Sagar Publishers

Sagar Publishers Sagar Publishers is a renowned publishing house of Pakistan.

We have published the books of Suhail Warraich(Famous Journalist), Saleem Safi (Journalist), SM Zafar (Famous Lawyer), Javed Hashmi, Tariq Ismail Sagar, Umera Ahmed and Nighat Abdullah

نواز شریف کی سیاست پانامہ کے بعد (مصنف عمار مسعود)سے اقتباسجمہوریت کے لیے جرنیل چاہیےالٹی گنگا کیسے بہتی ہے اس کی بہترین...
04/06/2026

نواز شریف کی سیاست پانامہ کے بعد (مصنف عمار مسعود)سے اقتباس
جمہوریت کے لیے جرنیل چاہیے
الٹی گنگا کیسے بہتی ہے اس کی بہترین مثال ہمارے ملک کی تاریخ ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہم ابھی تک جمہوریت اور آمریت کے تقابل میں لگے ہوئے ہیں۔ یہاں کسی کو ڈکٹیٹر شپ میں ہی سب خوبیاں نظر آتی ہیں ،کسی کو صرف جمہوریت کے ہی ثمرات دکھائ دیتے ہیں ؛لوگ اپنے اپنے نظریات کی مچانوں پر شست باندھے بیٹھے ہیں نہ مخالف کی بات کو تسلیم کرنے کی روایت ہے، نہ اس معاشرے میں اختلاف کی کوئی گنجائش ہے۔ انتہا پسندی کا یہ عالم ہےکہ ہمیں سیاہ اور سفید کے سوا اور کوئی رنگ جچتا ہی نہیں، دوست اور دشمن کے سوا کو ئی رشتہ بچا ہی نہیں، شدت ہماری سرشت ہو گئی ہے، سوچ سمجھ کر مکالمہ کرنے کی روایت دم توڑ چکی ہے لیکن اس صورت ِحال کا یہ مطلب نہیں کہ بات ہی نہ کی جائے، خاموشی بھی جرم کہلاتی ہے، قوموں کو صدیوں رلاتی ہے۔

’’جرنیلوں کی سیاست‘‘ میں فوج اور جرنیلوں کے بارے میں چند بنیادی سوالات جاننے کی کوشش کی گئی ہے جن میں ’’فوج کیوں آتی ہے...
01/06/2026

’’جرنیلوں کی سیاست‘‘ میں فوج اور جرنیلوں کے بارے میں چند بنیادی سوالات جاننے کی کوشش کی گئی ہے جن میں ’’فوج کیوں آتی ہے‘‘ جرنیلوں کی سوچ کیا ہے، فوج کا فلسفہ حیات کیا ہے، فوجی جرنیلوں کی سیاستدانوں کے بارے میں کیا سوچ ہے، مارشل لا کیوں لگتے ہیں، جرنیلوں کے انٹرویوز پر مبنی اس مجموعے میں بہت سے سوالات کے جواب مل سکتے ہیں۔

ایس ایم ظفر کی آٰپ بیتی جب تاریخ دہراتی ہے  سے اقتباس ایک بار میں میاں محمد ممتاز دولتانہ کے گھر ان کی لائبریری میں بیٹ...
01/06/2026

