14/12/2022
!۔۔۔ جدید ترین #صیہونی #ٹیکنالوجی ۔ پارٹ ٹو۔۔۔!
:::::::::::::::::::::: دوسرا حصہ یہاں سے پڑھنا شروع کریں ۔۔۔۔۔۔!
ٹرانس ہیومین پروجیکٹ کیا ہے۔۔۔۔ ؟
اس میں اب تک کیا کامیابی ہوچکی ہے۔اس پروجیکٹ کا مقصد کیا تھا ۔۔؟
۔۔۔۔۔احباب کرام ۔۔۔!
آگے بڑھنے سے قبل پچھلے موضوع نیو ورلڈ آرڈر یا وَن وَرلڈ آرڈر کے متعلق ایک عیسائی محقق کی بات بتاتے چلوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رالف ایپرسن Ralf Epperson ایک عیسائی محقق تھا اور اُس نے 1989ء میں ایک کتاب لکھی جو نیو ورلڈ آرڈر کے عنوان سے معنون تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1:رالف فیملی ۔۔۔۔!
اس کے تعارف میں اس نے نیو ورلڈ آرڈر کے تین مراحل لکھے جو کہ اس کی پیشین گوئیاں تھیں اس نے کہا کہ مستقبل قریب میں ایسا ہوگا رالف کے بقول پہلے مرحلہ کے طور پر خاندانی نظام کی دھجیاں بکھیر دی جائیں گی زنا کو انتہائی حد تک پھیلادیا جائے گا ۔ہم جِنس پرستی کو عام کردیا جائے گا۔شادی اور میاں بیوی کے پاکیزہ رشتے کو ایک مذاق، لعنت اور بوجھ باور کرایا جائے گا اپنے ارد گرد دیکھیں تو آپ خود تجزیہ کرسکتے ہیں کہ پہلا مرحلہ کس قدر اور کس حد تک کامیابی سے پورا ہوچکا ہے۔۔۔۔!
2۔۔ ورک پلیس
دنیا میں ہر جگہ اور کوئی بھی کام کرنے والے سے اُس کی آزادی چھین لی جائے گی،دنیا کا کوئی بھی کام آپ کریں گے، اس کے ضوابط، اصول، کام کرنے کا طریقہ اور نظام وہ آپ کو بناکر دیں گےہر کام ان کی رضامندی و خوشنودی کیلیے کیا جائے گاوَرک پَلیس پر ان کا مکمل قبضہ ہوگا۔اگر آپ کو زندہ رہنا ہے اور کام کرنا ہے، تو ان کے طریقہ پر عمل کرنا ہوگا ۔۔۔۔۔!
3۔۔ مذہب ۔۔۔۔۔!!
پوری دنیا کے انسانوں کو یہ باور کرایا جائے گا اور ان کی ذہن سازی کی جائے گی کہ تمام مذاہب برحق ہیں اور ایک ہی خدا تک پہنچنے کے مختلف راستے ہیں لہٰذا کوئی ایک دوسرے کو برا بھلا اور صحیح غلط نہ کہے ،اور ان چکروں میں مت پڑا جائے،ان تمام مذاہب سے بڑھ کر ایک مذہب ہے جسے انسان کا مذہب یا انسانیت کا مذہب کہا جائے گا ،اور یہ باور کرایا جائے گا کہ یہی اصل مقصد ہے اور اس دنیا میں کرنے کے لائق اگر کوئی کام یے۔۔۔
تو وہ انسانیت کی خدمت ہے، مذہب کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، سب لوگوں کی منزل ایک ہی ہے اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے واقف ہیں تو مذکورہ باتوں کا تجزیہ کرسکتے ہیں کہ رالف ایپرسن کی پیشین گوئیاں کس حد تک پوری ہوچکی ہیں ۔۔۔۔ انسان کی تخلیق میرے مالک کا ایک کرشمہ ہے
وہ انسان کے اس دنیا میں آنے سے پہلے جانتا ہے ،کہ کون سا انسان کب۔۔؟ کہاں۔۔؟ کس جگہ۔۔؟ کس وقت۔۔؟ کس کے نطفے سے۔۔؟ کس کے پیٹ سے پیدا ہوگا ۔!
اور اس پیدا ہونے والے انسان کی کیا خصوصیات ہونگی۔۔؟ وہ لڑکا ہوگا یا لڑکی؟ اس کی ساخت اور جسامت کیا ہوگی۔۔؟
اس کی عمر کتنی ہوگی۔؟ اس کو کون کون سی بیماریں لاحق ہونگی۔۔۔؟
وہ زندگی میں کیا کارہائے نمایاں سرانجام دے گا؟ اور کب اس دنیا سے کوچ کرجائے گا۔۔۔۔؟
۔۔۔۔۔۔۔۔
مذکورہ تمام معلومات میں سے اکثر انسان کے وراثتی مادہ جسے ڈی آکسی رائبو نیوکلیک ایسڈ یا کہا جاتا ہے
میں موجود ہوتی ہیں، انسان ایک عرصہ سے انہیں کوششوں میں لگا ہوا تھا ، کہ وہ اس چھوٹے سے مادے کو سمجھ سکے بلکہ اپنی مرضی کی تبدیلیاں بھی کر سکے ۔اور اپنی مرضی کا انسان پیدا کر سکے ۔۔۔۔ !
