Fazal Rahim Karyana Store

Fazal Rahim Karyana Store Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Fazal Rahim Karyana Store, Shopping & retail, Toor Kaly Badragga Tehsil Dargai District Malakand, Takht-i-Bhai.

فضل رحیم کریانہ سٹور
✨ ہمارے ہاں دالیں، چاول، آٹا، چینی، گھی، آئل،
بسکٹ، چپس، کولڈ ڈرنکس اور روزمرہ استعمال کی تمام اشیاء دستیاب ہیں
تازہ دودھ، دہی ،
ایزی لوڈ اور ایزی پیسہ کی سہولت بھی موجود ہے۔
📞 رابطہ نمبر -03425114417 /03139816910

21/05/2026
21/05/2026

تصویر میں نظر آنے والی ماں اور اس کی 11 سالہ بیٹی کو کچے کے ڈاکوؤں نے اغوا کر لیا۔ ڈاکوؤں نے پہلے ماں سے 30 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا، کہ تیس لاکھ روپیہ لے کر او اور اپنی بیٹی کو لے جاؤ ماں نے منت کرکے 15 لاکھ میں بات طے ہوئی۔ ماں رقم لے کر کچے کے علاقے میں پہنچی۔

ڈاکوؤں نے ماں کو پہلے زیادتی کا نشانہ بنایا، پھر 15 لاکھ روپے وصول کیے۔ اس کے بعد بچی کو ماں کے سامنے ہی 8 لاکھ روپے میں کسی دوسرے شخص کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا۔

یہ ظ ل م کی انتہا ہے۔ ایسی کہانی سن کر انسانیت کہیں دور تک نظر نہیں آتی۔

اب سوال یہ اٹھتا ہے:
کچے کے علاقے میں ڈاکو اتنے بااختیار کیوں ہیں کہ وہاں ریاست کے اندر ایک متوازی ریاست قائم کر چکے ہیں؟
حکومت ان کے خلاف بھرپور کارروائی کیوں نہیں کرتی؟
کچے کے ڈاکو اکثریت پشتونوں کو کیوں اعوا کر دیتا ہے؟
ریاست سے ہمارا مطالبہ ہے کہ
اگر ریاست خود یہ علاقہ کلیئر نہیں کر سکتی تو ہم پشتون عوام کو موقع دیا جائے ہم انشاءاللہ دو دن میں علاقہ کلیر کر دیگا اگر دو دن میں علاقہ صاف نہیں کیا تو ہم جرمانہ
لیکن
یہ گروہ اتنے طاقتور اس لیے ہیں کہ ان کے پیچھے بااثر عناصر کا ہاتھ ہے۔ اور یہ باتھ ریاست اور عوام دونوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

تمام پشتونوں اور انسانیت پسند لوگوں سے گزارش ہے کہ اس ماں کی آواز کو دبنے نہ دیں۔ یہ صرف ایک بچی کا معاملہ نہیں، ہماری عزت اور غیرت کا سوال ہے۔ اس ظلم کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچائیں تاکہ ریاست اور متعلقہ ادارے مجبور ہو کر فوری اور مؤثر کارروائی کریں۔

انصاف نہ ملا تو سماج کا اعتماد ریاست سے اٹھ جائے گا، اور یہ سب سے بڑا نقصان ہوگا۔

28/04/2026

علماء کرام اور عملی بزنس — وقت کی اہم ضرورت 🤝🌟

ہم نے ایک سوچ بنا لی ہے کہ عالمِ دین کا کام صرف مسجد، مدرسہ اور درس و تدریس تک محدود ہے 🌟
لیکن کیا واقعی اسلام ہمیں اسی محدود دائرے میں رہنے کی تعلیم دیتا ہے؟ 🤔
یا پھر اسلام ایک ایسا مکمل نظامِ زندگی ہے جس میں دین اور دنیا ساتھ ساتھ چلتے ہیں؟ 🌈

حقیقت یہ ہے کہ علماء کرام اگر عملی بزنس میں قدم رکھیں تو یہ نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتا ہے 🌟

سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشی خودمختاری کتنی اہم چیز ہے 💰
جب ایک عالم دین مالی طور پر مضبوط ہوتا ہے تو وہ کسی دباؤ کے بغیر حق بات کہہ سکتا ہے 🗣️
وہ اپنی ضروریات کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا، اور یہی خودداری اس کے مقام کو مزید بلند کر دیتی ہے 🌟

اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ تجارت اور بزنس کوئی معمولی شعبہ نہیں، بلکہ یہ انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت بھی رہا ہے 🏔️
نبی کریم ﷺ خود تجارت سے وابستہ رہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بے شمار کامیاب تاجر موجود تھے 💼
انہوں نے دنیا کمائی بھی اور دین کی خدمت بھی کی — اور یہی اصل توازن ہے ⚖️

آج کے دور میں اگر علماء کرام بزنس سیکھیں اور اس میں حصہ لیں تو کئی مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں:

سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ علماء کرام معاشی طور پر مستحکم ہو جائیں گے 💸
جب آمدن کے ذرائع بڑھیں گے تو وہ ذہنی دباؤ سے آزاد ہو کر دین کی خدمت زیادہ بہتر انداز میں کر سکیں گے 🙏

دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ بزنس کے میدان میں علماء کی موجودگی دیانتداری، سچائی اور اسلامی اصولوں کو فروغ دے گی 📈
آج مارکیٹ میں جس چیز کی سب سے زیادہ کمی ہے وہ “اعتماد” ہے، اور ایک عالم دین اس اعتماد کو بحال کر سکتا ہے 🤝

تیسرا فائدہ یہ ہوگا کہ علماء نئی نسل کے لیے ایک عملی مثال بنیں گے 🌟
وہ صرف نصیحت نہیں کریں گے بلکہ خود عمل کر کے دکھائیں گے کہ حلال رزق کمانا، محنت کرنا اور ترقی کرنا دین کے خلاف نہیں بلکہ عین دین ہے 💪

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض لوگ بزنس کو دین سے الگ سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے 🙅‍♂️
اسلام ہمیں حلال طریقے سے کمانے، تجارت کرنے اور معاشی طور پر مضبوط ہونے کی ترغیب دیتا ہے 💼

اب وقت آ گیا ہے کہ علماء کرام اس سوچ کو بدلیں 🤝
وہ اپنے علم کے ساتھ ساتھ عملی میدان میں بھی آئیں، چھوٹے پیمانے سے ہی سہی — لیکن آغاز ضرور کریں 📈

آن لائن بزنس، امپورٹ ایکسپورٹ، ہول سیل، ای کامرس، یا کوئی بھی حلال کاروبار — 🌐
راستے بے شمار ہیں، صرف نیت اور قدم اٹھانے کی ضرورت ہے 💪

آخر میں ایک بات دل سے سمجھ لیں:
غربت عبادت نہیں… اور خودداری کے ساتھ کمانا عین عبادت ہے 🙏

جب علماء کرام علم کے ساتھ بزنس کو بھی اپنائیں گے تو:
وہ خود بھی مضبوط ہوں گے، 🌟
ان کا پیغام بھی مضبوط ہوگا، 💬
اور پورا معاشرہ ایک مثبت تبدیلی کی طرف بڑھے گا 🌈

آئیں! 🌟
ہم ایک نئی روایت کا آغاز کریں — 🌈
جہاں عالم دین صرف منبر کا خطیب نہیں، بلکہ میدانِ عمل کا کامیاب کردار بھی ہو 🌟👏

05/04/2026

فضل رحیم کریانہ سٹور
✨ ہمارے ہاں دالیں، چاول، آٹا، چینی، گھی، آئل،
بسکٹ، چپس، کولڈ ڈرنکس اور روزمرہ استعمال کی تمام اشیاء دستیاب ہیں
تازہ دودھ، دہی ،
ایزی لوڈ اور ایزی پیسہ کی سہولت بھی موجود ہے۔ ________________________
📞 رابطہ نمبر -03425114417
03139816910

05/04/2026

Welcome to Fazal Rahim Karyana Store

11/09/2025

دو نوجوان سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی محفل میں داخل ہوتے ہی محفل میں بیٹھے ایک شخص کے سامنے جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور اس کی طرف انگلی کر کے کہتے ہیں۔
"یا عمر ؓ یہ ہے وہ شخص!"

