Balochistan Crimes

Balochistan Crimes کرائمز کا پردہ چاک

17/07/2026

خضدار: نال ہٹرنبو چڑائی چیک پوسٹ پر مبینہ بھتہ وصولی کی ویڈیو وائرل،

عوامی حلقوں میں تشویش،سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نال ہٹرنبو چڑائی چیک پوسٹ پر ہر گاڑی سے مبینہ طور پر 3,500 روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔ویڈیو سامنے آنے کے بعد عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ویڈیو میں کیے گئے دعوے درست ہیں تو یہ نہ صرف حکومتی احکامات کی خلاف ورزی ہے بلکہ قانون کی عملداری پر بھی سوالیہ نشان ہے۔شہریوں نے حکومت بلوچستان، محکمہ داخلہ اور اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ویڈیو کا فوری نوٹس لیا جائے، غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

*سوراب کسٹم چیک پوسٹ مبینہ طور پر بھتہ خوری، منشیات اور اسمگلنگ کا گڑھ بن گئی، تہلکہ خیز انکشافات*سوراب: سوراب کسٹم چیک ...
31/05/2026

*سوراب کسٹم چیک پوسٹ مبینہ طور پر بھتہ خوری، منشیات اور اسمگلنگ کا گڑھ بن گئی، تہلکہ خیز انکشافات*

سوراب: سوراب کسٹم چیک پوسٹ کے حوالے سے انتہائی سنسنی خیز اور سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں جہاں ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ چیک پوسٹ مبینہ طور پر بھتہ خوری، منشیات، چھالیہ، ایرانی ڈیزل، پٹرول اور دیگر غیرقانونی سامان کی ترسیل کا سب سے بڑا مرکز بن چکی ہے، جبکہ روزانہ کروڑوں روپے کی غیرقانونی وصولیوں کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کوئٹہ سے کراچی جانے والی مختلف کوچز میں منشیات اسمگل کرنے والے عناصر کو مبینہ طور پر مکمل آزادی حاصل ہے اور ہر کوچ سے پچیس ہزار روپے وصول کرکے انہیں کھلی چھوٹ دی جاتی ہے۔ اسی طرح مخصوص بڑی گاڑیاں، جو مبینہ طور پر چھالیہ اور دیگر منشیات کی سپلائی کے لیے استعمال ہوتی ہیں، انہیں ایک خاص روٹ کے ذریعے کسٹم نگرانی میں گزارا جاتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گوادر، پنجگور اور دیگر سرحدی علاقوں سے آنے والی گاڑیوں سے بھی فی گاڑی تیس ہزار روپے تک وصول کیے جاتے ہیں، خصوصاً وہ کوچز اور گاڑیاں جو ایرانی ڈیزل، پٹرول اور دیگر سامان لے کر آتی ہیں۔ روزانہ درجنوں گاڑیوں کی آمد و رفت کے باعث مبینہ طور پر ایک کروڑ روپے سے زائد کی یومیہ کمائی کی جاتی ہے۔
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس پورے مبینہ نیٹ ورک کی نگرانی سوراب کسٹم چیک پوسٹ انچارج حضرت اللہ کرتے ہیں، جبکہ ان کے قریب سمجھے جانے والے ایک کسٹم اہلکار کا گاڈیوں کے نمبرز وصول کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ہر کوچ اور گاڑی کی تفصیلات پہلے اس اہلکار کو بھیجی جاتی ہیں، بعد ازاں انہی میسیجز کی بنیاد پر رقوم کی وصولی اور گاڑیوں کی کلیئرنس کا عمل مکمل کیا جاتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پرائیویٹ افراد کے ذریعے مبینہ طور پر رقوم جمع کی جاتی ہیں اور یہ رقم مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی متعلقہ اہلکاروں تک پہنچتی ہے، جبکہ اس میں سے بھاری حصہ مخصوص اہلکاروں کے لیے نکالا جاتا ہے۔
سنگین الزام یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مختلف گاڑیوں سے پکڑا جانے والا سگریٹ، چھالیہ اور دیگر سامان مبینہ طور پر سرکاری ریکارڈ میں ظاہر کرنے کے بجائے بلیک میں فروخت کیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ویئر ہاؤس میں موجود کروڑوں روپے مالیت کا سامان بھی مبینہ طور پر فروخت کیا جاچکا ہے۔
عوامی حلقوں نےوفاقی حکومت، ایف بی آر، کسٹمز حکام اور تحقیقاتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سوراب کسٹم چیک پوسٹ پر جاری مبینہ کرپشن، بھتہ خوری اور اسمگلنگ کے اس بڑے اسکینڈل کی فوری اور شفاف انکوائری کرکے ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

