Shahi Trader's شاھی ٹریڈرز

Shahi Trader's شاھی ٹریڈرز حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بازار سے گزر رہے تھے۔ اذان بلند ہوئی۔ آپ نے دیکھا کہ تاجروں نے دوکانیں بند کرنا شروع کردی۔ سب کے سب مسجد کی جا

Permanently closed.
11/12/2018

دنیا میں دستیاب تجارت کی جتنی اقسام ہیں ان سب کے لئے دو چیزیں بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں
پہلی چیز تجربہ اور مہارت ہے ، کسی بھی کام میں تجربہ اور مہارت کا تعلق بلا واسطہ اس کام میں آپ کی دلچسپی پر منحصر ہے ، زیادہ وقت گزارنا کوئی اہم نہیں ، اگر آپ کی دلچسپی ہے تو آپ کم سے کم وقت میں کوئی بھی کام سیکھ سکتے ہیں لیکن اگر دلچسپی کا فقدان ہے تو پھر آپ ساری عمر ہی گزار دیں آپ اس کام کو بذات خود اون نہیں کرسکتے سو تجربے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے رجحانات اور دلچسپی کے امور کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے !

دوسری بڑی اور بنیادی چیز سرمایہ ہے ! لیکن سرمایہ پہلی چیز یعنی تجربے پر منحصر ہے وہ یوں کہ آپ کے پاس چاہے لاکھوں روپے ہوں لیکن اس کے ساتھ اگر آپ کسی کام میں مہارت نہیں رکھتے اور آپ وہاں انویسٹمنٹ کردیتے ہیں تو دنیا کے تقاضوں کے مطابق آپ کو نقصان پہنچنا لازم ہے اگر اللہ آپ کی دستگیری کرے تو وہ ایک الگ چیز ہے

یہاں مسئلہ ہمارے جیسے مدارس یا یونیورسٹیوں سے 25 سال کی عمر میں معاشرے کا حصہ بننے والے افراد کا ہے !
تجربہ کار افراد ہمارے موضوع کا حصہ نہیں ، ماہر اور تجربہ کار آدمی راکھ کو بھی انتہائی اعلی قسم کے سفوف بتا کر بیچ سکتا ہے ، تجربہ ہو تو آپ کو دوھوکہ ملنے کے چانسز کم ہوتے ہیں !

سو ہم جیسے غیر تجربہ کار افراد جب کسی کاروباری فیلڈ کو اپناتے ہیں تو ہمارے لئے سب سے بڑا مسئلہ تجربہ نہ ہونا ہے ، دوسری طرف ہم معاشی ذمہ داریوں کے تحت باقاعدہ کوئی کام سیکھ بھی نہیں سکتے کیونکہ سیکھنے کے مراحل میں کوئی آپ کو تنخواہ پر نہیں رکھتا ، ایک طرف آپ پر گھر بار کی بھاری بھر کم ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے دوسری طرف ہم جب کسی ادارے میں لگتے ہیں تو تنخواہ کی کمی کی وجہ سے مسائل شروع ہوجاتے ہیں
ہمارے لئے ضروری ہوتا ہے کہ کسی ماہر اور تجربہ کار فرد کے تجربے سے فائدہ اٹھا سکیں !
یہاں یہ چیز ضرور ملاحظہ رکھنی چاہئے جن پر آپ اعتماد کررہے ہیں لازم ہے کہ آپ ان کی طرف سے مکمل اطمینان میں ہوں ، اگر آپ کو سو فیصد اطمینان نہیں تو پھر ان پر بھروسہ کر کے کام شروع کرنا فضول ہے !

اب تجربہ نہ ہوتے ہوئے ہم کیا کرسکتے ہیں؟ اس کے لئے ہمارے پاس کچھ تجاویز ہیں !
ان تجاویز پر سوچنے سے پہلے آپ کو اپنے ذہن سے یہ بات نکال دینی چاہئے کہ آپ کو شروع دن سے منافع ملنا شروع ہوں گے اور آپ انہیں کام میں لائیں گے ! ایسا ہرگز نہیں آپ اپنے منافع کو کم از کم چھ ماہ تک اپنے اصلی سرمایہ کے ساتھ ملا کر کام بڑھائیں گے
یہاں ہم اسٹارٹ کم از کم 10 ہزار روپے سے لیں گے اور زیادہ سے زیادہ 15 ہزار سے
دس یا پندرہ ہزار کا مال لیکر آپ نے کیا کرنا ہے ؟
نمبر ایک اپنے گھر سے کام شروع کریں! یہ مال لیکر اپنے گھر میں رکھیں !
لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنے اہل محلہ اور خاندان والوں کا مزاج اور اسٹیٹس چیک کریں !
اگر آپ کے اہل محلہ آپ کا مال استعمال نہیں کرتے تو پھر بھی آپ کے لئے مسئلہ ہوسکتا ہے مگر آج کل ہر خاتون اچھا کپڑا ہی استعمال کرتی ہیں پھر ریپلیکا کی مانگ تو اوریجنل کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے ، اوریجنل کا استعمال صرف مخصوص تقریبات اور ایک مخصوص طبقے تک محدود ہے جبکہ ریپلیکا کا استعمال عام اور بہت زیادہ ہے سو یہ بھی ایشو نہیں !
اگر آپ شادی شدہ ہیں تو بیگم کی معاونت ضروری ہے 😉 یوں سمجھ لیں کہ آپ کا سارا کام بیگم ہی دیکھیں گی
اگر شادی شدہ نہیں تو بہن یا والدہ یا کوئی بھی محرم خاتون یہ کام اسٹارٹ دیکھ سکتی ہیں !
نمبر دو گھر سے کام شروع کرنے میں مسائل ہیں تو اپنے علاقے میں دوکانوں کا وزٹ کریں اور وہاں جہاں گفٹ سینٹر یا زنانہ گارمنٹس کی سلائی یا شوز یا کاسمیٹکس کے دوکان ہیں ان میں سے کسی سے تعلق بنائیں اور انہیں اپنے منصوبے سے آگاہ کریں !
ان کے پاس ایک شیشے کے ایک خوبصورت شیلف میں اپنا مال رکھوا دیں
پھر ان شاءاللہ دیکھے جائیں ! روزانہ کی بنیاد پر ان کے پاس چکر لگاتے رہے اور انہیں ماہانہ بنیادوں پر کچھ رقم دیا کریں۔ !
نمبر تین اگر آپ کے آس پڑوس میں کوئی مستحق خاتون ہی۔ اور آپ کے پاس تھوڑا بہت سرمایہ ہے تو ان کے لئے مال منگوا دیں اور منافع تقسیم کریں
بچت کی بچت اور ثواب کا ثواب
ان شاءاللہ یہ ایک بنیاد بنتی جائے گی ! پانچ سے چھ ماہ میں آپ کو کافی تجربہ حاصل ہو جائے گا اور آپ متوسط تاجروں کی فہرست میں شامل ہوجائیں گے !
اگر کوئی خاتون خود سے یہ سب کچھ کرنا چاہتی ہیں تو یہ اور بھی اچھی بات ہے
اس کے بعد آخری درجہ آن لائن کا ہے ، آپ مال لیکر ان لائن کام شروع کریں !
اپنی وال سے شروعات کریں پھر ایک پیج بنا کر اس پر ڈیزائن قیمت کے ساتھ لگاتے رہیں اور کچھ دنوں بعد فیسبک سے بوسٹ لے لیں
بوسٹ لینے سے فیسبک آپ کی پوسٹ مقررہ مقدار میں وائرل کرتی ہے اور آپ کو آڈر ملنا شروع ہوجاتے ہیں، یہاں لوگوں کا اعتماد برھائیں
اچھی چیز رکھیں چاہے دو تین سو مہنگی کیوں نہ ہو ، اس سے آپ کا اعتماد بڑھے گا اور گاہک آپ کی طرف آئیں گے !
پھر پارسل پاکستان پوسٹ یا ٹی سی ایس یا کسی بھی سروس سے بھیج دیا کریں !
پارسل موصول ہونے پر ان کی رائے ضرور لیا کریں۔ اور ان کے فیڈ بیک کو پیج پر لگایا کریں !
ساتھ ہی ساتھ پارسل روانہ ہونے کے بعد کسٹمر سے رابطے میں رہیں !
آن لائن کو سب سے آخر میں ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ آپ کے لئے بنیاد نہیں ، آن لائن کے بل بوتے آپ کسٹمر سے ڈیلنگ نہیں سیکھ سکتے ، اس کے علاوہ پھر ڈاک کی سروس ہی اتنی قابل اعتماد نہیں !
یہ المیہ ہے ہمارے کسی بھی حکومتی ادارے میں معجزات اور کرامات کا ظہور وقتا فوقتاً ہوتا ہے
اگر کیش آن ڈیلیوری کی سہولت ہے تو کبھی کبھار کسٹمر مال ہی ریسیو نہیں کرتا پھر آپ ڈاک کے چکر لگاتے رہ جائیں گے !
اور کبھی ریٹرن مال واپس آئے گا تو مال اسی حالت میں نہیں ہوتا
کبھی جلدی کبھی تاخیر سے مال پہنچانا یہ بھی مسئلہ ہے
اگر کیش آن ڈیلیوری نہیں تو کسٹمر پیشگی پیمنٹ کرتے ہوئے گھبراتا ہے اور آن لائن جیسی نعمت کو ہمارے لوگوں نے ناقابل بھروسہ بنا دیا ، پھر پیمنٹ کے لئے تھرڈ پارٹی کی سہولت بھی نہیں سو اگر گراؤنڈ پر آپ کو سو دو سو کم ملے تو یہ آپ کے لئے آن لائن سے زیادہ بہتر ہیں