سیدنا عمر ؓ ان سے پوچھتے ہیں۔
"کیا کیا ہے اس شخص نے؟"

"یا امیر المؤمنین، اس شخص نے ہمارے باپ کو قتل کیا ہے۔"

"کیا کہہ رہے ہو، اس نے تمہارے باپ کو قتل کیا ہے؟"
سیدنا عمرؓ ان سے پوچھتے ہیں۔

سیدنا عمر ؓ پھر اس شخص سے مخاطب ہو کر پوچھتے ہیں۔
"کیا تو نے ان کے باپ کو قتل کیا ہے؟"

وہ شخص کہتا ہے :
"ہاں امیر المؤمنین، مجھ سے قتل ہو گیا ہے ان کا باپ۔"

"کس طرح قتل کیا ہے؟"
سیدنا عمرؓ پوچھتے ہیں۔

"یا عمرؓ، ان کا باپ اپنے اونٹ سمیت میرے کھیت میں داخل ہو گیا تھا، میں نے منع کیا، باز نہیں آیا تو میں نے ایک پتھر دے مارا۔ جو سیدھا اس کے سر میں لگا اور وہ موقع پر مر گیا۔"

"پھر تو قصاص دینا پڑے گا، موت ہے اس کی سزا۔"
سیدنا عمرؓ کہتے ہیں۔

نہ فیصلہ لکھنے کی ضرورت، اور فیصلہ بھی ایسا اٹل کہ جس پر کسی بحث و مباحثے کی بھی گنجائش نہیں۔ نہ ہی اس شخص سے اس کے کنبے کے بارے میں کوئی سوال کیا گیا ہے، نہ ہی یہ پوچھا گیا ہے کہ تعلق کس قدر شریف خاندان سے ہے؟ نہ ہی یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے کہ تعلق کسی معزز قبیلے سے تو نہیں؟ معاشرے میں کیا رتبہ یا مقام ہے؟ ان سب باتوں سے بھلا سیدنا عمر ؓ کو مطلب ہی کیا ہے؟؟؟ کیوں کہ معاملہ اللہ کے دین کا ہو تو عمر ؓپر کوئی بھی اثر انداز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمرؓ کو روک سکتا ہے۔ حتی کہ سامنے عمرؓ کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ قاتل کی حیثیت سے آ کھڑا ہو، قصاص تو اس سے بھی لیا جائے گا۔

وہ شخص کہتا ہے۔
"اے امیر المؤمنین: اس کے نام پر جس کے حکم سے یہ زمین و آسمان قائم کھڑے ہیں۔ مجھے صحراء میں واپس اپنی بیوی بچوں کے پاس جانے دیجیئے تا کہ میں ان کو بتا آؤں کہ میں قتل کر دیا جاؤں گا۔ ان کا اللہ اور میرے سوا کوئی آسرا نہیں ہے، میں اس کے بعد واپس آ جاؤں گا۔"

سیدنا عمر ؓ کہتے ہیں:
"کون تیری ضمانت دے گا کہ تو صحراء میں جا کر واپس بھی آ جائے گا؟"

مجمع پر ایک خاموشی چھا جاتی ہے۔ کوئی بھی تو ایسا نہیں ہے جو اس کا نام تک بھی جانتا ہو۔ اس کے قبیلے، خیمے یا گھر وغیرہ کے بارے میں جاننے کا معاملہ تو بعد کی بات ہے۔

کون ضمانت دے اس کی؟ کیا یہ دس درہم کے ادھار یا زمین کے ٹکڑے یا کسی اونٹ کے سودے کی ضمانت کا معاملہ ہے؟ ادھر تو ایک گردن کی ضمانت دینے کی بات ہے، جسے تلوار سے اڑا دیا جانا ہے۔

اور کوئی ایسا بھی تو نہیں ہے جو اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمرؓ سے اعتراض کرے، یا پھر اس شخص کی سفارش کی لئے ہی کھڑا ہو جائے۔ اور کوئی ہو بھی نہیں سکتا جو سفارشی بننے کی سوچ سکے۔

محفل میں موجود صحابہ ؓ پر ایک خاموشی سی چھا گئی ہے، اس صورتحال سے خود حضرت عمر ؓ بھی متأثر ہیں۔ کیوں کہ اس شخص کی حالت نے سب کو ہی حیرت میں ڈال کر رکھ دیا ہے۔ کیا اس شخص کو واقعی قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے اور اس کے بچے بھوکوں مرنے کے لئے چھوڑ دیئے جائیں؟ یا پھر اس کو بغیر ضمانتی کے واپس جانے دیا جائے؟ واپس نہ آیا تو مقتول کا خون رائیگاں جائے گا!

