Library

Library Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Library, Book shop, UAE, Uae.

A library is an organized collection of books, other printed materials, and in some cases special materials such as manuscripts and other sources of information.

14/12/2022

!۔۔۔ جدید ترین #صیہونی #ٹیکنالوجی ۔ پارٹ ٹو۔۔۔!
:::::::::::::::::::::: دوسرا حصہ یہاں سے پڑھنا شروع کریں ۔۔۔۔۔۔!
ٹرانس ہیومین پروجیکٹ کیا ہے۔۔۔۔ ؟
اس میں اب تک کیا کامیابی ہوچکی ہے۔اس پروجیکٹ کا مقصد کیا تھا ۔۔؟
۔۔۔۔۔احباب کرام ۔۔۔!
آگے بڑھنے سے قبل پچھلے موضوع نیو ورلڈ آرڈر یا وَن وَرلڈ آرڈر کے متعلق ایک عیسائی محقق کی بات بتاتے چلوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رالف ایپرسن Ralf Epperson ایک عیسائی محقق تھا اور اُس نے 1989ء میں ایک کتاب لکھی جو نیو ورلڈ آرڈر کے عنوان سے معنون تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1:رالف فیملی ۔۔۔۔!
اس کے تعارف میں اس نے نیو ورلڈ آرڈر کے تین مراحل لکھے جو کہ اس کی پیشین گوئیاں تھیں اس نے کہا کہ مستقبل قریب میں ایسا ہوگا رالف کے بقول پہلے مرحلہ کے طور پر خاندانی نظام کی دھجیاں بکھیر دی جائیں گی زنا کو انتہائی حد تک پھیلادیا جائے گا ۔ہم جِنس پرستی کو عام کردیا جائے گا۔شادی اور میاں بیوی کے پاکیزہ رشتے کو ایک مذاق، لعنت اور بوجھ باور کرایا جائے گا اپنے ارد گرد دیکھیں تو آپ خود تجزیہ کرسکتے ہیں کہ پہلا مرحلہ کس قدر اور کس حد تک کامیابی سے پورا ہوچکا ہے۔۔۔۔!
2۔۔ ورک پلیس
دنیا میں ہر جگہ اور کوئی بھی کام کرنے والے سے اُس کی آزادی چھین لی جائے گی،دنیا کا کوئی بھی کام آپ کریں گے، اس کے ضوابط، اصول، کام کرنے کا طریقہ اور نظام وہ آپ کو بناکر دیں گےہر کام ان کی رضامندی و خوشنودی کیلیے کیا جائے گاوَرک پَلیس پر ان کا مکمل قبضہ ہوگا۔اگر آپ کو زندہ رہنا ہے اور کام کرنا ہے، تو ان کے طریقہ پر عمل کرنا ہوگا ۔۔۔۔۔!
3۔۔ مذہب ۔۔۔۔۔!!
پوری دنیا کے انسانوں کو یہ باور کرایا جائے گا اور ان کی ذہن سازی کی جائے گی کہ تمام مذاہب برحق ہیں اور ایک ہی خدا تک پہنچنے کے مختلف راستے ہیں لہٰذا کوئی ایک دوسرے کو برا بھلا اور صحیح غلط نہ کہے ،اور ان چکروں میں مت پڑا جائے،ان تمام مذاہب سے بڑھ کر ایک مذہب ہے جسے انسان کا مذہب یا انسانیت کا مذہب کہا جائے گا ،اور یہ باور کرایا جائے گا کہ یہی اصل مقصد ہے اور اس دنیا میں کرنے کے لائق اگر کوئی کام یے۔۔۔
