The Book Of Allah

The Book Of Allah آئیں قرآن سیکھیں، تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے
https://youtube.com/?si=QlXAlVNIyyJya0kb

30/01/2025
خدا کی زمین پر خدا کا نظام"خدا کی زمین پر خدا کا نظام" ایک جامع اور عمیق تصور ہے جو اسلامی فکر کے بنیادی اصولوں میں سے ہ...
06/11/2024

خدا کی زمین پر خدا کا نظام

"خدا کی زمین پر خدا کا نظام" ایک جامع اور عمیق تصور ہے جو اسلامی فکر کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں انسان کی زندگی خدا کے احکام کے مطابق ہو، اور ہر شعبہ زندگی خدا کی ہدایات اور اصولوں پر مبنی ہو۔ اسلامی نقطہ نظر سے، یہ دنیا اللہ کی تخلیق ہے اور اس کی بندگی کا تقاضا کرتی ہے کہ اس کے قوانین اور احکام کو ہر چیز میں مقدم رکھا جائے۔

یہ نظریہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسان کو اپنے ذاتی، سماجی، اور ریاستی معاملات میں اللہ کی ہدایات کو مقدم سمجھنا چاہیے۔ اس تصور کو اسلامی اصطلاحات میں "اسلامی نظامِ زندگی" یا "نظامِ خلافت" کہا جا سکتا ہے، جس کے تحت اللہ نے انسان کو زمین پر اپنا نائب مقرر کیا ہے۔ انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزارے اور زمین پر امن، انصاف اور عدل قائم کرے۔

خدا کا نظام اور انسان کی ذمہ داری

اسلامی تعلیمات کے مطابق انسان اس دنیا میں خدا کا نائب ہے اور اسے اپنی زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "اور زمین میں اپنا نائب بناتا ہوں" (البقرہ: 30)۔ اس آیت میں اللہ نے واضح کیا کہ انسان کو زمین پر بطورِ خلیفہ بنایا گیا ہے اور اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عدل اور انصاف کے تقاضے پورے کرے اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں رہے۔

یہ ذمہ داری ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ ہمارا مقصد محض دنیاوی فائدے اور ذاتی مفاد حاصل کرنا نہیں بلکہ اللہ کی رضا اور خوشنودی کا حصول ہے۔ اسلامی تعلیمات میں انسان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اللہ کے احکام کو زندگی کے ہر معاملے میں لاگو کرے، چاہے وہ ذاتی ہوں، معاشرتی ہوں یا ریاستی۔

اسلامی نظامِ حیات

اسلامی نظام حیات ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہے۔ چاہے وہ عبادات ہوں، معاشرتی تعلقات، اخلاقی اصول، یا کاروباری معاملات ہوں، سب کچھ اللہ کی رضا اور اس کے احکامات کے مطابق ہونا چاہیے۔ قرآن پاک اور سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ان اصولوں کی واضح ہدایات موجود ہیں جو ایک مسلمان کی زندگی کو کامیاب بنا سکتی ہیں۔

اسلامی نظام میں ریاست کے فرائض میں یہ شامل ہے کہ وہ عدل اور انصاف کو یقینی بنائے، معاشرتی مسائل کا حل نکالے، غربت کو ختم کرے اور ایسا ماحول فراہم کرے جس میں ہر شخص اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزار سکے۔ اگر اسلامی ریاست اللہ کے احکامات کی پاسداری کرتی ہے تو یہ نظام تمام انسانوں کے لیے رحمت بن جاتا ہے۔

خدا کی زمین پر خدا کے نظام کی خصوصیات

خدا کے نظام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں مکمل عدل و انصاف کا نظام ہوتا ہے۔ کسی بھی مسلمان کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ جھوٹ، ظلم اور ناانصافی سے دور رہے اور ہمیشہ حق کا ساتھ دے۔ اس نظام میں ہر انسان کے حقوق محفوظ ہوتے ہیں اور کوئی بھی شخص کسی پر ظلم نہیں کر سکتا۔

