F Wadood stationary

F Wadood stationary Simply put, a stationery store and office supplies business is a place where books, magazines, newsp

f wadood stationary is one that involves a wide range of materials which include paper and office supplies, greeting cards, writing implements, pencil cases, glue as well as other similar items

11/12/2024

اور سکون اس بات کا ہے.
کہ
لوگوں سے بہتر مجھے میرا اللّه جانتا ہے

07/04/2023

‏ایک سوال آپکی نظر کر رہا ہوں دل و دماغ سے سوچ کر جواب دیجیے گا پاکستان میں کونسا طبقہ سب سے زیادہ جھوٹ بولتا ہے۔۔🤔

06/04/2023
02/02/2023


نرالی دیگ کا ایک دانہ کافی ہے..
سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو 10 لاکھ روپے ماہانہ پنشن ملتی ہے۔ جو اس کی تنخواہ کا 85 فیصد ہے۔ 3000 ٹیلی فون کالز، 2000 یونٹ بجلی، 25 ہیکٹو میٹرز یونٹ گیس مفت ہے۔ ماہانہ 300 لیٹر پیٹرول بھی دیوالیہ ملک کے خزانے سے ملتا ہے۔ ڈرائیور، اردلی اور سیکورٹی گارڈ کے اخراجات الگ۔ یہ اس سڑی ہوئی دیگ کا محض 1 دانہ ہے۔ باقیوں کو بھی اس پر قیاس کر سکتےہیں۔ یہ اخراجات چین جیسی مضبوط معیشت کو بھی چند برس میں دیوالیہ کرنے کیلئے کافی ہیں۔ ہم تو ہیں ہی بھکاری۔ بھیک مانگ کر اشرافیہ کا دوزخ بھرتےہیں مگر اب کوئی بھیک بھی نہیں دے رہا

09/09/2022

ایک بادشاہ سلامت نے رات کو گیدڑوں کی آوازیں سنی تو صبح وزیروں سے پو چھا کہ رات کو یہ گیدڑ بہت شور کررہے تھے ۔کیا وجہ ہے ۔اس وقت کے وزیر عقل مند ہوتے تھے ۔انھوں نے کہا جناب کھانے پینے کی چیزوں کی کمی ہوگی اس لیے فریاد کررہےہیں ۔تو حاکم وقت نے آرڈر دیا کہ ان کا بندوبست کیا جائے 😍۔وزیر صاحب نے کچھ مال گھر بھجوادیا اور کچھ رشتہ داروں اور دوستوں میں تقسیم کیا۔اگلی رات کو پھر وہیں آوازیں آئیں ۔ تو صبح بادشاہ نے وزیر سے فرمایا کہ کل آپ نے سامان نہیں بھجوایا کیا۔تو وزیر نے فوری جواب دیا کہ جی بادشاہ سلامت بھجوایا تو تھا ۔اس پر بادشاہ نے فرمایا کہ پھر شور کیوں ۔تو وزیر نے کہا جناب سردی کی وجہ سے شور کررہےہیں ۔تو بادشاہ نے آرڈر جاری کیا کہ بستروں کا انتظام کیا جائے😜😜۔صبح پھر موجیں لگ گئیں وزیر کی ۔حسب عادت کچھ بستریں گھر بھیج دیئے اور کچھ رشتہ داروں اور دوستوں میں تقسیم کیے۔جب پھر رات آئی تو بدستورآوازیں آنا شروع ہوگئیں ۔تو بادشاہ کو غصہ آیا اور اسی وقت وزیر کو طلب کیا کہ کیا بستروں کا انتظام نہیں کیا گیا۔تو وزیر نے کہا کہ جناب وہ سب کچھ ہوگیا ہے تو بادشاہ نے فرمایا کہ پھر یہ شور کیوں ۔تو وزیر نے اب بادشاہ کو تو مطمئین کرنا ہی تھا ۔اور اوکے رپورٹ بھی دینی تھی۔تو وہ باہر گیا کہ پتہ کرکے آتا ہوں ۔جب واپس آئے تو مسکراہٹ لبوں پر سجائے آداب عرض کیا کہ بادشاہ سلامت یہ شور نہیں کررہے.....
بلکہ آپ کا شکریہ ادا کررہے ہیں ...
اور روزانہ کرتے رہیں گے۔بادشاہ سلامت یہ سن کے بہت خوش ہوا اور وزیر کو انعام سے بھی نوازا...!!!!
اب یہی حال ہمارے ملک کا بھی ہے ۔ ملازمین و عوام مہنگائی سے پریشان ہیں ۔مگر یہاں رپورٹ سب اوکے دی جارہی ہے۔اور بادشاہ سلامت خوش ہیں...!🙈

04/11/2021

‏. *_بہترین سچ ۔۔۔۔۔۔!!!_*

*_💠آنکھیں اندھی ہو جائیں تو یہ کوئی محرومی نہیں ہے۔۔۔۔۔_*

*_💠لیکن اگر دل اندھا ہو جائے تو انسان دین اور دنیا سے محروم ہو جاتا ہے_*

*_✨آج کی بہترین نصیحت_*

*_دین میں آسانی ہے_*
*_من مانی نہیں ہے_*
⁧‎ ⁩
⁧‎ #انقلاب

04/10/2021

‏مان لیں پاکستانی قوم کا مسئلہ کرپشن ، اقرباء پروری ، نااہلیت یا معاشی بدحالی نہیں ، ہمارا مسئلہ صرف ہمارے پسندیدہ لوگوں کا حکومت میں نہ ہونا ہے ۔ اگر یہ مسائل ہوتے تو حل صرف جماعت اسلامی تھا ہے اور رہے گا جماعت کے لوگ بار بار کے آزمائے ہوئے ہیں اور اعتماد پہ بھی پورا اترے ہیں

29/09/2021

بیٹوں کی اقسام
بیٹے پانچ قسموں کے ہوتے ہیں:
۱: پہلے وہ جنہیں والدین کسی کام کو کرنے کا حُکم دیں تو کہنا نہیں مانتے، یہ عاق ہیں۔
۲: دوسرے وہ ہیں جنہیں والدین کسی کام کو کرنے کا کہہ دیں تو کر تو دیتے ہیں مگر بے دلی اور کراہت کے ساتھ، یہ کسی قسم کے اجر سے محروم رہتے ہیں۔
۳: تیسری قسم کے بیٹے وہ ہیں جنہیں والدین کوئی کام کرنے کا کہہ دیں تو کر تو دیتے ہیں مگر بڑبڑاتے ہوئے، سُنا سُنا کر، احسان جتلا کر، بکواس بازی کر کر کے۔ یہ کام کر کے بھی گھاٹے میں ہیں اور گناہ کما رہے ہیں۔
۴: چوتھی قسم کے وہ بیٹے ہیں جنہیں والدین کوئی کام بتا دیں تو خوش دلی سے کرتے ہیں، یہ اجر کماتے ہیں اور ایسے بیٹے بہت کم ہوتے ہیں۔
۵: پانچویں قسم کے وہ بیٹے ہیں جو والدین کی ضرورتوں کے کام اُن کے کہنے سے پہلے کر دیتے ہیں، یہ خوش بخت بیٹوں کی نادر قسم ہیں۔
آخری دو قسم کے بیٹے؛ ان کی عمر میں برکت، رزق میں وسعت، ان کے معاملات کی آسانی اور ان کے سینوں میں پڑی راحت اور وسعت کے بارے میں کچھ نا پوچھیئے، یہ تو بس اللہ “اپنی رحمت کے لیے جس کو چاہتا ہے مخصوص کر لیتا ہے اور اس کا فضل بہت بڑا ہے”۔
ایک چھوٹا سا سوال ہے ہر اُس کرم فرما کیلئے جو اس وقت یہ پڑھ رہا ہے: آپ اوپر بیان کیئے گئے بیٹوں کی قسموں میں سے کون سی قسم کے بیٹے ہیں؟
(بھاگ کر اپنی ماں کے سر پر بوسہ دینے سے پہلے) اپنے آپ سے یہ پوچھ کر دیکھیئے کہ والدین کے ساتھ “بِر” یا حُسن سلوک یا راستبازی ہوتی کیا ہے؟
یہ حُسن سلوک؛ ماں یا باپ کے سر پر ایک بوسہ لے لینے کا نام نہیں ہے، ناں ہی ان کے ہاتھوں پر یا حتی کہ اُن کے پاؤں پر بوسہ لینے کا نام ہے۔ کہیں یہ کر کے تو اس گمان میں میں ناں پڑ جائے کہ تو نے ان کی رضا کو پا لیا ہے۔
حُسن سلوک یہ ہے کہ تو اُن کے دل میں آئی ہوئی خواہش کو محسوس کرے اور پھر اُن کے حُکم کا انتظار کیئے بغیر اس خواہش کو پورا کر دے۔
