AWAN GROUP Of Punjab

AWAN GROUP Of Punjab 03022954756

25/10/2025

آجکل اعوان قبیلہ کے متعلق بعض دوست اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں چونکہ میں تاریخ کا طالب علم ہوں اور علم الانساب کے ماہرین(نسبدان) و محققین و مصنفین و معززین کی سرپرستی میں تاریخ و علم الانساب کا مطالعہ کرتا رہا ہوں اور شوق رکھتا ہوں تو آج کچھ سوالوں کے جوابات اس موضوع پر لکھنا چاہتا ہوں میری اس تحریر کو مکمل طور پر کوئی بھی غیرجانبدار تحقیق کے حصول کی خاطر پڑہے تو کافی استفادہ حاصل ہو سکتا ہے ان شاءاللہ
بعض کا کہنا ہے کہ اعوان راجپوت ہیں اور بعض کا کہنا ہے کہ اعوان گوجر (گجر) قبیلہ سے ہیں اور آریائی نسل سے ہیں اور بعض نے اعوانوں کو جاٹ اور بعض نے ترک ظاہر کیا مگر یہ اعوان کی وجہ اور خاص کر قطب شاہی کی وجہ تسمیہ بیان نہیں کر سکتے ہمارے لیے تمام قبائل بہت معزز ہیں اور ہم سب کی عزت و احترام کرتے ہیں اور بعض کا کہنا ہے کہ چونکہ محکمہ مال کے ابتدائی بندوبست کے ریکارڈ میں آوان قبیلہ کو گوت کے خانہ میں درج کیا گیا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آوان گوت ہے قبیلہ نہیں اور یہ گجر ہیں وغیرہ تو اگر یہ بات درست مان بھی لیں کہ آوان گوت کے خانہ میں درج ہیں تو بھی اعوان کیسے ثابت ہو گا کہ گجر ہیں ہاں وہ علوی قبیلہ کی ذیلی شاخ اعوان ہیں جو کہ اب ایک قبیلہ کی صورت اختیار کر چکے ہیں نہ کہ گجر قبیلہ سے ہیں، یاد رہے آج تک کسی بھی علوی قطب شاہی اعوان قبیلہ کے کسی بھی معزز نے جن کا ذکر آگے چل کر مفصل طور پر کیا جائے گا نے نہیں کہا کہ ہم قطب شاہی اعوان گجر قبیلہ یا آریائی یا کسی اور قبیلہ سے ہیں ہمارے لیے تمام قبائل معزز ہیں مگر ہم اپنا شجرہ نسب وہی درج کریں گے جو ہم تک تواتر سے پہنچا ہے
کسی بھی قبیلہ پر تحقیق سے پہلے پہلا اصول یہ ہے کہ اس قبیلہ کے معززین محققین و نسابہ و مصنفین سے تمام تر سینہ با سینہ و قلمی روایات کو جمع کیا جاتا ہے اس کے بعد ان سے پہلے جو ہو گزرے ہیں ان کی روایات کو شامل کیا جاتا ہے کہ آیا موجودہ شخصیات کا اپنے قبیلہ کے بزرگ معززین سے روایات مطابقت کرتی ہیں یا مختلف ہیں اس کے بعد تاریخ کی کتب جن میں غیرجانبداری سے ہر قبیلہ کے متعلق لکھنے والے موجود ہوتے ہیں یا اس قبیلہ کے محققین و مصنفین کی کتب کا مطالعہ کیا جاتا ہے جو ہوں تو بظاہر دو قبیلے مگر دونوں ہم جد ہوں ان دو میں سے وہ قبیلہ جو زیادہ معزز ہو وہ اپنے ہم جد قبیلے کے متعلق لازمی طور پر کچھ نا کچھ ضرور لکھتا ہے اب جیسا کہ اعوانوں کا دعوٰی ہے کہ سید اور اعوان حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اولاد سے ہیں یعنی ہم جد ہیں سید فاطمی اولاد ہیں اور اعوان غیر فاطمی تو دیکھنا پڑے گا کہ معزز قبیلہ سادات کے نسابہ و محققین و مصنفین نے بھی اعوانوں کے متعلق کچھ لکھا ہے تو آئیں پہلے دیکھتے ہیں کہ موجودہ اعوانوں میں کون کون سے معتبر خاندانوں نے اپنی کیا روایات بیان کی ہیں سب سے پہلے ہم بات کرتے ہیں نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان سابق گورنر پاکستان کے چچا نواب ملک شیر محمد خان (مصنف) ان کے بعد علامہ یوسف جبریل رح ( مصنف و محقق) وادی سون کھبیکی اور پھر ملک مشتاق الہی مردوال (مصنف و محقق) وادی سون، خواص خان (مصنف کتاب تحقیق الاعوان) ساکن ہیڑاں بٹگرام ملک محبت حسین اعوان ( گولڈ میڈلسٹ سکالر مصنف و محقق) کراچی بانی و تا حیات چیئرمین ادارہ تحقیق الاعوان پاکستان رجسٹرڈ محمد کریم خان علوی قادری (مصنف و محقق و نسبدان) سنگولہ آزاد کشمیر وائس چیئرمین ادارہ تحقیق الاعوان پاکستان رجسٹرڈ جن کے والد اور اجداد سنگولہ کے نمبردار ہو گزرے ہیں وزیر محمد خان جاگیردار ساکن جلو مانسہرہ (مصنف کتاب اعوان خاندان کھیال ساکن بہلگ جلو و شہیلیہ) آپ محمد خان جاگیردار جو کہ عہد سکھاں میں جاگیردار تھے کی اولاد سے ہیں، ملک عظیم ناشاد آپ کے اجداد عہد سکھاں میں موضع ہڑیالہ مانسہرہ کے نمبردار ہو گزرے ہیں(مصنف) مخدوم موسیٰ علوی (مصنف ریسرچر محقق) آپ کا خانودہ مشہور ولی اللہ مخدوم نور محمد شاہ غازی علوی کی نسل سے ہیں موسیٰ علوی کربلا المقدسہ عراق میں چیف آرگنائزر عراق ادارہ تحقیق الاعوان ہیں ملک میر افضل (نسبدان) کاکوٹ ایبٹ آباد، آپ ہزارہ کے معروف نسبدان خاندان سے تعلق رکھتے ہیں آپ کے والد بھی قدیم نسبدان تھے مختصر خان اعوان بٹگرام (مصنف) ان کے علاوہ متعدد معتبر شخصیات جن کا مکمل ذکر کرنا یہاں مشکل ہے اپنی سینہ با سینہ روایات اور اپنے قدیم خاندانی ریکارڈ کے مطابق بیان کرتے ہیں کہ ہم اعوان حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے فرزند حضرت ابو القاسم محمد حنفیہ بن حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اولاد ہیں اور اعوان سلطان محمود غزنوی کے ہمراہ آئے ہیں