عدل و انصاف: اللہ کا نظام عدل و انصاف کی بنیاد پر قائم ہے۔ قرآن پاک میں بار بار انصاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ "بے شک اللہ عدل کا اور احسان کا حکم دیتا ہے" (النحل: 90)۔ اگر ایک معاشرہ اللہ کے احکامات کے مطابق انصاف کرے گا تو وہ معاشرہ پرسکون اور خوشحال ہو گا۔

اخلاقی بلندی: اسلامی نظام میں اخلاقی اصولوں کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کا مطلب ہے کہ انسان دیانتداری، سخاوت، شرافت اور دوسرے اعلیٰ اخلاقی صفات کو اپنائے۔

معاشرتی بہبود: اللہ کا نظام انسانی معاشرت کی فلاح و بہبود پر زور دیتا ہے۔ یہ ہر شخص کے حقوق کو تسلیم کرتا ہے، چاہے وہ غریب ہو یا امیر۔ زکات اور صدقات جیسے نظام کے ذریعے اسلامی نظام میں دولت کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

خدا کے نظام کی اہمیت

خدا کے نظام کی پیروی انسان کو ایک بامقصد اور باوقار زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس سے انسان کو روحانی سکون، دنیاوی کامیابی اور آخرت کی نجات ملتی ہے۔ اس کے علاوہ، خدا کا نظام ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیتا ہے جہاں عدل، امن اور بھائی چارے کی فضا قائم ہوتی ہے۔

اسلامی تاریخ میں خلافت کا نظام اس کی ایک مثال ہے، جب مسلمانوں نے اللہ کے احکامات کی پیروی کرتے ہوئے عظیم سلطنتیں قائم کیں اور علم، تہذیب اور تمدن کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں۔ جب تک مسلمانوں نے خدا کے نظام کو اپنے معاشرتی اور حکومتی معاملات میں نافذ کیا، وہ دنیا میں ایک ممتاز اور مثالی حیثیت رکھتے تھے۔

نتیجہ

"خدا کی زمین پر خدا کا نظام" ایک ایسی سوچ اور عمل ہے جو انسانیت کو بہترین انداز میں زندگی گزارنے کی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اگر مسلمان حقیقی معنوں میں خدا کے نظام کو اپنی زندگیوں میں لاگو کریں تو معاشرہ حقیقی معنوں میں خوشحالی، امن اور انصاف کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ آج کے دور میں، اسلامی اصولوں پر مبنی معاشرتی اور ریاستی نظام کی ضرورت ہے تاکہ انسانی زندگی میں امن و سکون کو یقینی بنایا جا سکے اور ایک بہترین معاشرہ قائم کیا جا سکے۔

یوں "خدا کی زمین پر خدا کا نظام" ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالنا چاہیے تاکہ ہم نہ صرف دنیا میں کامیاب ہوں بلکہ آخرت میں بھی سرخرو ہو سکیں۔

With Ayesha Bint-e-Afsar Ali – I just got recognized as one of their top fans! 🎉
16/08/2024

With Ayesha Bint-e-Afsar Ali – I just got recognized as one of their top fans! 🎉

18/10/2023

اسلام کے خلاف طریقہ وارْدات

مندرجہ ذیل پوائنٹس سے کسی کو اسلام کے خلاف طریقہ واردات کی سمجھ نہیں آتی تو اس کا اللہ حافظ ہے۔ دوسرا اس پوسٹ پر خواہ مخواہ گالیاں دینے والے، ہنسنے والے، ادھر ادھر کے سوال و جواب کرنے والوں کے کمنٹ ڈلیٹ کر دئے جائیں گے کیونکہ یہ مسئلہ اسلامی ہے کسی کا ذاتی نہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ حضور ﷺ پر طعن کرنے کی کسی کو جرات نہیں ہوئی، اسلئے اہلبیت کے لبادے میں چھپ کر صحابہ کرام کے خلاف بکواس دراصل ان-ڈائریکٹ رسول اللہ ﷺ کی ہتک کے ساتھ ساتھ نبوت پر الزام ہے جیسے:

