Gullnaz Maher novels

Gullnaz Maher novels میں خوش نصیب ہوں کیونکہ میرا اللّٰہ مجھ سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے

‏جب میں دیکھتی ہوں کہ میرا سپہ سالار امریکہ میں کھڑے ہو کر یہ کہتا ہے کہ اگر ہمیں گرانے کی کوشش کی گئی تو ہم اپنے ساتھ آ...
07/03/2026

‏جب میں دیکھتی ہوں کہ میرا سپہ سالار امریکہ میں کھڑے ہو کر یہ کہتا ہے کہ اگر ہمیں گرانے کی کوشش کی گئی تو ہم اپنے ساتھ آدھی دنیا لے کر جائیں گے، تو مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ ہماری ریاست کو آنے والے چیلنجز کا مکمل ادراک ہے۔
جب میرے ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب دنیا کے سامنے یہ کہتے ہیں کہ آؤ، مشرق سے آنا ہے یا مغرب سے، نیچے سے آنا ہے یا اوپر سے—آ جاؤ، تمہیں مزہ چکھا دیں گے—تو 25 کروڑ پاکستانیوں کے دل مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ہم ہر چیلنج کے لیے تیار ہیں۔
ہمیں گرانے کے لیے آدھی دنیا کو اکٹھا ہونا ہوگا، اور ہم اپنے ساتھ آدھی دنیا لے کر جائیں گے۔
یہ بات 25 کروڑ پاکستانیوں کے دل میں ہے کہ پاکستان کے بغیر اس دنیا کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔
اسی لئے ہمیں اپنی قیادت اپنی فوج پر فخر ہے
پاک فوج زندہ باد
پاکستان ہمیشہ زندہ و پائندہ باد 🇵🇰🇵🇰💪💪

کچھ لوگ سوشل میڈیا پر پروپگینڈا کر رہے تھے کہ ایران کے بعد پاکستان کی باری ہے،پھر ہمارے فیلڈ مارشل صاحب نے ایک خوبصورت ب...
07/03/2026

کچھ لوگ سوشل میڈیا پر پروپگینڈا کر رہے تھے کہ ایران کے بعد پاکستان کی باری ہے،
پھر ہمارے فیلڈ مارشل صاحب نے ایک خوبصورت بات کی " ہمیں وہ دنیا قبول نہیں جس میں پاکستان نہ ہو، اگر پاکستان کو کچھ ہوا تو پوری دنیا کو دھواں بنا دیں گے "
🇵🇰❤️✌️

قوموں کی عمر کے لحاظ سے درجہ بندی کی جائے تو پاکستان عمر کے لحاظ سے ابھی کل کا بچہ ہے اور اس بچے کے پاس دنیا کی طاقتور م...
07/03/2026

قوموں کی عمر کے لحاظ سے درجہ بندی کی جائے تو پاکستان عمر کے لحاظ سے ابھی کل کا بچہ ہے اور اس بچے کے پاس دنیا کی طاقتور مسلح افواج،، ایٹمی طاقت،، اپنا فائٹر جیٹ،، اپنے میزائل،، اپنے میزائل ڈیفنس سسٹم ہیں،، جس کی طرف دیکھتے ہوئے بھی دنیا پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے اور دوسری طرف عرب ممالک جن کی عمر ہزاروں سال کی ہے،، تیل کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود انہوں نے کیا بنایا انہوں نے اپنے دفاع کے لیے؟؟

پاکستان کی غریب عوام نے اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر اپنا دفاع مضبوط بنایا ہے الحمدللہ.. عرب اپنی تباہی کے ذمہ دار خود ہیں..

پیارے پاکستانیو !! خدارا اپنے ملک اور اپنی افواج کی طاقت بنو نہ کہ دشمن کے کتے... اللہ پاک میرے ملک پاکستان کو تا قیامت سلامت رکھے... آمین 🤲 ❤️ 🇵🇰

افواج پاکستان زندہ باد پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰 💚

مووی کا نام : مشن سندور ریٹنگ : 10/10بالی وڈ نے یوں تو کئی موویز میں یاجوج ماجوج کی طرح پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹایا...
19/05/2025

مووی کا نام : مشن سندور
ریٹنگ : 10/10

بالی وڈ نے یوں تو کئی موویز میں یاجوج ماجوج کی طرح پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹایا ہے مگر پاکستان پھر سازش سے باز نہیں اتا اور بار بار پنر جنم لے لیتا ہے۔۔
اس بلاک بسٹر فلم میں بھی ہمیشہ کی طرح فلم کے ہیروز نے پاکستان صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے۔۔

اس فلم کے پہلے سین میں دکھایا گیا ہے کہ اس فلم کا ہیرو اکشے کمار انڈین ارمی کا ہائی رینک افیسر ہے جس نے پہلے بھی کئی مرتبہ پاکستان کو ختم کیا ہے۔اب وہ اپنی فیملی کے ساتھ ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہے کیونکہ اس نے پچھلی مووی میں ہی پاکستان کو ختم کر کے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔۔اکشے کمار زندگی انجوائے کر رہا ہوتا ہے کہ ان کے گھر ایک اور فوجی افیسر تشریف لاتا ہے اور رکشے کمار کو اگاہ کرتا ہے کہ پاکستان نے پھر سے جنم لے لیا ہے اب وہ ہندوستان پر حملے کی ایک اور سازش کر رہا ہے۔۔

فلم کے دوسرے سین میں فلم کا دوسرا ہیرو نیوی افیسر اجے دیوگن بھی افس میں بیٹھے کرسی پر یہی سوچ رہا ہوتا ہے کہ کافی دن ہو گئے میں نے پاکستان پر کوئی حملہ نہیں کیا اسی دوران اسے اطلاع ملتی ہے کہ پاکستان بھارت کے خلاف گہری سازش رچ رہا ہے۔۔تو فورا اپنا یونیفارم پہنتا ہے اور پاکستان کو سبق سکھانے کے لیے نکل پڑتا ہے۔۔

فلم کے تیسرے سین میں فلم کا تیسرا ہیرو ریتک روشن ھے وہ بھارتی فضائیہ کا ایک ہائی رینک افیسر ہے اور اس وقت کلب میں رافیل طیارے ملنے کا جشن منا رہا ہوتا ہے اسے بھی یہی اطلاع ملتی ہے کہ پاکستان کوئی سازش کر رہا ہے۔۔

اس کے بعد دکھایا جاتا ہے کہ ایک اور ہیرو سنی دیول کا بھائی اور اس کی بیوی پہلگام میں ہنی مون منانے نکلے ہوتے ہیں یہاں پر ایک بالی وڈ کا رومینٹک سونگ بھی چلتا ہے۔۔گانے کے بعد اچانک وہاں اتنک بادی ا جاتے ہیں اور نعرہ لگاتے ہیں کہ لو جی غوری ایا فیر اور ہیرو کے بھائی کو قتل کر دیتے ہیں۔۔ہیرو کا بھائی مرتے ہوئے زور سے اپنے بھائی سنی دیول کو پکارتا ہے۔پہلگام سے ہزار کلومیٹر دور بیٹھے بھائی سنی دیول کے کانوں میں اپنے بھائی کی اواز پڑتی ہے تو وہ بھی سر پر کفن باندھ کر اپنے بھائی کی موت کا بدلہ لینے نکل کھڑا ہوتا ہے۔۔
اسی دوران سرحد کے دوسری طرف پاکستان اتنک ابادی ویڈیو لنک کے ذریعے انڈیا کو پیغام بھیجتے ہیں کہ ہم مزید اس طرح کے حملے جاری رکھیں گے روک سکتے ہو تو روک لو۔۔
بھارت میں بدلے کی اگ جاگ اٹھتی ہے۔۔میٹنگ میں فیصلہ ہوتا ہے کہ ساری ارمی کی بجائے بھارت کے تینوں افواج کے ہیرو کو بھیجا جائے کیونکہ یہ تین ہیرو ہی پورے پاکستان کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اسی دوران سنی دیول بھی میٹنگ میں ا جاتا ہے اور کہتا ہے میں بھی پاکستان تباہ کرنے کا وسیع تجربہ رکھتا ہوں مجھے بھی ان کے ساتھ بھیجا جائے۔لہذا بھارت ان چاروں ہیروز کو روانہ کر دیتا۔
رافیل کو ریتک روشن کے حوالے جبکہ ائی این ایس وکرانت کو اجے دیوگن کے حوالے کر دیا جاتا۔۔اکشے کمار کو ارمی کی کمانڈ دی جاتی ہے تو سنی دیول پیدل ہی بدلہ لینے نکل کھڑا ہوتا۔۔اسی دوران ایک اور بالی وڈ کا ایٹم نمبر چلتا ہے۔
جس کے بعد یہ چاروں ہیرو پاکستان میں گھس جاتے ہیں اور اتنکیوں کے سارے ٹھکانے تباہ کر دیتے ہیں۔۔
انڈین ارمی پاکستان میں اندر تک گھس جاتی ہے، کراچی پورٹ اور لاہور کی بندرگاہیں تباہ کرتی جاتی ھیں ،چچا وطنی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو تباہ کر دیا جاتا ہے،پاکستان کا وزیراعظم حملے کے ڈر سے بنکر میں چھپ جاتا ہے،پاکستان ارمی چیف کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔۔اور فلم کے اخر میں حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر کو مار کر بدلا پورا کر لیا جاتا۔۔

اپ کو مووی کیسی لگی کمنٹس میں ضرور بتائیے گا۔

تحریر و تبصرہ: رومان خالد

ائیر مارشل سہیل امان  کا تبصرہ پاکستان آزما لیا گیا :- اور جو نتائج نکلے ہیں وہ ہمارے لیئے تو قابل فخر ہیں لیکن دنیا کے ...
12/05/2025

ائیر مارشل سہیل امان کا تبصرہ
پاکستان آزما لیا گیا :- اور جو نتائج نکلے ہیں وہ ہمارے لیئے تو قابل فخر ہیں لیکن دنیا کے لیئے انتہائی خوفناک ہیں ۔
ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہم پہلے اپنی کچھ قائدانہ کمزوریوں کی وجہ سے ایک خودساختہ احساس کمتری میں مبتلا تھے ۔ لیکن پاک افواج نے صرف تین گھنٹے میں ہماری سوچ, دنیا کی سوچ اور خطے کی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا ۔
ایک سوچ تھی کہ "پاکستان دس دن جنگ لڑنے کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔" وہ اس سوچ میں بدل گئی کہ
"پاکستان دس دن میں بھارت جیسے دس ممالک کو دس مرتبہ تباہ کر سکتا ہے ۔" اگر میں آپ کو کل ملا کر بتاؤں تو پاکستان نے محض تین گھنٹے 45 منٹ کی جنگ میں بھارت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا اور جب صرف اتنی کسر باقی رہ گئی کہ صرف ایک پھونک مارنی تھی اور پورا بھارت اس گڑھے میں غرق ہو جاتا تو دنیا کے وہ چوہدری جو پیپسی اور لیز چپس کے پیکٹ لے کر صرف تماشا دیکھنے بیٹھے تھے وہ سب کچھ پھینک کر اس تماشے میں کودنے پر مجبور ہو گئے ۔ کچھ کہہ رہے ہیں کہ مودی نے ٹرمپ کو فون کیا ۔
مودی نے ؟ ؟ ؟ کیا مودی کا فون کام کر رہا تھا ؟ ؟
کیا مودی کا دماغ کام کر رہا تھا ؟ ؟
کیا مودی کے حواس کام کر رہے تھے ؟ ؟
مودی کو تو جب ہوش آیا ہو گا تو کچھ اس قسم کے کلمات منہ سے نکل رہے ہوں گے ۔ ۔
میں کِتھے آں؟
توُں کون اِیں؟
اے کی اے؟
میں پاگل آں ؟
توں پاگل ایں ۔
ہیں ... اوۓ۔۔
اے کون اے؟
وہ تو پوچھ رہا ہو گا کہ کیا بھارت تباہ ہو گیا اور ہم سب سورگ میں ہیں ؟
پھر اسے بتایا گیا ہو گا کہ نہیں آپ سب کو بچا لیا گیا ہے ۔ ٹرمپ صاحب موقع پر پہنچ گئے تھے ۔
ٹرمپ نے بھگوان بن کر ان کی مدد کی ہے ۔ اب یہ اسی کو پوجیں گے ۔
ورنہ ان کو تو سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ کہاں کہاں سے میزائل آرہے ہیں اور کہاں کہاں گر رہے ہیں ۔ کیا کیا تباہ ہو گیا اور بچا کیا ہے ۔
اور
اور وہ جو ہمارا روسی ساختہ دنیا کا نمبر ون دفاعی نظام تھا وہ کہاں چلا گیا ؟
وہ کیا کر رہا ہے ؟
مودی کے اس جنگی جنون کی پوری عمارت تین ستونوں پر کھڑی تھی ۔
1 ۔ رافیل طیارے ناقابل شکست ہیں ۔
2 ۔ بھارت کے دفاعی نظام کے ہوتے ہوئے یہاں پرندہ پر نہیں مار سکتا ۔
3 ۔ پاکستان بھارت کے آگے دس دن نہیں ٹک سکتا ۔
ان تینوں ستونوں کو زمین بوس ہونے میں 3 گھنٹے اور 45 منٹ لگے ۔
پہلا ستون رافیل تو اسی دن گر گیا جس دن بھارت نے حملہ کیا ۔
دوسرے ستون روسی ساختہ دفاعی نظام کو گرانے کے لیئے پاکستان نے اپنے صرف دو پرندے بھیجے تھے اور ان دو پرندوں نے اس جدید ترین دفاعی نظام کو بھی تباہ کر دیا ۔
کیسے کیا ؟
کسی کو سمجھ ہی نہیں آئی ؟
ایمانداری سے کہوں تو خود میں بھی ابھی تک سمجھ نہیں پایا کہ پاکستان نے یہ کیا کیسے ۔ وہ روسی ساختہ دفاعی نظام بلامبالغہ پچاس طیاروں اور اتنے ہی میزائلز کو ایک ہی وقت میں ہینڈل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا ۔
کچھ کہتے ہیں وہ کمپرومائزڈ ہو چکا تھا ۔ ۔
ہیک ہو چکا تھا ۔ ۔
لیکن میں سلام پیش کرتا ہوں ان شاہینوں کو جنہیں بتا کر بھیجا گیا تھا کہ اس مشن سے واپسی ناممکن ہے لیکن آپ نے ٹارگٹ ہٹ کرنے سے پہلے ہٹ نہیں ہونا ۔
انہوں نے ٹارگٹ بھی ہٹ کیا اور الحمدللہ واپس بھی آگئے ۔
بھارت کا سب سے بڑا بت ٹوٹنے کے بعد پورا بھارت پاکستانی میزائیلوں کے رحم و کرم پر تھا ۔
کوئی روکنے والا نہیں تھا ۔
پاکستان دس دن جنگ نہیں لڑ سکتا ؟ ؟
یہ جملہ پاکستان کے لیئے ایسا ہی ہے جیسے کوئی مائک ٹائسن کو کہے کہ تم تیسرا راؤنڈ نہیں لڑ سکتے ۔ تھک جاؤ گے ۔
مائک ٹائسن کے آگے تیسرا راؤنڈ کبھی کسی باکسر نے دیکھا بھی ہے ۔ مائک ٹائسن کی فائٹ میں صرف پہلے راؤنڈ کے تین گھنٹے ریفری بجاتا تھا ۔ اس کے بعد کے سارے گھنٹے مائک ٹائسن خود بجاتا تھا ۔
مخالف کی آنکھ پھر ہسپتال میں کھلتی تھی اور وہ نرس سے پوچھتا تھا کہ کیا دوسرا راؤنڈ نہیں ہو گا ؟
نرس اسے دلاسا دیتی تھی کہ ہو گا بابا ۔ ضرور ہو گا ۔ لیکن فی الحال تمہاری ایک ٹانگ ٹوٹ گئی ہے ۔ بازو کی ہڈی چار جگہ سے فریکچر ہے ۔ سر پر گہری چوٹ آئی ہے جس کی وجہ سے تمہارا دماغ ابھی اگلے کئی سال تک کے لیئے ماؤف ہو چکا ۔ چار پسلیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے ۔ اب تم مائیک ٹائسن تو کیا کسی کے بھی سامنے سیدھے کھڑے نہیں ہو سکتے ۔
کچھ علاج کروا لو ۔ ٹھیک ہو جاؤ ۔ پھر لڑ لینا ۔
بھارت کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے ۔
مکمل ناک آؤٹ ۔
ان تین گھنٹوں کی گولہ باری میں مودی کے اختیار سے سب کچھ نکل چکا تھا ۔
رافیل کی پہلے ہی مٹی پلید ہو چکی تھی لہٰذا انتہائی ضرورت کے باوجود پاکستانی جے ایف تھنڈر کے مقابلے میں بھارت کے کسی طیارے نے اڑان نہیں بھری ۔ ہمارے طیارے بھارت کی فضاؤں میں اکیلے دندناتے پھر رہے تھے ۔
پاکستان کے ڈرونز نے مت ماری ہوئی تھی ۔
روسی ساختہ دفاعی نظام تباہ ہو چکا تھا ۔
ملٹری ڈیفینس کے سیٹیلائٹ پر سائبر اٹیک ہوا تھا اور وہ ہیک ہو چکا تھا ۔
بھارت کے ستر فیصد علاقوں کی بجلی پاکستان نے کنٹرول کر کے معطل کر دی تھی ۔
اس قدر برا حال تھا کہ بھارت کے معمولی کسان سے لے کر بھارت کے وزیر اعظم تک ۔ کسی کو صورتحال کے بارے میں کچھ نہیں پتہ نہیں تھا ۔
بھارت کی وزارت دفاع نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کر کے کہا کہ اگر پاکستان رک جائے تو ہم بھی مزید تناؤ نہیں چاہتے ۔
یہ بھارت کا اعتراف شکست تھا کہ ہماری بس ہو چکی ہے ۔
وہ بھارت جسے پوری دنیا سمجھا رہی تھی کہ اس جنگی جنون سے باز آجاؤ لیکن وہ باز نہیں آرہا تھا ۔
پھر پاکستان نے اسے تین گھنٹے سمجھایا اور وہ سمجھ گیا ۔
نہ صرف وہ سمجھ گیا بلکہ اس کے پیچھے بیٹھے سب دشمن سمجھ گئے ۔
وہ منصوبہ جس کو کئی ہفتوں تک طول دے کر دشمن پاکستان کو زچ کرنا چاہتا تھا اسے پاکستان نے محض چند گھنٹے میں لپیٹ کر دنیا کے منہ پر مار دیا ۔
تماشا پاکستان کا دیکھنا تھا ۔ تماشا بھارت کا لگ گیا ۔
پاک فوج زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

‏اے !! ابابیل کو بھیج کر خانہ کعبہ کی حفاظت کرنے والےفرشتوں کو ننگی تلواریں دے کر بدر کے میدان میں اتارنے والےحضرت موسیٰ...
07/04/2025

‏اے !!
ابابیل کو بھیج کر خانہ کعبہ کی حفاظت کرنے والے

فرشتوں کو ننگی تلواریں دے کر بدر کے میدان میں اتارنے والے
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے دربار میں پالنے والے
حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں سے نکالنے والے
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھانے والے
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ کے الاؤ سے بچانے والے
حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے نکالنے والے
حضرت مُحَمَّدْﷺ کو خاتم النبیین اور رحمت اللعالمین بنا کر بھیجنے والے

اے رب العالمین اے رب العالمین اے رب العالمین
فلسطین کے مسلمانوں اور مجاہدوں کی مدد فرما

اے اللہ عزوجل !! تیرے لشکر بہت سارے ہیں اپنے کسی لشکر کو بھیج کر فلسطینیوں اور تمام امت مسلمہ کی حفاظت فرما
آمین یارب العالمین!

   #گلنازمہر   Don't copy paste without my permission❌🚫❌🚫❌🚫❌🚫❌🚫❌🚫❌وہ نیہا کے کمرے سے نکلنے کے بعد سیدھی جاذل کے کمرے میں...
13/05/2024



#گلنازمہر



Don't copy paste without my permission

❌🚫❌🚫❌🚫❌🚫❌🚫❌🚫❌

وہ نیہا کے کمرے سے نکلنے کے بعد سیدھی جاذل کے کمرے میں آئی وہ دروازہ کھولتی ابھی اندر داخل ہوئی ہی تھی کہ کسی نے اسے کھینچ کر دیوار سے لگاتے دروازہ لاک کیا جاذل لا کمرہ اس وقت بالکل اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا جبکہ سامنے والے کو پہچانتی وہ بہت خوبصورت سا مسکرائی تھی۔۔۔

مسٹر ڈیمن کیا آپ بھول رہے ہیں کہ آپ کی بیوی اور بیٹے کو اندھیرا کچھ خاص پسند نہیں اس کے قریب ہونے پر وہ مسکراتی ہوئی آواز میں بولی تو اگلے ہی لمحے پورا کمرہ روشنی میں نہا گیا۔۔۔۔

کیسے پہچان جاتی ہیں کہ میں ہوں وانیہ کے بالوں میں چہرہ چھپاتے سوال گیا تھا جس پر وہ پیارا سا مسکرائی تھی۔۔۔۔

آپ کی خوشبو سے اور کیسے وہ اس کا چہرہ سامنے کرتی ہوئی بولی تو وہ حیران ہوا۔۔۔

ہیں وہ کیسے کیونکہ میری پرفیوم کی خوشبو بہت کم ہے جو کہ کافی غور کرنے پر محسوس ہوتا ہے کہ میں نے پرفیوم لگائی ہے جبکہ آپ تو فوراً پہچان جاتی ہیں کہ میں ہو وہ حیران ہوا اور اس کا حیران ہونا بنتا بھی کیوں کہ یہ بات سچ تھی کہ اس کی پرفیوم کی خوشبو بہت کم جبکہ باذل اور احد کی پرفیوم کی خوشبو بہت سٹرونگ ہوتی۔۔۔

آپ نے شاید ٹھیک سے سنا نہیں مسٹر جاذل ابدالی میں نے کہا کہ آپ کی خوشبو سے یہ تھوڑی کہا کہ آپ کی پرفیوم کی خوشبو سے اتنا کہتے ہی وہ مسکرائی تھی اور جاذل ابدالی پر سحر طاری ہوا وانیہ ابدالی کی باتوں کا اس کی مسکراہٹ کا کیا تھی وہ لڑکی جو ہر گزرتے دن کے ساتھ اسے اپنا دیوانہ کرتی جا رہی تھی اور جب اس کی بات کا مطلب سمجھ میں آیا تو جاذل کو یوں محسوس ہوا گویا دل پسلیاں توڑ کر باہر آ جائے گا۔۔۔

نہ ظلم کیا کریں میری جان ایسے ہر دن اب آپ سے دور رہنا محال ہوتا جا رہا ہے آپ کو دیکھتا ہوں تو ساری دنیا کو فراموش کر جاتا ہوں اور آپ ہیں کہ آپ کو ترس بھی نہیں آرہا کیوں اس قدر سحر طاری کر رہی ہیں اپنا کیا کسی کام کا نہیں چھوڑیں گیں جاذل ابدالی کو بہت نکما کرتی جارہی ہیں عشق تو پہلے ہی کر بیٹھا ہوں آپ سے اب کس مقام پر لے کر جانا چاہتی ہیں اپنے اس دیوانے کو اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے ماتھے سے ماتھا ٹکائے وہ خمار آلود لہجے میں بولا کہ اب وانیہ کے لیے پلکیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھنا محال ہوتا جارہا تھا۔۔۔

ج جاذل اس کی دیوانگی دیکھ کر وہ ایک پل کو گھبرائی تھی جب وہ ہاتھ اس کی کم تک لے کر گیا اور جب بولا تو لہجہ یکسر بدلہ ہوا تھا۔۔۔

کیا کر کے آرہی ہیں آپ بتانا پسند کریں گیں وہ وانیہ کمر میں ہاتھ ڈالتا اس گن نکالتے ہوئے گویا ہوا تو وہ پراسرار سا مسکرائی کیونکہ وہ اب اپنی گھبراہٹ پر قابو پا چکی تھی۔۔۔

زیادہ کچھ نہیں بس کچھ لوگوں کی عقل ٹھکانے لگانے کی ضرورت تھی تو وہی کر کے آرہی ہوں اففف معصومیت تو ختم ہی وانیہ ابدالی پر ہوتی تھی۔۔۔

وہ کیا ہے نا وانیہ جاذل ابدالی آپ کی اس معصومیت سے وہ لوگ ہی قائل ہوسکتے ہیں جو کہ آپ کو جانتے نہ ہوں مگر اللّٰہ کے فضل و کرم سے میں آپ کی نس نس سے واقفیت رکھتا ہوں بتائیں کیا کر کے آرہی ہیں۔۔۔۔

کہا نا کچھ نہیں وہ قطعی لہجے میں بولی ویسے میر نے آپ کو تنگ تو نہیں کیا نا اب کہ وہ بات بدل گئی تو جاذل نے بھی خاموشی سے نفی میں گردن ہلائی اور سر وانیہ کے کندھے پر ٹکا دیا پھر جب بولا تو لہجہ شکست خوردہ تھا جیسے بہت گہری زخم لگا ہو۔۔۔

ہنی ماما کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا وہ میری ماں ہیں وہ ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہیں وہ جانتی ہیں آپ سے جدا ہوا تو جاذل ابدالی مر جائے گا پھر بھی وہ ایسا سوچ رہی ہیں اور وانیہ کو اس کے لہجے میں کچھ محسوس نہ ہوا تھا مان ٹوٹنے کا درد کسی گہرے زخم کی تکلیف اور سب کے بڑھ کر کھونے کا ڈر اور وہ ڈر کسے کھونے کا تھا اس بات سے وہ باخوبی واقف تھی اس لیے اس نے مکرنا ہی بہتر سمجھا۔۔۔

کیا ہوا ہے جاذل کیا کیا ہے تائی جی نے آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں کچھ ہوا ہے کیا وہ یکسر انجان بنی تو وہ اپنی بیوی کی ایکٹنگ کو داد دیے بنا نہ رہ سکا مگر ابھی داد دینے کا وقت نہیں تھا اس لیے اسے زبردست گھوری سے نوازا۔۔۔

جھوٹ نہ بولیں ہنی میں سن چکا ہوں وہ سب کچھ میں جاگ رہا تھا اس لیے اپنے سے باہر ہونے والی کھٹ پٹ پر جب باہر آیا تو کچھ غیر معمولی تب ہی محسوس کر لیا تھا پھر نیہا کے روم کا دروازہ بند ہونے کی آواز اور لائٹ کا جلنا میں غیر ارادی طور پر وہاں پہنچا مگر اندر سے آتی آوازوں نے مجھے منجمد کر دیا کوئی اپنی ہی اولاد کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا جاذل کی آواز نم ہوئی تو وانیہ تڑپ اٹھی۔۔۔۔

کیا ہوگیا ہے جاذل آپ ایسے ری ایکٹ کیوں کر رہے ہیں بات اتنی بڑی نہیں ہے تو اسے یہیں ختم کریں وانیہ نے اسے ریلیکس کرنا چاہا جو ہوتا تو نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔

میری موم ایسی تو نہیں تھیں خود غرض یا وہ ایسی ہی تھیں اور میں کبھی جان ہی نہ پایا موم ہیں نا یار میری وہ تو کیسے غلط سمجھتا انہیں وہ بکھرا سا لگا وانیہ کو جو اپنی بات کی خود نفی کر رہا۔۔۔

جاذل میری طرف دیکھیں وہ اسے کمرے میں موجود صوفے پر بٹھاتے خود اس کے سامنے بیٹھی اور جاذل کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما تو اس نے ٹرانس کی سی کیفیت میں وانیہ کی طرف دیکھا۔۔۔

آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں وہ سچ میں ایسی نہیں ہیں وہ بس بہن اور بھانجی کی محبت میں ایسا کررہی ہیں مگر جب انہیں یہ سمجھ آجائے گا کہ جو وہ چاہ رہی ہیں وہ ممکن نہیں تو وہ خود بخود ٹھیک ہو جائیں اس لیے بھول جائیں جو آج ہوا وہ اپنے دونوں انگوٹھوں کی مدد سے اس کے گال سہلاتی ہوئی بولی تو وہ اثبات میں سر ہلا گیا جس پر وہ مسکراتی جاذل کے کندھے پر سر ٹکا گئی۔۔۔

آپ ساحرہ ہیں وانیہ جاذل ابدالی آپ سچ میں بہت بڑی ساحرہ آپ نے مجھے اپنے سحر میں قید کر لیا ہے کبھی نہ نکلنے کے لیے مائی ہارٹ میں اور سچ کہوں تو میں کبھی اس سحر سے آزاد ہونا بھی نہیں چاہوں گا وہ اس کے بالوں کا بوسہ لیتے ہوئے بولا تو مسکرا دی کہوں کہ جاذل اب ریلیکس ہوچکا تھا تو وہ بھی مطمئن تھی پھر اسے کچھ دیر پہلے سارا قصہ اور نیہا کا بےہوش ہونے والا سین بتایا تو جاذل کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔۔۔

مر گئی اگر ڈیڈا نے دی کھ لیا تو میری کلاس پکی اسی سب میں وانیہ کی نظر جب وال کلال پر گئی تو آنکھیں حیرت سے کھل گئیں اور اس کے منہ سے نکلنے والے بے ساختہ الفاظ پر جاذل نے پہلے اسے اور پھر گھڑی کو دیکھا جہاں سوئی اب دو کا ہندسہ عبور کر چکی تھی۔۔۔

ریلیکس سویٹی کیا ہوگیا ہے جاذل کے اتنے آرام سے کہنے پر وانیہ نے اسے ایسے دیکھا جیسے کہہ رہی کہ بھئی تم کیا جانو اس کے سویٹ سے ڈیڈا کو جو لیٹ ہونے پر خود تو کچھ نہیں کہتے مگر اپنی بیگم کو شکایت لگانا فرضِ عین سمجھتے ہیں اور وہ سزا کے طور پر پھر پورا دن کچن کا سارا کام اس سے کرواتی ہیں اور وانیہ ابدالی کو تو کچن کا کام کرنا موت کے مترادف لگتا تھا ہمیشہ سے اس کسی کی ہڈی تڑوانی ہو تو اسے وہ آرام سے توڑ دے گی مگر کچھ کچن میں کچھ پکانا ہوتو وہ مرنے والی ہو جائے گی وانیہ جلدی صوفے سے اٹھ کر بیڈ کی طرف بڑھی جہاں اس کا راج دلارا خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہا تھا اور میں وانیہ کی زبان بھی تیزی سے چل رہی تھی۔۔۔

جاذل میں المیر کو لے کر جارہی ہوں کہ صبح اٹھتے اسے میں نہ نظر آؤں تو وہ رونا شروع کر دیتا ہے آپ سے صبح ویسے بھی سنڈے ہے تو آپ سب کا ناشتہ بانو پیلس ہی ہوگا اپنا خیال رکھیئے گا اور کچھ بھی سوچنے کی ضرورت نہیں آرام سے سو جائیں اوکے گڈ نائٹ اتنا کہتے وہ تیزی سے باہر بڑھی تو جاذل بھی مسکراتا ہوا اس کے پیچھے ہی گیا جہاں وہ ابدالی ہاؤس کا لان عبور کرکے اب بانو پیلس کے مین اینٹرس سے اندر داخل ہوگئی جاذل تو اس کی پھُرتیاں دیکھ کر حیران ہوا پھر مسکراتا ہوا اندر بڑھ گیا کہ اب دونوں کو پر سکون نیند آنے والی تھی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️

فضا میں پھیلی رنگ برنگے پھولوں کی خوشبو بہار کا پتا دے رہی تھی کہ موسمِ بہار اپنی جوبن پر ہے ایسے صبح سنہری دھوپ جس سے ہر چیز ہی سنہری نظر آرہی آنکھوں کو بہت بھلی لگ جبکہ کالونی میں ہر طرف خاموشی کا راج یہ بتا رہا تھا کہ اتوار کے باعث ہر کوئی مرضی سے اپنے بستر چھوڑے گا مگر ان سب میں بھی کوئی تھا جسے خواب خرگوش کے مزے لوٹنے سے زیادہ ہر سو اپنے بے سُرے سُر بکھیرنے میں انٹرسٹ تھا۔۔۔۔

باقی سب گھروں کی طرح ابدالی ہاؤس اور بانو پیلس کے بھی کچھ مکین ایسے تھے جو کہ ابھی اپنے اپنے بستروں میں تھے جبکہ باذل طارق صاحب کے ساتھ گھر کے لان میں ہی واک کر رہا تھا واک کرتے کرتے وہ گیٹ کے قریب پہنچے تو ٹھٹھک کر رک گئے پھر حیرانگی سے دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔۔۔

ڈیڈ یہ سُریلی میرا مطلب ہے کہ یہ زہریلی آواز کچھ جانی پہچانی نہیں معلوم ہو رہی ڈاکٹر باذل ابدالی نے حیرانگی سے اپنے ڈیڈ کی طرف دیکھ کر کہا جو خود بھی حیرانگی سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔

چلو برخوردار چل کر دیکھتے ہیں کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے طارق صاحب نے باہر کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے کہا تو باذل نے بھی ان تقلید کی مگر سامنے کا منظر ان دونوں کے لیے بھی اتنا ہی ناقابل یقین تھا جتنا کہ جاگنگ سے لوٹتے سدیس مرزا اور مارننگ واک سے لوٹتے رفیق صاحب طاہر صاحب اور آہل ابدالی کے لیے تھا کیونکہ سامنے ہی ابدالی خاندان کا چھوٹا چشم و چراغ احد ابدالی اپنی ہیوی بائیک کے ساتھ ایک سٹائل سے کھڑا سامنے گھر کی بالکونی میں کھڑی لڑکی کو دیکھ کر اپنے بے سُرے سُر بکھیرنے میں مصروف تھا۔۔۔

اب چلتے ہیں کچھ ہی قدموں کے فاصلے پر موجود احد ابدالی کی طرف جو صبح ہی صبح نک سک سا تیار بلو جینز وائٹ ٹی شرٹ پر لیدر جیکٹ پہنے بالوں کو جیل لگا کر سٹائل سے سیٹ کیے تھوڑی موٹی سلور رنگ کی چین پہنے نظریں سامنے مرکوز کیے کھڑا تھا اپنی ہی دھن میں بولے جارہا تھا۔۔۔۔

میرے من کے راوی کا

اور تیرے من کے ستلج کا

بول آمنہ بول سنگم ہوگا کہ نہیں۔۔۔۔

جبکہ آمنہ میڈم بھی سٹائل سے شرماتی ہوئی سن اسّی کی دہائی کی اداکاراؤں کو بھی مات دے رہی تھی۔۔۔۔

لو جی یہ صاحب تو سدیس کو بھی مات دے گئے آہل نے طاہر صاحب کو دیکھ کر کہا جو اثبات میں سر ہلا گئے کہ سدیس تو گھر پر ہی دہائیاں دیتا تھا کہ اس کی شادی کر دی جائے اب وہ مزید سنگل نہیں رہے اور اس کی تو عمر بھی ہوگئی تھی مگر ہمارے احد صاحب کو تو ابھی سے اپنا آپ شدید سنگل محسوس ہوتا تھا کہ ابھی تو جناب اکیس کے بھی نہیں ہوئے تھے اور آج کل تو اسے ہر لڑکی میں اپنی کسی نہ کسی گرل فرینڈ کی جھلک نظر آجاتی تھی کہ وہ سب تو لندن میں ہی رہ گئیں تھیں۔۔۔۔

بیٹا جی ہم بتاتے ہیں سنگم ہوگا یا نہیں آپ اس بیچاری بچی سے کیوں پوچھ رہے ہیں جہاں طارق صاحب کی آواز سن کے احد کےچھکے چھوٹے وہیں وہ بیچاری بچی جو کچھ دیر پہلے ایکٹنگ کے بھرپور جوہر دکھا رہی تھی یوں غائب ہوئی جیسے کہ گدھے کے سر سے سینگ۔۔۔

احد نے ڈرتے ڈرتے آواز کی سمت دیکھا تو نظر پہلے ابدالی ہاؤس کے دروازے پر کھڑے اپنے پاپا حضور پر گئی جو ہاتھ میں جوتا پکڑے بس کبھی بھی اسے سلامی پیش کرنے والے تھے اور پھر ساتھ کھڑے اپنے بھائی کی طرف جو اس وقت اسے بھائی تو نہ لگا کیونکہ مسکراہٹ ضبط کرنے کے چکر میں باذل کا چہرہ بالکل لال ہو چکا تھا جبکہ اسے دیکھتے ہی ایک آنکھ ونک کی۔۔۔۔