ایس ایم ظفر کی آٰپ بیتی جب تاریخ دہراتی ہے سے اقتباس
ایک بار میں میاں محمد ممتاز دولتانہ کے گھر ان کی لائبریری میں بیٹھا عائشہ جلال کی کتاب Jinnah The Sole Spoken Man جو انہی دنوں مارکیٹ میں آئی تھی پر ان کی رائے معلوم کررہا تھا تو ہماری گفتگو مسلم لیگ کی بعدازاں آزادی کی تاریخ پر چل نکلی۔ دوران گفتگو میاں ممتاز دولتانہ نے بڑی سنجیدگی سے یہ رائے دی تھی کہ یہ مناسب ہو تا کہ ہم شروعات میں بذریعہ قانون یہ پابندی عائد کر دیتے کہ کوئی جماعت مسلم لیگ کا نام استعمال نہیں کرے گی۔ اس نام کو قومی ورثہ کے طور پر سیاست سے دور رکھا جاتا۔
جب میں نے اس انوکھی اور Extreme رائے کی وجہ دریافت کی تو انھوں نے کہا مسلم لیگ کی سرشت میں تقسیم کے جراثیم اس لیے موجود رہیں گے کہ یہ نام ایک سیاسی برانڈ ہے جو عوام میں قابل فروخت ہے۔u
اکثر طالع آزما اس نام سے اپنا سودا سیاست کے بازار میں بیچنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے۔
جب میاں ممتاز دولتانہ جو ایک نہایت ذہین سیاست دان تھے اور جن کا تاریخ کا مطالعہ بھی بڑا گہرا تھا اوراگر ان کے مشورے اور دلائل کو آل پاکستان مسلم لیگ کی تاریخ کی روشنی میں جانچا جائے تو ان میں خاصا وزن دکھائی دے گا۔ بہر حال اس بحث کو یہیں چھوڑتے ہیں اور میاں محمد نوازشریف کے مکہ مکرمہ ہجرت کر جانے کے بعد دو مسلم لیگوں کی سیاست پر گفتگو کرتے ہیں۔
جب میاں محمد نواز شریف جن کی حکومت کا تختہ جنرل پرویز مشرف نے الٹایا تھا اور جنہیں6 اپریل 2000ءکو خصوصی عدالت کے جج رحمت جعفری نے ہائی جیکیگ کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید اور پانچ لاکھ روپیہ جرمانے کی سزا سنائی تھی جو کچھ عرصے بعد میاں نواز شریف 10 دسمبر2002ء کو مکہ مکرمہ روانہ ہو گئے اُن کے جانے کے فوراً بعد ہی مسلم لیگ کے قائدین میں اختلافات شروع ہو گئے اور دو مسلم لیگوں کی سیاست پر گفتگو کا آغاز ہوا۔
اے آر ڈی کے رہنمائوں نے اسے بیوفائی قرار دیِا ۔ پاکستان مسلم لیگ ’ہم خیالوں نے‘ پارٹی کو بے سہارا چھوڑنے کا الزام لگایا۔ کالم نویسوں اور اخباری رپورٹروں کہ بحث کے لئے ایک نیا موضوع مل گیا اور بھانت بھانت کے اندازے اور چتخارے لوگوں کی گفتگو کا حصہ بنے رہے۔ اور یوں اُن قوتوں کو جنہیں مسلم لیگ کی تقسیم سے سیاسی آسودگی مل سکتی تھی ایک سنہری موقع مل گیا کہ وہ اختلاف کو دوری میں تبدیل کر سکیں۔

جماعت اسلامی ایک المناک داستان سے اقتباس مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی اس المناک داستان کے مرکزی کردار تھے۔انہوں نے جس و...
01/06/2026