اگر آپ پہلی فرصت میں لاکھوں کی انویسٹمنٹ بغیر تجربے کے کرنے کے خواہشمند ہیں۔ اور دنوں میں مالدار ہونا چاہتے ہیں تو آپ نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں کریں گے
دس ہزار سے اسٹارٹ لیں !!
یہ پھل نہیں جو آپ کو ایک موسم میں ملے یہ ایک درخت ہے اور درخت پھل سالوں میں دینے کا قابل ہوتا ہے
اپنی نیت صاف رکھیں
گاہک کے ساتھ خیر خواہی کا جذبہ رکھیں
حلال رزق کی نیت کریں
کامیابی کے لیے محنت کے ساتھ ساتھ دعائیں ضرور کریں
اور یہ ہرگز نہ سوچیں کہ آپ نقصان اٹھائیں گے
اکثر اوقات منفی سوچنے سے ہمیں نقصان پہنچتا ہے ، اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ اچھی امیدیں وابستہ رکھیں۔
مزید کچھ باتیں پھر سہی
Copied:
#انتخاب ذیشان صادق ابو منصور لائیلپوریا

10/12/2018

🔎 منافع بخش کاروبار 🏪

(کم سرمایہ سے شروع کیے جانے والے منافع بخش، اہم اور آسان کاروبار)

☕ کافی سینٹر:🍵
سیاحتی اور کاروباری مقام پرآپ اپنا ایک خوبصورت کافی سینٹر بناسکتے ہیں.جہاں پر آپ بہترین ذائقے کی چائے اور کافی ایک اچھے اور خوبصورت ماحول میں منفرد انداز میں پیش کریں.
جو صفائی معیار اور آداب سے بھرپور ہو.

🍲 بریانی سینٹر:🍝
آپ اپنا ایک خوبصورت بریانی شاپ بناسکتے ہیں.بریانی بنانا اور بیچنا بہت آسان ہے اور اس کی مانگ بہت زیادہ ہے آپ کسی سیاحتی اور کاروباری جگہ پر مناسب ریٹ اور صاف ماحول میں اسے پیش کر سکتے ہیں.

🍔 برگر و سوپ:🥣
آپ ایک خوبصورت برگر و سوپ پوائنٹ بنا سکتے ہیں.اپنے قریب کے کسی اسکول،کالج،یونیورسٹی،ھسپتال وغیرہ کے پاس مناسب قیمت صاف ماحول منفرد آداب اور اخلاق سے پیش کر سکتے ہیں اس کی مانگ بہت ہے.

✈ سیاحتی کمپنی:🚂
آپ سیاحت کا خوبصورت سیٹ اپ بنا سکتے ہیں.جس میں آپ آن لائن بکنگ کر کے کشمیر اور شمالی علاقہ جات کی طرف لوگوں کو سیاحتی پیکیج فراہم کر سکتے ہیں.

🥦 کاشتکاری:🌽
آپ چھوٹے رقبے پر سبزیاں اگا سکتے ہیں.جن میں آلو پیاز بھنڈی ٹماٹر کدو لہسن وغیرہ چھوٹے پیمانے پر اگا کر اسے بہترین پیکنگ اور صفائی کے ساتھ سستے ریٹ میں فروخت کر سکتے ہیں.

📚 لائبریری:📖
آپ کو مطالعے سے لگاؤ ہے اور ادبی حلقوں سے راہ رسم ہے تو آپ ایک خوبصورت چھوٹی لائبریری بنا سکتے ہیں.آپ مختلف تعارفی اور بیداری کے پروگرامز کر کے اس کی advertising کرسکتے ہیں.

📱 موبائل شاپ: 📲
موجودہ دور میں ہر شخص موبائل استعمال کرتا ہے اور نئے نئے برانڈز آ رہے ہیں تو آپ اپنا سستا موبائل ریپرنگ لیب بنا سکتے ہیں.جہاں پر آپ دیانت سے سستے داموں بہترین کوالٹی کی ریپرنگ فراہم کر سکتے ہیں.اس کے ساتھ آپ پرانے موبائل لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر فروخت کر سکتے ہیں.

🦆 جانور پالنا:🐃
آپ بکریاں، پرندے اور خرگوش وغیرہ پال سکتے ہیں.یہ بہت نفع جانور ہیں آپ اعلی نسل کے بچے پال کر سال میں دو بار اچھی قیمت پر فروخت کر سکتے ہیں اور برائلر مرغی کے زہر کے متبادل کے طور پر آپ تھوڑی مہم چلا کر خرگوش سے سستے صاف اور بہترین گوشت کو فروخت کر سکتے ہیں.

👚 گارمنٹس👗
آپ بڑے شہروں سے سستے اور معیاری بچوں اور خواتین کے سوٹ خرید کر مناسب ریٹ خوبصورت منفرد انداز کے ساتھ فروخت کر سکتے ہیں

🥟 سموسہ چاٹ سینٹر 🍜
آپ اپنے گرد اسکول،کالج،یونیورسٹی،ھسپتال بس اسٹینڈ ہاسٹل وغیرہ کے قریب سموسہ و چاٹ سینٹر شروع کر سکتے ہیں جو معیاری نفیس اور بہترین ماحول و انداز سے پیش کیا جائے.

