08/09/2026
" ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے کا کا شرعی حکم "
رسول اللہ ﷺ نے بہت سی احادیث میں شلوار / پینٹ وغیرہ کو ٹخنوں سے نیچے رکھنے سے منع فرمایا ہے، جیسے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«ما أسفل من الكعبين من الإزار ففي النار» (صحیح البخاری: 5787)
”چادر کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ آگ میں (جائے) گا۔“
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة، ولا ينظر إليهم ولا يزكيهم ولهم عذاب أليم: المسبل، والمان، والمنفق سلعته بالحلف الكاذب» (صحیح مسلم: 106)
”روز قیامت اللہ تعالیٰ تین قسم کے لوگوں کی طرف نہ تو دیکھے گا اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا اور انہیں دردناک عذاب ہوگا: اپنے کپڑے کو گھٹنوں سے نیچے رکھنے والا، (نیکی کر کے) احسان جتانے والا، ایسا سامان جھوٹی قسمیں کھا کر فروخت کرنے والا۔“
اور جو شخص تکبر کرتے ہوئے اپنی شلوار / پینٹ وغیرہ ٹخنوں سے نیچے رکھتا ہے اس کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لا ينظر الله إلى من جر ثوبه خيلاء» (صحیح البخاری: 5783)
”اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا جو تکبر کرتے ہوئے اپنے کپڑے کو زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے۔“
نوٹ: کچھ لوگ اس کو اپنا قائد مانتے ہیں اب سوال یہ اٹھتا ہے کیا ایسا شخص قائد کہلوانے کا حقدار ہو سکتا ہے 🤔
جس کی نہ شکل و صورت سنت کے مطابق، نہ حلیہ سنت کے مطابق اور ہم کیسے اس کو اپنا قائد مان لیں اس کی ویڈیو دیکھ کر مجھے علامہ شہید رحمہ اللہ کی بات یاد آگئی:
" اس سے بہتر تھا تو مر جاتا لیکن اہل حدیث کا قائد نہ کہلواتا "
مجھے تو لگتا ہے کہ علامہ اقبال رحمہ اللہ کو پتہ تھا کہ میرے شہر سیالکوٹ میں ایسے نام نہاد قائد لوگ پیدا ہوں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود