Ali Online book shop

Ali Online book shop Ali online books shop

Call or what's app 03134673943
08/07/2024

Call or what's app 03134673943

*New Book Alert📢**کتاب📖 :--* •• بحار الانوار جلد (اول)••*تصنیف✒️ :--*°° علامہ محمد باقر مجلسی °°*مترجم✒️ :--*°° آصف رضا ...
07/07/2024

*New Book Alert📢*

*کتاب📖 :--* •• بحار الانوار جلد (اول)••
*تصنیف✒️ :--*°° علامہ محمد باقر مجلسی °°
*مترجم✒️ :--*°° آصف رضا ایڈووکیٹ°°

*کچھ کتاب کے بارے*
علامہ باقر مجلسی کی بحار الانوار جو کسی تعارف کی محتاج نہیں ان کی کتاب بحار کا بالترتیب ترجمہ کرنے کی سعادت آصف علی رضا صاحب نے حاصل کی ہے 110 جلدوں میں سے پہلی جلد کا ترجمہ آپ احباب کی خدمت میں پیش ہے

*گھر 🏠 بیٹھے یہ کتاب رعائتی قیمت 2100روپے میں حاصل کریں🚚📦*

*رابطہ📞*
علی آن لائن بکس سٹور 03134673943

*New Book Alert📢**کتاب📖 :--* •• شواہد التنزیل لقواعدالتفضیل فی الآیات النازلۃ اهلبیت صلواۃ اللّٰه و سلامه علیهم(2 مجلدات...
07/07/2024

*New Book Alert📢*

*کتاب📖 :--* •• شواہد التنزیل لقواعدالتفضیل فی الآیات النازلۃ اهلبیت صلواۃ اللّٰه و سلامه علیهم(2 مجلدات)••

*تصنیف✒️ :--*°°حافظ کبیر عبید الله بن عبدالله بن احمد المعروف بالحاکم الحسکانی°°

*تحقیق✒️ :--* °°الشیخ محمد باقر المحمودی°°

*مترجم✒️ :--*°°علامہ محمد حسن جعفری و علامہ الطاف حسین کلاچی°°

*کچھ کتاب کے بارے*
رسول اللہ ص نے فرمایا تھا: جو بھی علی ع کی ایک فضیلت لکھے گا فرشتے اس کے لیے اس وقت تک استغفار کرتے رہیں گے جب تک وہ ورق باقی رہے گا جس پر وہ لکھی گئی ہو گی. پھر فرمایا: اگر تمام درخت قلم بن جائیں، سمندر روشنائی بن جائیں، جن شمار کرنے والے بن جائیں، اور انسان لکھنے والے بن جائیں تب بھی وہ علی ع کے فضائل کا احصا نہیں کر سکتے.
یہی وجہ ہے کہ احمد بن حنبل کہتے ہیں: اصحاب پیغمبر ص میں سے کسی کے فضائل میں اتنی حسن احادیث وارد نہیں ہوئیں جتنی علی بن ابی طالب ع کے حق میں وارد ہوئی ہیں.
اسی امر کے پیش نظر امام امیرالمومنین علی ع کے فضائل پر مشتمل کتب تالیف کرنا اہل تشیع نیز اہلسنت کے یہاں بھی کار ثواب قرار پایا اور ان دونوں کے یہاں بزرگ علماء نے اپنی آخرت کا سامان فضائل قسیم نار و جنت رقم کر کے فراہم کیا. زیر نظر کتاب بھی یقیناً اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے مؤلف اہلسنت کے بزرگ عالم دین جناب قاضی عبید اللہ بن عبد اللہ حسکانی ہیں. ان کا تعلق پانچویں صدی ہجری سے ہے. علمی مرتبے کا یہ عالم تھا کہ متعدد علماء ان کے درس میں شریک ہوئے اور اجازہ روایت حاصل کیا. ان کے مشائخ میں حاکم نیشاپوری جیسی شخصیت کا نام دیکھنے کو ملتا ہے.
ان کے علمی آثار کا ذکر یوں کیا گیا ہے.
۱۔ فضائل شھر رجب.
۲۔ خصائص علی بن ابی طالب فی القرآن.
۳۔ تصحیح خبر رد الشمس و ترغیم النواصب الشُّمُس۔
۴۔ شواھد التنزیل لقواعد التفضیل فی الآیات النازلۃ فی اھل البیت.
آخر الذکر کتاب ہی مؤلف کی وجہ شہرت ہے. اس کتاب میں مؤلف نے تفصیل کے ساتھ اہلبیت پیغمبر ص بالخصوص امیرالمومنین علی ع کے فضائل بیان کیے ہیں. کتاب کا نام رکھنے سے مؤلف کے اس اعتقاد کے بارے میں علم ہوتا ہے کہ وہ امام علی ع اور ائمہ معصومین ع کو بعد رسول بقیہ افراد سے افضل جانتے تھے.
کتاب لکھنے کی علت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: فرقہ کرامیہ کا ایک شخص اہلبیت کی شان میں سورہ ہل آتی کے نزول کا منکر ہو گیا بلکہ اس نے دعوی کیا کہ قرآن میں اہلبیت کی شان میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی. اس زمانے کے کسی عالم نے اس ہرزہ گوئی کی جانب توجہ نہیں کی تو مؤلف نے اس اعتراض کا جواب دینے کے لیے کمر کسی اور میدان تحقیق میں اتر آئے. اور یوں کتاب شواہد التنزیل وجود میں آ گئی.
البتہ مؤلف کتاب کے آخر میں اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں: میں نے چونکہ عجلت میں یہ کتاب مرتب کی ہے لہذا علی ع کی شان میں نازل ہونے والی تمام آیات کے شان نزول کی جمع آوری نہیں کر سکا. اس کتاب کی جمع آوری میں میں نے انہی کتب پر اکتفاء کیا جو دسترس میں تھیں اور جو ہاتھ میں نہ تھیں ان سے چشم پوشی کی ہے.
مؤلف نے کتاب سات فصول میں تقسیم کی ہے جن کی تفصیل کچھ یوں ہے:
1. امام علی ع کے خصائص کے حوالے سے علماء کے اقوال.
2. امام کا قرآن کی تلاوت و حفظ میں سابقہ.
3. رحلت رسالت مآب ص کے بعد سب سے پہلے علی ع قرآن کی جمع آوری کرنے والے فرد.
4. امام علی ع کا قرآن کے معانی و حقائق کا علم رکھنا اور ان کی ذات میں علم نزول قرآن کا منحصر ہونا.
5. امام علی ع اور انکی اولاد کے فضائل سے متعلق اسباب نزول آیات کی کثرت.
6. اس امر کا بیان کہ قرآن میں "یا ایھا الذین آمنوا" نوے آیات میں آیا ہے اور اس سے مراد علی ع ہیں.
7. یہ فصل اس کتاب کی اصل بحث یعنی اہلبیت ع بالخصوص امام علی ع کی شان میں نازل ہونے والی آیات کی جمع آوری پر مشتمل ہے. مؤلف ہر سورے کے اعتبار سے پہلے وہ آیات لاتے ہیں جو اہلبیت ع سے متعلق ہیں اور اس کے بعد ہر آیت کے ذیل میں روایات نقل کرتے ہیں جو عامہ و خاصہ کے طریق سے امام باقر ع، امام صادق ع، عبد اللہ ابن عباس، مجاہد، سعید بن جبیر، ضحاک، عکرمہ، جابر ابن عبد اللہ انصاری، عبد اللہ ابن مسعود، سلمان فارسی، سفیان ثوری، حذیفہ یمانی، مقاتل بن سلیمان، سلیم بن قیس، ابو سعید خدری وغیرہ سے منقول ہیں.
کتاب میں فضائل اہلبیت ع کے باب میں کل 210 آیات کے ضمن میں 1200 سے زائد احادیث نقل کی گئی ہیں جنہیں مؤلف نے اپنے مشائخ سے نقل کیا ہے.

*گھر 🏠 بیٹھے یہ کتاب رعائتی قیمت -/3500 روپے میں حاصل کریں🚚📦*

*رابطہ📞*
علی آن لائن بکس سٹور
03134673943 کال یا واٹس ایپ

کلیاتِ تحقیقات صَابر ملتانی ؒ (دو جلد)از قلم: حضرت دوست محمد صابر ملتانی ؒاس مجموعے میں صابر ملتانیؒ کی کل 21 کتابیں شائ...
22/06/2024

کلیاتِ تحقیقات صَابر ملتانی ؒ (دو جلد)
از قلم: حضرت دوست محمد صابر ملتانی ؒ
اس مجموعے میں صابر ملتانیؒ کی کل 21 کتابیں شائع کی گئی ہیں۔