🏘 ریئیل اسٹیٹ مارکیٹینگ 🏪
بغیر کسی سرمائے کے شروع کیا جانیوالا یہ بزنس آجکل پاکستان سمیت پوری دنیا میں مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔یہ منافع کمانے کا بہترین آن لائن ذریعہ ہے اور اپنے گھر بلکہ اپنے کمرے میں بیٹھ کر با آسانی اس بزنس کو چلایا جا سکتا ہے۔ اس طریقہ کار میں آپ کسی اور کمپنی کی پروڈکٹ یا سروسز کو انٹرنیٹ یا ایسے ہی کسی دوسرے میڈیم کے ذریعے پروموٹ کرتے ہیں اور اسے فروخت کر کے اپنا طے شدہ کمیشن وصول کرتے ہیں۔

🖥 بلاگ رائٹنگ 📰
بلاگ ایسی ویب سائیٹ یا ویب پیج ہوتا ہے جس پر ہر روز نئی نئی معلومات اور تبصرے لکھے جاتے ہیں۔ایک فرد یا افراد کا ایک گروپ مل کر اس کو پلان کرتا ہے۔بلاگ رایئٹینگ سوشل میڈیا کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔پاکستان میں اردو اور انگلش دونوں زبانوں میں اس کی ڈیمانڈ ہے۔ آپ بنا کسی سرمائے کے مختلف ویب سائٹس کے لئے بلاگ رایئٹینگ کا کا م شروع کر کیایک معقول آمدنی کا ذریعہ پیدا کر سکتے ہیں۔

👔 تاجر کاؤنسلِنگ🗣
اگر آپ کے پاس بزنس فیلڈ کا کافی نالج،مہارت اور آئیڈیاز موجود ہیں اور آپ اس سلسلے میں بزنس کے میدان میں داخل ہونیوالے نئے افراد کی مدد کرنے کی سوچ بھی رکھتے ہیں تو آپ ایک بہت اچھے بزنس کاؤنسلر بن کر نہ صرف نئے بزنس کاروباری افراد کو ٹرینڈ کر سکتے ہیں بلکہ ایک اچھا منافع کما سکتے ہیں۔

🎓 اسٹوڈنٹ کیریئر کاؤنسلِنگ 🤵
اگر آپ کے پاس کیریئر کاؤنسلِنگ کی ڈگری یا اس فیلڈ کی کافی زیادہ معلومات موجود ہیں اور آپ کے اندرلوگوں کی چھپی صلاحیتوں کا کسی حد تک اندازہ لگانے کی صلاحیت بھی موجود ہے تو آپ اسٹوڈنٹس کے لئے ایک اچھے کر نہ صرف کمیونٹی کی خدمت کر سکتے ہیں بلکہ ایک باعزت روزگار بھی کما سکتے ہیں.

⛑ کنسلٹنٹ کمپنی 💼
اگر آپ کسی بھی فیلڈ میں بہترین معلومات اور مہارت رکھتے ہیں تو آپ اس فیلڈ میں پہلے سے موجود یا نئی آنیوالے لوگوں کی رہنمائی کے لئے ایک کنسلٹنگ کمپنی کا قیام عمل میں لا سکتے ہیں ۔لیکن اس کے لئے فیلڈ کی وسیع معلومات و مہارت درکار ہے۔

✍ کونٹینٹ رائٹنگ 📖
تمام کمپنیوں اور اداروں کو پروموشن کے لئے تحریری شکل میں ایک قابلِ توجہ مواد کی ضرورت ہڑتی ہے جو زیادہ سے زیادہ کسٹمرز کی توجہ حاصل کر سکے۔اگر آپ کے اندر اردو یا انگلش زبان میں ایسا پرکشش کونٹینٹ تخلیق کرنے کی صلاحیت موجود ہے تو آپ ایک نہایت کامیاب کونٹینٹ رائیٹنگ کا کاروبار شروع کر سکتے ہیں اور مختلف کمپنیوں اور اداروں کو کونٹینٹ فراہم کر سکتے ہیں۔

🕶 لائف کنسلٹنگ🌏
اگر آپ کا مطالعہ آپ کی معلومات آپ کا تجربہ اور آپ کی سنجیدگی اور ڈیلنگ اچھی ہے تو آپ پریشان ذدہ لوگوں کو زندگی جینے کے گر سکھا کر ان کے مسائل حل کر سکتے ہیں.اس میں عزت ہے علم ہے اور بہترین کاروبار بھی ہے.

💻 یوٹیوبر🎥
اگر آپ میں کسی بھی طرح کی مہارت ھے، جسے آپ ویڈیوز کی صورت میں اس بہترین انداز میں پیش کرسکتے ھیں کہ جس میں دنیا بھر کے لوگوں کے لیے کچھ سیکھنے یا تفریح کا موقع ھو تو فورا یوٹیوب پر اپنا چینل بناکر ڈھیروں کماسکتے ھیں.

📡 آن لائن اسٹور💺
انٹرنیٹ پر Olx کی طرح کئی ویب سائٹس ھیں جو آپ کو مفت اسپیس فراہم کرتی ھے جہاں آپ اپنی کوئی بھی پراڈکٹ آن لائن بیچنے کے لیے رکھ سکتے ھیں، جہاں گھر بیٹھے آپ کمائی کرسکتے ھیں.

🏍 بائیک رائیڈر 🛵
اگر آپ شہر کے شاھراہوں کا بخوبی علم رکھتے ھوں اور آپ کے پاس اپنی موٹر سائیکل ھوتو آپ کریم، اوبر اور فوڈپانڈہ جیسی کمپنیوں سے منسلک ھوکر اچھی خاصی کمائی کرسکتے ھیں.

🤝 دراز دوست 🤝
آن لائن شاپنگ ویب سائٹ "دراز" نے دراز دوست کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کیا ھے جس سے منسلک ھو کر آپ بہترین کمائی گھر بیٹھے کرسکتے ھیں.

📱 ایپ ڈویلپرز 🖥
موبائل کا دور چل رھا ھے، ایپ بنانے کا چھوٹا سا کورس کرکے آپ خود گھر بیٹھے مختلف ایپس بناکر اسے پلے اسٹور میں ڈال کر گھر بیٹھے زبردست کمائی کرسکتے ھیں.

08/12/2018

‎
آج_نوکری_اور_کاروبار_پر_موازنہ _ہو_جائے
۔
#نوکری جیسی بھی ہو۔ جتنی بھی اچھی ہو۔ لاکھوں کا پیکج ہو۔ پبلک سیکٹر کی ہو۔ اٹھارہویں انیسویں سکیل کی ہو۔ کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی ہو۔ ایک متعین کردہ رقم ہی ہوتی ہے۔

آپ صرف اپنے خاندان کی کفالت کر رہے ہوتے ہیں۔
لگی بندھی آمدنی ہوتی ہے۔ مہینے کے شروع میں تنخواہ ملی اور ماہانہ مستقل اخراجات پہ لگ گئی۔ چاہے جتنی مرضی محنت کر لیں۔ تنخواہ وہی کی وہی۔
انکریمنٹ بھی اپنے ٹائم پہ۔ اور ریٹائرمنٹ تک یہی معمول۔ اور ریٹائرمنٹ کے بعد بلآخر پھر سے اپنے کام کی ابتدا۔ وہ بھی تب۔ جب زندگی کی اصل توانائی اور جان کی کھپت نوکری میں لگ گئی۔

جبکہ

#کاروبار میں چاہے جتنی مرضی مشقت ہو۔ محنت ہو۔ شروعات میں مہینے بعد بنیادی اخراجات کے سوا کچھ نہ بچتا ہو۔ بھاگ دوڑ چاہے حد درجہ ذیادہ ہو۔ کاروبار کاروبار ہوتا ہے۔
آپ صرف اپنے خاندان کی کفالت نہیں کرتے۔ اپنے تمام ملازمین کی خاندانوں کی کفالت کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ کتنے ہی نصیب آپ کے کاروبار سے منسلک ہو جاتے ہیں۔
جیسے جیسے تسلسل۔ محنت۔ وقت۔ نیک نیت۔ دیانتداری بڑھتی جاتی ہے۔ کاروبار میں بڑھوتری ہوتی جاتی ہے۔ آپ لینے کی بجائے دینے والے بنتے جاتے ہیں۔
ہوتے ہوتے جب ریٹائرمنٹ کی عمر آتی ہے تو آپ کا ایک نام بن چکا ہوتا ہے۔ آپ کو دوبارہ صفر سے شروعات نہیں کرنا پڑتی۔آپ کے بچوں کو بنا بنایا ایک پلیٹ فارم مل جاتا ہے۔ آپ نوکری لینے کی بجائے نوکریاں دینے والے بن جاتے ہیں۔
اگر آپ کے پاس موقع ہے۔ چاہے ذرا سا بھی سرمایہ ہے۔ اچھا آئیڈیا ہے۔ اچھا منصوبہ ہے۔ تو اللہ پہ بھروسہ کر کے آج ہی شروعات کیجئے۔
اس پاک سرزمین میں اچھے منصوبے اور اچھی نیت والے لوگوں کا دھن اور من کبھی نہیں ڈوبتا۔ جتنے مرضی طوفان۔ مسئلے۔ پتھر راہ میں آئیں۔ آپ انہیں عبور کر کے معاشرے کی ایک عزت دار اکائی بن سکتے ہیں۔

