15/09/2026
قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی وہ آخری اور کامل کتاب ہے جو انسان کو زندگی کے ہر معاملے میں حق و باطل، درست و غلط اور عدل و ظلم کے درمیان فرق کرنے کا معیار عطا کرتی ہے۔ قرآن خود اپنے نزول کے ایک اہم مقصد کو قسط و عدل کے قیام سے وابستہ کرتا ہے:
«لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ»
ترجمہ: یقیناً ہم نے اپنے رسولوں کو روشن دلائل کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کیا تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔
(الحدید: 25)
اسی قرآنی تصورِ میزان کو بنیاد بنا کر مفکرِ قرآن حضرت علامہ رحمت اللہ طارق نے اپنی مشہور تفسیر ’’میزان القرآن‘‘ میں قرآنِ حکیم کے پیغام کو سمجھنے اور سمجھانے کی ایک منفرد علمی کوشش کی۔
اس تفسیر کا بنیادی مقصد صرف آیات کے الفاظ کا ترجمہ یا مشکل اصطلاحات کی تشریح کرنا نہیں، بلکہ قاری کو قرآن کے اس زندہ پیغام تک پہنچانا ہے جو انسان کی فکر، کردار، معاشرت اور اجتماعی زندگی کو حق و انصاف کی بنیاد پر استوار کرتا ہے۔
قرآن اللہ کا کلام ہے؛ اس کی حقانیت کسی زمانے، کسی قوم یا کسی مخصوص طبقے کی محتاج نہیں۔ اس کا پیغام انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، کائنات کی نشانیوں کی طرف متوجہ کرتا ہے، عقل و شعور کو بیدار کرتا ہے اور اسے اندھی تقلید کے بجائے دلیل، سچائی اور عدل کی راہ دکھاتا ہے۔
’’میزان القرآن‘‘ اسی لیے اہم ہے کہ یہ قاری کو قرآن کو محض ثواب کی کتاب کے طور پر پڑھنے کے بجائے ہدایت، فکر اور عمل کی کتاب کے طور پر سمجھنے کی دعوت دیتی ہے۔ اس میں قرآن کے پیغام کو زندگی کے حقیقی مسائل سے جوڑنے اور اس کے بنیادی اصولوں کی روشنی میں انسان اور معاشرے کی اصلاح کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش نظر آتی ہے۔
میزان کا مطلب ہے توازن اور معیار۔ جس طرح ترازو کے ذریعے اشیا کا وزن کیا جاتا ہے، اسی طرح قرآن انسان کو ایک ایسا میزان عطا کرتا ہے جس پر وہ اپنے عقائد، خیالات، اعمال اور معاشرتی رویوں کو پرکھ سکتا ہے۔
کیا ہمارا ایمان قرآن کے معیار پر پورا اترتا ہے؟
کیا ہماری عبادت ہمارے کردار میں نظر آتی ہے؟
کیا ہمارے معاملات میں عدل موجود ہے؟
کیا ہم کمزور کے ساتھ وہی انصاف کرتے ہیں جس کی اپنے لیے توقع رکھتے ہیں؟
اور کیا ہمارا اجتماعی نظام اس قرآنی اصولِ قسط کے مطابق ہے جس کے قیام کے لیے انبیائے کرام تشریف لائے؟
’’میزان القرآن‘‘ قاری کو انہی سوالات کے ساتھ قرآن کے قریب لے جانے کی ایک علمی و فکری کاوش ہے۔
یہ تفسیر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قرآن صرف پڑھنے کے لیے نازل نہیں ہوا، سمجھنے، ماننے اور زندگی میں نافذ کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔
اور جب قرآن کو زندگی کا میزان بنا لیا جائے تو انسان کے لیے حق کا راستہ بھی واضح ہوتا ہے اور عدل کا مفہوم بھی۔
تفسیر میزان القرآن — مفکرِ قرآن حضرت علامہ رحمت اللہ طارقؒ کی ایک ایسی علمی کاوش جس کا مرکز قرآن، معیار قرآن اور مقصد قرآن کی روشنی میں انسان کی فکری و عملی رہنمائی ہے۔