۔کیچ: پولیس کا نیا ہتھکنڈہ، کیچ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا ملی بھگت، بھتہ کو جاری رکھنے کا بہانہ ڈھونڈ لیا،  ضلعی بندی ک...
05/05/2026

۔
کیچ: پولیس کا نیا ہتھکنڈہ، کیچ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا ملی بھگت، بھتہ کو جاری رکھنے کا بہانہ ڈھونڈ لیا، ضلعی بندی کا شوشہ، ڈبل چوکی کیچ پر ہر گاڈی سے ڈیڑھ لاکھ مالیت کا تیل اتارا جانے لگے

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کے باوجود کیچ پولیس نے مبینہ طور پر نیا پینترا بدل لیا۔ چند روز قبل وزیراعلیٰ نے واضح ہدایات جاری کی تھیں کہ ایرانی تیل بردار گاڑیوں سے کسی قسم کی رقم وصول نہ کی جائے اور نہ ہی انہیں غیر ضروری طور پر روکا جائے۔
ذرائع کے مطابق ڈبل چوکی پر مبینہ بھتہ خوری رکنے کے بعد اب “ضلع بندی” کے نام پر گاڑیوں کو روک کر تیل اتارنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

جبکہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کیچ کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے مبینہ طور پر ملی بھگت کے ذریعے بھتہ خوری کو دوبارہ منظم انداز میں جاری رکھنے کے لیے نیا طریقہ اختیار کیا ہے۔ ضلع بندی کے نام پر گاڑیوں کو روکا جا رہا ہے،تاکہ زمباد مالکان مجبور ہوکر بھتہ دینا پھر سے شروع کریں

متاثرین کا دعویٰ ہے کہ ہر گاڑی سے 700 سے 800 لیٹر تک تیل نکالا گیا، اور فی گاڑی اس تیل کی مالیت تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے بنتی ہے۔ متاثرہ افراد کے مطابق یہ تیل اتار کر چوکی اہلکاروں نے اپنے قبضے میں لے لیا۔

متاثرین نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے، شفاف تحقیقات کرانے اور ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

چاغی میں چوری و ڈکیتی کے واقعات میں روز بروز اضافہ تشویشناک صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جب سے لیویز فورس کو...
30/04/2026

چاغی میں چوری و ڈکیتی کے واقعات میں روز بروز اضافہ تشویشناک صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جب سے لیویز فورس کو پولیس میں ضم کیا گیا ہے، اس کے بعد جرائم کی وارداتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
عوام میں اس حوالے سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر اس صورتحال کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے۔ حال ہی میں نئے ایس پی نے چارج سنبھالا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ وہ پولیس نظام کو فعال بنائیں، ایس ایچ اوز کو واضح ہدایات دیں اور گشت کے نظام کو مزید مؤثر اور مضبوط کریں تاکہ جرائم پر قابو پایا جا سکے۔
عوامی حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ اگر موجودہ نظام مؤثر ثابت نہیں ہو رہا تو وزیراعلیٰ بلوچستان لیویز فورس کو دوبارہ بحال کرنے پر غور کریں، تاکہ مقامی سطح پر امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے اور لوگوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

یک نہ شد دو شد ویئر چوکی پر پولیس نے بھتہ خوری کے نئے باب کھول دیےخضدار:  ویئر پولیس چوکی پر مبینہ بھتہ خوری کا سلسلہ ای...
29/04/2026

یک نہ شد دو شد ویئر چوکی پر پولیس نے بھتہ خوری کے نئے باب کھول دیے
خضدار: ویئر پولیس چوکی پر مبینہ بھتہ خوری کا سلسلہ ایک نئی شکل اختیار کر گیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ پولیس اہلکار تیل بردار زمباد گاڈیوں سے صرف اپنے لیے ہی رقم وصول نہیں کر رہے بلکہ ایک پرائیوٹ شخص کے لیے بھی مبینہ سہولت کاری کرتے ہوئے الگ سے چار ہزار روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔
زمباد مالکان کے مطابق کہ پہلے ہر زمباد گاڈی سے پولیس کے نام پر بارہ ہزار روپے طلب کیے جاتے ہیں، جبکہ اس کے بعد ایک نجی شخص کے لیے مزید چار ہزار روپے کی مبینہ وصولی کی جاتی ہے۔ یوں سرکاری چوکی کو نجی مفادات کے لیے استعمال کیے جانے کے الزامات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
مقامی حلقوں نے اس صورتحال کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کی ساکھ کے لیے سوالیہ نشان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر چیک پوسٹیں تحفظ کے بجائے مبینہ بھتہ خوری اور پرائیوٹ افراد کی کمائی کا ذریعہ بن جائیں تو عوام کہاں جائیں.....؟
زمباد مالکان نے وزیراعلیٰ بلوچستان، آئی جی پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے، شفاف تحقیقات کرانے اور ویئر چوکی پر جاری مبینہ غیرقانونی وصولیوں کا راستہ روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Pakistan news
Balochistan Police