تو وہ انسانیت کی خدمت ہے، مذہب کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، سب لوگوں کی منزل ایک ہی ہے اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے واقف ہیں تو مذکورہ باتوں کا تجزیہ کرسکتے ہیں کہ رالف ایپرسن کی پیشین گوئیاں کس حد تک پوری ہوچکی ہیں ۔۔۔۔ انسان کی تخلیق میرے مالک کا ایک کرشمہ ہے
وہ انسان کے اس دنیا میں آنے سے پہلے جانتا ہے ،کہ کون سا انسان کب۔۔؟ کہاں۔۔؟ کس جگہ۔۔؟ کس وقت۔۔؟ کس کے نطفے سے۔۔؟ کس کے پیٹ سے پیدا ہوگا ۔!
اور اس پیدا ہونے والے انسان کی کیا خصوصیات ہونگی۔۔؟ وہ لڑکا ہوگا یا لڑکی؟ اس کی ساخت اور جسامت کیا ہوگی۔۔؟
اس کی عمر کتنی ہوگی۔؟ اس کو کون کون سی بیماریں لاحق ہونگی۔۔۔؟
وہ زندگی میں کیا کارہائے نمایاں سرانجام دے گا؟ اور کب اس دنیا سے کوچ کرجائے گا۔۔۔۔؟
۔۔۔۔۔۔۔۔
مذکورہ تمام معلومات میں سے اکثر انسان کے وراثتی مادہ جسے ڈی آکسی رائبو نیوکلیک ایسڈ یا کہا جاتا ہے
میں موجود ہوتی ہیں، انسان ایک عرصہ سے انہیں کوششوں میں لگا ہوا تھا ، کہ وہ اس چھوٹے سے مادے کو سمجھ سکے بلکہ اپنی مرضی کی تبدیلیاں بھی کر سکے ۔اور اپنی مرضی کا انسان پیدا کر سکے ۔۔۔۔ !
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ انسان اس مادے کی زبان سمجھ چکا ہے
اور اس میں تبدیلی کا کارنامہ بھی انجام دے چکا ہے۔۔اس کی مثال یہ ہے کہ اب انسان کو وراثتی بیماریاں پال کر بیمار رہنے کی کوئی ضرورت نہیں.یعنی اگر کسی شخص میں کوئی وراثتی بیماری ہے تو نہ صرف اس کو ختم کیا جاسکتا ہے بلکہ اس کی آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی اس بیماری سے پاک کیا جاسکتا ہے۔۔۔
مگر کیسے ۔۔؟
اس عمل کو میڈیکل سائنس میں جینیٹک موڈیفیکیشن کا نام دیا جاتا ہے
انسان کا وہ حصہ جس میں اس کی بیماری موجود ہوتی ہے۔۔۔۔۔
اس کو کاٹ کر اس کی جگہ نیا حصہ تیار کرکے فِٹ کردیا جاتا ہے جو کہ بیماری سے پاک ہوتا ہے۔۔۔۔۔!
بات یہیں تک رہتی تو ہم کہتے کہ انسانیت کا بھلا ہوا ہے
اور ایک مستقل بیماری سے انسان کو نجات ملنے کا طریقہ میسر ہوگیا ہے۔
لیکن کہانی کچھ اور ہے ۔۔۔
مقصد کچھ اور ہے انسان اس تکنیک سے ایسے انسان پیدا کرنا چاہتا ہے
جن کا خالق بھی خود انسان ہی ہو۔۔۔!
جن کی وضع اور ساخت، جن کی خصوصیات انسان خود ڈیزائن کرے ، خود لکھے ، انسان جو پیدا تو ماہ کے پیٹ سے ہوں ۔مگر ان کا خالق انسان ہو۔۔انسان خود ایسے انسان تیار کرے جو شیر کی طرح بہادر، چیتے کی تیز رفتار، لومڑی کی طرح عیار، کتے کی طرح شاندار قوتِ شامہ کے مالک اور اونٹ کی طرح انتہائی قوتِ برداشت کے حامل ہوں۔اس کے علاوہ وہ دنیا کی ہر زبان سے واقف اور ہر فَن میں مہارتِ تامہ رکھتے ہوں، بے پناہ ذہین اور طاقت ور ہوں۔