08/12/2018

کاروبار کیجئے/عبداللہ بن زبیر
قسط نمبر : 12
ایک غلط فہمی کا ازالہ
دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے ، لوگوں کے آپسی رابطے تیز ہو چکے ہیں ، آج دنیا کمپیوٹر میں سما چکی ہے ، جہاں اس ٹیکنالوجی نے دفتری نظام کو تبدیل کیا ہے وہاں پہ اس سے کاروبار بھی متاثر ہوئے ہیں ، روزگار پہ بھی اثر پڑا ہے ، مشینری نے انسانوں کی جگہ سنبھال کر بہتوں کو بے روزگار کردیا ہے ، یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے جس سے انکار کی قطعی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔۔
اس ترقی کے دور میں خرید وفروخت کے پیمانے بھی تبدیل کر دئیے ہیں ، بازار کی جگہ گوگل اور دوکان کی جگہ ویب سائٹس نے لے لی ہے۔۔
آسان لفظوں میں یوں سمجھ لیجئے کہ اب کاروبار کمپیوٹر پہ منتقل ہو چکا ہے ، خریدو فروخت بذریعہ آن لائن ہورہی ہے ، تاہم یورپی ممالک کی بہ نسبت پاکستان ، بنگلہ دیش اور ہندوستان میں آن لائن خریداری کی شرح بہت کم ہے مگر بتدریج اس میں اضافہ ہورہا ہے توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ ایک ڈیڑھ عشرہ کے بعد یہاں بھی کاروبار کمپیوٹر پہ منتقل ہوجائے گا ۔۔
پاکستان میں آن لائن خرید وفروخت کا سلسلہ عام نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں ایک غلط خاکہ بیٹھ گیا ہے کہ آن لائن صرف فراڈ ہی ہوسکتا ہے کاروبار نہیں ، اور بد قسمتی سے ہم مسلمان لوگ زیادہ امانت دار نہیں ، سامنے رکھی چیز پہ بھی دو نمبری ہمارا شعار بن چکا ہے ، ملاوٹ اور دھوکہ دہی کے ہم اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ ہمارے کاروبار کے لئے جھوٹ، لالچ اور طمع جزو لازم بن گئے ہیں ، اسی طرح کے کچھ کاروباری لوگوں کو جب آن لائن خرید وفروخت کے سسٹم کا پتہ چلا تو انہوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا ، لوگوں کو چونکہ زیادہ انفارمیشن نہیں تھی تو لوٹ مار کا ایسا بازار گرم ہوا کہ انسان آن لائن نام سنتے ہوئے بھی کانوں کو ہاتھ لگائے ۔۔۔
اسی لئے یہ نظام بہتوں کو ابھی تک کنفیوز کر رہا ہے اور لوگ اس کی حقیقت کو سمجھ نہیں پارہے ہیں ، لیکن اس سب کے باوجود یہ کہنا کہ آن لائن بالکل فراڈ ہی ہوتا ہے غلط ہوگا ،
ہاں ایسا کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں آن لائن خرید وفروخت میں اکثر دھوکہ ہوتا ہے تو یہ غلط نہیں ہے ۔۔ ہمارے ہاں یہ ایک بہت بڑی خلیج ہے جو ابھی تک دور دور تک پر ہوتی نظر نہیں آرہی ہے ، اگر کوئی سچا تاجر آن لائن تجارت کرنا بھی چاہے تو اسے سسٹم کا پتہ نہیں اگر کسی کو سسٹم کا پتہ ہے تو وہ ایماندار نہیں ہے ۔۔
لیکن ایسا کرنا ناممکن نہیں آج بھی کوئی ایماندار سچا تاجر عزم اور ہمت کے ساتھ میدان میں آجائے تو آن لائن خرید وفروخت کا ایمپائر کھڑا کر سکتا ہے۔۔

آن لائن خرید وفروخت سسٹم کا تعارف:

یورپی ممالک میں لوگوں کے پاس جس چیز کا فقدان ہے وہ " وقت " ہے ، جہاں ان لوگوں کے پاس وسائل زیادہ ہیں وہیں ان لوگوں کے پاس وقت کی بھی کمی ہے ، اور اس کمزوری کو عالمی ساہوکار نے برسوں پہلے سمجھ لیا ، وقت کی قلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے سب سے پہلے فاسٹ فوڈ شروع کیا تاکہ لوگ کھڑے کھڑے کھانا کھا سکیں ، اور گھر پہ صرف ہونے والا وقت بچ جائے ،
عالمی منصوبہ سازوں نے مارکیٹ کے اندر خریداری پہ ضائع ہونے والے وقت کو بچانے کے لئے آن لائن خریداری کا سلسلہ متعارف کروایا ، اور آن لائن بینکنگ سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ اس قدر عام ہوا کہ ترقی یافتہ ممالک میں سوئی سے ہیلی کاپٹر تک ہر چیز آن لائن خریدی اور بیچی جانے لگی ، اربوں کے بزنس کھڑے کئے گئے اور سالانہ کھربوں کی خرید وفروخت کی جانے لگی اور اس میں ہر آئے روز تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ، لوگ گھر بیٹھے آرڈر دیتے ہیں اور مطلوبہ چیز دروازے پہ پہنچا دی جاتی ہے ۔۔

آن لائن بزنس کا طریقہ کیا ہے؟

آن لائن بزنس کرنے والی کمپنیاں بالکل عام کاروبار کی طرح انٹرنیٹ پہ اپنا کاروباری سیٹ اپ کھڑا کرتی ہیں ، دوکان بناتی ہیں ، مال سٹاک کرتی ہیں ، اعلانات کرکے لوگوں کو متوجہ کرتی ہیں ، خود کو نظروں کے سامنے لاتی ہیں ، اپنی پروڈکٹ کو پیش کرتی ہیں اور پسند نا پسند کا اختیار دیتے ہوئے آن لائن چیز کو منتخب کرنے کا موقع مہیا کرتی ہیں اور پھر انتخاب کی جانے والی اشیاء کو بذریعہ آن لائن خریدنے کا موقع فراہم کرتی ہیں ۔۔