یا اللّٰہ بس آج بچالیں قسم سے پھر کبھی کسی لڑکی تو کیا لڑکے کو دیکھ کر بھی گانا نہیں گاؤں گا بلکہ میں تو گاؤں گا ہی نہیں سامنے نظر آتی چھترول کو دیکھ کر احد نے دل ہی دل دعا کی اور پھر سوچا کہ دوسری سائڈ سے نکل جائے مگر ادھر نظر جاتے ہی اسے سامنے کھائی یعنی کے اپنے دادا حضور خونخوار تیور لیے نظر آئے اور احد کو لگا کہ آج اس کی کوئی دعا بھی قبول نہیں ہوگی۔۔۔۔

گھر آئیے آپ لوگ ہم بوت کرتے ہیں ان صاحب بہادر سے اتنا کہتے ہی رفیق صاحب بانو پیلس کی جانب بڑھے تو طارق صاحب بھی جوتا پاؤں میں ڈالتے ان کے پیچھے ہولیے تو اپنی جگہ پر منجمد احد کو ایک بازو سے آہل جبکہ دوسرے بازو سے باذل نے پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے آگے بڑھے اور فری کا شو دیکھنے کو مل رہا ہو اور سدیس مرزا پیچھے رہ جائے یہ تو ناممکنات میں سے ایک ہے۔۔۔

چل زرا بیٹا آج تو تیرے اندر کا یہ عاشق چیخیں مار مار کے باہر نہ نکلا تو بتانا باذل نے مسکراتے ہوئے جلے پر نمک ڈالنے کام کیا جب کہ احد کی خود کو چھڑانے کی کوشش جاری تھی جو کہ ناممکن تھا۔۔۔

بھائی ہو یار آپ دونوں میرے ایسا نہ کرو مجھے کہیں چھپا دو ورنہ میں نے آج شہید ہو جانا یہ دیکھو میرے جڑے ہاتھ دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر کہتے چہرے پرا مسکینیت طاری کیے دونوں یاد دلایا کہ میں چھوٹا بھائی ہوں مگر بدلے میں ان دونوں نے یوں دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں کہ نہ بیٹا ہم تو تجھے جانتے تک نہیں۔۔۔

بھائی بھائی نہ رہا ایک بار پھر دکھ رویا گیا مگر ان دونوں کی طرف تو اب نو رسپانس کا بورڈ لگا ہوا تھا۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️

یہ منظر بانو پیلس کے لاؤنج کا ہے جہاں اس وقت مکمل خاموشی کا راج ہے اور سب صوفوں پر بیٹھے احد ابدالی کو یوں دیکھ رہے ہیں جیسے کہ وہ دنیا کا کوئی آٹھواں عجوبہ ہو جبکہ وہ بیچارہ اس مجرم کی طرح سر جھکائے کھڑا ہے جس پر جرم ثابت ہو چکا ہو اور وہ بس اپنی سزا کا منتظر ہو۔۔۔

تو کیا آپ بتانا پسند فرمائیں گے شہزادے کہ آپ باہر کیا کر رہے تھے لاؤنج کی خاموشی کو رفیق صاحب کی گرجدار آواز نے توڑا تو احد نے سر اٹھایا۔۔۔

کچھ نہیں دادا جان بس لڑکی پٹا رہا تھا مگر عین موقعے پر آپ سب لوگ آگئے اگر پانچ منٹ اور رک جاتے تو میری سیٹنگ پکی تھی کیا کمال کی معصومیت تھی کہ سدیس مرزا نے اپنا قہقہہ کھانسی کی صورت روکا اور طارق صاحب نے پیچھے سے احد کی گردن پر رکھ کر تھپڑ مارا جبکہ بازل اور آہل تو احد کی متوقع چھترول کے انتظار میں تھے وانیہ ہانیہ اور عنایہ نیند میں جھولتی ہوئی سیڑھیوں پر بیٹھی مسکرا رہیں تھیں کہ جنہیں نیلم اٹھا کر لائی تھی جبکہ وانیہ کو تو باقاعدہ فخر محسوس ہو رہا تھا آخر کار میڈم کا چیلا جو تھا ڈھٹائی اور معصومیت کی کلاسز اسی سے تو لے رہا تھا جبکہ رفیق صاحب ہونقوں کی طرح پوتے کی بات سمجھنے کی کوشش میں تھے یہی حال خواتین کا تھا۔۔۔

کیا کر رہے ہیں ڈیڈ کیا سچ بولنا جرم ہے اس دنیا میں اب کی بار مسکینیت سے کہا گیا تھا کہ احد ابدالی جتنا مظلوم و مسکین کوئی ہے ہی نہیں اس دنیا میں۔۔۔

یہ کس قسم کا بیہودہ سچ ہے تمہیں شرم آرہی اپنے بڑوں کے سامنے کیسے بے غیرتوں کی طرح اپنے کرتوت بتا رہے ہو۔۔۔

میں نے کچھ غلط نہیں کہا ڈیڈ آپ لوگوں نے سب کا سوچا پر میں آپ میں سے کسی کو نظر نہیں آتا میں بھی تو آج تک سنگل ہوں ایک تھوڑا بہت حوصلہ تھا کہ سدیس برو بھی تو سنگل ہیں مگر اب تو کچھ دن میں ان کی شادی بھی ہو جائے گی تو وہ بھی منگل ہو جائیں گے میں غریب تن تنہا کس کس کو دیکھ کر دل جلاتا رہوں گا میں کچھ نہیں جانتا بس مجھے بھی منگل ہونا ہے سر جھکائے ہی چہرے پر معصومیت لیے اپنی مجبوری بتائی تھی اور اب سب یہ سوچ رہے تھے کہ اسے کیا کہیں ایسے انسان پر بندہ روئے یا ہنسے۔۔۔۔

احد ابدالی میری طرف دیکھو رفیق صاحب کی آواز پر اس نے سر اٹھایا جو کہ حد سے زیادہ سنجیدہ تھے۔۔۔

آپ نے ایک بہت ہی غیر مہذب حرکت کی ہے ابھی زمین سے نکلے نہیں اور یہ سب کچھ شروع کر دیا اور آپ کے بھائی اپنی زندگی میں سیٹل ہیں اس لیے ان کی شادیاں ہورہی ہیں ابھی آپ نے یونیورسٹی جوائن کی ہے پہلے کچھ بن جائیں پھر جا کے شادی کے بارے میں سوچیے گا اب کبھی ہم نے آپ کو ایسا کچھ کرتے دیکھ لیا تو بہت سخت قسم کی سزا ملے گی آپ کو چلیں اب سب اپنے کام کریں اور ہاں احد بیٹا آپ کو سزا اب بھی ضرور ملے گی مگر کم ہی ملے گی احد جو سزا نہ ملنے پر ابھی خوش بھی نہیں ہو پایا تھا پھر سے چہرے پر معصومیت طاری کر لی۔۔

اور سزا یہ ہے کہ آپ کل سے یونی کے بعد اپنے ڈیڈ کے پاس آفس جایا کریں گیں اگلے پورے پندرہ دن اور کوئی آرگیومنٹ نہیں احد جو کچھ کہنے کے لیے منہ کھولنے والا تھا خاموش ہو گیا۔۔۔۔

اتنا کہتے ہی رفیق صاحب چلے گئے تو باقی سب بھی بدمزا ہوکر چلے گئے کہ احد کی چھترول جو نہیں ہوئی تھی اور احد منہ لٹکا کر ابدالی ہاؤس نکل گیا۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️

ناشتہ تو کر لیں خاناں ضمام جو یونیفارم پہنے ڈیوٹی کے لیے جا رہا تھا بی جان کی آواز پر رکا مگر پلٹا نہیں۔۔۔

جب دل مردہ ہو جائے تو کھانے پینے کی طلب نہیں رہتی بی جان اور ضمام حیدر خان کا دل مر گیا ہے۔۔۔

اللّٰہ نا کرے میرے بچے کا دل کیوں مردہ ہو کیسی باتیں کرتے ہو ضمام بی جان تڑپ کر سامنے آئیں کہ لاڈلا اور اکلوتا بیٹا تھا کیسے برداشت کرتیں ایسی بات۔۔

مجھ سے میری سب سے قیمتی چیز چھین لی گئی ہے بی جان اس نے بی جان کے چہرے پر نظریں جمائے ہی جواب دیا۔۔۔

تو چھین لیں لڑ جائیں اس سے جس نے بھی آپ سے چھیننے کی غلطی کی ہے آپ کب سے اپنی چیزوں اور چیزیں چھیننے والے کو چھوڑنے لگے بی جان نے ضمام کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے محبت سے کہا تو وہ حیران ہوا کیا وہ جان نہیں پائیں تھیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے یا وہ جان کر انجان بن رہیں تھیں۔۔۔

مگر مجھ سے میری قیمتی چیز میری محبت چھیننے والی میری بی جان ہی ہیں اگر سامنے ساری دنیا ہوتی تو میں لڑ بھی لیتا مگر سامنے آپ ہیں آپ سے لڑ نہیں سکتا بی جان مگر یاد رہے آپ کا یہ بیٹا اب ایک زندہ لاش کی طرح زندگی گزارے گا وہ اٹل مگر نرم لہجے میں بولا کہ احترام لازم تھا۔۔۔

دنیا عنایہ ابدالی پر آکر ختم تو نہیں ہو جاتی میرے بیٹے چلو آؤ ناشتہ کرو وہ ایک بار پھر اسے قائل کرنے کو بولیں۔۔۔۔

مگر میری دنیا عنایہ ابدالی پر ختم ہوجاتی ہے بی جان اتنا کہتے ہی وہاں سے چلا گیا جبکہ بی جان خارجی دروازے کو دیکھتی رہ گئیں جہاں سے وہ گیا تھا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️
Continue.......

     Don't copy paste without my permission❌🚫❌🚫❌🚫❌🚫❌🚫❌🚫❌اور پھر ناجانے کتنی ہی دیر وہ انہیں سب سوچو میں گم رہتی اگر سدیس...
24/04/2024







Don't copy paste without my permission
❌🚫❌🚫❌🚫❌🚫❌🚫❌🚫❌

اور پھر ناجانے کتنی ہی دیر وہ انہیں سب سوچو میں گم رہتی اگر سدیس کی آواز نہ آتی۔۔۔۔۔

اوئے یہ جاذل کو کیا ہوا اتنے غصے میں کیوں گیاہے اور جاتے ہوئے المیر کو بھی اپنے ساتھ لے گیا اور تمہارے لیے میسج ہے کہ المیر آج اپنے بابا کے ساتھ رہے گا بتا دینا المیر کی ماں کو سدیس جاذل کی نقل اتارتے ہوئے بولا تو اس کے اس طرح منہ بنانے پر وانیہ کی ہنسی نکل گئی۔۔۔۔

تو چوزے تمہیں اتنی مرچیں کیوں لگ رہی ہیں اپنے باپ کے ساتھ ہی تو گیا ہے وانیہ مسکرا کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی جس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا اس بات پر ایک دم جھلا ہی گیا۔۔۔۔

کیا مطلب مجھے مرچیں کیوں لگ رہی ہیں کیا تم نہیں جانتی یہ میرا اور المیر کا ٹائم ہوتا ہے اور تمہارے شوہر نامدار آکر میرے میرو کو لے گئے جانتی ہو کہ مجھے اس وقت کیسا فِیل ہو رہا تھا نہایت ہی دکھ سے پوچھا گیا تھا۔۔۔۔

مجھے کیا پتہ کہ تمہیں کیسا فِیل ہو رہا تھا سامنے سے بھی اتنے ہی دھیان سے جواب آیا۔۔۔۔

مجھے اپنا آپ بالکل ہی کوئی نائینٹز کے ہیرو جیسا لگ رہا تھا جس کی ہیروئن کو اس کا ولن باپ آکر زبردستی ہیرو سے دور کر دیتا ہے اور میرو وہ بھی تو اپنے بابا کے کندھے سے جھانکتے ہوئے مجھے پلٹ پلٹ کر دیکھ رہا بالکل کسی ہیروئن کی طرح اُففف سدیس مرزا کے اپنے ہی دکھرے تھے جبکہ اس کی بات دھیان سے سنتی وانیہ کو تو پتنگے ہی لگ گئے تھے پاس رکھا المیر کا ٹیڈی بیئر جو کہ کافی حد تک ہارڈ تھا اٹھا کر اسے دے مارا جو سیدھا سدیس کی ناک پر لگا کہ وانیہ کا نشانہ آج تک غلط نہیں ہوا تھا تو آج کیسے ہو جاتا اور سدیس بیچارا تو ناک پکڑ کراہ اٹھا تھا کہ اچانک لگنے والی چیز کچھ زیادہ ہی درد دیتی ہے جبکہ وانیہ کا تو اس سے بھی دل نہیں بھرا تھا اس لیے اب اسے اچھی اچھی گالیوں سے نواز رہی تھی۔۔۔۔۔۔

بے غیرت چوزے کہیں کہ کوئی شرم ہے کہ نہیں یا تم نے بیچ کھائی ہے جو میرے معصوم سے بیٹے کو اپنی ہیروئن کہہ رہے ہو خبردار جو میرے بیٹے کو دوبارہ ایسا کہا تو وانیہ کے تو سر پر لگی اور تلوؤں پر بھجی تھی جبکہ سدیس بیچارا تو اپنی ناک پکڑے یہ سوچ رہا تھا کہ اس نے ایسا کیا کہہ دیا جو یہ میڈم اتنی بھڑک رہی ہے۔۔۔

اووہ بی بی بس کر جاؤ خدا کی پناہ تم تو ایسے بھڑک رہی ہو جیسے خدا نخواستہ میں نے تمہارے معصوم بیٹے کو شادی کے لیے پرپوز کر دیا ہے اب کے وہ بھی لڑاکا عورتوں کی طرح کمر پر ہاتھ رکھے میدان میں اتر چکا تھا۔۔۔۔۔

اووہ تم زرا شکل دیکھو اپنی تم میرے بیٹے کو پرپوز کرو گے ارے جاؤ بھئی جاؤ تمہارے جیسا تو میں باڈی گارڈ بھی نہ رکھوں اپنے بیٹے کا آیا بڑا اور وانیہ کی ابھی بات بھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ سدیس مرزا ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑا اپنی شکل کو ہر زاویے سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

ہاں میں تمہاری اس بات سے اتفاق کرتا ہوں سچ میں میری شکل باڈی گارڈ والی نہیں بلکہ کسی ہیرو سے بھی اچھی ہے اور یہ جو تم نے ابھی میری بےعزتی کی ہے نہ اس کے بدلے تمہاری کل لنچ کی وہ بریانی کینسل جو میں بنانے والا تھا اور تمہیں بھی انوائیٹ کرنے آیا تھا باقی سب کے ساتھ اب تم مجھے میرے گھر تو کیا اس کے آس پاس نظر آئی تو سیدھا شوٹ کر دوں گا مگر تمہیں اپنے ہاتھ کی بریانی نہیں دوں گا چاہے مجھے پھانسی ہی کیوں نہ چڑھنا پڑے وہ منہ پر ہاتھ پھیرتا اب کہ وانیہ کو دھمکی دے رہا تھا جو کہ اب پریشان ہوچکی تھی کہ اپنے پیر پر کلہاڑی خود ہی ماری تھی کہ سدیس مرزا کے ہاتھ کی بریانی کی تو فین تھی جبکہ ان سے چند قدم کے فاصلے پر عنایہ کے ساتھ دروازے میں کھڑے احد اور ابیہا کبھی وانیہ اور کبھی سدیس کا منہ دیکھ رہے تھے کہ ایک بریانی کے لیے کوئی اتنی سنگین دھمکیاں کیسے دے سکتا ہے جبکہ عنایہ بیزار نظر آرہی تھی کہ یہ تو انکا آئے دن کا ڈراما تھا ایک دوسرے کو شوٹ کرنے کی دھمکیاں دینا کہ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات پر ایک دوسرے کو بے عزت کر کے جانی دشمن بن جاتے اور کچھ ہی منٹوں یا گھنٹوں بعد پھر سے ویسے ہی ہوتے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔۔۔۔

اور دوسری طرف وہ اپنی دھمکی دیتا نکل چکا تھا اور وانیہ اپنے چہرے پر مسکراہٹ لاتی اب احد اور ابیہا کی طرف مڑی ارے اندر آؤ نہ تم دونوں دروازے میں کیوں کھڑے ہو اور اس چوزے کی فکر نہیں کرو یہ بس ایسے ہی ہے گویا ناک سے مکھی اڑائی اور وہ دونوں بھی اندر آگئے کہ ان کا آپسی معاملہ تھا وہ کیا کہتے۔۔۔

بیٹھو نہ تم لوگ وہ صوفے کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی۔۔

ویسے احد۔۔ سدیس کے جانے کے بعد میں تمہیں ہی کال کرنے والی تھی کہ ایک چھوٹا سا کام تھا تم سے وانیہ اپنی ٹھوڑی کھجاتے ہوئے بولی جبکہ اب احد پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوچکا تھا۔۔۔

جی آپی کہیں وہ مؤدب سا ہوکر بیٹھا جس پر وانیہ بہت پیارا سا مسکرائی جبکہ ابیہا حیران تھی کہ احد ابدالی اور اتنی تمیز واہ بھئی واہ کیا کہنے اور احد تو اسے پوری طرح اگنور ہی کر چکا تھا۔۔۔

زیادہ کچھ نہیں ایک بار پھر سے ٹھوڑی کھجائی بس کرنا یہ ہے کہ تائی جی اور نیہا تک یہ بات پہچانی ہے کہ میرا اور جاذل کا کافی سریس جھگڑا ہوا ہے اور مجھ سے کوئی سوال نہیں پوچھو گے کہ یہ میں کیا اور کیوں کر رہی ہوں احد کو منہ کھولتا دیکھ وہ جلدی سے ٹوک گئی جس پر وہ بس اثبات میں سر ہلا کر رہ گیا کہ اب کیا کہتا اس کے بعد وہ لوگ ادھر اُدھر کی باتوں میں مصروف ہو گئے۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️

