09/06/2026
محبت و شوقِ رسول ﷺ والوں کے احوال میں سے ایک دل سوز واقعہ:
ذکر کی ایک مجلس میں ایک صاحب قصیدۂ بردہ شریف پڑھ رہے تھے۔ جب وہ اس شعر پر پہنچے:
> ظَلَمْتُ سُنَّةَ مَنْ أَحْيَا الظَّلَامَ إِلَىٰ
أَنِ اشْتَكَتْ قَدَمَاهُ الضُّرَّ مِنْ وَرَمِ
"میں نے اُس ہستی کی سنت کی پوری پیروی نہ کی جس نے راتوں کو عبادت میں زندہ رکھا، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے مبارک قدم ورم کی تکلیف سے متاثر ہو گئے۔"
تو حاضرین میں سے ایک عاشقِ رسول ﷺ بے اختیار پکار اٹھا:
> "سلامةُ رِجلَيْكَ يا حضرةَ النبي ﷺ"
"یا رسول اللہ ﷺ! آپ کے مبارک قدم سلامت رہیں۔"
یہ الفاظ سننا تھا کہ پوری مجلس محبت، تعظیم اور ادبِ رسول ﷺ کے جذبات سے آبدیدہ ہو گئی، اور ہر طرف گریہ و رقت کی کیفیت طاری ہو گئی۔
یہ واقعہ اس محبت کی جھلک پیش کرتا ہے جس میں عاشق کا دل محبوب ﷺ کے ذکر سے اس قدر متاثر ہو جاتا ہے کہ صدیوں پہلے پیش آنے والے حالات کا تذکرہ بھی اسے بے اختیار کر دیتا ہے، اور وہ ادب و محبت کے اظہار میں خود کو روک نہیں پاتا۔
اللهم صل وسلم وبارك على سيدنا محمد، مفتاح المعارف، وعلى آله وصحبه، عدد حسنات كل عارف وغارف. 🌹❤️
اے اللہ! ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ پر، جو معرفت کے دروازوں کی کنجی ہیں، رحمت، سلام اور برکتیں نازل فرما، اور آپ کی آل اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر بھی، اتنی تعداد میں جتنی نیکیاں ہر عارفِ حق اور علم و فیض حاصل کرنے والے کو نصیب ہوتی ہیں۔ آمین۔ 🤍🌹