آن لائن دوکان ؟؟؟؟ مگر کیسے ؟؟؟

انٹر نیٹ بھی ہماری دنیا کی طرح ایک دنیا ہے ، انٹر نیٹ کی بھی زمین ہے جس کو گوگل ارتھ کہتے ہیں ، ہمیں جب اپنے کاروبار کو انٹر نیٹ کی دنیا میں شروع کرنا ہو تو ہمیں کاروبار کی کیفیت ، پروڈکٹ ، معلومات ، مطلوبہ جگہ اور حجم رکھنے والی دوکان درکار ہوگی جسے انٹر نیٹ کی دنیا میں "ویب سائٹ " کہتے ہیں ، اور اس دوکان کے لئے ہمیں پلاٹ چاہئے ہوگا ، اب یہ ہماری مرضی پہ منحصر ہے کہ ہم اپنا پلاٹ کہاں اور کتنا خریدتے ہیں ؟ اور اس پہ کتنا کام کرواتے ہیں ؟ جس طرح ڈیفنس کے پلاٹ مہنگے اور عام شہری ایریا کے سستے ہوتے ہیں انٹر نیٹ کی دنیا میں بھی ایسے ہی ہوتا ہے ، بسا اوقات بلکہ اکثر پلاٹ بہت سستے داموں مل جاتے ہیں انٹر نیٹ کی زبان میں اس پلاٹ کو " ہوسٹنگ " کہتے ہیں۔۔
پھر اس کاروبار کا ایک نام رکھنا ہوتا ہے جس کو "ڈومین " کہتے ہیں ۔۔پھر ہمارے پلاٹ پہ "ڈویلپرز " اور "ڈیزائنرز" مل کر ایک دوکان بناتے ہیں ۔۔اور ہم اپنے مکمل تعارف ، رابطہ نمبرز اور ای میل دینے کے بعد اپنی پروڈکٹ کے اشتہارات سجا کر بیٹھ جاتے ہیں ، جس طرح مارکیٹ میں لوگوں کا گذر ہوتا ہے اسی طرح انٹر نیٹ پہ بھی لوگ گذر رہے ہوتے ہیں ، اگر ہم نے اچھا پلاٹ لیا ہو ، اچھے کاریگر سے دوکان کی تعمیر کی ہو ، اچھے ڈویلپر نے ہماری دوکان کی سجاوٹ کی ہو ، لوگوں کی ضرورت کے مطابق اس میں اشیا ء میسر ہوں اور گذرنے والوں کی نظروں کے سامنے آئے تو ہر دیکھنے والی آنکھ ایک بار ضرور رکتی ہے اور آپ کی چیزوں کو غور سے دیکھتی ہے ۔۔۔
آپ کی دوکان کو لوگوں کے سامنے لانے کے لئے ایک تجربہ کار فرد کی خدمات چاہئے ہوتی ہیں ، جو آپ کی دوکان کی فروخت بڑھانے میں ممد ومعاون ثابت ہوتا ہے ، وہ آپ کو اس سے متعلق وہ تمام مراحل بتاتا ہے جس سے آپ اپنے آن لائن بزنس کو بہتر سے بہتر بنا سکیں ۔۔۔اس تجربہ کار کو انٹر نیٹ کی زبان میں "ایس۔ ای ۔ او ایکسپرٹ " کہتے ہیں۔۔

آن لائن کام کے لئے ویب سائٹ ضروری ہے؟

جی ہاں آن لائن کسی بھی کام کو سرانجام دینے کے لئے ویب سائٹ کو ہونا لازمی ہے کیونکہ ویب سائٹ آپ کے ادارے ، کمپنی ، پروڈکٹ کا تعارف ہے ، جب تک آپ لوگوں کو یہ نہیں بتائیں گے کہ آپ کیا فروخت کرتے ہیں ؟ کیسے فروخت کرتے ہیں ؟ آپ کی چیز کا معیار کیا ہے ؟ قیمت کیسے لی جاتی ہے؟ کون کون سی چیزیں بیچتے ہیں ؟ وغیرہ وغیرہ تو آپ کی چیزیں فروخت کیسے ہونگیں ؟
آپ کی ویب سائٹ ان تمام سوالوں کا جواب ہوتا ہے جو کسٹمرز کے ذہن میں آتے ہیں ، یاد رکھئیے آن لائن فیلڈ میں بھی انسان ہی خریدتے ہیں مشینیں نہیں ، وہ بھی ہماری طرح چلتے پھرتے اور سوچتے ہیں ، جس طرح بازار کی دوکان کی سجاوٹ ، بناوٹ اور سلیقہ کو دیکھ کر لوگ کھینچے چلے آتے ہیں آن لائن مارکیٹ میں بھی بالکل ایسا ہے ، اگر آپ کے ذہن میں یہ تصور ہے کہ آن لائن کاروبار بس ایسے ہی خود بخود چل پڑتا ہے تو یہ آپ کی غلط سوچ ہے ، اس کاروبار کے لئے بھی مکمل توجہ ، محنت ، سرمایہ ، تجربہ اور سلیقہ درکار ہوتا ہے ۔۔۔تب جا کر آن لائن فیلڈ سے بندہ کچھ کمانے کے قابل ہوتا ہے۔۔
اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کہ آن لائن کاروبار کیسے ہوتا ہے ؟ ارے بھائی جیسے دنیا میں کاروبار ہو رہے ہیں ویسے ہی ہوتا ہے بس فرق ہے تو صرف اتنا کہ خرید وفروخت آن لائن ہے اور کوئی فرق نہیں ۔۔

کیا میرے پاس اپنی پروڈکٹ ہونا ضروری ہے؟

جی نہیں ، آپ کو اپنی پروڈکٹ کی ضرورت نہیں ہے لیکن آپ مارکیٹ کی ان لیکویڈ پروڈکٹ پہ کام کر سکتے ہیں ، جیسے کمالیہ کا کھدر ، ملتان کا کھسہ، چنیوٹ کا فرنیچر، فیصل آباد کا کاٹن وغیرہ۔۔

اگر میرے پاس سرمایہ نہ ہو تو؟؟؟

دیکھیں کسی بھی کام کے لئے سرمایہ تو درکار ہوتا ہے ، بغیر سرمائے کے بزنس مشکل ہے ، اس لئے آپ کو دو سے تین لاکھ تک کا سرمایہ تو چاہئے ، بس فرق یہی ہے کہ آن لائن جو کام آپ تین لاکھ سے سٹارٹ کررہے ہیں آف لائن وہ کاروبار تین کروڑ لگا کر بھی شروع نہیں کر سکتے ،آن لائن فیلڈ میں زیادہ سرمایہ ضروری نہیں ہے ، جو آپ کو خرچ کرنا ہے وہ اپنے سسٹم پہ کرنا ہے ، اور آپ کا سسٹم جب چل پڑے گا تو بنیادی سرمایہ تب بھی محفوظ ہے ، ویب سائٹ سمیت سب کچھ قابل فروخت ہے ، اور ادا شدہ سرمایہ سے زیادہ قیمت بھی مل سکتی ہے ، اگر آپ کو اپنی پروڈکٹ پہ کام کرتے ہوئے خوف محسوس ہورہا ہو تو آپ مشہور کمپنیوں کے پارٹنر بھی بن سکتے ہیں ، آن لائن بے شمار کمپنیاں اپنی پروڈکٹ کو فروخت کرنے کے لئے آپ کو بغیر سرمایہ کاری کے حصہ دار بنا سکتی ہیں ، پروڈکٹ کی فروخت پہ آپ کو اچھا کمیشن ملتا ہے۔۔

میں پروڈکٹ بھیجوں گا کیسے ؟؟؟

آن لائن کاروبار کے لئے کارگو بہترین راستہ ہے ، ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے علاوہ بے شمار ایسی کمپنیز ہیں جو آپ کی چیز کو کسٹمرز تک پہنچاتی ہیں ، اور فروخت شدہ چیز دے کر کسٹمرز سے پیسے وصول کرتی ہیں اور ڈائریکٹ آپ کے اکاؤنٹ میں پروڈکٹ کی قیمت جمع کروا دی جاتی ہے ۔۔
ایک اور بات یاد رکھئیے آن لائن فیلڈ میں پیسے ایڈ وانس نہیں ملتے ہیں ، پہلے آپ کو چیز بھیجنا پڑتی ہے ، اور کسٹمرز کو پارسل کھولنے کی اجازت تب تک نہیں ملتی جب تک وہ متعلقہ کارگو کمپنی کے نمائندے کو قیمت ادا نہ کردے ، بعض اوقات کسٹمر چیز وصول ہی نہیں کرتا ، اس سے بالکل پریشان نہیں ہونا ، سینکڑوں میں سے کوئی ایک ایسا کرتا ہے ۔۔