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ انسان اس مادے کی زبان سمجھ چکا ہے
اور اس میں تبدیلی کا کارنامہ بھی انجام دے چکا ہے۔۔اس کی مثال یہ ہے کہ اب انسان کو وراثتی بیماریاں پال کر بیمار رہنے کی کوئی ضرورت نہیں.یعنی اگر کسی شخص میں کوئی وراثتی بیماری ہے تو نہ صرف اس کو ختم کیا جاسکتا ہے بلکہ اس کی آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی اس بیماری سے پاک کیا جاسکتا ہے۔۔۔
مگر کیسے ۔۔؟
اس عمل کو میڈیکل سائنس میں جینیٹک موڈیفیکیشن کا نام دیا جاتا ہے
انسان کا وہ حصہ جس میں اس کی بیماری موجود ہوتی ہے۔۔۔۔۔
اس کو کاٹ کر اس کی جگہ نیا حصہ تیار کرکے فِٹ کردیا جاتا ہے جو کہ بیماری سے پاک ہوتا ہے۔۔۔۔۔!
بات یہیں تک رہتی تو ہم کہتے کہ انسانیت کا بھلا ہوا ہے
اور ایک مستقل بیماری سے انسان کو نجات ملنے کا طریقہ میسر ہوگیا ہے۔
لیکن کہانی کچھ اور ہے ۔۔۔
مقصد کچھ اور ہے انسان اس تکنیک سے ایسے انسان پیدا کرنا چاہتا ہے
جن کا خالق بھی خود انسان ہی ہو۔۔۔!
جن کی وضع اور ساخت، جن کی خصوصیات انسان خود ڈیزائن کرے ، خود لکھے ، انسان جو پیدا تو ماہ کے پیٹ سے ہوں ۔مگر ان کا خالق انسان ہو۔۔انسان خود ایسے انسان تیار کرے جو شیر کی طرح بہادر، چیتے کی تیز رفتار، لومڑی کی طرح عیار، کتے کی طرح شاندار قوتِ شامہ کے مالک اور اونٹ کی طرح انتہائی قوتِ برداشت کے حامل ہوں۔اس کے علاوہ وہ دنیا کی ہر زبان سے واقف اور ہر فَن میں مہارتِ تامہ رکھتے ہوں، بے پناہ ذہین اور طاقت ور ہوں۔
آپ سوچ رہے ہونگے کہ ایسا کیسے ممکن ہے۔۔؟
ممکن ہے مجھے پاگل بھی خیال کررہے ہوں انسان کیسے انسان کا خالق ہوسکتا ہے۔۔۔۔؟ ایک انسان مندرجہ بالا خصوصیات کا حامل کیسے ہوسکتا ہے۔۔؟
آپ کی اطلاع کیلیے عرض ہے کہ صیہونی سائنسدانوں کے بقول ایسا ممکن ہے۔۔۔انسان خود انسان تیار کرسکتا ہے
اس میں اپنی مرضی کی خصوصیات ڈال کر اپنی پسند کا انسان پیدا کرسکتا ہے ۔ ۔انسان کا DNA ڈی این اے لکھنے کی کوششیں عرصہ دراز سے کی جارہی ہیں اور اس میں کامیابی 2030ء تک متوقع ہے
اور انسانوں کی پیدا کردہ مخلوق انسان کی پہلی کھیپ 2050ء متوقع ہے۔۔۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کس مقصد کیلیے کیا جارہا ہے۔۔۔؟
تو جواب واضح ہے کہ یہ ایک نئی دنیا جس کا صیہونی شیطانی طبقہ خواب دیکھ رہا ہے، اس کی فَوج ہوگی اور اگر ایسے انسان تیار ہوجائیں
تو ان سے کیا کیا تباہی پھیلائی جاسکتی ہے۔۔ ؟
ایسا سوچ کر بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں
مزید برآں یہ ہے ۔۔کہ انسان کے ڈی این اے میں تقریبا سات پشتوں کی معلومات کا ذخیرہ ہوتا ہے جی ہاں ۔۔۔۔۔!
ڈی این اے ۔۔سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ اس کے ماں باپ، دادا دادی اور پردادا پردادی کیسے تھے۔۔۔؟۔۔اور اسی طرح اس کی سات پچھلی نسلوں کی مختلف معلومات اس چھوٹے سے وراثتی مادہ میں محفوظ ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔۔
درج بالا بات کو اپنے ذہن میں رکھیے گاآگے اس بارے لکھا جا رہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو دجال کیلیے بطورِ مدد کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے....؟
آپ کیلیے یہ بات بھی یقیناً حیران کن ہوگی ۔۔۔۔
کہ ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں جتنی بھی ڈیٹا سٹوریج ڈیوائسز بنائی جارہی ہیں وہ ہمارے ڈیٹا کو محفوظ کرنے کی ضرورت کو پورا نہیں کرسکتیں ۔۔
لہٰذا مستقبل قریب میں ڈیٹا کو محفوظ کرنے کیلیے انسان کا استعمال کیا جائے گااس کا کامیاب تجربہ بھی ہوچکا ہے۔!
محض ایک گرام ڈی این اے مادہ میں دو لاکھ پندرہ ہزار ٹیرا بائیٹس ڈیٹا محفوظ کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 01TB=1024GB
مذکورہ خبر ایکسپریس نیوز کراچی کے آنلائن ایڈیشن مؤرخہ چار مارچ دوہزارسترہ میں سائنس و ٹیکنالوجی کے عنوان کے تحت پڑھی جاسکتی ہے۔۔۔
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔۔۔؟ جاری ہے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر محمد افضل۔۔۔۔!