29/07/2026
دھان کے کاشتکاروں، زرعی ادویات بنانے والی کمپنیوں اور ڈیلرز کے لیے اہم اطلاع
Clothianidin
پر مشتمل زرعی ادویات کی دھان کے علاقوں میں فروخت اور تشہیر فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
محکمہ زراعت پنجاب پیسٹ وارننگ کی ہدایات کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کی چاول کی برآمدات، کسانوں کے مفاد اور بین الاقوامی فوڈ سیفٹی معیارات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ کیوں ضروری ہے؟
Rapid Alert System for Food and Feed (RASFF) کی رپورٹس کے مطابق 27 جولائی 2026 تک پاکستان سے بھیجی گئی 25 Rice Consignments کو European Union (EU) نے روک دیا۔
تفصیل درج ذیل ہے:
• 22 Consignments کو Pesticide Residues کی مقررہ حد سے زیادہ ہونے کی وجہ سے مسترد کیا گیا۔
• 02 Consignments کو Aflatoxin Contamination کی وجہ سے روکا گیا۔
• ان 22 Pesticide Residue Cases میں سے 16 Cases صرف Clothianidin Residues کی وجہ سے سامنے آئے، جو پاکستانی چاول کی برآمدات کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟
European Union (EU) نے Maximum Residue Level (MRL) برائے Clothianidin کم کرکے صرف 0.01 mg/kg مقرر کر دی ہے۔
اس لیے دھان میں Clothianidin کا استعمال برآمدی چاول میں باقیات بڑھا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں:
• چاول کی برآمدی کھیپیں مسترد ہو سکتی ہیں۔ • کسانوں کو مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
• پاکستان کی عالمی منڈی میں ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔
• Rice Export بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
محکمہ زراعت کی تجویز کردہ متبادل ادویات
• Flonicamid 50% WG
• Nitenpyram + Pymetrozine 60% WDG
• Pymetrozine + Dinotefuran 60% WDG
• Triflumezopyrim 10% SC
• Pymetrozine 50% WG
زرعی ادویات بنانے والی کمپنیوں اور ڈیلرز سے گزارش
دھان کے علاقوں میں Clothianidin پر مشتمل مصنوعات کی فروخت اور تشہیر فوری طور پر بند کریں، اور محکمہ زراعت کی سفارش کردہ متبادل ادویات کو فروغ دیں۔
کاشتکار بھائیوں سے اپیل
اپنی فصل، پاکستان کی چاول کی برآمدات اور عالمی منڈی میں ملک کی ساکھ کے تحفظ کے لیے دھان میں Clothianidin کا استعمال نہ کریں اور صرف محکمہ زراعت کی سفارش کردہ متبادل ادویات استعمال کریں۔
محکمہ زراعت، شعبہ پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈز پنجاب