آف لائن اور آن لائن بزنس میں کیا فرق ہے؟

آف لائن بزنس وہی ہے جو آج کل %99 لوگ کر رہے ہیں اور آن لائن محض ایک فیصد لوگ کر رہے ہیں ، ویسے تو ان دونوں میں کچھ خاص فرق نہیں لیکن سرمایہ کاری کے لحاظ سے زمین آسمان کا تفاوت ہے ، آف لائن بزنس میں سرمایہ بہت چاہئے ہوتا ہے لیکن آن لائن بزنس میں اس قدر زیادہ سرمایہ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ، آف لائن کاروبار کے لئے اگر فیکٹری بنانی ہو تو ایک ارب کے لگ بھگ رقم درکار ہوگی جبکہ آن لائن یہی کام لاکھوں میں ہوجائے گا ۔۔سروسز کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ایک ہی کام ہےلیکن اگر منافع کا حساب لگایا جائے تو آن لائن کام کے فوائد زیادہ ہیں ۔۔

آن لائن کیا فروخت کیا جا سکتا ہے؟

دنیا کی کوئی بھی پروڈکٹ بذریعہ آن لائن فروخت کی جاسکتی ہے ، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ آپ کے فروخت کرنے کا طریقہ کار کیا ہے ؟
کیونکہ صرف ویب سائٹ بنا دینے سے چیزوں کی فروخت شروع نہیں ہوجاتی ہے بلکہ اس پہ اچھا خاصا ٹائم لگتا ہے اور طویل محنت بھی درکار ہوتی ہے تب جا کر آپ کی چیزیں فروخت ہوتی ہیں ۔۔

اس حوالے سے آپ حاجی مختار کی مثال لیں
اس نے ایک ماہر ڈویلپر سے ویب سائٹ بنوائی ، اچھے رائٹر سے اپنی ویب سائٹ کے لئے مواد لکھوایا ، اپنی پروڈکٹ کی بہترین تصویروں کےلئے ماہر ترین گرافک ڈیزائنر کی خدمات لیں ، ویب سائٹ کو لوگوں کے سامنے فرنٹ پیج پہ لانے کے لئے ایس ۔ ای ۔ او ایکسپرٹ کا سہارا لیا اور تین اچھے سسٹم خرید کر آفس میں آن لائن مارکیٹنگ کے تین چار لوگ ملازم رکھ لئے ، بہترین مشاورتی ٹیم کے ساتھ شراکت کرتے ہوئے بزنس سٹارٹ کر لیا ،
اس کی پروڈکٹ چنیوٹ کا فرنیچر تھا ، اس نے آئیڈیاز لئے کہ اس فرنیچر کی مانگ بہت زیادہ ہے تو وہ مارکیٹ پہنچا اور وہاں اپنے تعلقات تلاش کئے اور استعمال بھی کئے ، ہر قسم کے فرنیچر کی تصویریں لیں اور ویب سائٹ پہ لگا دیں ، تعارفی آرٹیکلز بھی لکھوا لئے اور ایس ۔ ای ۔ او ایکسپرٹ کے ذریعے پروموشن شروع کروادی ۔۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ حاجی مختار مستری تھا ، وہ تو عام سا ایک آدمی تھا لیکن بس اسے ایک آئیڈیا ہاتھ آگیا اور بس اس پہ کام شروع کر دیا ،
چنیوٹ کے مستریوں سے معلومات کی اور جو جو تصویریں لیں تعارف میں وقت بھی لکھا کہ کتنے وقت میں ایسا فرنیچر آپ کو دیا جاسکے گا ؟
پھر کیا تھا بس آرڈرز آنے لگے اور چکر پہ چکر۔۔۔
فرنیچر بنوانے سے کراچی پورٹ تک پہنچانا اور کسٹم لگوا کر بھجوانا اس کی ذمہ داری تھی ، لگے ہاتھوں اس نے لائسنس بھی بنوا لیا تھا ، اب اسے کوئی مسئلہ نہ تھا ۔۔۔
وہ دن ہے اور آج کا دن حاجی مختار ماہانہ لاکھوں میں آمدنی حاصل کررہاہے ۔۔
اس پیج کو لائک کیجئے ، Reviews اور کمنٹس دیجئے ، اور اپنی والز پہ اس کو پھیلانے میں ہمارا تعاون کیجئے ۔۔
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔

والسلام

24/11/2018

Chineese are great because they understand this.....

اگر پاکستان کے 21 کروڑ لوگوں میں سے صرف 30٪ لوگ روزانہ 10 روپے کا جوس پیں تو مہینے بھر میں تقریبا "1800 کروڑ" روپے خرچ ہوتے ہیں ۔

اور اگر آپ انہی پیسوں سے کوکا کولا یا پیپسی پیتے ہیں
تو یہ "1800 کروڑ" روپے
ملک سے باہر چلے جاتےہیں ....

اصل میں کوکا کولا اور پیپسی جیسی کمپنیاں روزانہ
"3600 کروڑ" سے زیادہ مال غنیمت اس ملک سے جمع کرتی ہیں ...

آپ سے درخواست ہے کہ آپ ...
گنے کے جوس اور پھلوں کے رس وغیرہ کو اپنائیں اور ملک کے "3600 کروڑ" روپے بچا کر ہمارے کسانوں کو دیں ...

"کسان خود کشی نہیں کریں گے .."

پھلوں کے رس کے کاروبار سے
"1 کروڑ" لوگوں کو روزگار ملے گا ... آپ کا یہ چھوٹا سا کام ملک میں خوشحالی لا سکتا ہے۔

مقامی اپناو،
قوم کو طاقتور بنائیں ...

اور یہ میسیج تین لوگوں تک ضرور پہنچائے ..
میسج رکنا نہیں چاہئے ..
CocaCola
Maggi
Fanta
Garnier
Revlon
Lorial
Huggies
Pampars
MamyPoko
Libro
Levis
Nokia
Macdonalds
Calvin Klin
Kit kat
Sprite
Nestle
Pepsi
KFC
یہ
اسی لئے ان کی کمپنی کے مارکیٹ بھاو بھی گر گئے ہیں.
🇵🇰please aap ke jitne bhi group ho us pe send kare

-كولگیٹ
نہیں تھا تو کیا پاکستان میں
لوگ دانت صاف نہیں کرتے تھے؟

-
فئر اینڈ لولی نہیں تھی تو کیا سب
پاکستانی
عورت کالی تھی؟
-
مقامی اپنائے ملک بچاےے
اگر
تمام پاکستانی 150
دن تک
کوئی
بھی غیر ملکی سامان
نہیں خریدے ...
تو پاکستان
دنیا کا دوسرا سب سے
امیر ملک بن سکتا ہے ..

صرف 150 دن میں ہی پاکستان کے
2 روپے 1 ڈالر کے برابر
ہو جائیں گے ..

ہم سب کو مل کر
یہ کوشش آزمانی چاہئے
كيونکہ یہ ملک ہے ہمارا ہے.. !!!!