جماعت اسلامی ایک المناک داستان سے اقتباس
مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی اس المناک داستان کے مرکزی کردار تھے۔انہوں نے جس وقت اور جس انداز میںاپنے ہم خیال لوگوں کو جماعت اسلامی کی تشکیل کی دعوت دی اس وقت متعدد مفکرین امّتِ مسلمہ کو تجدید و احیائے دین کی طرف مائل کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ راہیں سب کی جدا جدا تھیں۔کوئی شریعت کو جدید زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اجتہاد کی شرائط میںنرمی کا خواہاں تھا۔کسی کوہٹلر اور مسولینی کی طرح عسکری طریق کار پُر کشش نظر آتا تھا۔ کوئی بلاد اسلامیہ پر مغربی تہذیب کی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے مغرب ہی کے اصولوں پر مسلم قوم پرستی کی جمہوری تحریکیں منظم کرنے کا قائل تھا۔ لیکن سیّد مودودی کو یقین تھا کہ امّت کی معاشرتی اصلاح کو احیائے دین کی جدوجہد کا نقطۂ آغاز بنائے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔ ان کے نظریات، اس لحاظ سے، مصر کے شیخ حسن البنّاء اور سیّد قطب شہید کے انداز فکر سے زیادہ مماثل تھے۔ چنانچہ انہوں نے جماعت اسلامی کی بنیاد رکھتے وقت مسلمانوں کی نئی نسل کی تربیت کے پروگرام کواوّلین ترجیح دی۔ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد اس پروگرام پر عمل در آمد آسان تر ہو گیا تھا۔ تعلیم و تدریس کے ماہرین کوالگ بٹھایاگیاکہ ابتدائی سے اعلیٰ درجوں تک نئے نظام تعلیم کامنصوبہ تیار کریں۔ مگر اسی دوران مولانا مودودی کے قریب رہنے والے بعض ارکان کو سیاسی انتشارسے فائدہ اٹھانے کے خواب نظر آنے لگے۔ نت نئے دلائل کے ذریعے مولانا کو بھی قائل کرلیا کہ ایک بار زمام اقتدر ہاتھ میں آجائے تو پورا نظام تعلیم آسانی سے بدل ڈالیں گے۔ اس مہم میں جماعت کے ملازمین پیش پیش تھے۔ اور مولانا مودودی اپنی چند فطری کمزوریوں کے باعث مؤثر مزاحمت نہ کرسکے، حتیٰ کہ جماعت کی پالیسی کے معاملات پر نہ مجلس شوریٰ کا کنٹرول رہا، نہ امیر جماعت کا۔ مولانا مودودی اس کے سوا کچھ نہ کر سکتے تھے کہ موقع بموقع سیکولر تعلیم کے ذریعے معاشرے کے روز افزوں بگاڑ کا تذکرہ کرتے کہ شایدجماعت اپنے اساسی ایجنڈے کی طرف لوٹ آئے۔ لیکن اس دوران جماعت کے دوسری صف کے تمام رہنما مایوس ہو کر الگ ہو گئے۔ مولانا مودودی افسر شاہی کے ہاتھوں میںموم بن کر رہ گئے۔ آخر جماعت کو اسی افسر شاہی کے رحم وکرم پر چھوڑکر گوشۂ عافیت میں جا بیٹھے۔ یہ تھا مولانا مودودی کا المیہ!
جماعت اسلامی ایک المناک داستان
مصنف عرفان غازی

نسخہ ہائے مزاح سے اقتباسرن مرید کی 28 نشانیاں1 ۔ رن مرید کے پاس اگر 20  روپے ہوں تواس کی جرات نہیں کہ سارے پیسوں کے سگری...
01/06/2026

