10/06/2026
ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ لوگ اپنے حقوق مانگتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ دوسروں کا حق چھین کر بھی خود کو کامیاب سمجھتے ہیں۔ کوئی کسی کی زمین پر قبضہ کر لیتا ہے، کوئی کسی کی نوکری سفارش یا طاقت کے زور پر لے لیتا ہے، کوئی کمزور کی محنت کا پھل خود سمیٹ لیتا ہے، اور کوئی اپنے اختیار کا ناجائز فائدہ اٹھا کر عوام کے حصے کا حق ہڑپ کر لیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حق چھیننے والا صرف ایک فرد کا نقصان نہیں کرتا، بلکہ پورے معاشرے میں ناانصافی کی بنیاد رکھتا ہے۔ جب میرٹ کی جگہ سفارش لے لے، دیانت کی جگہ لالچ آ جائے، اور انصاف کی جگہ طاقت بولنے لگے، تو محروم صرف ایک انسان نہیں ہوتا، بلکہ آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی متاثر ہوتا ہے۔
یاد رکھیں، دوسروں کا حق کھا کر بنائی گئی کامیابی کبھی عزت نہیں بن سکتی۔ ایسے مال، ایسے عہدے اور ایسی طاقت میں وقتی چمک تو ہو سکتی ہے، مگر سکون اور برکت نہیں ہوتی۔ ضمیر کی عدالت سے بڑا کوئی انصاف نہیں، اور وہاں نہ سفارش چلتی ہے نہ اختیار۔
اور جو لوگ اقتدار، اختیار یا منصب رکھتے ہیں، ان پر ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اگر کوئی حکمران یا صاحبِ اختیار عوام کے حقوق کی حفاظت کے بجائے انہیں ضائع کرے، تو یہ صرف ایک انتظامی غلطی نہیں بلکہ ایک بڑی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اقتدار امانت ہے، ملکیت نہیں؛ اور عوام کا حق کسی کی ذاتی جاگیر نہیں۔
اپنا حق مانگنے میں سر کبھی نہ جھکاؤ، کیونکہ حق مانگنا خودداری ہے۔ لیکن اگر تم دوسروں کا حق چھین کر اپنے لیے آسائشیں بنا رہے ہو، تو ایک لمحہ رک کر اپنے ضمیر سے ضرور پوچھو کہ تم نے جو لیا ہے، کیا وہ واقعی تمہارا تھا؟
ایک مہذب معاشرہ وہ نہیں جہاں طاقتور سب کچھ حاصل کر لے، بلکہ وہ ہے جہاں کمزور کو بھی اس کا حق بغیر خوف اور بغیر سفارش کے مل جائے۔ یہی انصاف ہے، یہی انسانیت ہے، اور یہی وہ اصول ہے جس پر مضبوط قومیں تعمیر ہوتی ہیں۔
#منقول