آئیے اب ہم دیکھتے ہیں کہ قطب شاہی علوی اعوان قبیلہ کے بزرگ معززین نے ابتدائی بندوبست 1872 ء میں انگریز کے سامنے اپنے قبیلہ کی تاریخ اور نسب کے متعلق کیا بیان کیا اور اسی دوران جب مختلف علاقوں کے گزیٹیئر لکھے گئے اور ان سے بھی کافی پہلے جب شجرات اقوام جو کہ فارسی زبان میں 1257 ہجری میں محمد مستقیم اعوان نے آج سے تقریبا دو سو سال پہلے لکھی جو بڑے سائز کے کاغذ کے 174 صفحات پر مشتمل ہے کتاب ہذا میں دو صفحات کو ایک شمار کرتے ہوئے 87 صفحات لکھے گئے ہیں جس میں مختلف اقوام کے شجرات تحریر کیے گئے ہیں کتاب ہذا الکرم اسلامک لائبریری کرمیہ طاہر آباد منگانی شریف پنجاب میں موجود ہے اس کی فوٹو کاپیاں خورشید حسن علوی چیف کوآرڈینٹر ادارہ تحقیق الاعوان بھکر نے محمد کریم خان علوی قادری صاحب کو بھیجی ہیں اور مناقب سلطانی سید حامد خان نے ڈیڑھ سو سال پہلے لکھی مولوی ملنگ علی گفانوالہ چکوال نسبدان کا ریکارڈ 1848ء اور مولوی حیدر علی لدھیانوی نے کتاب تاریخ حیدری 1896ء و 1909ء میں لکھی اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اعوان حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی غیر فاطمی اولاد ہیں اور ابو القاسم محمد حنفیہ بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی اولاد سے اس قطب شاہ کی اولاد ہیں جو سلطان محمود غزنوی کے ساتھ جہاد ھند شریک رہی ان میں عبداللہ گولڑہ، مزمل علی کلغان اور محمد شاہ و جہاں شاہ وغیرہ کی اولاد ہند میں آباد ہوئی یہ بات تقریباً ہر ضلع کے گزیٹیر، بندوبست رپورٹس اور انگریزی کتب میں بھی درج ہے جن میں گلوسری آف ٹرائبز اینڈ کاسٹس ،پنجاب کاسٹس ،پنجاب چیفس، پنجاب گزیٹیر بنوں، گزیٹیر، اٹک گزیٹیر وغیرہ میں اعوان بزرگ معززین کی سینہ با سینہ روایات قلم بند ہیں جس سے معلوم ہوا کہ موجودہ شخصیات اور جو پہلے ہو گزرے ہیں ان کی سینہ با سینہ روایات میں کوئی فرق نہیں
مندرجہ بالا انگریزی کتب میں سے ایک کا اردو ترجمہ یہاں سمجھنے کے لیے نقل کیا جاتا ہے تاکہ پڑہنے والوں کو اندازہ ہو کے اعوان قبیلہ کے بزرگوں کی قدیم روایات کیا تھیں چونکہ سبھی انگریزی کتب و رپورٹس و گزیٹیئرز میں تقریبا ایسی ہی روایات ہیں جن میں سے ایک ملاحظہ ہے گلوسری آف دی ٹرائبز اینڈ کاسٹس پنجاب اینڈ این ڈبلیو ایف پی(NWFP موجودہ خیبر پختون خواہ) کے مصنف ای ڈی میکلیگن اینڈ ایچ اے روز نے سر ڈینزل ابٹسن KCSI کی پنجاب مردم شماری رپورٹ 1892 کی بنیاد پر مرتب کی اور یہ پہلی مرتبہ 1911ء میں شائع ہوئی تھی اس کا اردو ترجمہ ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا کے صفحہ 40 پر اعوان کے عنوان کے حوالے سے لکھتے ہیں "ایک روایت کے مطابق اعوان جو عرب ماخذ کے دعویدار ہیں قطب شاہ کی اولاد ہیں اور ہندوستان پر حملہ آور ہونے والی مسلمان افواج کے ساتھ بطور مددگار گئے کپور تھلہ میں ایک روایت انہیں علوی سادات ثابت کرتی ہے جنہوں نے عباسیوں کی مخالفت کی اور بھاگ کر سندھ آ گئے بالا آخر و سبکتگین کے حلیف بنے جس نے انہیں اعوان کا خطاب دیا لیکن اس قبیلے کے بارے میں دستیاب بہترین بیان یہ ہے کہ اعوان یقیناً عرب ماخذ رکھتے ہیں اور قطب شاہ کی نسل سے ہیں لیکن کہا جاتا ہے کہ وہ ہرات پر حکومت کرتا تھا اور ہندوستان پر محمود غزنوی کے حملے کے وقت اس کے ساتھ مل گیا اور اس کے بیٹوں میں سے چھ ساتھ آئے"(عبداللہ شاہ گولڑہ مزمل شاہ کلگان محمد شاہ وغیرہ) ۔۔۔۔۔۔ مزید لکھا ہے کہ "قطب شاہ کی اولاد ہونے کے دعویدار ہونے کے باعث اعوانوں کو اکثر قطب شاہی بھی کہا جاتا ہے"
اعوان قبیلہ کے بزرگوں نے انگریز مورخین کو اپنی سینہ با سینہ روایات اور قلمی خاندانی شجرہ نسب اور اپنی تاریخ بتائی جو انگریز مورخین نے اپنے گزیٹیئرز و کتب وغیرہ میں شامل کیں اور پھر انہوں نے اس پر اپنی اپنی مختلف قسم کی رائے پیش کیں اب چونکہ کتاب نسب قریش عربی و منبع الانساب فارسی و تہذیب الانساب عربی و المعقبون عربی لباب الانساب عربی تاریخ محمودی فارسی وغیرہ جو کہ بہت قدیم کتب ہیں کی دستیابی کے بعد یہ تمام روایات بالکل درست ثابت ہو چکی ہیں جو اعوان قبیلہ کے بزرگوں نے انگریز مورخین کے سامنے زبانی بیان کی تھیں جن کا مفصل ذکر آگے چل کر آ رہا ہے