سورہ جمعہ 2 "وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتاہے اور بیشک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔

الزام نمبر 1: کیا نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو پاک نہیں کیا؟ ان کو حکمت و دانائی عطا کی یا نہیں؟ جیسے سورہ احزاب 33 میں اہلبیت کے لئے بھی یہ الفاظ ہیں: "اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دُور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے۔"

نتیجہ: اہلبیت اور صحابہ کرام کے لئے پاک صاف، محفوظ، مغفور کی اصطلاح استعمال ہو سکتی ہے مگر اآیت تطہیر، مباہلہ پڑھ کر بھی معصوم کی اصطلاح استعمال نہیں ہوگی۔

پوائنٹ 2: قریش کی عزت کے لئے، قرآن مجید کی ایک سورت کا نام ہی قریش ہے۔ ترمذی 3605: اللہ کریم نے سیدنا ابراہیم کی اولاد میں سے حضرت اسماعیل کا انتخاب فرمایا اور حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے بنی کنانہ کا، اور بنی کنانہ میں سے قریش کا، اور قریش میں سے بنی ہاشم کا، اور بنی ہاشم میں سے میرا ﷺ انتخاب فرمایا۔

قبیلہ قریش کی بڑی بڑی شاخیں یہ ہیں:(1) بنو ہاشم (2) بنو امیہ (3) بنو نوفل (4) بنو عبدالدار (5) بنو اسد (6) بنو تمیم (7) بنو مخزوم (8) بنو عدی (9) بنو عبد مناف (10) بنو سہم ہیں اور سیدنا ابوبکر صدیق کا بنو تمیم، سیدنا عمر فاروق کا بن عدی، سیدنا عثمان اور حضرت معاویہ کا تعلق بنو امیہ اور سیدنا علی و حسن و حسین کا تعلق بنو ہاشم کے قبیلے سے ہے۔

الزام نمبر 2: کبھی مسلمانوں نے سوچا کہ کیا بنو امیہ کو گالیاں دراصل سورہ قریش اور قبائل قریش کو گالی نہیں ہے؟؟

نتیجہ: قرآن و احادیث کے خلاف چلنے والا گروہ مسلمان نہیں ہو سکتا۔

پوائنٹ 3: سورہ توبہ 100 "اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پَیرو(پیروی کرنے والے) ہوئے رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے"۔

الزام نمبر 3: اللہ کریم نے جن کو رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ فرمایا اور نبی کریم ﷺ نے جن کے نام لے کر فضائل بیان کئے ہیں۔ ایسی جماعت جو صحابہ کرام کے فضائل بھی بیان نہ کرے، اُلٹا قرآن و احادیث میں "اصحاب" لفظ کی مختلف قسمیں نکال کر، صحابہ کرام پر سورہ منافقون کو فٹ کرکے، مسلمانوں میں صحابہ کرام کے متعلق غلط فہمی پیدا کرے، کیا نبی کریم ﷺ سے عداوت رکھنے والا گروہ نہیں ہے؟

نتیجہ: اہلبیت اور صحابہ کرام کے فضائل بیان کرنا حق ہے اور جن کی کتابوں میں صحابہ کرام کے فضائل نہیں بلکہ چند کے سوا سب صحابہ کرام کو مسلمان نہ سمجھنے والے خود مسلمان نہیں۔

پوائنٹ 4: اس سے فرار نہیں کہ مسلمانوں میں لڑائیاں ہوئیں اور ہماری احادیث میں صحابہ کرام و اہلبیت کے درمیان محبت، اختلاف اور برابھلا کہنے کی صحیح و ضعیف روایات موجود ہیں مگر ان کا دین، عقیدہ، سوچ، اجتہاد کرنا قرآن و سنت کے مطابق تھا۔