بلوچستان میں جہاں کہیں بھی کسی چوکی، ناکے یا چیک پوسٹ پر تیل والی گاڈی سے بھتہ خوری، یا عام گاڈیوں سےناجائز وصولی یا عوا...
29/04/2026

بلوچستان میں جہاں کہیں بھی کسی چوکی، ناکے یا چیک پوسٹ پر تیل والی گاڈی سے بھتہ خوری، یا عام گاڈیوں سےناجائز وصولی یا عوام سے زیادتی ہو رہی ہے، اس چوکی کا نام، علاقہ، تاریخ اور اگر ممکن ہو تو ویڈیو یا تصویر ہمیں ارسال کریں۔ آپ کی شناخت محفوظ رکھی جائے گی، ہم آپ کی آواز بنیں گے اور اس مسئلے کو سامنے لائیں گے۔

خضدار: تحصیل زیدی میں ایم-8 شاہراہ پر قائم ویئر پولیس چیک پوسٹ پر مبینہ بھتہ خوری کا انکشاف، ایرانی تیل والی ہر گاڑی سے ...
28/04/2026

خضدار: تحصیل زیدی میں ایم-8 شاہراہ پر قائم ویئر پولیس چیک پوسٹ پر مبینہ بھتہ خوری کا انکشاف، ایرانی تیل والی ہر گاڑی سے 12 ہزار روپے وصول کیاجانے لگا
خضدار کی تحصیل زیدی میں ایم-8 شاہراہ پر قائم ویئر پولیس چیک پوسٹ ایک بار پھر تنازع کا مرکز بن گئی، جہاں ذرائع کے مطابق ایرانی تیل بردار گاڑیوں سے مبینہ طور پر فی گاڑی 12 ہزار روپے بھتہ وصول کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ عمل وزیراعلیٰ بلوچستان کے واضح احکامات کے باوجود جاری ہے، جنہوں نے پہلے ہی تیل بردار گاڑیوں سے غیرقانونی وصولیوں اور رکاوٹوں کے خاتمے کی ہدایت دی تھی۔ مقامی حلقوں کا الزام ہے کہ ایس ایچ او زیدی نے حکومتی احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے مبینہ طور پر وصولیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

22/04/2026

بھتہ خوری پر وزیراعلی بلوچستان کی پابندی کے بعد جھل مگسی میں ایف سی نے آٹھ زمباد گاڈیوں کو خالی کرکے تیل فروخت کردیا۔ کیا پولیس کےخلاف کاروائی کرنے والا وزیراعلی ایف سی کو کچھ کہے گا ۔۔؟

تیل بردار زمباد مالکان کا دعوی ہیکہ جھل مگسی میں سادہ وردی میں ملبوس افراد نے مبینہ طور پر “لائن” کے نام پر فی زمباد گاڑی 20 ہزار روپے بھتہ طلب کیے۔ مالکان کے مطابق جب انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے اس قسم کی وصولیوں پر پابندی عائد کی جا چکی ہے، تو مذکورہ افراد نے آٹھ زمباد گاڑیوں کو تحویل میں لے لیا۔ ان گاڑیوں کو بعد ازاں ایف سی کیمپ منتقل کیا گیا، جہاں ان سے تیل اتار لیا گیا۔ اور تیل کو سول سمیت مزدا گاڈی میں ڈالکر ٹی پل، شوری میں لےجاکر غیرقانونی طور پر فروخت کیاگیا۔متاثرہ مالکان کا دعویٰ ہے کہ تیل کو سرکاری طریقہ کار کے مطابق کسٹمز کے حوالے کرنے کے بجائے مبینہ طور پر دیگر علاقوں میں فروخت کرنا سرانسر ظلم و زیادتی اور ذاتی مفادات پر مبنی ہے
زمباد گاڑی مالکان نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر واقعی حکومتی سطح پر لائن سسٹم ختم کیا گیا ہے تو پھر اس قسم کے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جائے۔

آئیں پورا بلوچستان مل کر اپنے غریب بھائیوں کی. آواز بنیں۔۔ اس ویڈیو کو اتنا شیئر کریں کہ وزیراعلی کو نوٹس لیناپڑیں

سوراب میں ریاستی رٹ کو کھلا چیلنج، کچے راستوں پر مسلح گروہوں کی حکومت، بدنام زمانہ پولیس اہلکار کے سرپرستی میں بھتہ خوری...
01/12/2025

سوراب میں ریاستی رٹ کو کھلا چیلنج، کچے راستوں پر مسلح گروہوں کی حکومت، بدنام زمانہ پولیس اہلکار کے سرپرستی میں بھتہ خوری اور اسمگلنگ عروج پر، شہری عدم تحفظ کا شکار

بلوچستان کے ضلع سوراب میں ریاستی رٹ کو کھلے عام للکارا جا رہا ہے۔ سوراب کسٹم چیک پوسٹ کے پہلو میں بنائے گئے کچے کے خفیہ راستے ہر رات منظم اسمگلنگ، بھتہ خوری اور اسلحہ بردار گروہوں کی سرگرمیوں کا مرکز بن چکے ہیں، ایسا منظر جو پہلے صرف سندھ کے کچے کے ڈاکوؤں سے منسوب تھا۔اب کچے کے ڈاکو سوراب میں دوسرے روپ میں نمودار ہوگئے ہیں۔۔
باخبر ذرائع کے مطابق بدنام زمانہ (ڈاکو کے نام سے مشہور) ایک پولیس اہلکارکی سرپرستی میں کوچوں اور گاڑیوں میں منشیات، چھالیہ اور نان کسٹم سامان لوڈ کر کے کچے راستے سے گزارا جا رہا ہے۔
ان گاڑیوں کی باقاعدہ مسلح کانوائے کے ذریعے اسکارٹ کیا جاتا ہے۔ہر گاڑی سے 35 ہزار روپے بھتہ وصول کیا جاتا ہے۔ اس بھتے کی تقسیم یوں کی جاتی ہے کہ 10 ہزار روپے کچے پر کھڑے مسلح گروہ کو جبکہ 15 ہزار روپے مبینہ طور پر کسٹم اہلکاروں کے حصے میں جاتاہے اور بقایہ 10 ہزار روپے ایک بدنام اور متنازع پولیس اہلکار کو، جو اس پورے نیٹ ورک کا مبینہ سرپرست سمجھا جاتا ہے اس کو ملتاہے اُس پولیس اہلکا کو مبینہ طور پر ایس ایچ او سوراب کی مکمل حمایت حاصل ہے، جبکہ بھتہ سے حاصل رقم حثہ بقدر جثہ تقسیم ہوتی ہے۔۔۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ پولیس اہلکار کے خلاف شکایات پہلے بھی آئی جی پولیس بلوچستان تک پہنچ چکی ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ لائن سسٹم کا بھتہ وصول کرتا ہے، اس نے پرائیویٹ مسلح گروہ بھی بنا رکھا ہے،کسٹم کے سامنے کھلے عام اسلحہ لہرا کر گاڑیاں چھڑوا لیتا ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال یہ ہے کہ دو دن قبل جب کسٹم نے چھالیہ اور نان کسٹم سامان سے بھری کوچ پکڑی۔ مذکورہ پولیس اہلکار مسلح افراد کے ساتھ کسٹم چوکی پر دھاوا بولتا ہوا پہنچا انہوں نے کسٹم اہلکاروں پر اسلحہ تان کر گاڑی زبردستی چھڑالی جس سے اہلکار شدید خوف اور دباؤ کا شکار رہے
یہ واقعہ ریاستی اداروں پر براہ راست حملہ اور قانون کی کھلی توہین قرار دیا جا رہا ہے۔
سوراب کے شہریوں کے مطابق منشیات، اسلحہ اور نان کسٹم پیڈ سامان کی مفت اور محفوظ ترسیل نے علاقے کا ماحول تباہ کر دیا ہے کیونکہ مسلح گروہ کھلے عام دندناتے ہیں جس کی بناء شام کے بعد شہری نقل و حرکت سے گھبراتے ہیں....

موجودہ صورتحال سے خوف و ہراس میں مبتلا سوراب کے عوام نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے
وزیراعلیٰ بلوچستان،کور کمانڈر،آئی جی ایف سی، آئی جی پولیس بلوچستان، جی او سی 33 ڈویژن، ایم پی اے سوراب، کمشنر قلات ڈویژن ڈی آئی جی خضدار سے فوری نوٹس لینے اور فیصلہ کن کاروائی کا مطالبہ کیا، کیونکہ یہ صورتحال ریاستی رٹ کو چیلنج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توہین، اسمگلنگ مافیا کو کھلی چھوٹ اور شہریوں کے مستقبل کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے۔

خضدار کے غیرت مند عوام اس بےحیائیکے خلاف اٹھو
30/10/2025

خضدار کے غیرت مند عوام اس بےحیائیکے خلاف اٹھو

Address

Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Balochistan Crimes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share