11/09/2024
دعا کیوں قبول ہوتی ہے
"راز (A Well Kept Secret)"
تحریر: عدیل خان طاہر خیلی
سیپئنز میں نوح ہراری لکھتا ہے لگ بھگ ستر ہزار سال قبل نسل انسانی شعور کی حدود میں داخل ہوئی، اگلے پچاس سے ساٹھ ہزار سال انسان چھوٹے چھوٹے گروہوں میں دنیا میں چلتے پھرتے آوارہ گردی کرتے رہے، کوئی دس بارہ ہزار سال قبل گندم انسانوں کی زندگی میں داخل ہوئی اور آوارہ، خونخوار، جنگلی، شکاری انسان کسان بن گیا اور ٹک کر ایک جگہ رہنے لگا، زراعت کے لیئے وافر پانی اور زرخیر مٹی چائیے ہوتی ہے اور ایسی جگہ دریا کا کنارہ ہی ہو سکتی ہے، یہ ہی وجہ ہے کے تمام قدیم اور بڑی تہذیبیں دریائے نیل، دجلہ و فرات اور دریائے سندھ کے آس پاس پروان چڑھیں۔
زرعی دور سے پہلے انسان مسلسل چلتے رہتے تھے جہاں شکار اور پانی کم ہوا انسان آگے کو چل پڑے، اس طرح خوراک کے معاملات انسان کے اپنے ہاتھ میں تھے لیکن زراعت پر انحصار بڑھنے سے خوراک کے معاملات انسان کے ہاتھ سے نکل گئے اور اب انسان ایسی چیزوں کا مجبور ہوا جو اسکے ہاتھ میں نہیں تھیں جیسا کہ بارش، گرمی، سردی، طوفان، خشک سالی، فصلوں کی بیماریاں، کیڑے مکوڑے وغیرہ۔
انسان نے موسموں، گرمی، سردی اور دوسرے قدرتی عوامل کی طاقت اور تباہ کاری دیکھی تو خود کو بہت بے بس محسوس کیا، لیکن قدرت نے انسان کے اندر "زندہ رہنے" کی زبردست خواہش ڈال رکھی ہے، انسان نے خود کو قدرتی مظاہر کی طاقت اور غیر یقینی صورت حال پر قابو پانے کے لیئے دیوی دیوتا گڑنے شروع کر دیئے، جس چیز کو انسان نے طاقتور پایا اس کا ایک دیوتا بنا ڈالا، اس طرح انسانی تاریخ میں ہزاروں مذاہب ظاہر ہوئے اور وقت کے ساتھ غائب ہو گئے۔
انسان کے ہزاروں سال کے شعوری ارتقاء کے دوران اس نے کسی نہ کسی بہت طاقتور ہستی کو مانا ہے جو سب سے زیادہ طاقتور ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اس ہستی کو انسانوں نے اپنے اپنے عقیدے اور نظریے کے مطابق نام دیئے، یہاں تک کہ آج کا مغرب کا ماڈرن انسان تمام مذاہب کا انکار کر کے اس طاقت کو کبھی نیچر کہتا ہے اور کبھی یونیورس۔
آج کے دور میں بھی سینکڑوں مذاہب اور نظریات موجود ہیں، تمام مذاہب کی تعلیمات مختلف ہو سکتیں ہیں مگر سب کسی نہ کسی بڑی طاقت کو مانتے ہیں اور سب کے سب دعا پر یقین رکھتے ہیں اور دعا مانگتے ہیں۔
اور سب سے حیرانگی کی بات یہ ہے کہ متضاد نظریات کے ماننے والے اور ایک دوسرے کو قابل گردن زنی سمجھنے والے سب دعا کے قائل ہیں اور صدق دل سے مانتے ہیں کہ دعا قبول ہوتی ہے۔
کوئی پتھر سے مانگ رہا ہے، کوئی گاڈ سے، کوئی بھگوان سے اور کوئی نیچر سے، اور دعائیں سب کی قبول ہو رہی ہیں۔
میرا ذاتی تجربہ یہ رہا ہے کہ مطمئن دل کے ساتھ کوئی چیز آپ نے مانگی یا خواہش کی اور اس کے ہونے پر آپ نے یقین کر لیا اور اس کو حاصل کرنے کے لیئے پورے اعتماد کے ساتھ آپ نکل پڑے تو وہ کام جاتا ہے۔
دل کا اطمینان اور دماغ کا یقین دعا کا نوے فیصد حصہ ہے اور اس کا تعلق کسی رنگ نسل یا نظرئیے سے نہیں جس نے بھی مطمئن دل کے ساتھ یقین کر لیا اسکے بیڑے پار ہوگئے۔
اسی وجہ سے تمام بڑے مذاہب "یقین اور ایمان کی پختگی" پر سب سے زیادہ زور دیتے ہیں کہ اصل معاملہ یہ ہی ہے۔
مطمئن دل کے ساتھ کسی بات کے ہونے پر یقین کیا جاتا ہے اور وہ ہو جاتی ہے، آخر ایسا کیسے ہوتا ہے؟؟؟ اس پر مختلف نظریات کے ماننے والوں نے ہزاروں کتابیں لکھی ہیں مگر آج تک تمام انسان کسی ایک رائے پر متفق نہیں ہو سکے، میرے ذاتی خیال میں یہ قدرت کا well kept secret ہے،اور اس بات سے فرق بھی کیا پڑتا ہے کہ یہ کیسے ہوتا ہے؟ اہم بات یہ ہے کہ یہ سب مانتے ہیں کہ ایسا ہی ہوتا ہے۔
آپ کا تعلق کسی بھی مذہب یا نظریے سے ہے اگر کھلی آنکھوں کے ساتھ معجزات ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں تو اپنے ایمان اور یقین کو پختہ تر کرتے چلے جائیں۔
Adeel Khan بشکریہ