آپ سوچ رہے ہونگے کہ ایسا کیسے ممکن ہے۔۔؟
ممکن ہے مجھے پاگل بھی خیال کررہے ہوں انسان کیسے انسان کا خالق ہوسکتا ہے۔۔۔۔؟ ایک انسان مندرجہ بالا خصوصیات کا حامل کیسے ہوسکتا ہے۔۔؟
آپ کی اطلاع کیلیے عرض ہے کہ صیہونی سائنسدانوں کے بقول ایسا ممکن ہے۔۔۔انسان خود انسان تیار کرسکتا ہے
اس میں اپنی مرضی کی خصوصیات ڈال کر اپنی پسند کا انسان پیدا کرسکتا ہے ۔ ۔انسان کا DNA ڈی این اے لکھنے کی کوششیں عرصہ دراز سے کی جارہی ہیں اور اس میں کامیابی 2030ء تک متوقع ہے
اور انسانوں کی پیدا کردہ مخلوق انسان کی پہلی کھیپ 2050ء متوقع ہے۔۔۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کس مقصد کیلیے کیا جارہا ہے۔۔۔؟
تو جواب واضح ہے کہ یہ ایک نئی دنیا جس کا صیہونی شیطانی طبقہ خواب دیکھ رہا ہے، اس کی فَوج ہوگی اور اگر ایسے انسان تیار ہوجائیں
تو ان سے کیا کیا تباہی پھیلائی جاسکتی ہے۔۔ ؟
ایسا سوچ کر بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں
مزید برآں یہ ہے ۔۔کہ انسان کے ڈی این اے میں تقریبا سات پشتوں کی معلومات کا ذخیرہ ہوتا ہے جی ہاں ۔۔۔۔۔!
ڈی این اے ۔۔سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ اس کے ماں باپ، دادا دادی اور پردادا پردادی کیسے تھے۔۔۔؟۔۔اور اسی طرح اس کی سات پچھلی نسلوں کی مختلف معلومات اس چھوٹے سے وراثتی مادہ میں محفوظ ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔۔
درج بالا بات کو اپنے ذہن میں رکھیے گاآگے اس بارے لکھا جا رہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو دجال کیلیے بطورِ مدد کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے....؟
آپ کیلیے یہ بات بھی یقیناً حیران کن ہوگی ۔۔۔۔
کہ ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں جتنی بھی ڈیٹا سٹوریج ڈیوائسز بنائی جارہی ہیں وہ ہمارے ڈیٹا کو محفوظ کرنے کی ضرورت کو پورا نہیں کرسکتیں ۔۔
لہٰذا مستقبل قریب میں ڈیٹا کو محفوظ کرنے کیلیے انسان کا استعمال کیا جائے گااس کا کامیاب تجربہ بھی ہوچکا ہے۔!
محض ایک گرام ڈی این اے مادہ میں دو لاکھ پندرہ ہزار ٹیرا بائیٹس ڈیٹا محفوظ کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 01TB=1024GB
مذکورہ خبر ایکسپریس نیوز کراچی کے آنلائن ایڈیشن مؤرخہ چار مارچ دوہزارسترہ میں سائنس و ٹیکنالوجی کے عنوان کے تحت پڑھی جاسکتی ہے۔۔۔
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔۔۔؟ جاری ہے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر محمد افضل۔۔۔۔!