نسخہ ہائے مزاح سے اقتباس
رن مرید کی 28 نشانیاں
1 ۔ رن مرید کے پاس اگر 20 روپے ہوں تواس کی جرات نہیں کہ سارے پیسوں کے سگریٹ خرید لے لہذا وہ 10 روپے کے سگریٹ اور 10 روپے کی باریک کنگھی خریدے گا۔
2۔ رن مرید جہاں بھی بیٹھا ہوگا ، بیوی کے آنے پر مزید بیٹھ جائے گا۔
3۔پوری تنخواہ بیوی کے ہاتھ میں رکھے گا اور پھر روزانہ اُس سے جیب خرچ لے کے آفس جائے گا۔
4۔ شیونگ کریم خریدنے سے پہلے بھی بیوی سے مشورہ کرے گا۔
5۔ بیوی کی آنکھوں میں پیاز کے آنسو بھی دیکھ کر بھی غش کھا جائے گا۔
6۔ شاپنگ کے دوران بیوی کی فرمائش پر بار بار دہی بڑوں میں میٹھی چٹنی ڈلوانے ریڑھی والے کے پاس جائے گا۔
7۔ سارے نیوز چینل چھوڑ کے پورے انہماک سے ’’میرا سلطان ‘‘دیکھے گا۔
8۔ آدھی رات کو سوتے ہوئے اچانک چیخ مار کر اٹھے گا اور بیوی سے کہے گا…’’ فرخندہ تم مر گئی تو میرا کیا ہوگا؟‘‘
9۔ ماں کے لیے کھانسی کا سیرپ لانے سے پہلے احتیاطاً بیوی سے اجازت لے گا۔
10۔ بیوی کی خواہش پر سوتے ہوئے بھی سسرال کی دی ہوئی گھڑی پہنے گا۔
11۔ بیوی کو خوش کرنے کے لئے رات کو اونٹ کی آوازیں نکالے گا۔
12۔ اکثر اتوار کے روز ’’نائٹی‘‘ پہن کے سویا ہوگا۔
13۔ روزانہ گھر آکر بیوی کو بتایا کرے گا کہ آج دفتر میں کس کس غیر عورت نے اس سے بات کرنے کی گھٹیاکوشش کی۔
14۔بیوی اگر کہے گی کہ میرے پائوں میں جلن ہو رہی ہے تو دفتر سے چھٹی لے کر اُس کے تلوئوں پر کدو کی مالش کرے گا۔
15۔بیوی کو بخار ہونے کی صورت میں اُس کی جسمانی و ذہنی خوشی کی خاطر اپنے گھر والوں کو گالیاں دے گا۔
16۔سسرال کی طرف سے آئی ہوئی موٹی دھاریوںوالی پینٹ ہر شادی بیاہ پر پہنے گا۔
17۔ بیوی اگر بد مزہ کھانے بنائے گی تو شرمندہ ہو کر کہے گا …’’سوری فرخندہ! یہ قصور میرا ہے جو میں جلدی میں خراب ٹینڈے لے آیا۔‘‘
18۔ بیوی کا وزن 300 من بھی ہو تو اِسے اُٹھتے بیٹھتے’’ میری عالیہ بھٹ … میری عالیہ بھٹ ‘‘کہے گا۔
19 ۔ بیوی دو گھنٹے کے لئے بھی میکے جائے گی تو باتھ روم میں موبائل پر’’اکرم راہی‘‘ کے گانے سنے گا۔
20۔ ہر طرح کا خدمت گذار ہونے کے باوجود بیوی کو ہر دو تین دن بعد با ور کرائے گا کہ’’ فرخندہ میں نے تمہیں بہت دکھ دئیے ہیں۔‘‘
21۔ اِس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوگی کہ ِاس کا دم اِس کی بیوی کے ہاتھوںمیں نکلے۔
22 ۔ اس کی بیوی کو کان میں بھی درد ہو گاتو یہ ڈاکٹر کے آگے روتا ہوا کہے گا۔۔۔۔’’ ڈاکٹر میری فرخندہ بچ تو جائے گی ناں؟‘‘
23 ۔ واش روم میں جانے سے پہلے بھی بیوی کوتسلی دے کر جائے گا کہ… ’’فرخندہ!پریشان نہ ہونا میں جلد لوٹ آئوں گا۔‘‘
24۔ سالیوں کے جہیز کے لئے تن ، من، دھن کی بازی لگا دے گا۔
25۔ بیوی سے ضد کر کے اِس کے کپڑے خود استری کیا کرے گا۔
26۔ساس کے آنے کی اطلاع پاتے ہی اپنی ماں سے کہے گا ۔۔۔۔۔ ’’تسی ہن جائو۔‘‘
27۔بیوی کے سر میں سرسوں کے تیل کی مالش کرتے ہوئے کہے گا…’’اللہ تمہیں میری عمر بھی لگائے‘‘۔
28 ۔دوپٹے رنگنے اور پیکو کرنے والوں سے اِس کی گہری دوستی ہوگی۔
نسخہ ہائے مزاح
مصنف گل نو خیز اختر

پنجاب اندھیرے میں سے اقتباس  چھ براعظموں پر مشتمل دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی ایمپائر جس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا کے م...
01/06/2026