اب چونکہ اعوان قبیلہ میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے دو کتب زاد الاعوان 1904ء و باب الاعوان 1923ء مولوی نور الدین پٹھان نے لکھیں باب الاعوان صفحہ 77 پر لکھتے ہیں "ایک بڑے طائفہ اعوان کا یہ دعوٰی چلا آتا ہے کہ قطب شاہ مورث بزرگ اعوان کا شجرہ حضرت امام محمد حنفیہ سے ملتا ہے اور حنفی علوی نسب سے ہیں" اور ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ ملک قطب حیدر شاہ غازی از اولاد محمد الحنفیہ بن حضرت علی رض والا شجرہ نسب بھی اعوان لائے ہیں اور یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ تمام اعوان کہتے ہیں کہ اعوان سلطان محمود غزنوی کے لشکر کے ہمراہ آئے ہیں مزید صفحہ 132 پر اعوان قبیلہ کو حضرت غازی عباس علمدار رح کی اولاد سے ایک فرضی شخصیت عون قطب شاہ بن یعلی کی اولاد سے لکھتے ہیں اور سلطان محمود غزنوی کے ہمراہ جہاد ھند میں شرکت پر کچھ یوں اعتراض کرتے ہیں "اس کا باطل ہونا بایں وجہ مقرر کیا گیا ہے کہ عون کی ولادت 419 ہجری اور وفات محمود غزنوی کی 421 ہجری کو ہوئی پس کس طرح قطب شاہ کی اولاد بہت بڑھ کر بغداد سے غزنی آئی اور لشکر اسلام کے ساتھ جہاد ہند میں اعانت یعنی مدد ویاری سلطان کو دی" یوں محترم مولوی نور الدین سلمانی پٹھان مرحوم کے مطابق اعوان حضرت غازی عباس علمدار بن حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نسل سے ہیں اور اعوان قبیلہ کے مورث اعلی عون قطب شاہ بغدادی بن یعلی ہے اور کچھ من گھڑت حوالہ جات بھی پیش کیے جو حوالہ جات کی کتب آج تک روح زمین میں نہیں مل سکیں اور قدیم عرب انساب کی کتب میں کوئی بھی عون قطب شاہ نامی شخص حضرت عباس علمدار رح بن حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اولاد سے ثابت نہیں ہو سکا اور کتاب "ذکر العباس سوانح حیات حضرت عباس" میں علامہ سید نجم الحسن کراروی نے بالکل واضح طور پر لکھا ہے کہ "اور حضرت عباس کی طرف اعوان کا انتساب کوئی اصل نہیں رکھتا" جبکہ دوسری طرف مولوی حیدر علی لدھیانوی صاحب جو کہ خود بھی اعوان ہیں اور اعوانوں سے انہوں نے بھی قدیم شجرہ انساب اکٹھے کیے اور انہوں نے اعوان قبیلہ کے بزرگوں کی روایات اور قلمی شجرہ انساب کو مدنظر رکھتے ہوئے وہی شجرہ لکھا جس پر تقریبا سبھی اعوان قبیلہ متفق تھا جو کہ قطب حیدر غازی بن عطاء اللہ غازی از اولاد محمد الحنفیہ بن حضرت علی رض ہے جیسا کہ باب الاعوان کے صفحہ 132 پر ان کے مطابق عون بن یعلی از اولاد غازی عباس علمدار رح کی ولادت 419 ہجری ہے اور وہ اعوان قبیلہ کے مورث اعلی ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ سید علی ہجویری جن کی پیدائش 400 ہجری اور وفات 465 ہجری ہے اور کتاب کشف المحجوب کے مصنف ہیں زیادہ سے زیادہ آپ نے کشف المحجوب 450 ہجری میں لکھی ہو گی تو اس وقت مورث اعلی عون قطب شاہ بن یعلی خود 31 سال کا ہے اور دوسری طرف سید علی ہجویری المعروف بہ داتا گنج بخش قدس سرہ العزیز اپنی کتاب میں دو جگہوں پر پورے اعوان قبیلے کا ذکر کر رہے ہیں جس کا مفصل ذکر میں آگے چل کر پھر کروں گا یعنی مورث اعلی زیادہ سے زیادہ جس وقت 31 سال کا تھا تو پھر کیسے پورا ایک قبیلہ اعوان تقریبا 450 ہجری میں سید علی ہجویری رح نے درج کر دیا جبکہ باب الاعوان کے صفحہ 160 پر سب سے بڑے پہلے بیٹے عبداللہ گولڑہ کی ولادت 471 ہجری درج ہے تو معلوم ہوا منبع الانساب فارسی 830 ہجری تالیف سید معین الحق جھونسوی قدس سرہ رح صفحہ 103 پر درج عون عرف قطب غازی بن علی بن محمد حنفیہ بن حضرت علی رض ہیں جن کی اولاد سے سالار مسعود غازی بن سالار ساہو غازی ہیں جو کہ سلطان محمود غزنوی کے بھانجے بھی ہیں اور محمود غزنوی کے لشکر میں شامل ہو کر یہ قبیلہ ہند میں داخل ہونا درست ثابت ہوتا ہے اور پھر مصنف باب الاعوان صفحہ 79 پر رقمطراز ہیں "اور بعض اعوان ملک قطب حیدر شاہ جد اعوان والا شجرہ لائے ہیں اس میں جو ملک قطب حیدر شاہ آیا ہے یہ وہ ہے جس کا ذکر زاد الاعوان میں کیا گیا ہے یہ حضرت مسعود سالار غازی بن امیر ساہو علوی نائب سلطان محمود غزنوی کے ہمراہیوں سے ہے" مگر آجکل کچھ افراد کا اب بھی یہ دعوٰی ہے کہ اعوان غازی عباس علمدار رح بن حضرت علی رض کی نسل سے عون قطب شاہ بغدادی بن یعلی کی اولاد ہیں حالانکہ اس نام کی کوئی بھی شخصیت حضرت غازی عباس علمدار رح کی اولاد سے آج تک کسی بھی قدیم نسابہ نے بیان نہیں کیا مگر جو اب بھی اعوان قبیلہ کو حضرت غازی عباس علمدار رح کی اولاد سے کہتے ہیں یہ سراسر کم علمی کی وجہ سے ہے یہ سارا اختلاف زاد الاعوان و باب الاعوان کے بعد پیدا ہوا ہے