14/12/2022

!۔۔۔ جدید ترین صیہونی #ٹیکنالوجی ۔۔۔ پارٹ ون ۔۔۔!
:::::::::::::::::
ون ورلڈ آرڈر کیا ہے ۔۔۔؟
اس کا مقصد کیا ہے..؟ یہ بنایا کن لوگوں نے ہے..؟
اور اس کو پایہِ تکمیل تک کس طرح پہنچایا جارہا ہے...........؟
بادشاہت، شہنشاہت اور حکمرانی، وہ دلربا اور من موہ لینے والے الفاظ ہیں کہ جن کی طلب و خواہش شاید انسان کے خمیر میں ہی ڈال دی گئی ہے یہ بادشاہت کسی بھی چیز کی ہوسکتی ہے۔لیکن اگر یہ بادشاہت اپنی ذات سے نکل کر دوسروں تک پھیل جائے تو اس کا کیا ہی لطف ہے۔۔۔۔۔!
ایک انسان کیلیے یہ تصور ہی دلکش ہے کہ وہ ایک حکمران ہو۔ اور دوسرے لوگ اس کے مطیع و فرمانبردار ہوں، جو اُس کی زبان سے نکلے وہی اُن کیلیے حکم کا درجہ رکھےوہ جو چاہے، بلا تاخیر وہ چیز اس کی دسترس میں ہو،خواہ اس کیلیے اسے دوسروں کا خون ہی کیوں نہ بہانا پڑے۔۔۔۔۔۔۔!
کل کائنات پر بس اُس کی حکمرانی ہو اور وہ سب لوگوں کا بے تاج بادشاہ و مالکِ کُل ہو تو دوستو! یہی وہ چاہت ہے جو انسانوں کے ایک مخصوص طبقے میں آج سے ہزاروں سال پہلے سے موجود ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ چاہ نئی نہیں ہے
۔۔۔۔۔
اسی چاہ نے نمرود کو خدائی کا دعویٰ کروایا ۔۔۔۔۔۔۔ شداد سے جنت بنوائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرعون سے انا ربکم الاعلیٰ کہلوایا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قارون سے مَن مانی کروائی اور بالآخر اسی چاہ نے ہی اُن کو عبرت ناک انجام سے دوچار کروایا کیونکہ شہنشاہی فقط ایک ہی ذات کو ذیبا ہے اور اس کو اپنا شریک کسی صورت گوارا نہیں ۔ون ورلڈ آرڈر اسی نمرودی و فرعونی کام کی ایک جدید شکل ہےیہ ایسا مقصد ہے
کہ جس میں دنیا کے تمام انسانوں کی زندگی فقط چند ہاتھوں میں ہو۔وہ جب، جو، جہاں اور جس کے ساتھ مرضی چاہیں، کرسکیں ۔ان کی ہر بات آٹھ ارب انسانوں کیلیے حکم کا درجہ رکھے جس کی عدولی کی کم از کم سزا موت ہویہ موت جسمانی بھی ہوسکتی ہے اور معاشی بھی۔۔۔۔۔۔۔!
یہ ایسا منصوبہ ہے کہ جس کا مقصد پوری دنیا کے سیاہ و سفید کا مالک ہونا ہے۔پوری دنیا کو ہر وقت اپنی نگاہوں میں رکھنا ہے۔۔۔اس کا مقصد پوری دنیا کو اپنی مٹھی میں کرنا ہے کہ جب اور جہاں جس کی زندگی و موت کا فیصلہ کرنا ہو، کیا جاسکے۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
اور سب سے اہم بات ۔۔۔!
اپنے نام نہاد پیشوا و نجات دہندہ یعنی دجال کی آمد سے پہلے ہی اس کے استقبال کے یہ تمام انتظامات مکمل کیے جاسکیں تاکہ اس کی آمد کے بعد اسکی اور اسکے متبعین کی حکمرانی کا دورِ لامتناہی شروع ہوسکے۔طاقت کے زور پر حکمرانی تو پرانا و متروک طریقہ ہوچکا ہےآپ ون ورلڈ آرڈر کو لاجیکل حکمرانی کہہ سکتے ہیں ۔۔۔۔انسانوں کی سوچ و نظریات بدل کر ان پر حکمرانی کرنا انسان یہ سمجھے گا کہ وہ اپنی مرضی کا مالک ہے اور وہ جو کررہا ہے وہی درست ہے۔۔۔۔۔۔۔لیکن وہ درحقیقت ان نام نہاد خداؤں کے احکامات پر عمل پیرا ہوگا
مگر کیسے۔۔؟ ایسا کیسےہوسکتا ہے کہ انسان کی سوچ ہی بدل دی جائے؟اس کے دماغ میں صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح فیڈ کردیا جائے..؟
دوستو!تعارفی تحریر میں قلمبند کیے گئے۔۔۔ تمام جدید ایجادات و مذموم منصوبہ جات اسی مقصد کی تکمیل و حصول کی سیڑھیاں ہیں
اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ ان میں سے 70% سے زیادہ کامیابی حاصل کی جاچکی ہے۔۔ایک بات اپنے اذہان میں خوب اچھی طرح بِٹھالیجیے کہ آج کے دور میں ٹیکنالوجی کا مقصد ہرگز ہرگز انسانیت کی فلاح و بہبود نہیں یے بلکہ ان جدید تکنیکوں سے دنیا پر حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا مقصود ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بات اور بھی اچھی طرح ذہن نشین کرلیجیے
کہ ہم جس جدید ترین ٹیکنالوجی و سائنسی ترقی سے واقف ہیں۔۔
وہ حقیقت میں اب تک ہوئی ہوئی سائنسی ترقی و ٹیکنالوجی کا محض تیس فیصد ہے۔۔یعنی دنیا کو صرف تیس فیصد ٹیکنالوجی مہیا کی جارہی ہے
اور باقی کی ستر فیصد نامعلوم مقامات و لیبارٹریز میں ون ورلڈ آرڈر کی تکمیل کیلیے محفوظ کی جارہی ہے۔۔سیراج موناس کے مطابق ون ورلڈ آرڈر کی تکمیل کے چار بڑے مراحل ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔۔۔سب سے پہلے تمام دنیا کی معیشت پر قبضہ کرنا اس ضمن میں اہم کام یہ کہ تمام دنیا کی کرنسی کو ڈیجیٹائز کرنا
یعنی کاغذی کرنسی کا وجود دنیا سے مٹادینا یا اس قدر کم کردینا کہ کاغذی کرنسی کی اہمیت محض چند لوکل بازاروں تک ہی محدود ہوجائے
اور اطلاعاً عرض ہے کہ وہ اس میں ۸۰% کامیابی حاصل کرچکے ہیں تمام کرنسی تقریباً ڈیجیٹل ہوچکی ہے۔۔۔ہرکسی کے پاس ڈیبٹ و کریڈٹ کارڈ موجود ہیں۔ وہ جب اور جس کا مرضی چاہیں اکاؤنٹ فریز کرکے اسے عرش کی بلندیوں سے فرش کی پستیوں پر پٹخ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔
2۔ دنیا میں مختلف مذاہب کے لوگوں کو آپس میں مختلف بنیادوں پر جنگ و جدال کرواکر ان کی افرادی و مالی قوت کو انتہائی کمزور کرنا
یہ بھی تقریباً ہوچکا ہے اور مزید جاری و ساری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
۔۔۔۔۔
3۔۔۔فیک ایلیئنز اٹیک کروانا ۔۔۔۔اس مرحلہ کی تمام تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں
اڑن کھٹولے اور مَین میڈ ایلیئنز بھی تیار ہوچکے ہیں اب بس وقت ہوا ہی چاہتا ہے کہ نام نہاد خلائی مخلوق کا زمین پر حملہ کرایا جائے
اور خوف کا کاروبار شروع کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
4۔۔۔ ایلیئنز اٹیک کے بعد دنیا کو بچانے کے واسطے ایک نام نہاد عالمی فَوج کا قیام ۔۔۔!!
جس کی تشکیل، نظم اور دفاعِ زمین کے نام پر دنیا کے ممالک سے ٹریلینز آف ڈالرز کی وصولی اور دنیا کو کنگال کردینے کے شاندار منصوبہ کی شاندار کامیابی ۔۔ شاید آپ کو میری باتیں دیوانے کی بڑ لگ رہی ہوں لیکن یہ حقیقت ہےاور ایسا عنقریب ہونے والا ہے
ایسا کس طرح ہوگا..؟جاننے کے لیے پڑھنا جاری رکھیں
ایک بات اور اپنے ذہن نشین کرلیں کہ اسی دنیا میں جہاں ہم اور آپ رہ رہے ہیں، کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ہم سے چار سو سال یعنی چار صدیاں آگے جی رہے ہیں جی ہاں ۔۔!
وہ ایجادات جو ہم آج سے چار سو سال بعد اپنے ہاتھ آنے کی توقع رکھتے ہیں، وہ ان کے ہاتھوں میں اِس وقت موجود ہیں
اور وہ ان کا بخوبی اور کامیاب استعمال کرسکتے ہیں ۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں تمام فتنوں سے بچائے رکھے آمین
۔۔۔۔۔ڈاکٹر محمد افضل

