14/06/2025
عیدِ غدیر مبارک
ولایت کا دن، امامت کا دن، اکمالِ دین کا دن
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاته
تمام مومنین و مومنات کو دل کی گہرائیوں سے عیدِ غدیر کی مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔
یہ دن فقط ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ وہ لمحہ ہے جہاں اسلام اپنے مکمل ہونے کے اعلان تک پہنچا۔ یہ قیادت کی امانت امت کے سپرد کرنے کا دن ہے، اور حق و باطل کے درمیان فرق کو واضح کرنے کا دن ہے۔
یہ وہ دن ہے جب نبی کریم نے غدیر خم کے میدان میں فرمایا:
"من کنت مولاه، فهذا علی مولاه"
"جس کا میں مولیٰ ہوں، اس کا علی بھی مولیٰ ہے۔"
عیدِ غدیر کیوں منائی جاتی ہے؟
اسی دن اللہ تعالیٰ نے دین کو مکمل فرمایا۔
اسی دن نبی نے لاکھوں حاجیوں کے مجمع میں حضرت علی کو اپنا جانشین، رہنما اور امام مقرر فرمایا۔
اسی دن اعلانِ ولایتِ علی کیا گیا جو اللہ کے حکم سے تھا۔
واقعہ غدیر خم کی تفصیل:
تاریخ: 18 ذوالحجہ، 10 ہجری
مقام: غدیر خم (مکہ اور مدینہ کے درمیان)
حاضرین: ایک لاکھ سے زائد حاجی
موقع: حجۃ الوداع سے واپسی پر
قرآنی اعلان: سورۃ المائدہ، آیت 67
"اے رسول! پہنچا دو وہ پیغام جو تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوا، اگر تم نے نہ پہنچایا تو گویا تم نے رسالت کا کوئی کام نہیں کیا۔"
اس آیت کے نزول کے بعد نبی نے قافلہ روکا، منبر تیار کروایا اور سب کو جمع کیا۔ پھر حضرت علی کا ہاتھ بلند فرمایا اور اعلان کیا:
"من کنت مولاه، فهذا علی مولاه"
(جس کا میں مولیٰ ہوں، اس کا علی بھی مولیٰ ہے)
پھر فرمایا:
"اللهم وال من والاه، وعاد من عاداه، وانصر من نصره، واخذل من خذله"
(اے اللہ! جو علی کو دوست رکھے، تو اس کا دوست ہو جا، جو اس سے دشمنی کرے، تو اس کا دشمن ہو جا، جو اس کی مدد کرے، تو اس کی مدد فرما، اور جو اسے چھوڑ دے، تو اسے ذلیل کر دے)
ردِ عملِ صحابہ:
حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا:
"بخٍ بخٍ لک یا علی! أصبحت مولاي و مولى كل مؤمن و مؤمنة"
(مبارک ہو اے علی! آپ میرے اور ہر مؤمن و مؤمنہ کے مولا بن گئے)
دین کی تکمیل:
اسی وقت نازل ہوئی سورہ مائدہ کی آیت:
"اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا"
(آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی)
یہ واضح کرتا ہے کہ اگر "مولیٰ" کا مطلب صرف "دوست" ہوتا، تو دین مکمل نہ کہلاتا۔
مولیٰ کا حقیقی مطلب:
مولیٰ کا مطلب :
سرپرست
محافظ
حاکم
ولی (اختیار رکھنے والا)
قیادت کا حامل
نبی نے مولیٰ کا مفہوم اسی معنی میں استعمال فرمایا — قیادت، روحانی ولایت، اور دین کے وارث کے طور پر۔
حدیثِ غدیر اہل سنت کی کتب میں:
صحیح ترمذی
مسند احمد
مستدرک حاکم
سنن نسائی (خصائص علی)
کنز العمال
تاریخ طبری
ابن عساکر
بیہقی
یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ محض کسی ایک مکتب کی بات نہیں، بلکہ پوری امتِ محمدیہ کی متفق علیہ حقیقت ہے۔
عیدِ غدیر کی اہمیت:
دین اسلام کی تکمیل کا دن
امامت و ولایتِ علی کا اعلان
محبت، وفاداری، اور بیعتِ حقیقی کا دن
اہل ایمان کے درمیان تجدیدِ وفا کا دن
تو اس عیدِ غدیر پر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ولایتِ علی جیسی نعمت عطا کی
خطبہ غدیر کا مطالعہ کریں
اپنی زندگی کو علی کی سیرت پر استوار کرنے کا عہد کریں
اہلِ بیت سے اپنی وفاداری کا اظہار کریں
دوسروں کو اس دن کی حقیقت سے آگاہ کریں
مستحقین اور یتیموں کو ہدیہ و صدقہ دیں
دعوت کا اہتمام کریں جیسا کہ حدیث میں آیا
یہ عید فقط خوشی کا دن نہیں بلکہ امانت کا دن ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہدایت، صرف اس ہاتھ سے وابستہ ہے جو غدیر میں بلند ہوا تھا۔
لہٰذا اس عید پر ہم سب یہ عہد کریں:
ہم زندگی کے ہر قدم پر علی کی سیرت پر عمل کریں گے
اور دنیا کو بتائیں گے کہ "من کنت مولاه، فهذا علی مولاه" ہمارا ایمان ہے، ہماری زندگی کا راستہ ہے
التماسِ دعا: ✍️ نقوی برادرز
Send a message to learn more