حُسن سلوک یہ ہے کہ تو یہ جاننے کی کوشش میں لگا رہے کہ انہیں کونسی بات خوشی دیتی ہے اور پھر اُس کام کو جلدی سے کر ڈالے۔ اور تو یہ جاننے کی کوشش کرے کہ انہیں کس بات سے دُکھ پہنچتا ہے اور پھر اس کوشش میں رہے کہ وہ تجھ سے ایسی کوئی چیز کبھی بھی نا دیکھ پائیں۔
اُن سے حسن سلوک یہ ہے کہ تجھے ان کا احساس ہو، تو ان کیلیئے بات چیت کا وقت نکالتا ہو، انہیں کسی چیز کے کھانے پینے کی طلب ہو تو حاضر کر دیتا ہو بھلے یہ ایک چائے کا کپ ہی کیوں ناں ہو۔
حسن سلوک یہ بھی ہے کہ تو اُن کے آرام اور راحت کا خیال رکھے بھلے اس کیلیئے اپنی راحت کو ہی کیوں نا تیاگنا پڑے۔ اگر تیری دوستوں میں شب بیداری انہیں شاق گزرتی ہے تو تیرا جلدی سو جانا بھی ان کے ساتھ ایک حسن سلوک کی ہی ایک مثال ہے۔
حسن سلوک یہ بھی ہے کہ ان کی خاطر اپنی دعوتیں ضیافتیں چھوڑ دے اگر اس سے تیرا اُن کے ساتھ میل جول متاثر ہوتا ہے تو۔
ایک مناسب ریسٹورنٹ پر ان کے ساتھ کھانا، حج و عمرہ میں ان کی راحت کے پیش نظر اچھے ہوٹل میں ان کے قیام کا بندوبست، حتی کہ کہیں چھوٹی موٹی تفریح اور پکنک جو تیرے والدین کے دل کو سرور دے اور وہ اپنی اس عمر میں بھی خوشی کا احساس پائیں۔
حسن سلوک یہ بھی ہے کہ تیرے والدین تیرے مال سے مستفیض ہو رہے ہوں بھلے وہ خود کیوں ناں مالدار ہوں۔ اور تیرا یہ جانے بغیر کہ ان کے پاس اب کتنے پیسے ہیں اور انہیں ضرورت ہے بھی یا کہ نہیں تو ان پر خرچ کرتا رہے۔
حس سلوک یہ بھی ہے کہ تو ان کی حتی المقدور راحت تلاش کرتا رہے اور انہوں نے تیری ولادت سے اب تک جو کچھ خدمت کر دی ہے کو کافی سمجھے اور اب ان کے احسانات کے بدلے میں کچھ نا کچھ کرتا رہے۔
حس سلوک یہ بھی ہے کہ تو ان کے لبوں پر کسی طرح ہنسی لاتا رہے بھلے تو اپنے نظروں میں کیوں ناں مسخرہ ہی لگ رہا ہو،
آخری بات: والدین سے حسن سلوک تیرے اور تیرے بھائیوں بہنوں کے درمیان "باری بندی" کا نام نہیں۔ یہ تو ایک دوڑ کا نام ہے جو جنت کے دروازوں کی طرف جاری ہے اور پتہ نہیں کون پہلے پہنچ جائے۔ اور یہ بھی یاد رکھو کہ جنت کو بہت سے راستے جاتے ہیں اور ان میں سے کئی راستے تیرے والدین سے ہو کر جاتے ہیں۔

Rs 500
29/09/2021

Rs 500

۔
28/09/2021

۔

28/09/2021

Address

Madyan Near HBL Bank Taxi Station Swat
Madyan
19020

Opening Hours

Monday 07:00 - 20:00
Wednesday 07:00 - 20:00
Friday 07:00 - 20:00
Saturday 07:00 - 20:00

Telephone

+923438639339

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when F Wadood stationary posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to F Wadood stationary:

Shortcuts

Share

Category