اس کے علاوہ کتاب تحقیق الاعوان از خواص خان گولڑہ کے صفحہ 399 پر مرزا مظہر جان جاناں رح کے حالات درج ہیں شمس الدین حبیب اللہ عرف مرزا مظہر جان جاناں رح مالوہ کالاباغ کے مقام پر بروز جمعہ 12 رمضان المبارک 1111 ہجری بمطابق 1700ء پیدا ہوئے اور مولانا آزاد آپ کی پیدائش 1112 ہجری لکھتے ہیں اور میٹرمیل اورگارسن فرانسیسی محقق مقام آگرہ 1110 ہجری بمطابق 1699ء لکھتے ہیں تحقیق الاعوان از خواص خان صفحہ 399 پر لکھا ہے کہ "کیونکہ خود مرزا مظہر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ میر قطب حیدر کی اولاد سے ہوں اور وہ حضرت علی المرتضٰی کی اولاد سے ہیں" اور بعض روایات میں ہے کہ "میر قطب حیدر حضرت علی رض کی بارہویں پشت میں ہیں" کتاب تاریخ ادب اردو صفحہ 122 تا 126 درج ہے کہ مرزا مظہر رح کے پردادا مرزا محمد امان بن بابا سلطان کی شادی اکبر بادشاہ کی بیٹی سے ہوئی اس لحاظ سے تیموری خاندان کے نواسے تھے کتاب معمولات مظہریہ میں درج ہے کہ اکبر بادشاہ کی بیٹی کا نکاح حضرت محمد امان بن حضرت بابا سلطان سے ہوا جن کا شجرہ نسب امیر کمال الدین جوانمرد بن امیر جہاں شاہ بن میر قطب حیدر رح ہے
اب ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا جو موجودہ اعوان حضرات اور قدیم اعوان حضرات اپنی روایات بیان کرتے ہیں یا بیان کرتے تھے ان کا تاریخ سے کچھ تعلق ہے یا ان کے مطابق ان کے ہم جد قبیلے سادات کے مصنفین و محققین و نسابہ یا عرب قبائل کے نسابہ کی قدیم کتب میں ان کی روایات میچ کرتی ہیں
دوسری صدی ہجری کی کتاب نسب قریش عربی تالیف ابی عبداللہ المصعب بن عبداللہ بن المصعب بن زبیر بن عوام الزبیری متوفی 236 ہجری بارہ سو سال قدیم کتاب کے صفحہ 77 اور المنتخب فی نسب قریش وخیارالعرب عربی 656 ہجری تالیف الشیخ الامام الحافظ ابی عبداللہ المرادی المالکی صفحہ 26 پر درج ہے عون بن علی بن محمد حنفیہ بن حضرت علی رض بن ابی طالب کی اولاد "بنی عون" ہے یاد رہے عون کی جمع اعوان ہے عون سے اعوان اور قطب شاہ سے قطب شاہی ہیں اور نسب قریش عربی و المنتخب فی نسب قریش وخیارالعرب میں درج بنی عون اس بات کا واضح ثبوت ہے بنی عون یعنی عون کی جمع اعوان جیسے سید کی جمع سادات ہے عون بن علی بن محمد حنفیہ رح اور زید بن علی بن حضرت امام حسین رض کا مزار تبریز میں ہے
اب عون بن علی بن محمد حنفیہ بن حضرت علی رض کا عرف قطب شاہ غازی بھی سادات نسابہ ہی کی معتبر کتب میں درج ہے کتاب منبع الانساب فارسی تالیف سید معین الحق جھونسوی قدس سرہ رح 830 ہجری جو کہ چھ سو سال قدیم کتاب ہے صفحہ 103 پر، اس کتاب کا اردو ترجمہ ڈاکٹر ساحل شہسرامی پی ایچ ڈی نے کیا لکھا ہے عون عرف قطب غازی بن علی بن محمد حنفیہ بن حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور اولاد کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سالار مسعود غازی بن سالار ساہو غازی بن عطاء اللہ غازی اور پورا شجرہ نسب حضرت عون قطب شاہ غازی تک درج کیا اور مزید یہ بھی لکھا ہے کہ سالار مسعود غازی بن سالار ساہو غازی سلطان محمود غزنوی کے بھانجے تھے اور سالار ساہو غازی سلطان محمود غزنوی کے بہنوئی تھے اور یہ خاندان سلطان محمود غزنوی کے ہمراہ جہاد ھند شریک رہا جس سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ اعوان قطب شاہی حضرت عون قطب شاہ غازی بن علی بن محمد حنفیہ بن حضرت علی رض کی اولاد سے ہیں اور سلطان محمود غزنوی کے ہمراہ اعوان قطب شاہی قبیلہ جہاد ھند میں شریک رہا منبع الانساب 830 ہجری میں ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ عون عرف قطب غازی کی اولاد سے احمد غازی ہیں جو کہ محمد غازی کے حقیقی بھائی ہیں احمد غازی کی اولاد بہت ہے
کتاب تہذیب الانساب نہایتہ الاعقاب عربی تالیف ابی الحسن محمد بن ابی جعفر 449 ہجری صفحہ 273 و 274 کے مطابق علی و موسی و الحسن ابنان علی بن محمد اشھل بن عون کے علاوہ باقی بھائی ہند ہجرت کر گئے، منتقلة الطالبیہ تالیف ابی اسماعيل ابراہیم بن ناصر الحسنی المعروف ابن طباطبا 471 ہجری صفحہ 303 و 352 ، منبع الانساب فارسی تالیف سید معین الحق جھونسوی رح 830 ہجری صفحہ 103 محمد غازی و احمد غازی ابنان شاہ علی غازی بن محمد اشھل غازی بن عون قطب شاہ غازی کی اولاد کا ذکر کرتے ہوئے سالار مسعود غازی بن سالار ساہو غازی بن عطاء اللہ غازی بن طاہر غازی بن طیب غازی بن محمد غازی لکھا گیا ہے اور لکھا ہے کہ سالار مسعود غازی سلطان محمود غزنوی کے بھانجے تھے اور العقبون عربی 277 ہجری تالیف ابی الحسن یحیی صفحہ 393 پر لکھا ہے کہ علی بن محمد اشھل بن عون کے باقی فرزند عیسیٰ و محمد و احمد والحسین ہند میں ہجرت کر گئے وغیرہ ان تمام حوالہ جات سے ثابت ہے کہ عون قطب شاہ غازی کے فرزند محمد اشھل البقیع ( یاد رہے بعض کتب میں آپ کو محمد عسل محمد اسھل و اسف آصف بھی لکھا گیا ہے ) تھے اور محمد اشھل کے فرزند علی تھے جن کے سات بیٹے علی، موسیٰ، الحسن، عیسیٰ، محمد غازی، احمد غازی والحسین تھے جن میں سے پانچ الحسن، عیسی، محمد غازی، احمد غازی والحسین ہند آئے ایک بات یہاں واضح کرتا چلوں عرب انساب کی معتبر کتب میں عون قطب شاہ غازی کے پڑپوتوں میں محمد اور احمد درج ہیں جبکہ منبع الانساب فارسی 830 ہجری میں شاہ محمد غازی اور شاہ احمد غازی لکھا گیا ہے اور محمد غازی اور احمد غازی سات بھائی تھے جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے
بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر سالار ساہو غازی بن عطاء اللہ غازی عرب تھے تو آپ کا نام ہندی میں کیوں ؟ تو واضح ہو کہ آپ کے آباؤ اجداد ہند آئے تھے اور کہی پشتوں سے آپ کے اجداد یہاں ہی تھے اور آپ مجاہد تھے اور مجاہدین اکثر علاقوں میں مختلف ناموں سے خود کو ظاہر کرتے ہیں بعض کتب میں آپ کا نام سالار محمود اور سالار محمود و سالار داؤد بھی لکھا گیا ہے
سلطان محمود غزنوی کے دور میں حضرت ملا محمد غزنوی رح نے سلطان محمود غزنوی پر تاریخ محمودی 424 ہجری میں لکھی جس میں سالار مسعود غازی بن سالار ساہو غازی اور برادر حقیقی سالار قطب حیدر غازی رح کے حالات مفصل طور پر موجود ہیں اور اس کتاب کا قدیم اردو ترجمہ حضرت سید میر مولائی حسن نے کیا تابع ناشر غازیہ اکیڈمی ڈاکٹر ذاکر حسین نگر گونڈی ممبئی ہے کتاب تاریخ محمودی تالیف ملا محمد غزنوی رح 424 ہجری کا قدیم اردو ترجمہ محمد کریم خان علوی قادری صاحب کے پاس موجود ہے آپ کو انڈیا سے محترم جناب سید اسرار احمد علوی جو کہ سید نصراللہ غازی بن عطاء اللہ غازی از اولاد حضرت محمد حنفیہ رح بن حضرت علی رض سے ہیں نے بھیجا ہے اور ساتھ دیگر کہی قیمتی نسخہ جات مخطوطے اور قدیم شجرات بھی ارسال فرمائے ہیں جس میں سالار ساہو غازی کے حقیقی بھائی سالار قطب حیدر غازی بن عطاء اللہ غازی درج ہیں اور مزید تین بھائی اور بھی درج ہیں اور پاکستان میں مولوی ملنگ علی گفانوالہ چکوال نسبدان کے قدیم ریکارڈ 1848ء میں بھی سالار میر قطب حیدر غازی بن عطاء اللہ غازی از اولاد محمد الحنفیہ بن حضرت علی رض درج ہے اور مرزا مظہر جان جاناں رح کی روایت کم از کم تین سو سال قدیم روایت ہے کہ کیونکہ خود مرزا مظہر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ "میر قطب حیدر کی اولاد سے ہوں اور وہ حضرت علی المرتضٰی کی اولاد سے ہیں" کتاب تاریخ ہزارہ از شیر بہادر پنی میں بھی مرزا مظہر جان جاناں رح کو اعوان مشائخ میں لکھا گیا ہے
سلطان محمود غزنوی کے بیٹے کے دور میں تاریخ بیہقی فارسی 470 ہجری تالیف خواجہ ابو الفضل محمد بن حسین بیھقی نے لکھی جو کہ سلطان محمود غزنوی پر سب سے معتبر کتب میں سے ایک ہے کے صفحہ 57 پر درج ہے کہ "این قوم مستحق ھمہ نیکو ئیھا ھستند بگوی تا قاضی و رئیس و خطیب و نقیب علویان و سالار غازیان و سالار علویان" جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حضرت عون قطب شاہ غازی بن علی بن محمد حنفیہ بن حضرت علی رض کی اولاد سے جو سالار غازی و سالار علوی تھے وہ یہی مندرجہ بالا شخصیات تھیں جن کا مفصل ذکر بحوالہ گزر چکا ہے
کتاب لباب الانساب والالقاب والاعقاب تالیف ابی الحسن بن ابی القاسم بن زید البہقی 565 ہجری صفحہ 7 پر علی بن محمد اشھل بن عون( قطب شاہ غازی ) بن علی بن محمد حنفیہ بن حضرت علی رض کی اولاد سے الحسین و القاسم و منصور و حمزہ و عبدالمالک ابنان علی بن الحسین بن علی بن محمد اشھل کا ذکر موجود ہے اور لکھا ہے کہ یہ سلطنت غزنویہ سے منسلک ہیں وغیرہ اس عربی کی تقریبا نو سو سال قدیم کتاب سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت محمد حنفیہ کی اولاد سے حضرت عون کی اولاد سلطنت غزنویہ سے منسلک رہے اور واضح ہوتا ہے کہ اعوان قبیلہ کی روایات درست ثابت ہوتی ہیں
شجرات علویہ و آئینہ الاعوان تالیف سید محمد شاہ نسبدان گوڑی سیداں قدیم قلمی مخطوطہ جس میں واضح طور پر درج ہے کہ اعوان قطب شاہی حضرت عون قطب شاہ غازی بابا بن علی بن محمد حنفیہ بن حضرت علی رض کی اولاد ہیں اور آپ کی اولاد سے سالار مسعود غازی بن سالار ساہو غازی تھے اور سالار ساہو غازی کے حقیقی بھائی قطب غازی بابا ( قطب حیدر غازی) تھے اور قطب (حیدر) غازی بابا کے فرزندان سے عبداللہ شاہ گولڑہ، مزمل شاہ کلغان و جہاں شاہ وغیرہ درج ہیں
کتاب بحرالجمان تالیف سید محبوب شاہ صاحب داتا نے بھی اعوان قطب شاہی قبیلہ کو حضرت محمد حنفیہ بن حضرت علی رض کی اولاد سے درج کیا ہے
