24/05/2025
جاوید آصف گزشتہ دو برس سے پنجاب پولیس لاہور میں نو مئی کے مقدمات میں بطور لیگل ڈی ایس پی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
موصوف نے صنم جاوید کو اپنی گاڑی میں سوار کر کے باہر سے گرفتار کروانے، چیئرمین تحریک انصاف کے پولی گرافک ٹیسٹ کے انتظامات اور آج جیل ٹرائل کے دوران عائشہ بھٹہ کو دوبارہ گرفتار کروانے جیسے اقدامات کے ذریعے اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
آج انسداد دہشت گردی عدالت کے سامنے، ڈاکٹر یاسمین راشد نے پرعزم مزاحمت کے ذریعے اس افسر کی گرفتاری کی کوشش کو ناکام بنایا۔ جاوید آصف پر یہ الزام بھی ہے کہ وہ ن لیگ کی حکومت کی نام نہاد وزیر اعلیٰ کا خاص آدمی ہے، جو بالخصوص تحریک انصاف سے وابستہ خواتین کو نشانہ بنانے کے لیے غیر قانونی حربے استعمال کرتا ہے۔