ہم جوكس اتنے بیکار کے مسجز فارورڈ کرتے ہیں.
کیوں نہ اسے بھی اتنا فارورڈ
کریں تا کہ سارا پاکستان اس کو پڑھے ...
اور
ایک تحریک بن جائے ...... !!
آئیے نئے پاکستان کی بنیاد اپنے گھر سے رکھیں۔۔

13/11/2018

؟
ہمارے دفتر کے قریب ایک نیا ریستوران کھلا جسکا نام "اسپائسی مینگو" ہے ۔ہم اس پر پہلی دفعہ کھانا کھانے گئے تو کھانے کا معیار کافی اچھا تھا اور ریٹس بھی کافی مناسب تھے اس کے علاوہ ہر گاہک کو کافی اہمیت بھی دی جا رہی تھی۔دو دفعہ ہمارا چکر وہاں لگا اور دونوں ہی دفعہ ہمارے تاثرات بہت اچھے تھے.پھر ہمارے ہاں ایک مہمان آیا اور چونکہ اس ریستوران کی ہوم ڈیلیوری سروس بھی تھی تو ہم نے کھانا آرڈر کیا کچھ ہی دیر میں کھانا ہماری رہائش پر پُہنچ گیا لیکن جب ہم نے دیکھا تو اُس کے ساتھ کولڈ ڈرنک موجود نہیں تھی ہمیں اس بات پر کافی غصّہ آیا اور تہیّہ کیا کے آئندہ اس ریستوران پر نہ جانا ہے اور نہ ہی کوئی چیز آرڈر کرنی ہے.خیر ہم نے اُنہیں کال کی اور شکایت درج کروائی اتفاق سے اُس وقت ہوٹل کی مالک جو ایک خاتون تھیں وہ پاس کھڑی تھیں انہوں نے رسیور خود پکڑ لیا اور ہماری شکایت سنی اور بہت زیادہ معذرت کی اور اپنے عملے کی سرزنش بھی کی اور ہمیں یقین دلایا کہ تھوڑی دیر تک آپکے پاس مطلوبہ سامان پُہنچ جاتا ہے.اتفاق سے اُس وقت اُن کے پاس ڈیلیوری بوائے موجود نہیں تھا ۔تھوڑی دیر کے بعد وہ محترمہ خود اپنی گاڑی پر ہمیں سامان دینے آ گئیں اور ساتھ کافی معذرت بھی کی اُس وقت تقریباً رات 10:30 کا وقت تھا.اُن کے اس طرح ہماری شکایت کا ازالہ کرنے سے ہمارے دل میں اُن کی عزت بڑھی اور اس ریستوران پر دوبارہ جانے اور وہاں سے سامان منگوانے کا ارادہ کر لیا.
اس طرح چھوٹی سی مشقت سے انہوں نے اپنے کسٹمر کو ضائع ہونے سے بچا لیا....
تو یاد رکھیں اپنے گاہک کو عزت دینے میں ہی آپکے کاروبار کی ترقی کا راز پوشیدہ ہے...تو گاہک کے ساتھ خوب خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور انکی شکایات کا بروقت اور فوری ازالہ کریں اس طرح آپ دیکھیں گے کہ انشاء اللہ بہت کم وقت میں آپکا کاروبار بہت زیادہ ترقی کر جائے گا.
کیوں کہ کہتے ہیں نا کہ....
میٹھی زبان والے کی مرچیں بھی بک جاتی ہیں اور کڑوی زبان والے کا شہد بھی نہیں بکتا....
تحریر:حامد بشیر

22/10/2018

جگر کو صحت مند رکھنے والی عادات اور غذائیں
روزنامہ جنگ کراچی
فاروق احمد انصاری20 ستمبر ، 2018

جگر خون کو صاف کرنے کے ساتھ ساتھ جسم میں تقریباً 500دیگر اہم کام بھی انجام دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جگر کی سوجن سے انسان کی صحت بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔ جگر کی سوجن کو ہیپاٹائٹس کہتے ہیں۔ عام طور پر یہ بیماری وائرس کے ذریعے لگتی ہے۔ سائنسدانوں نے پانچ ایسے وائرس دریافت کئے ہیں، جن سے یہ بیماری لگ سکتی ہے اور اُن کا خیال ہے کہ مزید تین وائرس موجود ہیں جو اِس بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔ اکثر حالتوں میں وائرس جب جسم میں داخل ہوتا ہے تو جسم کا دفاعی نظام خود ہی اس کا مقابلہ کرتا ہے اور اکثر لوگ خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں، جن کا دفاعی نظام کسی وجہ سے ان جراثیم کا مقابلہ نہیں کر پاتا۔ ابتدائی طور پر اس بیماری کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی اور جب علامات ظاہر ہوتی ہیں تو بیماری کافی آگےبڑھ چکی ہوتی ہے۔

جگر کی خرابی کی علامات

یہاں ہم آپ کو ان علامات کے بارے میں بتا رہے ہیں، جو جگر کی خرابی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اگر آپ کو ان میں سے کسی بھی علامت کا سامنا ہے تو آپ کو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔

٭وزن میں اچانک کمی

٭بھوک ختم ہوجانا

٭غنودگی، چکر آنا اور متلی کا احساس

٭ہر وقت تھکاوٹ کا احساس

٭پیٹ کے اوپری حصے میں تکلیف محسوس ہونا

جگر کے امراض سے حفاظت

جگر کو مختلف امراض اور مسائل سے بچانے کیلئےصحت مند طرز زندگی کو اپنانا چاہیے۔ گوشت، پھل، سبزی، اور ڈیری غذائیں متوازن طریقے سے کھائی جائیں تاکہ جسم کی تمام غذائی ضروریات پوری ہوں۔ خون کی منتقلی کے دوران نہایت احتیاط برتی جائے ورنہ یہ ہیپاٹائٹس جیسی بیماری کا سبب بن سکتی ہے۔ جسمانی صفائی کا خیال رکھا جائے۔ گھر سے دور ہوں تو نلکے کا پانی پینے سے گریز کریں۔ تمباکو نوشی، شراب نوشی اور دیگر اقسام کی منشیات سے گریز کیا جائے۔ ورزش کو زندگی کا معمول بنایا جائے۔ اس کے علاوہ درج ذیل امورپر بھی عمل کیا جائے۔

پرسکون رہیں

اپنے تناؤ پر قابو پانا بہت ضروری ہوتا ہے، جب آپ تناؤ کے شکار ہوتے ہیں تو جسم میں ایک ہارمون ’اڈرینالین‘ کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جسے صاف کرنے کے لیے جگر کو بہت زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔

مناسب نیندلیں

روزانہ7گھنٹے کی نیند کو یقینی بنائیں کیونکہ جگر کو اس وقفے کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے، جو اسے امراض سے بچاتی ہے۔

حرکت میں رہیں

اگر آپ دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں تو جگر بڑھنے یا اسے متاثر کرنے والےامراض کا سامنا کرنے کے لیے آپ کو تیار رہنا چاہیے۔ اس کے مقابلے میں جسمانی طور پر متحرک رہنا، جیسے روزانہ کم از کم10ہزار قدم چلنا، جگر کے امراض کا خطرہ20فیصد تک کم کردیتا ہے۔

زیادہ پانی پینا

جسم میں پانی کی کمی مختلف مسائل کا سبب بنتی ہے، جن میں جگر کے افعال بھی شامل ہیں۔ روزانہ8سے10گلاس پانی کا استعمال جگر کی صفائی کے عمل کو بہتر بناتا ہے، جو کہ اسے امراض سے بچانے کے لیے بہت ضروری ہے۔

صحت بخش غذاکا استعمال

جنک فوڈ کا کم استعمال اور اومیگا تھری ایسڈز سے بھرپور غذاؤں کا زیادہ استعمال جگر کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ جنک فوڈ میں موجود چربی جگر پر جم جاتی ہے، جو سوجن اور دیگر عوارض کا باعث بنتی ہے جبکہ جسم کے لیے مناسب چربی اس سوجن کے خلاف جدوجہد کرتی ہے۔

اجناس کا استعمال

چینی، سفید آٹے اور پروسیسڈ فوڈ کا استعمال کم کریں اور سبزیوں، پھلوں اور اجناس کو ان کی جگہ ترجیح دیں۔ یہ غذائیں موٹاپے اور ذیابطیس سمیت مختلف امراض سے آپ کو تحفظ فراہم کرتی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ جگر کو بھی صحت مند رکھتی ہیں۔

