19/01/2023
کوئی ایسا ریاستی ادارہ ہے کہ اس کا نوٹس لے؟؟؟
سابق ڈپٹی کمشنر لکیمروت اقبال حسین نے لیویز بھرتی/انڈکشن/مرجر میں کرپشن کے بدنامِ زمانہ اور ڈسٹرکٹ کمپلیکس ٹاؤن تاجہ زئ پر قابض گروپ
"ویگو گروپ" کے ذریعے 7لاکھ سے 26لاکھ روپے تک فی کس کا سودا کیا ہے،
یہ تقریباً یہ 7/8 کروڑ روپے کرپشن سکینڈل ہے لاالہ الااللہ کے نام پر بننے والے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ضلع لکیمروت میں!!!!
اب اس کے بعد دوسرا سکینڈل منظرِ عام پر آگیا ہے۔
"ویگو گروپ" نے ان 77بھرتی اہلکاران کی تنخواہیں ریلیز کروانے اور نکلوانے کیلئے AG آفس پشاور میں ایک سپرنٹنڈنٹ سے بارگیننگ/ڈیلنگ کرکے اس کو لکیمروت تبدیل کرواکر لکیمروت میں ڈسٹرکٹ اکائونٹس آفیسر (DAO) لگوایا ہے، قانون اور رولز کی دھجیاں اڑواکر ان کی تنخواہوں کو ریلیز کروایا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب "ویگو گروپ" ان 77 اہلکاروں کی 2018 سے تنخواہوں کی کروڑوں روپے ائیریرز/بقایاجات نکلوانے پر لگا ہوا ہے ۔
ان 77پوسٹوں پر پہلے ہی (Already) 2019 تک ان متاثرین لیویز اہلکاروں کی تنخواہیں نکل چکی ہیں جن کا حق مار کر ان کی جگہ 7/8 کروڑ میں نئے چہروں کو بھرتی کیا گیا ہے، اور اب وہ سب متاثرین سپریم کورٹ میں اپنے قانونی حق کیلئے قانونی جنگ لڑرہے ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان پوسٹوں پر دو بار تنخواہیں کس قانون کے تحت نکلیں گی؟؟؟
#نوٹ: "ویگو گروپ" نے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر اور 77اہلکاروں کے ساتھ مقرر/فکسڈ پرسنٹیج پر سودا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس "سکینڈل" پر ڈسٹرکٹ اکائونٹس آفس لکیمروت کے اندر "کنسرنڈ آفیشلز" کے درمیان "بڑا تنازعہ" پیدا ہوا ہے ۔
: لیویز فورس اب پولیس فورس میں ضم ہوچکی ہے اور ان کی تنخواہوں کا کام DPO آفس کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو پھر ڈی سی آفس میں موجود "ویگو گروپ" اس "میگا سکینڈل" کی تنخواہوں کے پیچھے کیوں گھوم رہا ہے اور اپنے کمروں کے پیچھے تالے لگا کر DAO آفس میں DAO کیساتھ 24گھنٹے کیوں اور کس لئے بیٹھا ہوتا ہے ؟؟؟
اس میگا کرپشن سکینڈل کا کیس سپریم کورٹ میں چل رہا ہے ۔
#نوٹ: ثقہ گواہان، ٹھوس ثبوت اور دفاتر کا سرکاری ریکارڈ سب کچھ موجود ہیں ۔