خود سیدنا عمرؓ سر جھکائے افسردہ بیٹھے ہیں۔ اس صورتحال پر، سر اُٹھا کر التجا بھری نظروں سے نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہیں،
"معاف کر دو اس شخص کو۔"

"نہیں امیر المؤمنین، جو ہمارے باپ کو قتل کرے، اس کو چھوڑ دیں، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا"، نوجوان اپنا آخری فیصلہ بغیر کسی جھجھک کے سنا دیتے ہیں۔

حضرت عمرؓ ایک بار پھر مجمع کی طرف دیکھ کر بلند آواز سے پوچھتے ہیں۔
"اے لوگو ، ہے کوئی تم میں سے جو اس شخص کی ضمانت دے؟"

حضرت ابوذر غفاری ؓ اپنے زہد و صدق سے بھر پور بڑھاپے کے ساتھ کھڑے ہو کر کہتے ہیں۔
"میں ضمانت دیتا ہوں اس شخص کی!"

سیدنا عمرؓ کہتے ہیں۔
"ابوذر ، اس نے قتل کیا ہے۔"

"چاہے قتل ہی کیوں نہ کیا ہو"، ابوذر ؓ اپنا اٹل فیصلہ سناتے ہیں۔

عمرؓ: "جانتے ہو اسے؟"

ابوذرؓ: "نہیں جانتا اسے"

عمرؓ: "تو پھر کس طرح ضمانت دے رہے ہو؟"

ابوذرؓ: "میں نے اس کے چہرے پر مومنوں کی صفات دیکھی ہیں، اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ شخص جھوٹ نہیں بول رہا، انشاء اللہ یہ لوٹ کر واپس آ جائے گا۔"

عمرؓ: "ابوذرؓ دیکھ لو اگر یہ تین دن میں لوٹ کر نہ آیا تو مجھے تمہاری جدائی کا صدمہ دیکھنا پڑے گا۔"

"امیر المؤمنین، پھر اللہ مالک ہے۔ ابوذر اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے جواب دیتے ہیں۔"
سیدنا عمرؓ سے تین دن کی مہلت پا کر وہ شخص رخصت ہو جاتا ہے، کچھ ضروری تیاریوں کے لئے، بیوی بچوں کو الوداع کہنے، اپنے بعد اُن کے لئے کوئی راہ دیکھنے، اور اس کے قصاص کی ادئیگی کیلئے قتل کئے جانے کی غرض سے لوٹ کر واپس آنے کیلئے۔
اور پھر تین راتوں کے بعد، عمر ؓ بھلا کیسے اس امر کو بھلا پاتے، انہوں نے تو ایک ایک لمحہ گن کر کاٹا تھا، عصر کے وقت شہر میں (الصلاۃ جامعہ) کی منادی پھر جاتی ہے، نوجوان اپنے باپ کا قصاص لینے کیلئے بے چین اور لوگوں کا مجمع اللہ کی شریعت کی تنفیذ دیکھنے کے لئے جمع ہو چکا ہے۔

حضرت ابوذرؓ بھی تشریف لاتے ہیں اور آ کر حضرت عمرؓ کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔

"کدھر ہے وہ آدمی؟"
سیدنا عمرؓ سوال کرتے ہیں۔

"مجھے کوئی پتہ نہیں ہے یا امیر المؤمنین"،
ابوذر ؓ مختصر جواب دیتے ہیں۔

ابوذرؓ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں، جدھر سورج ڈوبنے کی جلدی میں آج معمول سے زیادہ تیزی کے ساتھ جاتا دکھائی دے رہا ہے۔

محفل میں ہو کا عالم ہے، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ آج کیا ہونے جا رہا ہے؟