جگر کو خرابی سے بچانے والی غذائیں

لہسن، چقندر، سبز چائے، لیموں، ہلدی اور اخروٹ جیسی غذاؤں کا باقاعدگی سے استعمال آپ کے جگر کو مختلف بیماریوں سے بچا کر انہیں صحت مند اور فعال رکھتا ہے۔ ان تمام غذاؤں میں موجود اجزاء بشمول وٹامن سی، فیٹی ایسڈز، اینٹی آکسیڈنٹس اور انزائم وغیرہ جگر کی صفائی کر کے اس کی کارکردگی میں اضافہ کرتے اور مختلف خرابیوں سے بچاتے ہیں۔

صحت مند زندگی گزارنے کے لئے ضروری ہے کہ روزانہ ورزش کرنے کو اپنا معمول بنایا جائے اور ساتھ میں صحت مند غذائیں کھائی جائیں ۔ تاکہ آپ کی جسمانی ضروریات پوری ہو سکیں ۔

08/10/2018

‏رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

کوئی بھی مسلمان جو ایک درخت کا پودا لگائے یا کھیتی میں بیج بوئے، پھر اس میں سے پرند یا انسان یا جانور جو بھی کھاتے ہیں وہ اس کی طرف سے صدقہ ہے ـ۔

(صحیح بخاری حدیث نمبر ٢٣٢٠)

07/10/2018

بے روزگاری اور کم سرمائے کا رونا رونے والوں کے لیے بہترین تحریر لازمی پوری پڑھیں..

ایک انوکھی کنسلٹنسی سروس

ایک دفعہ ایک صحابی نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ امداد کے طالب ہوئے
اس کا واضح مطلب معاشی مجبوریوں کا حل بھی در نبوت سے ملتا تھا جبھی اس نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پہ حاضری دی اور آپ نے اس کی بات کو غور سے سننے کے بعد ان سے دریافت فرمایا۔

” تمہارے پاس کوئی چیز بھی ہے“؟

وہ بے چارے اتنے غریب و نادار تھے کہ جواب میں انہوں نے عرض کیا” میرے پاس صرف ایک ٹاٹ ہے، جس کے ایک حصہ کو اوڑھ لیتا ہوں اور دوسرے کو بچھاتا ہوں۔ اس کے سوا ایک پیالہ بھی ہے، جس میں پانی پیتا ہوں۔“

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اسی پیالے اور ٹاٹ کو لے آؤ۔

اس کا مطلب کسی کام کی بنیاد رکھنے کے لئے لازمی ہے کہ اس میں جس قدر ہو سکے ذاتی سرمایہ لگایا جائے تاکہ وہ کاروبار پھل پھول سکے--اب چاہے وہ سرمایہ کم ہی کیوں نہ ہو اسی میں ہی ترقی کا راز چھپا ہے

بالاخر وہ صحابی اپنا ٹاٹ اور پیالہ لے کر آئے، دیکھنے والوں نے دیکھا اور دنیا دنگ رہ گئی کہ نبی صلی الله علیہ وسلم خود اس پیالہ اور ٹاٹ کو اپنے ہاتھ میں لے کر، اس کا نیلام کرنے کھڑے ہو گئے اور پکارنے لگے۔
من یشتر ھذین؟ ان دونوں کو کون خریدتا ہے ؟؟
ایک صاحب نے کہا:
انا آخذھما بدرھم․
میں لیتا ہوں ایک درہم میں--'

اس کا مطلب اگر اشیاء کو بیچنے کی نوبت آئے تو آواز لگانا ، پکارنا ، صدا دینا ، متوجہ کرنا تجارت کا حصہ ہے اور پیغمبر کے اسی عمل سے منڈی کی تجارت کا جواز ملتا ہے اور صحابی کا ان اشیاء کے لئے قیمت پہ راضی ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ نیلام ہونے پہ اگر کسی شے کی قیمت آپ کو سمجھ آرہی ہو تو بغیر چھوئے جیسے ہے جہاں ہے کی بنیاد پہ خریدا جا سکتا ہے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی الله علیہ وسلم نے پھر حاضرین کو مخاطب کیا:
من یزید علی درھم؟ ایک درہم پر اضافہ کون کرتا ہے؟
اور لوگوں کو اس طرف توجہ دلوائی بالآخر دو درہم پر بولی ختم ہو گئی--

اس سے یہ ظاہر ہوا کہ اگر آپ کو پروڈکٹ کی قیمت زیادہ مل رہی ہو تو آپ بیچ سکتے ہیں ، خریدار دیکھنا چاہئے ، اگر قیمت بڑھتی نظر آئے تو فروخت کرنے میں مضائقہ نہیں

بالآ خریدار کو ٹاٹ اور پیالہ دے دیا گیا اور دو درہم جو قیمت میں وصول ہوئے تھے وہ حاجت مند انصاری کے حوالے کرکے ارشاد فرمایا

"ایک درہم سے اناج خریدکر اپنے گھر والوں کودو اوردوسرے درہم سے ایک کلہاڑی خرید کر میرے پاس لے آو "

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پیغمبر کائنات سرمائے کی کمیت کے مطابق مشورہ بھی دیا کرتے تھے ، اور مشورہ میں انویسٹمنٹ اور انویسٹر کی گھریلو ضروریات کو بھی مدنظر رکھا کرتے تھے --
بزنس کنسلٹنٹ کی حیثیت سے معاشیات کے طالب علم کو سیرت کے اس پہلو سے ضرور واقف ہونا چاہئے

حضرت انس رضی اللہ عنہ جو اس روایت کے راوی ہیں، فرماتے ہیں کہ جس وقت انصاری صحابی نے کلہاڑی لاکر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو دی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس میں دستہ ڈالا

اس سے صاف ظاہر ہے کہ پیغمبر بزنس کی بنیاد رکھنے والے بھی ہیں ، ان کی ذات ستودہ صفات نے نہ صرف بزنس کی طرف توجہ دلائی بلکہ اس کے لئے کاروبار بھی تجویز فرمایا اور کاروبار کے آغاز کے لئے اپنے مبارک ہاتھوں سے بنیاد بھی رکھی اور فرمایا

"اس کلہاڑی کو لے جاؤ اور لکڑیاں کاٹ کاٹ کر لاؤ اور اس کو بیچو اور پندرہ روز کے بعد پھر مجھ سے ملنا "

وہ چلے گئے اور پندرہ دن بعد جب خدمت مبارک میں حاضر ہوئے تو وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے کہہ رہے تھے

" ان پندرہ دنوں میں دس درہم آمدنی ہوئی، جس میں سے چند درہم کے تو کپڑے خریدے گئے اور چند درہم کا غلہ مول لیا گیا"

اس کا مطلب کہ پیغمبر دوعالم ایک مشاق کنسلٹنٹ کی حیثیت سے فیڈ بیک پراسس بھی لیتے تھے تاکہ اندازہ ہوسکے کہ بزنس کس نہج پہ جا رہا ہے اور کس طرح کے اخراجات ہو رہے ہیں ؟؟ کیپیٹل کتنا ہے؟؟ اور اس کا مصرف کہاں ہوا ہے ؟؟

انصاری صحابی کی یہ بات سن کر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دمک اُٹھا اور فرمایا:

” یہ بہتر ہے اس سے کہ تم قیامت کے روز بھیک کا داغ اپنے چہرے پر لگائے ہوئے آؤ"

اس آخری بات سے پیغمبر نے تجارتی عمل کی تعریف کی ہے کہ بلا رنگ ونسل اور حیل وحجت خریدو اور بیچو اور جو حاصل ہو اسے اپنے مصرف میں لاو ، شرم اور جھجھک کو ایک طرف رکھتے ہوئے چھوٹے سے چھوٹا بزنس بھی کرنا پڑجائے تو پیچھے مت ہٹو بلکہ میدان عمل میں کود پڑو یہی کامیابی کی معراج ہے

Address

Shop# A3 City Center Ashraf Road
Peshawar
25000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shahi Trader's شاھی ٹریڈرز posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share