https://www.ataunnabi.com/2020/05/tareekh-e-madina-tul-damishq-tarrekh.html
21/09/2021

https://www.ataunnabi.com/2020/05/tareekh-e-madina-tul-damishq-tarrekh.html

الكتاب: تاريخ مدينة دمشق تاريخ دمشق | تاریخ مدینۃ دمشق | تاریخ ابن عساکر | تاريخ ابن عساكر وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل أو اجتاز بنواحيها من وارديها وأهلها الم....

https://www.dubailibrary.com/
07/01/2020

https://www.dubailibrary.com/

All kind of stationary for school, office & arts & crafts. Just visit to your nearest Dubai Library store. Abu Dhabi. Ajman. Sharjah. Dubai. Fujairah. RAK. UAQ.

https://ur.m.wikipedia.org/wiki/سلطنت_عثمانیہ
16/03/2019

https://ur.m.wikipedia.org/wiki/سلطنت_عثمانیہ

سلطنت عثمانیہ (یا خلافت عثمانیہ 1517ء سے 1924ء تک) (عثمانی ترک زبان: "دولت علیہ عثمانیہ"، ترک زبان: Osmanlı Devleti) سنہ 1299ء سے 1922ء تک قائم رہنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کے حکمران...

16/03/2019

سلطنت عثمانیہ

ایشیا، یورپ اور افریقہ میں سابق سلطنت

دیگر زبانیں

اس صفحہ کو زیر نظر کریں

ترميم

سلطنت عثمانیہ (یا خلافت عثمانیہ 1517ء سے 1924ءتک) (عثمانی ترک زبان: "دولت علیہ عثمانیہ"، ترک زبان:Osmanlı Devleti) سنہ 1299ء سے 1922ء تک قائم رہنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کے حکمران ترکتھے۔ اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھی۔مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔
سلطنت عثمانیہ
Ottoman Empireدولت عليهٔ عثمانیه
Devlet-i Âliyye-i Osmâniyyeسلطنت↓1299–1923↓پرچمقومی نشانشعار
Devlet-i Ebed-müddet
دولت ابد مدت
"ابدی ریاست"ترانہ
عثمانی شاہی ترانہ



عظیم ترین حد (سرخ) مع تابع ریاستیں (ہلکا سرخ) 1590 کی دہائیدارالحکومتسوگوت
(1299–1335)
بورصہ[1]
(1335–1413)
ادرنہ[2][dn 1]
(1413–1453)
قسطنطنیہ[dn 2]
(1453–1922)زبانیںعثمانی ترکی (سرکاری), دیگر کئیمذہباسلامحکومتمطلق بادشاہت
(1299–1876)
(1878–1908)
(1920–1922)
آئینی بادشاہت
(1876–1878)
(1908–1920)سلطان - 1299–1326عثمان اول (اول) - 1918–1922محمد ششم (آخر)وزیر اعلی - 1320–1331علا الدین پاشا (اول) - 1920–1922احمد توفیق پاشا (آخر)مقننہجنرل اسمبلی - ایوان بالاسینیٹ - ایوان زیریںایوان نائبینتاریخ - قیام27 جولائی 1299 - وقفہ20 جولائی 1402ء – 5 جولائی 1413ء - 1. آئینی23 نومبر 1876ء – 13 فروری 1878ء - 2. آئینی23 جولائی 1908ء– یکم نومبر 1922ء - سلطنت کا خاتمہ [dn 3]یکم نومبر 1922ء - جمہوریہ ترکی[dn 4]29 اکتوبر 1923رقبہ - 1683 [3]5,200,000 مربع کلومیٹر(2,007,731 مربع میل) - 19141,800,000 مربع کلومیٹر(694,984 مربع میل)آبادی - 1856 تخمینہ35,350,000 - 1906 تخمینہ20,884,000 - 1912 تخمینہ24,000,000 سکہاکے, پارا, سلطانی, قروش, لیرا

جانشینپیشروبازنطینی سلطنتسلاجقہ رومسلطنت طرابزونبادشاہت موریابادشاہت اپیروسبادشاہت دوبروجابیلیک کارامانمملکت بوسنیابلغاری سلطنتسربیائی سلطنتلزہے لیگمملکت مجارستانمملکت کروشیاسلطنت مملوک (مصر)طرابلس کے فلاحیعبوری حکومت ترکیجمہوریہ یونان اولخديويت مصربوسنیا اور ہرزیگوینا اتحادامارت درعیہعبوری حکومت البانیامملکت رومانیہفرمانروائی بلغاریہبرطانوی قبرصفرانسیسی الجزائرفرانسیسی تونسمشیخہ کویتمقبوضہ دشمن علاقہ انتظامیہاطالوی شمالی افریقہیمن

05/07/2017

Address

UAE
Uae

Telephone

+971589181086

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Library posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category