اب یہ بھی ایک اعتراض ہے کہ لفظ آوان یا اوان ہے اعوان نہیں اس کا جواب بھی کچھ یوں ہے کہ اصل قلمی نسخہ جلیل القدر کشف المحجوب(فارسی) حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف بہ داتا گنج بخش قدس سرہ العزیز شائع کردہ الحاج میاں خوشی محمد سجادہ نشین داتا دربار لاہور صفحہ 225 پر ایک اعوان قبیلے کے بچے کا ذکر کرتے ہوئے اسے "عوان بچہ" لکھا ہے اور صفحہ 478 پر "بدرگاہ سلاطین بغرنی۔۔۔۔۔ وآن دیگر راگفت حلوائی صابونی غذائی عوانان بود" لکھا ہے یعنی اس وقت اعوانوں کی جو پسندیدہ خوراک تھی اس کے متعلق لکھا ہے کہ صابونی حلوہ اعوانوں کی خوراک ہے سید علی ہجویری نے لفظ اعوان لکھا ہے نہ کہ آوان یا اوان، حضرت سید علی ہجویری نے اپنے بچپن میں سلطان محمود غزنوی کا دور پایا ہے اور ان کی کتاب تقریباً ایک ہزار سال قدیم ہے جس سے لفظ "اعوان" کی تصدیق ایک ہزار سال قدیم ہے اس کتاب میں دو جگہوں پر اعوان قبیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور دونوں جگہوں پر "عوان و عوانان" یعنی اعوان اور اعوانوں لکھا گیا ہے جس سے مزید اس بات کی تصدیق بھی ہوتی ہے کہ جو علوی الہاشمی قبیلہ کی ذیلی گوت بنی عون تھی جیسا کہ کتاب نسب قریش عربی 200 ہجری صفحہ 77 پر درج ہے عون بن علی بن محمد حنفیہ بن حضرت علی رض کی اولاد بنی عون ہے اور پھر بنی عون سے عوان اور پھر مستقل صورت اعوان اختیار کر گئ اور حضرت عون ہی کا عرف قطب منبع الانساب فارسی 830 ہجری سے ثابت ہوتا ہے جس سے قطب شاہی کا ثبوت بھی واضح طور پر ملتا ہے جو بعد میں ہندوؤں نے ع لفظ کے بجائے آ سے لکھنا شروع کر دیا
کتاب تاریخ مسعودی 1037 ہجری تالیف سید عبدالرحمن چشتی جو کہ حضرت غازی عباس علمدار رح بن حضرت علی رض کی اولاد سے ہیں یہ کتاب چار سو سال قدیم ہے اس کتاب میں سلطان محمود غزنوی کے اعوان مجاہدین کا ذکر ہے اور واضح طور پر آج سے چار سو سال پہلے لفظ "اعوان" لکھا گیا ہے نہ کہ آوان یا اوان یاد رہے سید عبدالرحمن چشتی عباسی علوی تھے اور کتاب تاریخ محمودی از ملا محمد غزنوی رح جو کہ سلطان محمود غزنوی کے دور کی کتاب ہے ایک ہزار سال قدیم ہے کے حوالے سے لکھی گئی ہے
شجرات اقوام تالیف محمد مستقیم اعوان فارسی زبان میں لکھی گئی 1257 ہجری کی کتاب ہے جو کہ تقریباً دو سو سال قدیم ہے اس میں لفظ "اعوان" درج ہے نہ کہ آوان یا اوان اور ساتھ یہ بھی واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ اعوان سلطان محمود غزنوی کے ہمراہ جہاد ھند میں شریک ہو کر آئے ہیں اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے فرزند امام محمد قاسم زبیر کی اولاد سے ہیں یہاں پر ایک بات مزید واضح کرتا چلوں حضرت محمد حنفیہ رح کا نام محمد الاکبر کنیت ابن الحنفیہ اور لقب ابو القاسم ہے یہاں پر درج امام محمد قاسم زبیر سے مراد محمد حنفیہ بن حضرت علی رض ہیں
اس کے علاوہ متعدد کتب اعوان قبیلہ کی موجود ہیں جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اصل لفظ اعوان ہے نہ کہ آوان چونکہ محکمہ مال میں قدیم زمانہ میں زیادہ تر ہندو ہی تھے وہ ( ع) والے زیادہ تر لفظوں کو ( آ ) سے لکھا کرتے تھے تو انہوں نے اعوان کے بجائے آوان ہی ہر جگہ لکھا اور علوی کے بجائے آلوی لکھا اور یہ املا کی غلطی ہے اور چونکہ محکمہ مال کے ریکارڈ 1872ء میں آوان لکھا گیا تو ہر جگہ پر آوان ہی مشہور ہو گیا اور بعض اعوانوں نے خود بھی آوان ہی لکھا جو کہ صرف اور صرف املا کی غلطی ہے
مزید یہ کہ گوجر (گجر) قبیلہ کی ایک ذیلی شاخ آوانہ ہے جس سے اعوان قبیلے کا کوئی تعلق نہیں اور کم علمی کی وجہ سے آوانہ شاخ کو اعوان قبیلہ سمجھا جاتا ہے اور انہیں بھی اعوانوں میں شامل کر دیا جاتا ہے یا اعوان قبیلہ کو آوانہ سمجھ لیا جاتا ہے اور بعض آوانہ شاخ کے لوگ خود کو آوان گجر بھی کہتے ہیں یہ کم علمی کے باعث ہوتا ہے
اکثر یہ سوال بھی دیکھا گیا ہے کہ اعوان اگر ہاشمی ہیں تو ہاشمی نسبت کیوں چھوڑی
اس سوال میں یہ واضح ہو رہا ہے کہ کچھ حضرات کا کہنا ہے کہ اعوان علوی ہیں ہی نہیں اس سوال کا جواب کچھ یوں ہے، قرآن کریم میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے جس کا مفہوم ہے کہ ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہارے درمیان قبیلے بنائے تاکہ تمہاری پہچان ہو میرے ہاں تم میں عزت والا وہ ہے جو متقی اور پرہیز گار ہے اللہ تعالٰی قرآن کریم میں خود بیان فرما رہے ہیں کہ تم کو قبیلوں میں تقسیم کیا تا کہ تمہاری پہچان ہو ورنہ تو سبھی حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں بس یہی نسبت بہتر تھی سبھی آدمی کہلاتے مگر جیسے جیسے نسل انسانی بڑہتی گئ تو ساتھ ساتھ یہ ضرورت محسوس ہوتی گئ کہ یہ قبیلہ فلاں جد امجد کی اولاد ہے جیسے اب قریش قبیلہ سردار قبیلہ تھا تو کیا ضرورت پڑی تھی کہ حضرت ہاشم بن عبدالمناف کی اولاد کو ہاشمی کہنے لگ گے کیا قریش کافی نہ تھا ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ اب قریش میں حضرت ہاشم مشہور ہوئے تو آپ کی اولاد نے اپنا شجرہ نسب آپ سے ظاہر کیا تاکہ مخصوص پہچان ہو سکے کہ ہاشمی خاندان قریش قبیلہ ہی کی ایک شاخ ہے پھر مزید ہاشمی قریش قبیلہ میں بہت معزز تھے تو اب مزید کیا ضرورت تھی کہ عقیلی جعفری علوی وغیرہ کہنے لگ گئے تو پھر کیا ضرورت پڑی کہ اتنی خاص نسبت چھوڑ کر علوی جعفری عقیلی لقب اختیار کیا جبکہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم کا خاندان تو بنو ہاشم تھا یہ نسبت تو سب سے افضل تھی کسی بھی علوی عقیلی جعفری یا سید لقب کی ضرورت ہی نہ تھی اب اتنی عظیم نسبت کہ خود رسول اللہ ص ہاشمی تھے اب تو سب سے معزز قبیلہ تو یہی ہے سب کو خوشی خوشی خود کو ہاشمی ہی کہلوانا چاہیے تھا
بات یہ ہے کہ جیسے حضرت ہاشم کی اولاد ہاشمی تھے اب یہ جاننا بھی تو ضروری تھا کہ فلاں خاندان کونسا سا ہاشمی ہے یعنی حضرت ہاشم کے کس بیٹے کی کونسی سی اولاد ہے اسی لیے سب نے اپنے اپنے جد امجد جو معتبر خاندان میں بنتا گیا اس سے اپنی نسبت کرتے تھے پھر جیسے حضرت علی رض کی اولاد میں پہچان کی خاطر حنفی علوی عباسی علوی اور عمری علوی ہوئے ایسے ہی حضرت عون بن علی بن محمد حنفیہ بن حضرت علی رض کی اولاد بنی عون اور بنی عون سے اعوان مشہور ہو گئے آجکل بھی لوگ پانچ چھ پشت اوپر اگر کوئی معتبر شخص ہو تو اس سے خود کو منسوب کرتے ہیں اب نسب قریش اعوانوں نے تو نہیں لکھی تھی بارہ سو سال پہلے نسب قریش عربی تالیف ابو عبداللہ مصعب بن عبداللہ الزبیری 200 ہجری صفحہ 77 پر واضع طور پر لکھا ہے کہ عون بن علی بن محمد حنفیہ بن حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت عون کی اولاد کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آپ کی اولاد بنی عون ہے جیسا کہ سب کو معلوم ہے سید کی جمع سادات ہے اور عون کی جمع اعوان ہے یہ بنی عون سے اعوان قبیلہ مشہور ہوا ہے مزید یہ کہ آج سے چھ سو سال پہلے منبع الانساب فارسی تالیف سید معین الحق جھونسوی قدس سرہ رح لکھی گئ یہ کتاب بھی اعوانوں نے نہیں لکھی منبع الانساب لکھنے والے حضرت سید معین الحق جھونسوی رح سید تھے اور عجم میں چھ سو سال پہلے مشہور نسابہ تھے انہوں نے خود لکھا ہے کہ عون عرف قطب غازی بن علی بن محمد حنفیہ بن حضرت علی کرم اللہ وجہہ جس سے یہ بھی چھ سو سال قدیم کتاب سے ثابت ہو جاتا ہے کہ یہی بنی عون علوی قبیلہ جو اعوان کہلایا اور قطب شاہی بھی مشہور ہوا
شجرہ نسب یوں ہے
سالار قطب حیدر غازی رح بن عطاء اللہ غازی بن طاہر غازی بن طیب غازی بن شاہ محمد غازی بن شاہ علی غازی بن محمد اشھل البقیع المعروف بہ عسل اسھل اسف بن حضرت عون قطب شاہ غازی بن علی بن محمد حنفیہ بن حضرت علی کرم اللہ وجہہ
بعض یہ اعتراض کرتے ہیں کہ سارے غازی کیوں ہیں تو جواب یہ ہے کہ غازی ہم نے نہ من گھڑت حوالہ جات سے لکھے ہیں نہ ہی خود ساختہ بنائے ہیں سالار مسعود غازی رح کا شجرہ نسب آج سے چھ سو سال قدیم کتاب منبع الانساب فارسی 830 ہجری میں درج ہے اور آپ کا حضرت عون قطب شاہ غازی کی اولاد سے ہونا جیسا کہ آپ اوپر پڑھ چکے ہیں جس کی مزید تصدیق تاریخ بیہقی 470 ہجری فارسی تالیف خواجہ ابو الفضل محمد بن حسین بیھقی جو کے سلطان محمود غزنوی کے بیٹے کے دور کی مستند ترین کتاب ہے اور ایک ہزار سال قدیم ہے کے صفحہ 57 کی اس تحریر سے ہوتی ہے "این قوم مستحق ھمہ نیکو ئیھا ھستند بگوی تا قاضی و رئیس و خطیب و نقیب علویان و سالار غازیان و سالار علویان" یہ تحریر اس بات کا بالکل واضح ثبوت ہے سالار مسعود غازی بن سالار ساہو غازی اور برادر حقیقی سالار ساہو غازی و سالار قطب حیدر غازی ابنان عطاء اللہ غازی یہی خاندان ہے جو کہ حضرت عون قطب شاہ غازی (جد امجد اعوان قطب شاہی) بن علی بن محمد حنفیہ بن حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اولاد ہیں جن کا مفصل ذکر تاریخ محمودی 424 ہجری تالیف ملا محمد غزنوی رح میں کیا گیا ہے
آجکل کچھ لوگ ڈی این اے ٹیسٹ کا کہتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ فلاں یونیورسٹی نے اور فلاں شخص نے ڈی این اے ٹیسٹ کیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اعوان آریائی نسل ہے سید آریائی نسل ہیں وغیرہ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کتنے اعوانوں نے ٹیسٹ کروائے ہیں وہ کون ہیں کیا یہ پشت در پشت کوئی اعوان ہونے کا ثبوت رکھتے ہیں اور میرے نزدیک تو سو میں سے کوئی دو پرسنٹ لوگ بھی اب تک اعوان قبیلہ کے نہیں ہوں گے جنہوں نے یہ ٹیسٹ کروا لیا ہو
