14/02/2026
قاری کا اعتماد
کتاب سے محبت و تعلق رکھنے والے افراد عام طور پہ دیگر لوگ سے زیادہ حساس طبعیت و مزاج کے مالک ہوتے ہیں۔ سلیقہ، عادات و اطوار جیسے اوصاف بھی انہیں معاشرے کے دیگر افراد سے ممتاز بناتے ہیں۔
خیر ایک بک سیلر کی حیثیت سے ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ قاری کے اعتماد اور بھروسے کو کسی قسم کی ٹھیس نہ پہنچے۔ کیونکہ میں خود بھی ایک قاری اور کتابوں سے محبت رکھنے والا ہوں۔
چند روز پہلے ایک کسٹمر جس کے سکرین شاٹس شاملِ پوسٹ ہیں۔ کتاب کی خریداری کے لیے رابطہ کیا کتابوں کا بل 900 روپے بتایا لیکن ان سے غلطی 9 ہزار روپے سینڈ ہوگئے۔ میں نے خود انہیں فوری طور پہ اس چیز سے آگاہ کیا اور ساتھ ہی یہ بھی یقین دہانی کروائی کہ یہ رقم ان کی امانت ہے میرے پاس جو انہیں اسی طرح واپس کر دی جائے گی۔ چنانچہ اسی روز رات کے وقت ان کی بقیہ اضافی رقم 8100 روپے ان کے اکاؤنٹ میں واپس ارسال کر دی۔ میرے اس انداز سے یہ کسٹمر بہت خوش ہوئے اور خوب دعاؤں دیں۔
آج ہزاروں افراد آن لائن کتب کی خرید وفروخت کا کاروبار کر رہے ہیں۔ دراصل بک سیلر اور قاری کا یہ باہمی اعتماد ہی وہ چیز ہے جس کی بنیاد پہ یہ اتنا بڑا سسٹم چل رہا ہے۔ جہاں اس سے ہزاروں لاکھوں لوگوں کا روزگار بلواسطہ یا بلا واسطہ وابستہ ہے تو دوسری طرف اس سے بھی بڑی تعداد میں لوگ ملک بھر کے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں سے علم اور کتاب سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔
ذوقِ کتاب بک شاپ