پنجاب اندھیرے میں سے اقتباس
چھ براعظموں پر مشتمل دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی ایمپائر جس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا کے مالک انگریز حملہ آوروں نے باقی سارا برصغیر بمعہ مغل سلطنت اور چھ سو کے لگ بھگ چھوٹی بڑی ریاستوں کو زیرنگیں کرنے میں جتنا عرصہ اور طاقت صرف کی اس سے کہیں زیادہ عرصہ اور طاقت انہیں مقابلتاًبہت ہی چھوٹے سے پنجاب کو فتح کرنے پر صرف کرنا پڑی۔ انگریزوں کو پہلے تو ستلج دریا کے مشرق میں پچاس سال تک انتظار کرنا پڑا کہ کب موقع ملے اور وہ پنجاب پر قبضہ کر لیں۔ پھر جب پنجاب پر حملہ آور ہوئے تو انہیں کم از کم تیرہ شدید لڑائیاں لڑنی پڑیں تب جا کر کہیں وہ پنجاب پر قبضہ کر سکے۔جبکہ ان کے مقابلے میں اگر دیگر مسلمان اکثریتی صوبوں کو دیکھا جائے تو بنگال، سندھ اور بلوچستان کم و بیش ایک ایک ہی لڑائی کے بعد پکے ہوئے پھل کی طرح انگریزوں کی جھولی میں آ گرے۔بنگال 1757 ءکی جنگ پلاسی کے بعد انگریزوں کا برصغیر میں بیس کیمپ بن گیا۔ 1839 ءمیں قلات بلوچستان کو انگریزوں نے محض 1050 سپاہیوں کے ساتھ فتح کر لیا۔ اس جنگ میں انگریزوں نے قلات کے 400 بلوچ فوجی قتل کر دئیے اور اپنے سے دگنی تعداد یعنی 2000 بلوچ فوجیوں کو قیدی بھی بنا لیا۔ سندھ میں انگریزوں نے 1843 ءمیں جرنل چارلس نیپئر کی قیادت میں صرف 2800 فوجیوں کے ساتھ تالپور بلوچوں کی تیس ہزار جوانوں پر مشتمل مضبوط فوج کو میانی کے مقام پر شکست دے دی اور مسلمان اکثریت کے اس علاقے کو اپنی ہندوستانی ایمپائر کی بمبئی پریذیڈینسی میں شامل کر لیا۔اس جنگ میں دو ہزار تالپور بلوچ فوجی مارے گئے۔
پورے بر صغیر میںپنجاب سب سے آخر میں 1849 ءمیں فتح ہوا۔اس سے پہلے انگریز باقی پورے برصغیر کو فتح کر چکے تھے۔انگریزوں کی برٹش انڈین ایمپائر کھڑی کرنے میں کہیں پر بھی پنجابیوں کا کوئی کردار نہیں تھا۔یہ بنگال آرمی اور پھر انگریزوں کی فوج میں شامل پوربی اور جنوبی ہندوستان کے کرائے کے فوجی تھے جنہوں نے سلطنتِ میسور کو شکست دینے، ساڑھے پانچ سو سے زیادہ مقامی ہندوستانی ریاستوں کو زیرِ نگیں کرنے، مرہٹوں اور مہاراجہ سورج مل کی ہندو جاٹ ریاست کو انگریزوں کی اطاعت پر مجبور کرنے، مغل شہنشاہ کو ان کے وظیفہ خوار بننے اور سب سے آخر میں پنجاب کی بہادر افواج کو تہ تیغ کرنے اور پھر 1857ءکی جنگِ آزادی کچلنے میں ان کی مدد کی۔اگر کوئی واحد حصّہ پنجاب کے ذمہ لگایا جا سکتا ہے تو وہ جنگ آزادی میں یہاں کے کچھ لوگوں کی طرف سے انگریزوں کی حمایت ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کچھ لوگوں کی طرف سے حمایت کی وجہ سے کسی پوری قوم یا خطے کو الزام نہیں دیا جا سکتا۔ دوسری یہ کہ پنجاب سے جن لوگوں نے اس جنگ میں انگریزوں کی حمایت کی تھی ان میں زیادہ تر ولائتی مسلمان تھے۔دیسی مسلمان تو احمد خان کھرل جیسے کرداروں کی شکل میں انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں مصروف تھے۔ اگر دیسی پنجابی مسلمانوں میں سے کسی نے انگریزوں کی مدد کی تو یہ انہی ولائتی مسلمان پیروں اور مشائخ کے مرید یا پیروکار تھے۔

22/05/2026
’’پنجاب کٹہرے میں‘‘ پر محترم اعتزاز احسن صاحب کا تبصرہاپنی تصنیف ’’پنجاب کٹہرے میں ‘‘ میں جناب امجد وڑائچ نے ایک گراں بہ...
22/05/2026

’’پنجاب کٹہرے میں‘‘ پر محترم اعتزاز احسن صاحب کا تبصرہ
اپنی تصنیف ’’پنجاب کٹہرے میں ‘‘ میں جناب امجد وڑائچ نے ایک گراں بہا کام کیا ہے اور بڑی صداقت اور دلیری کے ساتھ پنجاب کا مقد مہ لڑا ہے ۔ ازمنہ قدیم (Pre-History) سے لے کر عہد حاضر تک بیسیوں الزامات اور ابہام کے عنکبوتی جال صاف کر کے پنجاب کی خوبصورت دھرتی اور آبادی کے چہروں کو وہ شائن ( shine ) دوبارہ بخشی جو ان کا حصہ ہے ۔ پنجاب میں جہاں دلیر سپاہیوں نے جنم لیا ہے وہاں پنجاب کی نرم و گداز دھرتی نے شاہ حسین ، سلطان با ہو ، بابا بلھے شاہ ، وارث شاہ اور میاں محمد بخش جیسے صوفی شعراء کے کلام کو بھی پروان دی ہے جس سے پنجابیوں کے شعور میں ظلم کے رد میں آہنی ہتھیاروں کے علاوہ میٹھے بولوں میں چُنی ہوئی مزاحمت کا منفرد نمونہ پیش کیا ہے ۔
امجد وڑائچ کی یہ کتاب ہر پنجابی کے لئے تو مفید ہو گی لیکن اس موضوع پر ہر طالبعلم اور محقق کے لئے نا گزیر بھی ہے ۔ اس کے مطالعے سے ذہن بہت سے غیر حقیقی مفروضوں سے آزاد ہوں گے اور پنجابیوں کواپنے ہی بارے میں بہت سے غلط پروپیگنڈے سے نجات حاصل ہوگی ۔

21/05/2026
محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا سانحہ اپنے پیچھے بہت سے حل طلب معمے چھوڑ گیا ہے۔ عام طور پر افسانوں کا سہارا لے کر ان معمو...
21/05/2026

محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا سانحہ اپنے پیچھے بہت سے حل طلب معمے چھوڑ گیا ہے۔ عام طور پر افسانوں کا سہارا لے کر ان معموں کے کچے پکے حل ڈھونڈے جاتے ہیں، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ سچ کا کھوج لگایا جائے۔ اور پیچیدہ سوالات کے ممکنہ جوابات تلاش کیے جائیں۔ اس کتاب میں یہی کوشش کی گئی ہے کہ وہ اہم ترین اور متنازعہ سوالات جن کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کی جاتی ہیں ان کو زیر بحث لا کر مختلف کرداروں اور تحقیقی رپورٹس کے ذریعے ان کے درست جوابات تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔ ضروری نہیں کہ اٹھائے جانے والے سوالوں کا ہر جواب درست ہو، لیکن سچ کا کھوج لگانے کی طرف یہ ایک قدم ضرور ہے

Address

30 Alhamd Plaza Ghazni Street 40 Urdu Bazar
Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 18:00
Tuesday 09:00 - 18:00
Wednesday 09:00 - 18:00
Thursday 09:00 - 18:00
Friday 09:00 - 18:00
Saturday 09:00 - 18:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sagar Publishers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category