رات تقریباً ایک کا ٹائم تھا ابدالی ہاؤس میں سب سو چکے تھے ایسے میں نیہا اپنے کمرے سے نکلی اور سب سے حیران کن بات اس کا نائٹ ڈریس تھا جس میں اس کا جسم ڈھکا ہوا تو نہیں تھا مگر عریاں ضرور ہو رہا تھا جبکہ اس کے قدم اب جاذل کے روم کی طرف تھے اور اس سے پہلے کہ وہ جاذل کے کمرے کے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھتی اس کا ہاتھ کسی نے بیچ میں ہی روک دیا جبکہ نیہا ایک دم گھبرا گئی تھی کہ اندھیرے میں موجود انسان نے فل سیاہ لباس زیب تن کر رکھا تھا وہ جو کوئی بھی تھا پوری طاقت سے نیہا کو گھسیٹتے ہوئے اس کے کمرے تک لایا اور بند دروازے کو کھول کر اسے اندر دھکا دیا جس سے وہ بمشکل گرنے سے بچی تھی اور اسے کسی کے اندر آنے اور دروازہ بند ہونے کی آواز آئی اسے زیادہ سوچنا نہیں پڑا کیونکہ کچھ ہی سیکنڈوں میں کمرہ روشنی میں نہا گیا تھا اور نیہا کے ساتھ ساتھ کمرے میں موجود دونوں وجود بھی سامنے کھڑی ہستی کو دیکھ کر حیران ہوئے تھے کہ یہ یہاں کیسے۔۔۔۔

ارے واہ میں تو سمجھتی تھی کہ اس گھٹیا اور نازیبا حرکت کے پیچھے بس یہ نیہا باجی ہی شامل ہیں مگر یہاں تو ماشاءاللہ سے ہماری بزرگ صاحبان بھی ہیں کیا ہے نا وانیہ اپنے چہرے پر موجود سیاہ ماسک اتار کر اپنی دائیں گال کھجاتی ہوئی بولی ساتھ ہی ساتھ پاس پڑے سنگل صوفے پر بیٹھتے ہوئے اپنے سیاہ بوٹوں میں قید پاؤں سامنے موجود میز پر رکھ گئی۔۔۔

جبکہ وہ تینوں اپنے منصوبے کے ناکام ہونے پر تلملا کر رہ گئیں۔۔۔

یہ کیا بےہودگی ہے اتارو اپنے پاؤ ٹیبل پر سے اور نکلو میرے کمرے سے یو بلڈی نیہا جو خطرناک ارادوں سے وانیہ کی طرف جارہی تھی گھبرا کر وہیں کھڑی ہوگئی کہ وہ اپنی چمچماتی ہوئی پسٹل نکال کر اس سے اپنی ٹھوڑی کھجا رہی تھی۔۔۔۔

ہاں تو آپ کچھ کہہ رہیں تھیں نیہا باجی۔۔۔باجی پر خاصا زور دیا گیا جس پر نیہا تلملا کر رہ گئی کہ بول کچھ نہیں سکتی تھی کیوں کہ پسٹل کے ساتھ ساتھ وانیہ کی سرخ ہوتی آنکھوں کی بھی دہشت تھی جس سے وہ ہلکا ہلکا کانپ بھی رہی تھی۔۔۔

کچ کچھ نہیں میں تو کچھ بھی نہیں کہہ رہی تھی لفظوں کو توڑ توڑ کر ادا کرتی وہ وانیہ ابدالی کو قہقہہ لگانے پر مجبور کر گئی تھی۔۔۔

بس بہت ہوگیا وانیہ بند کرو اپنی یہ بیہودگی اور دفع ہو جاؤ یہاں سے عالیہ بیگم دھارتی ہوئیں اپنی جگہ سے اٹھیں تو وانیہ نے سرخ انگارہ آنکھوں سے ان کی طرف دیکھا جس سے ایک پل کے لیے وہ کانپ ہی گئیں وہ اس وقت کہیں سے بھی وہ معصوم سی وانیہ ابدالی نہیں لگ رہی تھی اس وقت تو شاید وہ اپنے روز والے روپ میں تھی کہ جس کا ایک نظر دیکھنا ہی سامنے والے کی جان نکالنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔۔۔

بیٹھ جائیں ساسو ماں آپ بھی اپنے مزاج کو زرا ٹھنڈا کر کے بیٹھ جائیں اور بیہودگی کی تو کیا خوب ہی کہی آپ نے ایک بات تو بتائیں کہ بیہودگی یہ ہے جو میں کر رہی ہوں یا وہ تھی جو آپ اپنی بہن اور اپنی اس سوکالڈ بھانجی اتنا کہتے ہی اس کی نظر نیہا پر گئی تو اس کی پیشانی پر ناگوار بل پڑے ایک بات تو بتائیں نیہا باجی کیا اب میں آپ کے لیے آٹھ دس باندیوں کا انتظام کروں یا آپ خود ہی جاکر یہ بیہودہ لباس تبدیل کریں گیں ایک بار پھر باجی پر خاصا زور دیتے ہوئے وہ طنزیہ لہجے میں بولی تو نیہا گڑبڑا کر جلدی سے الماری کی طرف بڑھی تو پیچھے سے اس کی آواز ایک بار پھر ابھری۔۔۔

صرف دو منٹ ہیں آپ کے پاس جلدی سے چینج کر کے باہر آئیں اس کی آواز سنتی نیہا جلدی سے واش روم میں بند ہوئی۔۔۔

ہاں تو ساسو ماں وہ اب پھر سے رخ ان کی طرف کر چکی تھی اور عالیہ بیگم جو وانیہ کا دھیان دوسری طرف دیکھ کر آہستہ سے کمرے سے نکلنے کا ارادہ رکھتیں تھیں کہ کسی کو بلا سکیں اسے اپنی جانب متوجہ دیکھ کر ایک بار پھر وہیں بیڈ پر بیٹھ گئیں۔۔

تو میں کہہ رہی تھی کہ آپ جو بیہودہ حرکت ان دونوں کے ساتھ مل کر کرنے والیں تھیں کیا آپ نے ایک بار بھی نہیں سوچا کہ اس سے آپ کے اپنے بیٹے کے کردار پر انگلی اٹھے گی کیا جاذل یہ سب برداشت کر لیتے نہیں ہرگز نہیں وہ آپ کی اس سوکالڈ میک کی دکان بھانجی کو کھڑے کھڑے دوسرے جہان منتقل کر دیتے وانیہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولی کہ شاید وہ شرمندہ ہو جائیں پر وہ شرمندہ کیا ہوتیں وہ تو اس کی پسٹل کی طرف ہی دیکھ دیکھ کر آدھی ہوئیں جارہیں تھیں ڈر کے مارے اور روبینہ بیگم(نیہا کی ماما)تو باقاعدہ کانپ رہیں تھیں۔۔۔

آپ لوگوں کو کیا لگا کہ یہ کوئی انڈین ڈیلی سوپ چل رہا ہے جو آپ لوگ کچھ بھی پلاننگ کریں گیں اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو سکے گی تو میں آپ کو بتاتی چلوں کہ یہ حقیقی زندگی ہے اس میں بہت کچھ آپ کی سوچ سے برعکس ہوتا ہے میں شام میں ہی آپ لوگوں کی ساری باتیں سن چکی تھی مگر میں انتظار میں تھی کہ شاید آپ اپنے بیٹے کا سوچ لیں اور ان لوگوں کو منع کردیں مگر میں غلط تھی ساسو ماں وہ ہر لفظ چبا چبا کر ادا کررہی تھی کہ جیسے خود پر بہت ضبط کیا ہو۔۔۔۔

شام چھ بجے ابدالی ہاؤس۔۔۔

یہ کیا بول رہی ہو تم روبینہ ایسا کیسے ممکن ہے تم یہ سوچ بھی کیسے سکتی ہو کہ تم میرے بیٹے پر تہمت لگانے کی بات کرو گی تو میں تمہارا ساتھ دوں گی کبھی نہیں۔۔

وہ جو المیر کو جاذل سے لینے کے لیے آئی تھی کہ اسے کافی وقت ہو چکا تھا اپنے بابا کے ساتھ آئے ہوئے عالیہ بیگم کے کمرے سے آتی آواز پر وہیں دروازے کے پیچھے ہوئی کہ وہ دروازہ پورا بند کرنا بھول گئیں تھیں شاید۔۔۔۔

باجی آپ سمجھ کیوں نہیں رہیں کہ یہی سہی موقع ہے آپ نے سنا نہیں تھا کہ احد ابیہا کو بتا رہا تھا کہ جاذل اور اُس وانیہ کا کافی سریس جھگڑا ہوا ہے ایسے میں جب آدھی رات کے وقت نیہا جاذل کے کمرے میں شور کرے گی تو سب گھر والے جاگ جائیں گے اور یہ بات وانیہ تک ضرور پہنچے گی اور وہ دونوں تو پہلے ہی ایک دوسرے سے ناراض ہیں اس طرح وہ وانیہ جاذل سے جلد بدگمان ہو جائے گی اور میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ اس سے آپ کے سر سے اس زوباریہ کی بیٹی اور اس بچے جیسی بلا ٹل جائے گی اور اگر آپ کو نہیں منظور تو کوئی بات نہیں مگر یاد رکھئیے گا پھر ساری زندگی وہ دونوں آپ کے سینے پر مونگ دھلیں گے لکھ کے رکھ لیں میری بات روبینہ بیگم کی بات سنتی عالیہ بیگم سوچ میں پڑھ گئیں تو کچھ دیر بعد ہی کمرے میں عالیہ بیگم کی آواز گونجی۔۔۔

