13/09/2025
شوہر کا نام اظہر اقبال اور بیوی کا نام ہے مہوش اسلم ولد محمد اسلم قوم ڈوگر ساکن 28 چک (اخترباد روڈ) 1 دن جمعہ وہ گھر میں ہنسی خوشی سے رہتے ہیں لیکن بی بی کے دل میں کچھ ہوتا ہے کچھ کھوٹ ہوتی ہے وہ اپنے میاں کو بولتی ہے کہ ہم نے اج شہر جانا ہے میری طبیعت نہیں ٹھیک صبح سے وہ گھر میں ڈرامے کر رہی ہوتی ہے کہ جی میرے سر میں درد ہے میرے پیٹ میں درد ہے یہ وہ میں نے جا کے میڈیسن لینی ہے مجھے شام کو شہر لے کے جانا ہے وہ کہتا ہے اچھا ٹھیک ہے چلے جائیں گے شام کو وہ چلنے لگتے ہیں گھر سے تو اندر جاتی ہے اپنا برخا پہنتی اور برخے میں ایک خنجر چھپا لیتی ہے جب وہ باہر اتی ہے تو اس کا شوہر اس کو بولتا ہے کہ تم ایسے کرو کہ یہ جو ہماری بیٹی ہے (بیٹی کی عمر ہے دو سال) اس کو تم اٹھا لو یا تم اس کو پکڑ لو پیچھے وہ کہتی ہے کہ نہیں میں نے نہیں پکڑنا میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے تم اسکو آگے بیٹھا لوـ
وہ اس کو بائیک پر آگے بٹھا لیتا ہے اور وہ دونوں شہر کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔ شہر جا کر وہ اس کو دوا لے کر دیتا ہے اور وہاں پر جو چیز وہ عورت کہتی ہے، وہ بھی لا دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ اسے پھل بھی لا کر دیتا ہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ واقعی اس کی طبیعت خراب ہے۔ جب وہ واپسی کا ارادہ کرتے ہیں تو عورت اسے کہتی ہے کہ بائیک آہستہ چلاؤ۔ وہ بائیک 20 یا 30 کی رفتار پر چلاتا ہے۔ شاید وہ کسی موقع کے انتظار میں تھی۔
جب وہ شہر سے کچھ دور ہوتے ہیں تو عورت کہتی ہے کہ بائیک روک دو، مجھے الٹی آ رہی ہے۔ وہ بائیک روک دیتا ہے لیکن وہاں کافی لوگ دیکھ کر عورت کہتی ہے کہ آگے چلو، یہاں رش ہے۔ وہ اسے دوا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر طبیعت زیادہ خراب ہے تو دوبارہ ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں، مگر وہ انکار کر دیتی ہے۔ پھر وہ دونوں اپنے گھر کی طرف چل پڑتے ہیں۔
جب وہ عورت دیکھتی ہے کہ اب ویران جگہ ہے اور کوئی آبادی بھی نہیں ہے تو وہ دوبارہ کہتی ہے کہ بائیک روک دو، مجھے الٹی آ رہی ہے۔ جیسے ہی وہ بائیک سست کرتا ہے، عورت اچانک چُھرا نکال کر اس کی گردن کے بائیں جانب وار کر دیتی ہے۔ وہ اس کی گردن پر تین وار کرتی ہے۔ پھر وہ بائیک سے اترتی ہے اور کہتی ہے: "سیدھا ہو جاؤ، میں آج تمہیں چھوڑوں گی نہیں، قتل کر کے ہی دم لوں گی۔"
وہ اس کے سینے پر وار کرتی ہے جسے وہ اپنے بائیں ہاتھ سے روک لیتا ہے اور اس کا انگوٹھا زخمی ہو جاتا ہے۔ پھر وہ اپنی بیٹی پر حملہ کرتی ہے تو شوہر فوراً بیٹی کو اٹھا کر سینے سے لگا لیتا ہے۔ عورت دوبارہ حملہ کرتی ہے تو وہ اپنا دایاں ہاتھ آگے کرتا ہے جس سے اس کی درمیانی انگلی پر گہرا زخم آتا ہے۔ اسی دوران وہ چھری پکڑ کر اس کے ہاتھ سے چھین لیتا ہے۔ اس موقع پر عورت بھاگ جاتی ہے اور آس پاس کے لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔
شدید خون بہنے کی وجہ سے شوہر بے ہوش ہو جاتا ہے۔ بعد میں لوگ اسے اسپتال لے جاتے ہیں۔
براہِ کرم اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ عورت دوبارہ کسی کے ساتھ دھوکہ نہ کر سکے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ اپنے لیے نیا شکار تلاش کر رہی ہے اور اس کے گھر والے بھی اس کام میں شامل ہیں۔ اللہ ہم سب کو ایسے لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے۔ جزاکم اللہ خیر۔