حکیم انقلاب دوست محمد صابر ملتانی کی شخصیت کسی تعریف و تعارف کی محتاج نہیں۔ آج سے تقریباً نصف صدی پیشتر آپ نے جو بیج "طب مفرد اعضا" کی شکل میں بویا تھا وہ اب ایک تن آور درخت کی شکل میں ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ اس کے ثمرات صرف ہمارے خطے تک ہی نہیں بلکہ اس ربع مسکون کے کونے کونے تک پہنچے ہیں اور پہنچ رہے ہیں۔
طب مفرد اعضا کے تحت پریکٹس کرنے والے حکماء میں سے چند ایک ہی ایسے ہوں گے جن کے پاس ہر وقت صابر صاحب کی تمام کتب موجود ہوں ، کبھی کوئی مانگ کر لے گیا ، کبھی کہیں گم گئی، کبھی کوئی وجہ ، کبھی کوئی وجہ۔ سو ادارہ نے صابر صاحب کی تمام تالیفات کو "کلیاتِ تحقیقات صابر ملتانیؒ" کے نام سے ایک مجموعے کی شکل دے دی ہے تا کہ یہ مجموعہ طب مفرد اعضا کے ہر حکیم کے پاس ہر وقت موجود رہے ، اور انہیں مختلف کتابوں کو سھنبالنے کے جھنجھٹ میں نہ پڑنا پڑے۔

چودھویں صدی کے بعد علمی و تحقیقی جمود کو توڑنے والی عظیم شخصیت حضرت دوست محمد صابر ملتانیؒ کی ہے جنہوں نے نہ صرف تجدید فن طب میں ایک نیا نظام ایجاد کیا بلکہ انسان سے متعلقہ اور وابستہ تمام امور جو نظام کائنات سے ذرہ زمان تک اور زرہ مکان سے نظام آفاق تک کے حقائق کو انتہائی آسان انداز میں دریافت کرتے ہیں۔ علم وحکمت و فنِ طب صدیوں سے اپنی تجدید و ارتقاء اور کمال کے لیئے کسی مسیحا وقت کا شدت سے منتظر تھا۔ یورپ اور روس میں طب قدیم پر مظالم علمی و عملی طور جا بجا تھے جس کی وجہ سے طب قدیم اپنی بربادی اور تباہی پر نوحہ کناں تھی۔ چودھویں صدی کے بعد عالم عرب سے لے کر برصغیر تک اور یورپ سے روس اور برطانوی راج تک جو علمی تحقیقات ہمیں ملتی ہیں ان میں یہ واضع ہے کہ ان ضمیر فروش تاجروں اور تنگ نظر سائنسدانوں نے علم طب کے مبادیات اور قوانین و کلیات کو اپنے حرص و ہوس کی بھینٹ چڑھا دیا تھا۔ حکماء و اطباء اسلاف کی صدیوں کی محنت شاقہ سے کی جانے والی تحقیقات اور فطری مسلمہ حقائق کو مٹی میں رولا جا رہا تھا۔ جب اطباء و حکماء فرنگی طب سے مرعوب ہوتے جا رہے تھے اور فن طب کے نظریات اور تحقیقات کی رنگی طب کے مطابق کرنے کے درپے تھے اور ایسا کرنے کو وہ فرنگی حصار میں بندھے حکماء و اطباء تجدید طب و احیائے فن کا نام دے رہے تھے اور ان کی یہ خود غرضی فن طب کو انتہائی نقصان پہنچا رہی تھی یوں کہیے کہ جب فن طب کا بس جنازہ اٹھنے والا تھا تو ان حالات میں فن طب میں تجدید و احیائے فن وقت کی اہم ضرورت بن چکی تھی۔ اس وقت اللہ نے حضرت دوست محمد صابر ملتانیؒ جیسے مرد جلیل کو فن طب اور احیائے علم کا مسیحا بنا کر پیدا کیا۔ جو حکیم انقلابؒ کے لقب سے مشہور و معروف تھے۔ قادر مطلب نے فن طب پر تجدید اور اس کے احیائے کے لیے حکیم انقلابؒ کو کمال و عروج فن عطا کیا۔ جس پر حکیم انقلابؒ نے علوم و فنون و حکمت کی تجدید اور احیاء کی بنیاد قوانین فطرت کے عین مطابق رکھی اور حکیم انقلابؒ نے اس اصول کو ایک قانون کی صورت میں طبی دنیا میں پیش کیا۔

یہ نظریہ قانون فطرت کا ایک ایسا اصول ہے جو مادہ (Matter) اور جوہر (Essence) سے اخذ کیا گیا ہے۔ یعنی مادہ دراصل جوہر سے پیدا ہوتا ہے۔ اور اس طرح جوہر اور مادہ اپنے افعال و اثرات کی حیثیت میں ایک ہی خواص و فوائد رکھتے ہیں۔ جیسے جوہر سے مادہ اور پھر مادہ کی مختلف صورتیں و کیفیات اور ان صورتوں و کیفیات سے ارکان کا وجود پھر ارکان سے اخلاط، پھر اخلاط سے اجسام کثیفہ و لطیفہ کی ترتیب اور پھر مفرد اعضاء کا بننا بنیادی حقیقت ہے۔ یعنی جب جوہر کوئی جسم اختیار کر لیتا ہے تو مادہ بن جاتا ہے اور جب مادہ کی تحصیص ہوتی ہے تو وہ ارکان بن جاتا ہے۔ جب ارکان محلول ہوتے ہیں تو اخلاط پیدا ہوتے ہیں اور جب اخلاط مجسم ہوتے ہیں تو مفرد اعضاء بن جاتے ہیں۔ انہیں مفرد اعضاء پر حکیمِ انقلابؒ نے علم و فن طب کی بنیاد رکھی۔ ان میں خاص ترتیب، توازن، فعل و افعال اور منظم ہم آہنگی اعتدال کی صورت ہو تو حالات جسم صحت کی حالت میں اور درست کام کرتے ہیں اور جب اعتدال نہ رہے تو مرض کی پیدائش ہوتی ہے۔ یہی قانون مفرد اعضاء (Simple Organopathy) تجدید طب و احیائے فن کا دورِ رواں ہے اور جدید طبی دنیا کے لئے ایک چیلنج بھی ہے۔

قانون مفرد اعضاء ایک فطری سائنسی ہے جو جدید میڈیکل سائنس سے کئی سو سال آگے ہے اور اس کے جوازات اور دلائل بھی دیتی ہے۔ حضرت دوست محمد صابر ملتانیؒ نے جو تحقیقات چالیس سال کی عرق ریزی سے کی اور انتہائی ایمانداری سے عوام الناس کے سامنے پیش کیں اسکی مثال ہمیں ایسے خطے میں کم ہی ملتی ہے۔ کلیاتِ تحقیقات صابر ملتانیؒ دن رات کی اسی انتھک محنت اور خون جگر سے لکھے گئے نظریات و تحقیقات کا ہی ذخیرہ ہے۔
اس مجموعہ میں حضرت دوست محمد صابر ملتانیؒ کی سوانح حیات سمیت کل 21 تصنیفات شامل ہیں۔

1۔ سوانح حیات حکیم دوست محمد صابر ملتانیؒ
2۔ مبادیاتِ طب
3۔ فرنگی طب غیر علمی اور غلط ہے
4۔ تحقیقاتِ سزاش و اورام
5۔ تحقیقات تین انسانی زہر
6۔ تحقیقات امراض و علامات
7۔ تحقیقات علاج بالغذا
8۔ تحقیقات علم الادویہ
9۔ تحقیقات خواص المفردات
10۔ تحقیقات فارماکوپیا
11۔ تحقیقات المجربات
12۔ تحقیقات و علاج جنسی امراض
13۔ تحقیقات اعادہ شباب
14۔ تحقیقات کیا بڑھاپا قابلِ علاج ہے؟
15۔ تحقیقات ملیریا کوئی بخار نہیں
16۔ تحقیقات نزلہ و زکام
17۔ تحقیقات نزلہ و زکام (وبائی)
18۔ تحقیقات حمیات (بخار)
19۔ تحقیقات تپ دق و سل
20۔ تحقیقات تپ دق و خوراک
21۔ اسلام اور جنسیات

یہ کتاب بڑے سائز میں اعلیٰ کاغذ (سینچری پیپر) پر شائع کی گئی ہے۔
دو جلدوں پر مشتمل کتاب کے کل 1894 صفحات ہیں۔
دونوں جلدوں کی کی رعائیتی قیمت 5000 روپے ہیں۔ جبکہ ڈلیوری فری ہے۔

یہ کتاب گھر بیٹھے حاصل کرنے کے لیے ابھی اپنا نام ، مکمل پتہ اور فون نمبر ہمیں ہمارے وٹس ایپ نمبر 03134673943پر ارسال فرمائیں۔

Call or what's app 03134673943
22/06/2024

Call or what's app 03134673943

Call or what's app03134673943
22/06/2024

Call or what's app03134673943

Call or what's app +923134673943
13/06/2024

Call or what's app
+923134673943

Address

Lahore
54000

Telephone

+923134673943

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ali Online book shop posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category