الزام 4: کیا ان تمام اختلافات پر جو نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام کے درمیان نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد ہوئے خاموش رہنا بہتر تھا یا اس کو اچھال کر اور مسلمانوں کو الجھا کر بے وقوف جاہل عوام کو اسلام، احادیث، صحابہ کرام سے متنفر کرکے نبی کریم ﷺ سے عداوت کرنا تھا؟

نتیجہ: مشاجرات صحابہ کا قانون بہترین ہے ورنہ جو بھی صحابہ کرام پر تینقید کرنا جائز سمجھتا ہے، کیا وہ صحابی کے درجے پر ہے؟ کیا کسی بھی مفسر، محدث و قاری و مولوی و ذاکر کا درجہ نبی کریم کے صحابہ کرام سے زیادہ ہے۔

پوائنٹ 5: قرآن اللہ کا فرمان اور احادیث نبی کریم ﷺ کی پہچان ہیں۔ اگر احادیث نہ ہوں تو نبی کریم ﷺ کی تعلیم کا علم نہیں ہو سکتا۔ احادیث کو مشکوک بنایا کیوں جاتا ہے؟

الزام نمبر 5: حضرت معاویہ 163 احادیث کے راوی ہیں جن میں 4 متفق علیہ ہیں، 4 صحیح بخاری اور 5 صحیح مسلم میں ہیں۔ کتبِ ستہ میں حضرت معاویہ سے مروی روایات کی تعداد ساٹھ (60) ہے۔

نتیجہ: عوام کو علم ہونا چاہئے کہ محدثین کسی جھوٹے، خائن، فاسق، باغی، قاتل سے روایات نہیں لیتے تو حضرت معاویہ نے ان کو کیا سمجھ کر روایات لی ہیں؟ اگر ایک راوی غلط ہو گا تو باقی راوی کی کون مانے گا؟ اسلئے احادیث کو بیان کرنے والے راوی کو مشکوک بنانا حضور ﷺ کی تعلیم کو مشکوک بنانا ہے۔

نتیجہ: دیوبندی، بریلوی اور اہلحدیث حضرات صحابہ کرام کا دفاع کرتے ہیں اور اہلتشیع حضرات خاص طور پر بنو امیہ کے متعلق بہت سی بکواس کرتے ہیں اور جو لبرلز، انجینئر، بابا اسحاق، مودودی جیسے لوگ ہیں انہوں نے بھی اہلتشیع بے بنیاد دین کے لئے راہ ہموار کی ہے مگر انہوں نے کبھی عوام کو یہ نہیں بتایا کہ اہلتشیع حضرات کا 14 اور 12 معصوم کا عقیدہ ختم نبوت کے خلاف ہے، اگر بتایا ہے تو اس کلپ کا لنک ضرور دیں۔

13/09/2023

TikTok

آو کہ اختلاف راے پر اتفاق کرلیں | 🖤! فرقہ واریت ایک بری لعنت ہے، |😭!تمام فرقے بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں، طبیعت زیادہ خرا...
16/08/2023

آو کہ اختلاف راے پر اتفاق کرلیں | 🖤! فرقہ واریت ایک بری لعنت ہے، |😭!
تمام فرقے بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں، طبیعت زیادہ خراب ہو تو قرآن سے رجوع کریں 👍

 #لوگ کیا کہیں گے اس جملے کی بازگشت ہر وقت ہمارے کانوں میں گونجتی رہتی ہے۔ آج انسان اس نہج پر ہے کہ وہ کوئی بھی کام کرنے...
15/07/2023

#لوگ کیا کہیں گے اس جملے کی بازگشت ہر وقت ہمارے کانوں میں گونجتی رہتی ہے۔ آج انسان اس نہج پر ہے کہ وہ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اس کام کا انجام سوچنے کے بجائے یہ سوچتا ہے لوگ کیا کہیں گے؟ یہ جملہ صرف جملہ نہیں رہا بلکہ نفسیاتی مسئلہ بن چکا ہے۔

