30/08/2026
"اُن کے مرنے کے موسم بھی نہ تھے‘‘
میری لکھنے کی میز تلے..
جب میں لکھتے لکھتے تھک گیا..
تو اپنی کُرسی پر کمر کو آرام دینےکی خاطر..
اُس کی پشت سے ٹیک لگالی..
تب میں نے دیکھا..
میری لکھنے کی میز تلے..
فرش پر ایک شہد کی مکھی تڑپ رہی تھی..
وہ اپنی مہین ٹانگوں پر کھڑے ہونے کی کوشش کرتی اور گرجاتی..
میں دیکھ سکتا تھا کہ وہ جان کنی کے عالم میں ہے..
پر اُس کی جان نہیں نکل رہی تھی.. اذیت میں پھڑپھڑاتی تھی..
اُس کی حالت دیکھی نہ جاتی تھی..
کیا میں اُسے اپنی چپل سے ُکچل دوں..
اُسے اس اذیّت سے نجات دلا دوں..
کیا کروں..
میں اُس کی مدد نہیں کرسکتا تھا..
جیسے میں جب جاں کنی کے عالم میں ہوں گا..
میری بھی کوئی مدد نہیں کرسکے گا..
کُچھ دیر بعد وہ ساکت ہوگئی، مرگئی..
شائد یہ اُس کے مرنے کے موسم تھے..
غزہ کے ہزاروں بچّے بھی..
اس شہد کی مکھی کی مانند، جاں کنی کے عالم میں..
کُل عالم کی آنکھوں کے سامنے.. پھڑپھڑاتے رہے..
اور کسی نے بھی اُن کی مدد نہ کی..
اور وہ مر گئے..
اور اُن کے تو مرنے کے موسم بھی نہ تھے..
(مستنصر حسین تارڑ)
مستنصر حسین تارڑ کا نیا ناولٹ
"غزہ کے شریر بچے"
دستیاب ہے۔
اعلیٰ کوالٹی کاغذ
بہترین جلد بندی
آرڈر کے ہے ابھی واٹس ایپ کریں
0345-7247689
https://wa.me/+923457247689
#اُردو #تنقید #اُردو #ناول #اردوناول #اردوناولز #اردو #مستنصر #اردوناو #اردوادب #اردوشاعری #اُردو #تارڑ #ادبی #اردوشاعری #اردوکتابیں 🙂🙂 hyder.5
اردو ناول urdu Novel's Reader's iram.73
@