سامنے لائی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ڈرامہ خواتین میں بہت مقبول ہو رہا ہے۔
اور اس ڈرامے کو دیکھ کر خواتین بگڑ جائیں گی ۔۔گھروں سے بھاگ جائیں گی ۔۔یہ کہنا قبل از وقت ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے معاشرے میں آج کے زمانے میں بھی خواتین خواہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں اور مالی طور پر خودمختار ہوں،شادی کے بعد اپنے شوہر کی وفادار ہوتی ہیں ۔اس کے برعکس شادی شدہ مرد حضرات میں سے کچھ باہر منہ مارتے پھرتے ہیں ۔دفتر میں یا دفتر کے باہر خواتین سے خوش گپیاں کرکے جب گھر لوٹتے ہیں تو زبان کی مٹھاس اور مزاج کی خوش گفتاری گھر سے باہر ہی چھوڑ آتے ہیں۔
مگر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دور کی باخبر،پراعتماد خواتین سے مردوں کی بے وفائیوں پر منہ بند رکھنے اور گھر کے کونے کھدروں میں منہ چھپا کر رونے کی توقع کیوں کر رکھی جائے؟
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک مڈل کلاس نارمل گھرانے میں بچوں کی تربیت کرتے ہوئے دین کی تعلیم وسمجھ اس طرح نہیں دی جاتی جیسی ہونی چاہیے ۔دین کو نماز روزہ حج عمروں تک محدود کر دیا جاتا ہے ۔خصوصا معاشرتی روابط اور قرابت داری کے حقوق وفرائض اسلامی قوانین کے بجائے معاشرے کے ریتی رواج کے مطابق چلاۓ جاتے ہیں ۔
عمیرہ احمد اپنے ڈرامے میں یہی بتانا چاہتی ہیں۔کہ گھر گرہستن عورت اگرچہ مالی طور پر خودمختار نہیں،اس کے میکے والے تگڑے نہیں ۔۔ مگر شوہر کی ناانصافی اور بے وفائی اس کے لیے قابل قبول نہیں ۔۔
تو پھر احتجاجاً وہ کیا کچھ کر سکتی ہے؟
وہ فلاسفر یا ریفارمر نہیں ہے کہ اپنے عمل کے سیاق و سباق کے مذہبی معاشرتی یا اخلاقی پہلوؤں پر غور کرے۔
وہ محض ایک عورت ہے جس نے اپنی زندگی کے خوبصورت سال ،اپنی جوانی،اپنی توانائیاں ایک گھر بنانے میں صرف کر دیں۔اور اب اسی گھر میں اس کے مقابل ایک اور عورت کو لا کر اس کے وجود اور خدمات کی نفی کی جا رہی ہے ۔
وہ اپنی بےعزتی کیوں اور کیسے قبول کرے؟

ڈرامہ جاری ہے ۔گھر سے بھاگنے کے فیصلے کے عواقب ونتائج بھی آگے سامنے آئیں گے۔یقینا عمیرہ أحمدکسی پہلو کو تشنہ نہیں رہنے دیں گی۔
بس ذرا انتظار کر!

******
اس ڈرامے کے موضوع سے مطابقت لیے کچھ دل چھو لینے والے جملے پیش خدمت ہیں ۔یہ ہماری مایہ ناز رائٹر راحت جبیں کے ناول سے لئے گئے ہیں

"آنسوؤں کی مالا پروتی
دل کورا کاغذ تھا
جذبے أن چھوۓ سے
خیالات پاکیزہ۔خود کو بچا بچا کر رکھا تھا اس شخص کے لیے
پھر وہ مکینِ دل ہؤا
کورے کاغذ پر رنگ بھرے
جذبے لٹاۓ،خیالات میں اسی کا تصور۔
ہاۓ کسی لڑکی کے دل سے پوچھے۔
مرد ایک بار دوسری شادی سے پہلے اس عورت کے دل میں تو جھانکے جس نے اپنے کنوارے جذبے اس پر لٹا کر اس کے آنگن کو گل و گلزار بنا دیا تھا۔بس ایک بادِ سموم اور سب خش وخاشاک۔

******
مرد جب اپنی مرضی چاہتا ہے تو وہ اپنے سامنے کسی رکاوٹ کو کھاتے میں نہیں رکھتا۔اس کے پیش نظر صرف اپنی خواہش کی تکمیل ہوتی ہے۔مگر جب عورت اپنی مرضی کرنا چاہتی ہے تو ہزار رکاوٹیں اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہو جاتیں۔
مذہب نے دونوں کو اختیار دیا ہے۔
مگر معاشرہ مرد کو گنجائش دے کر عورت کی جھولی میں نصیحتیں ڈال دیتا تھا۔خاندان برادری سب کے پاس عورت کے لیے یہی کچھ تھا۔کوئی ہمت کرکے کہہ بھی دیتا کہ تم بھی خلع لے لو۔اس کی اولاد اس کے حوالے کر دو اور نئی زندگی شروع کرو۔
تب عورت کا دل مٹھی میں آ جاتا۔جو اپنا شوہر دوسری عورت کے ساتھ نہ بانٹ سکی،اولاد کو کیسے بانٹے گی۔کون جانے دوسری عورت اسے کلیجے سے لگا کر رکھے یا نہیں۔
اولاد کبھی باپ کے پیروں کی زنجیر نہیں بنتی ۔عورت کے گلے کا طوق ضرور بن جاتی ہے جسے وہ کبھی اتارنا نہیں چاہتی ۔

Address

Zaidi Street
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when S.N.S household posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to S.N.S household:

Shortcuts

Share