مزید یہ کہ ڈی این اے کوئی مستقل حتمی فیصلہ نہیں ہے اس میں کہی شکوک پائے جاتے ہیں ہاں ایسا بالکل درست ہے کہ خاندان کے کوئی سو پچاس لوگوں کی پہچان اس سے ممکن ہے یا باپ بیٹے یا بھائیوں کی آپسی تصدیق یا دو چار پشت تک خاندان کے افراد کی معلومات مگر اب ایسا کہیں کہ ہزار یا دو ہزار سال پرانا بابا یہ نہیں تھا کوئی اور تھا یہ درست نہیں اور بہت مضحکہ خیز بھی ہے
ڈی این اے کے مطابق انسان چمپینزی کی نسل سے ہیں مگر یہ قرآن کریم کے بالکل برعکس بات ہے جبکہ قرآن میں
آل عمران آیت نمبر 59
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّ مَثَلَ عِيۡسٰى عِنۡدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ‌ؕ خَلَقَهٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ۞
ترجمہ:
الله کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم جیسی ہے، الله نے انہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر ان سے کہا : ہوجاؤ۔ بس وہ ہوگئے۔
الأعراف آیت نمبر 26
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰبَنِىۡۤ اٰدَمَ
ترجمہ:
اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو !
سورة النساء
آیت نمبر 1
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّكُمُ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَبَثَّ مِنۡهُمَا رِجَالًا كَثِيۡرًا وَّنِسَآءً‌ ۚ
ترجمہ:
اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کی بیوی پیدا کی، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیئے
سورۃ الحجرات
آیت نمبر 13
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا‌ ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ ۞
ترجمہ:
اے لوگو ! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے، اور تمہیں مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کی پہچان کرسکو، درحقیقت الله کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو۔ یقین رکھو کہ الله سب کچھ جاننے والا، ہر چیز سے باخبر ہے۔
تو معلوم ہوا کہ دنیا میں موجود تمام انسان حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد سے ہیں اس میں حضرت آدم کا مٹی سے پیدا کرنا وغیرہ سب کچھ بیان کر دیا گیا ہے اور ایک مرد و ایک عورت سے تمام انسانوں کا ہونا بھی بالکل واضح طور پر بیان کیا گیا ہے جبکہ سائنس کے مطابق انسان چمپینزی یعنی بندر کی اولاد ہے یہ بات قرآن کریم کے بالکل برعکس اور بے بنیاد ہے کیونکہ ارشاد باری تعالٰی ہے "یہ وہ کتاب ہے کہ جس میں کوئی شک نہیں"
لہذا فی الحال ڈی این اے ٹیسٹ جو بتا رہا ہے قرآن کریم کے بالکل برعکس بات کر رہا ہے ممکن ہے آگے چل کر اس میں مزید جدت آئے اور یہ انسان کو ایک ہی مرد اور ایک ہی عورت کی اولاد تسلیم کر لے لیکن ابھی فی الحال اس ٹیسٹ سے کافی پشتوں پیچھے تک کا حساب بالکل غلط ہے ہاں جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے کہ کسی باپ بیٹے یا خاندان دو سے چار پانچ پشت کا اگر ٹیسٹ ہو تو وہ ممکن ہے درست ہو
اب ایک پورے قبیلے کا جیسے مثلاً ایک قبیلے میں ایک لاکھ آدمی ہے اور ان میں سے سو پچاس کا ٹیسٹ کر لیا گیا ہے تو ان سو پچاس سے تھوڑا ہی حتمی فیصلہ ہو جائے گا کہ کون کیا ہے ایک قبیلہ جس میں کثیر تعداد لوگ ہیں کسی سو پچاس کے ٹیسٹ کر لینے سے انہیں کسی دوسرے قبائل میں دھکیل دینا بالکل نامناسب ہے
ہاں البتہ جب سائنس مزید ترقی کر لے اور یہ مان لے کہ جیسے قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ انسان ایک ہی مرد اور عورت سے ہیں تو پھر پورے کے پورے قبیلے کے لوگوں کے ٹیسٹ ہوں اور اگر ایک لاکھ افراد کا ٹیسٹ ہوا ہے اور کثیر تعداد کے رخ کس طرف ہیں تو اسے حتمی مان لیا جائے یعنی اگر کثیر تعداد کی رپورٹ عرب قبائل آئے تو عرب مان لیا جائے اور اگر کثیر تعداد آریائی نسل آئے تو آریائی مان لی جائے وہ بات الگ ہے مگر ابھی فی الحال سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی کہ قرآن کریم کی طرح اسے لاریب کہا جا سکے

11/09/2020
26/06/2019
اس ظلم کے خلاف ہر اعوان کو آواز اٹھانی چاہیے
26/06/2019

اس ظلم کے خلاف ہر اعوان کو آواز اٹھانی چاہیے

Address

Pindigheeb Attock
Pindi Gheb
11447

Telephone

+92 343 2626331

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AWAN GROUP Of Punjab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category