کوئی اپنے لباس میں تبدیلی چاہتا ہے کوئی اپنا طرز زندگی بدلنا چاہتا ہے
اولاد شادی کے قابل ہے والدین پریشان ہیں
کوئی پسند کی شادی کرنا چاہتا ہے
کوئی ڈاکٹر بننا چاہتا ہے توکوئی اس پیشے کواپنانا نہیں چاہتا
یہ سب باتیں بجا ہیں مگر پوری نہیں ہو سکتی سماج آڑے آ جاتا ہے۔ سماج /معاشرہ کیا ہے؟ یہ لوگ کون ہیں؟

پچاس یا سو لوگوں کی مجلس میں سے آپ کسی بھی شخص کو کہیں کہ فلاں شخص گفتگو کرے یا صرف چند لفظ ہی بول دے تو وہ نہیں بول سکتا اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ شخص بول نہیں سکتا یا اس کے پاس الفاظ نہیں ہیں بلکہ میرے خیال میں ہو سکتا ہے وہ شخص بہت اچھا بول سکتا ہو لیکن وہ اس جملے سے خوف زدہ ہو جاتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے، لوگ کیا سوچیں گے، لوگ اس پر ہنسیں گے اگر اس کی زبان پھسل گئی یا کوئی لفظ غلط ادا ہو گیا۔ اس طرح تعلیمی اداروں میں کمرہ جماعت میں بچے کو اکثر سوال کا جواب آتا ہے لیکن وہ خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ بچے ہی کیا بڑوں کا بھی یہی حال ہے کالجز، یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طالب علموں کی صورتحال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں۔

ہر انسان کے جذبات و احساسات ہوتے ہیں جذبات و احسات جنس نہیں دیکھتے لیکن لوگ دیکھتے ہیں لوگ جذبات کو بھی کٹہرے میں کھڑا کردیتے ہیں۔ جذبات و احساسات مرد اور عورت میں فرق نہیں کرتے مطلب مرد ہو یا عورت دونوں ہی جیتے جاگتے انسان ہیں اس لیے ان کے احساسات و جذبات ہیں۔ چھٹی یا ساتویں جماعت کا بچہ لے لیں اگر کلاس کی بچی روئے یا اس کے آنسو نکل آئے تو وہ رو سکتی ہے لیکن ایک لڑکا نہیں رو سکتا اگر لڑکا رونے لگے تو کہا جاتا ہے تم کیا لڑکیوں کی طرح رو رہے ہو مرد بنو مرد۔ یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت کی نسبت زیادہ مضبوط بنایا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مرد کے جذبات نہیں ہیں اس کا بھی دل ہے اس کے جذبات ہیں جنہیں ٹھیس لگے تو وہ بھی رو سکتا ہے۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کسی شخص کے پاس ایک گدھا تھا۔ وہ اسے فروخت کے لیے دوسری بستی لے جا رہا تھا اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا۔ وہ دونوں گدھے کے ساتھ چل رہے تھے۔ ایک کنویں پر عورتیں پانی بھر رہی تھیں۔ باپ بیٹے کو گدھے کے ساتھ پیدل چلتے دیکھاتو ہنسنے لگیں اور آپس میں باتیں کرنے لگی کہ یہ دونوں کتنے احمق ہیں کہ سواری پاس ہے اور پیدل چل رہے ہیں۔ باپ نے یہ بات سن لی تو بیٹے سے کہا تو گدھے پر بیٹھ جا میں پیدل چلتا ہوں اور بیٹا گدھے پر سوار ہو گیا۔

ابھی وہ تھوڑی ہی دور گئے ہوں گے کہ ان کو کچھ دانشور مل گئے جب ان پر نظر پڑی تو ایک کہنے لگا دیکھو جی! کیسا زمانہ آ گیا ہے جوان بیٹا سواری پر بیٹھا ہے اور باپ پیدل چل رہا ہے۔ یہ بات بیٹے نے سنی تو سواری سے نیچے اتر آیا اور اصرار کر کے باپ کو سوار کر دیا اور چلتے گئے۔ ابھی وہ تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ انہیں لڑکوں کی ایک ٹولی ملی ان میں سے ایک کہنے لگا دیکھو! یہ بوڑھا کتنا سنگ دل ہے خود تو سواری پر بیٹھا ہے اور بیٹے کو پیدل چلا رہا ہے۔

یہ سنا تو باپ نے بیٹے کو ساتھ بیٹھا لیا ابھی وہ کچھ دیر ہی آگے گئے ہوں گے انہیں کچھ آدمی ملے ایک شخص نے بوڑھے سے کہا میاں! کیا یہ گدھا تمہارا ہے ہمیں تو یقین نہیں آ رہا اس قدر کمزور جانور پہ تم دونوں سوار ہوں باپ بیٹے نے یہ سنا تو گدھے کو سر پہ اٹھا لیا اور چلنے لگے، کچھ فاصلہ ہی طے کیا تھا کہ لوگ ان پر ہنسنے لگے کہ کتنے بیوقوف ہیں خود پیدل چل رہے ہیں اور گدھے کو سر پہ بیٹھا رکھا ہے۔

اسی طرح کوئی بچہ کلاس میں، رزلٹ میں اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکتا تو اسے نالائقی کے طعنے دیے جاتے ہیں۔ ہر بچہ ایک جیسی صلاحیت کا حامل نہیں ہوتاجس طرح ایک بیل پہ لگے تمام انگور میٹھے نہیں ہوتے، اگر وہ پڑھائی میں اچھا نہیں ہے، زیادہ لائق نہیں ہے تو اسے اس کی ذہنیت کے مطابق پڑھنے دیں۔ اس کے اندر جو غیر معمولی اور انفرادی صلاحتیں ہیں ان کو پہچانیں یہ نہ سوچیں لوگ کیا کہیں گے۔

میاں بیوی گاڑی کے دو پہیے ہیں یہ جملہ اکثر سننے کو ملتا ہے۔ جس طرح یہ دونوں دکھ سکھ کے ساتھی ہیں اس طرح ان کی گھر میں ساجے داری ہونی چا ہیے۔ کیا فرق پڑتا ہے اگر شوہر بیوی کا گھر کے کام میں تھوڑا بہت ہاتھ بٹا دے۔ اول تو زیادہ تر شوہر یہ کام کرتے ہی نہیں اور اگر کردیں تو ان کو زن مریدی کے طعنے دیے جاتے ہیں۔

لوگ کیا کہیں گے اس سوچ نے انسان کو احساس کمتری میں مبتلا کر دیا ہے انسان اس وجہ سے کھوکھلا ہو گیا ہے۔ انسان کے کچھ سوچنے، اس کے کچھ کر دکھانے کی صلاحیت دب کر رہ گئی ہے۔ دوسروں سے آگے بڑھنے، ان جیسا خود کو دیکھنے کے چکر میں انسان حقیقت سے دور ہو گیا ہے۔ انسان دکھاوے کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ آج کل شادیوں میں بے جا اخراجات بھی اسی جملے کے مرہون منت ہیں۔ ایک غریب آدمی جس کے لیے اس کے کنبے کی کفالت کرنا مشکل ہے وہ اس فقرے سے بچنے کے لیے لوگوں میں اپنا مرتبہ بنانے کے لیے بے جا اخراجات کرتا ہے جو قرض کی صورت میں کالا سایہ بن کر دن رات اس کے گرد منڈلاتے ہیں۔ اس کی پوری زندگی کالا سایہ بن جاتی ہے۔ اگر کسی کی شادی نہیں ہوتی، کسی کے ہاں اولاد نہیں ہوتی اور کوئی اولاد نرینہ چاہتا ہے، کسی کا گھر چھوٹا ہے، اس طرزکے اور بہت سے مسائل ”لوگ کیا کہیں گے“ کی نذر ہو جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو جینے کی، اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی آزادی دی ہے لیکن انسان نے اپنے گرد غیر ضروری قسم کی رسومات کے دائرے بنا لیے ہیں۔ جس میں وہ نہ چاہتے ہوئے بھی پھنس گیا ہے۔ اگر لوگوں نے یہ سوچنے کے بجائے کہ لوگ کیا کہیں گے اس بات پر توجہ دی ہوتی کہ ہم کیا چاہتے ہیں تو وہ ایک کامیاب زندگی گزار رہے ہوتے۔ میں نے بہت سے لوگوں کو اس جملے کی فکر نہ کرتے ہوئے زندگی میں آگے بڑھتے دیکھا ہے۔ ان کی زندگی اس لیے کا میاب ہوئی کیوں کہ انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ لوگ کیا کہیں گے۔