ٹھیک تم دونوں نے جو کرنا ہے کرو مگر اس سب میں میرا نام نہیں آنا چاہیے اور پھر وہ لوگ رات کے لیے پلان بنانے لگیں جب کہ باہر کھڑی وانیہ تو کتنی ہی دیر تک ہل بھی نہ سکی کہ کوئی ماں کسی سے بےوجہ کی دشمنی اور کسی پر اتنا اندھا اعتبار کر کے کیسے اپنی ہی اولاد پر کسی کو تہمت لگانے کی اجازت دے سکتی ہے عالیہ بیگم کیسی سنگ دل ماں تھیں وہ سوچ کر ہی جھرجھری لے کر رہ گئی۔۔۔۔

ایک بار پھر نیہا کے کمرے میں آؤ تو وانیہ کہہ رہی تھی۔۔۔

آپ اپنے بیٹے پر بےبنیاد تہمت لگتی اور اسے بےقصور ہوتے ہوئے بھی بد کردار ثابت ہوتا دیکھ سکتیں ہیں ساسو ماں مگر میں اپنے شوہر کے ساتھ ایسی زیادتی ہوتے نہیں دیکھ سکتی اور اگر میں نہ بھی سنتی تو آپ لوگوں نے کیسے سوچ لیا کہ میں جاذل سے بدگمان ہوسکتی ہوں نہ نہ بالکل بھی نہیں ایک بیوی سے بہتر اپنے شوہر کے کردار کو اور کوئی نہیں جان سکتا اور میں تو آنکھیں بند کر کے بھی اپنے شوہر کے کردار کی گواہی دے سکتی ہوں اور آپ نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں بدگمان ہو جاؤں گی بہت افسوس ہوا مجھے آپ کی سوچ پر وہ لہجے میں چٹانوں کی سی سختی لیے بولی تو وہ دونوں بس اسے دیکھ کر ہی رہ گئیں جبکہ باہر کھڑا وجود دل کشی سے مسکرایا تھا۔۔۔۔

ارے نیہا باجی نکل بھی آئیں باہر آپ کو واشروم میں گھسے اب تو دس منٹ ہو چکے ہیں بھئی مجھے اپنے بیٹے اور شوہر کے پاس بھی جانا ہے اب میں ساری رات یہاں بیٹھ کر اپنا ٹائم آپ لوگوں پر تو ویسٹ نہیں کر سکتی نہ وہ ایک بار پھر اپنے پیر میز پر رکھتی ہانک لگاتے ہوئے بولی تو نیہا بھی واشروم کا دروازہ کھولتی ہوئی باہر آئی اب وہ کچھ ڈھنگ کے کپڑوں میں تھی۔۔۔۔

ہاں تو نیہا باجی وہ ایک بار پھر اپنی پسٹل سے اپنا گال کھجاتی ہوئی نیہا کا سر سے پیر تک جائزہ لینے لگی جو اس وقت سِلک کے سرخ ٹراؤزر شرٹ میں وانیہ کو پھر بھی کچھ قابل قبول لگی جبکہ وانیہ کے اس طرح دیکھنے پر نیہا بری طرح گھبرائی تھی۔۔۔

وہ دیکھ رہی ہیں نیہا باجی فروٹ باسکٹ اس میں سے سیب اٹھاکر وہیں پھر سے کھڑی ہو جائیں اور وانیہ کی بات سنتی نیہا جلدی سے سیب اٹھا کر وہیں واشروم سے چند قدم کی دوری پر کھڑی ہوگئی تو وانیہ پر اسرار سا مسکرائی اور اس کی یہ مسکراہٹ دیکھتی ہوئی وہ تینوں ہی گھبرا گئیں کہ اب ناجانے وہ کیا کرنے والی تھی سانسیں پہلے ہی وہ ان کی اپنے پسٹل اور سرخ انگارہ آنکھوں سے اٹکائے ہوئے تھی جبکہ اس کے نئے حکم نامے پر وہ تینوں جیسے مرنے والی ہوگئیں۔۔۔

چلیں نیہا باجی اب یہ سیب اپنے سر پر رکھیں کافی دنوں سے میں نے اپنا نشانہ چیک نہیں کیا ہے اور اس کی بات سنتی نیہا نفی میں گردن ہلانے لگی کہ روبینہ اور عالیہ بیگم کا حال تو یوں تھا کہ جیسے کبھی بھی ان دونوں کے حلق سے آواز تک نہ نکلے گی۔۔۔

ارے نیہا باجی آپ اسے اپنے سر پر رکھیں گیں یامیں آپ کے ہاتھ میں ہی اپنا نشانہ چیک کر لوں وہ اپنی پسٹل کی نالی پر سیلنسر لگاتے ہوئے نیہا کو اسی طرح کھڑے دیکھ کر بولی تو نیہا نے کانپتے ہاتھوں سے سیب اپنے سر پر رکھا اور آنکھیں میچ گئی کہ اس سر پھری لڑکی کاکیا بھروسہ ہاتھ پر ہی نہ اپنا نشانہ چیک کرنے لگ جائے۔۔۔۔

اور اگلے چند سیکنڈ میں وہ بنا دیکھے ہی نیہا کے سر پر رکھے سیب کا نشانہ لگا چکی تھی جہاں اس کا نشانہ درست لگنے کے باوجود بھی نیہا گولی کی دہشت سے بیہوش ہوکر زمین بوس ہو چکی تھی وہیں دونوں خواتین کی دبی دبی جیخیں کمرے میں گونجی تھیں۔۔۔۔

ارے ساسو ماں اور میرے شوہر کی کبھی نہ ہونے والی ساسو ماں کیا ہوگیا یار آپ لوگوں کو چیخیں نہیں بالکل بھی کیا سارے گھر والوں کو جگا کر اپنا کارنامہ بتانے کا ارادہ ہے اور ہاں میں نے شاید آپ لوگوں بتایا نہیں پر یہ ایک حقیقت ہے کہ وانیہ ابدالی کا نشانہ آج تک غلط نہیں ہوا یہ نیہا باجی تو ڈر کے مارے بیہوش ہوئی ہیں آپ بے فکر رہیں ابھی کچھ دیر میں ہوش آجائے گا ان کو وہ مصنوئی فکر جتاتے ہوئے بولی تو روبینہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے جنہیں دیکھ کر وانیہ کو افسوس تو بہت ہوا مگر ان لوگوں کی حرکت قابل قبول نہیں تھی اس لیے یہ سب ضروری ہوگیا تھا اگر آج وہ ان لوگوں کو معاف کر دیتی تو وہ کل کو اس سے بھی کوئی سنگین قدم اٹھاتے جو بات اسے بالکل بھی قبول نہیں تھی۔۔۔۔

ارے ارے آنٹی جی دیکھیں آنسو بالکل نا بہائیں کیوں کہ یہ تو بس ٹیزر تھا اگر اب آپ لوگوں نے کوئی الٹی سیدھی حرکت کی تو میں پوری فلم دکھانے میں بالکل بھی دیر نہیں لگاؤں گی اور بخدا میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ میری دکھائی ہوئی فلم برداشت کرنے کی سکت آپ میں سے کسی میں بھی نہیں ہے تو بی کئیر فل وہ ان کے سامنے کھڑی انہیں واضح الفاظ میں دھمکی دیتی مڑی مگر دروازے میں جاکر ایک بار پھر مڑتی ہوئی ان دونوں کی جان اٹکا گئی کہ ابھی ان لوگوں نے سکون کا سانس بھی نہیں لیا تھا۔۔۔

اور ہاں ساسو ماں وہ عالیہ بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے بولی جبکہ پسٹل ابھی بھی اس کے ہاتھ میں ہی موجود تھا میں ایک بات آپ کو بتا نا بھول ہی گئی کہ میرے اندر بھی فارس غازی والی صلاحیت موجود ہے کہ میں بنا آواز اور بنا شور کیے بندہ پھڑکا سکتی ہوں اور کسی کو کانو کان خبر نہ ہو اس لیے صبح ہوتے ہی اپنی اس بھانجی اور سو کالڈ بہن کا بستر گول کریں اور ان لوگوں کو چلتا کریں ایک ہاتھ دروازے کے ہینڈل پر رکھے اور دوسرے ہاتھ میں پکڑی پسٹل سے ٹھوڑی کھجاتے ہوئے عالیہ بیگم کی طرف دیکھ کر ایک آنکھ دباتے ہوئے بولی اور عالیہ بیگم کا جواب سنے بنا ہی کمرے سے نکل گئی کہ مزید کچھ بھی کہتی تو شاید وہ دونوں بھی بیہوش ہو جاتیں۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔

السلام وعلیکم کیوٹ کیوٹ اور پیارے پیارے لوگو میں جانتی ہوں کہ قسط بہت لیٹ ہے مگر میں بھی کیا کروں کہ ٹائم ہی بہت مشکل سے ملتا سو پلیز پیارے پیارے لوگو مجھے سمجھنے کی کوشش کرو اور قسط پڑھ کر لمبا سا کومنٹ کر کے بتائیں کہ قسط کیسی لگی شکریہ آپکی کی دعاؤں کی طلبگار
#گلنازمہر

Address

Sialkot
Sialkot

Telephone

+13077574084

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gullnaz Maher novels posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Gullnaz Maher novels:

Shortcuts

Share

Category