یہ سچ ہے کہ ابوذرؓ سیدنا عمرؓ کے دل میں بستے ہیں، عمرؓ سے ان کے جسم کا ٹکڑا مانگیں تو عمرؓ دیر نہ کریں، کاٹ کر ابوذرؓ کے حوالے کر دیں۔ لیکن ادھر معاملہ شریعت کا ہے، اللہ کے احکامات کی بجا آوری کا ہے، کوئی کھیل تماشہ نہیں ہونے جا رہا، نہ ہی کسی کی حیثیت یا صلاحیت کی پیمائش ہو رہی ہے، حالات و واقعات کے مطابق نہیں اور نہ ہی زمان و مکان کو بیچ میں لایا جانا ہے۔ قاتل نہیں آتا تو ضامن کی گردن جاتی نظر آ رہی ہے۔

مغرب سے چند لحظات پہلے وہ شخص آ جاتا ہے۔ بےساختہ حضرت عمرؓ کے منہ سے اللہ اکبر کی صدا نکلتی ہے، ساتھ ہی مجمع بھی اللہ اکبر کا ایک بھرپور نعرہ لگاتا ہے۔

حضرت عمرؓ اس شخص سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں۔
"اے شخص، اگر تو لوٹ کر نہ بھی آتا تو ہم نے تیرا کیا کر لینا تھا، نہ ہی تو کوئی تیرا گھر جانتا تھا اور نہ ہی کوئی تیرا پتہ جانتا تھا"

"امیر المؤمنین، اللہ کی قسم، بات آپ کی نہیں ہے، بات اس ذات کی ہے جو سب ظاہر و پوشیدہ کے بارے میں جانتا ہے، دیکھ لیجئے میں آ گیا ہوں، اپنے بچوں کو پرندوں کے چوزوں کی طرح صحراء میں تنہا چھوڑ کر، جدھر نہ درخت کا سایہ ہے اور نہ ہی پانی کا نام و نشان۔ میں قتل کر دیئے جانے کیلئے حاضر ہوں۔ مجھے بس یہ ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے وعدوں کا ایفاء ہی اُٹھ گیا ہے"۔

سیدنا عمرؓ نے ابوذرؓ کی طرف رخ کر کے پوچھا۔
"ابوذرؓ، تو نے کس بنا پر اس کی ضمانت دے دی تھی؟"

ابوذرؓ نے کہا،
"اے عمرؓ، مجھے اس بات کا ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں سے خیر ہی اٹھا لی گئی ہے۔"

سیدنا عمرؓ نے ایک لمحے کیلئے توقف کیا اور پھر ان دونوں نوجوانوں سے پوچھا۔
"کہ کیا کہتے ہو اب؟"

نوجوانوں نے روتے ہوئے جواب دیا،
"اے امیر المؤمنین، ہم اس شخص کی صداقت کی وجہ سے اسے معاف کرتے ہیں، ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے عفو اور درگزر ہی اُٹھا لیا گیا ہے"۔

سیدنا عمرؓ اللہ اکبر پکار اُٹھے اور آنسو ان کی ڈاڑھی کو تر کرتے نیچے گر رہے تھے۔۔۔۔

"اے نوجوانو! تمہاری عفو و درگزر پر اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔"

"اے ابوذرؓ! اللہ تجھے اس شخص کی مصیبت میں مدد پر جزائے خیر دے"۔

اور

"اے شخص، اللہ تجھے اس وفائے عہد و صداقت پر جزائے خیر دے"۔

اور اے امیر المؤمنین، اللہ تجھے تیرے عدل و رحمدلی پر جزائے خیر دے۔

محدثین میں سے ایک یوں کہتے ہیں،
"قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، اسلام اور ایمان کی سعادتیں تو عمرؓ کے کفن کے ساتھ ہی دفن ہو گئی تھیں"۔

اور اے اللہ، جزائے خیر دے اپنے بے کس بندے کو، جس نے ترجمہ کر کے اس پیغام کو اپنے احباب تک پہنچایا۔

اور اے اللہ، جزائے خیر دینا ان کو بھی، جن کو یہ پیغام اچھا لگے اور وہ اسے آگے اپنے دوستوں کو بھیجیں۔

آمین یا رب العالمین۔...

Address

Toor Kaly Badragga Tehsil Dargai District Malakand
Takht-I-Bhai
23100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fazal Rahim Karyana Store posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share