دنیا کاسماج کا سامنا کریں، یہ دنیا یہ سماج آپ سے ہے، زندگی آپ کی ہے تو فیصلہ بھی آپ کا ہونا چاہیے۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ سماج کو بالکل نظر انداز کر دیں بلکہ سماج کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر اپنی زندگی کو سنواریں، بنائیں اسے ترتیب دیں۔ ہر چیز کا ایک مقصد ہوتا ہے کوئی بھی چیز بے مقصد نہیں ہوتی اس لیے سماج کو بھی بنیادی ضرورتوں کو مد نظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ اپنی زندگی کا کوئی مقصد طے کریں کہ آپ کیا چاہتے ہیں آپ وہ کریں جو آپ کو خوشی اور اطمینان دے۔

جو آپ کے پاس ہے اس سے مطمئن ہو جائیں لوگوں کی طرف دیکھنا ان کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیں۔ ورنہ زندگی کا دائرہ تنگ سے تنگ تر ہو جائے گا۔ یہی عمل انسان کو مثبت سے منفی سوچ کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ لوگ کون ہیں؟ یہ لوگ آپ ہیں یا میں ہوں۔ اگر ہر انسان انفرادی طور پر اپنا کردار ادا کرے تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ شروعات ہمیشہ خود سے کرنی چاہیے اس لیے شروعات خود کریں، نہ کسی پر بات کریں اور نہ کسی کو بات کرنے کا موقع دیں۔ مثبت سوچ ہی مثبت عمل کی طرف راغب کرتی ہے۔ اس لیے مثبت سوچیں اور اپنوں اور دوسروں کی زندگی آسان بنائیں۔ یہ بھی نہ ہو کہ آپ اتنے سنجیدہ ہو جائیں کہ زندگی کے مزے نہ لیں۔ زندگی ایک بار ملتی ہے اس لیے زندگی سے لطف اٹھائیں

14/07/2023

اگر ہم سوشل میڈیا پر کوئ اسلامی پوسٹ شئیر کرتے ہیں تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہم بہت نیک اور کامل ہونے کا دکھاوا کر رہے۔
بلکہ یہ ایک یاد دہانی ہوتی ہے جو ہم خود کو اور خود سے جڑے ایمانی ساتھیوں کو کراتے ہیں تاکہ ایمان تازہ کر رہے اور اللہ سے جڑے رہیں کیونکہ قرآن کہتا ہے
فذکّر فأن الذّكري تنفع المؤمنين○
آپ نصیحت کرتے رہیں یقینًا یہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دے گی
(سورة الذاریات:55)
ہر شخص یہ ارادہ کر لے، مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے، چلو آئیں قدم بڑھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں رجوع کرتے ہیں اپنی اور دوسروں کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں،

Address

Muzaffarabad
13100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Book Of Allah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category