ZCOS

ZCOS We provide consultancy about launching new business related to house hold, skin care and hair care products.

24/04/2026

اکیلی لڑکی۔۔۔ نیندیں اڑا دیں
*سال 2001۔ NUST۔ مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ۔
پہلا دن۔* ساٹھ لڑکوں کے بیچ ایک لڑکی داخل ہوتی ہے۔ نام سارہ قریشی۔ کلاس کے پیچھے بیٹھتی ہے۔ لیکچرر گھور کر دیکھتا ہے۔ لڑکے سرگوشی کرتے ہیں۔ کوئی پوچھتا ہے “بی بی آپ غلط کلاس میں آ گئی ہیں، ہوم اکنامکس والی بلڈنگ ساتھ والی ہے”۔ سارہ مسکراتی ہے اور کاپی کھول لیتی ہے۔ اسے پتہ ہے کہ وہ غلط کلاس میں نہیں، غلط صدی میں پیدا ہوئی ہے۔ مگر صدی بدلنے کے لیے کسی ایک کو تو پہلا قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ وہ قدم سارہ نے اس دن اٹھا لیا اور پھر چار سال تک NUST کی لیب میں سب سے آخر میں لائٹ بند کر کے جانے والی وہی لڑکی تھی جسے پہلے دن کلاس کا راستہ پوچھا گیا تھا۔ گارڈ رات دس بجے ٹوکتا تھا “بی بی گھر جاؤ، یہاں لڑکیوں کا کیا کام”، سارہ جواب دیتی تھی “چاچا، جہاز کا انجن بنا رہی ہوں، صبح تک ہو جائے گا تو چلی جاؤں گی”۔ گارڈ ہنستا تھا۔ سارہ نہیں ہنستی تھی۔

کیونکہ اسے پتہ تھا کہ پاکستان کی پہلی فیمیل مکینیکل انجینئر بننے کے لیے راتیں کالے کرنی پڑتی ہیں۔ 2005 میں ڈگری ملی۔ NUST کی تاریخ میں پہلی لڑکی۔ لوگوں نے کہا “چلو شاباش، اب نوکری کرو یا شادی”۔ سارہ نے دونوں باتیں سنیں اور تیسری کر دی۔ آٹوموٹو انڈسٹری جوائن کی۔ پاکستان کے ہب میں۔ جہاں انجن تو بنتے تھے مگر چھوٹے۔ سارہ نے وہاں UAV یعنی ڈرون کا آٹو پائلٹ سسٹم ڈیزائن کیا۔ وہ سسٹم جو ڈرون کو خود بخود اڑاتا ہے، بلندی سنبھالتا ہے، ہوا کے تھپیڑے میں بیلنس رکھتا ہے۔ انڈسٹری نے کہا “یہ لڑکی تو کام کی ہے”۔ مگر سارہ کا خواب بڑا تھا۔

اسے زمین پر نہیں، آسمان میں اڑنا تھا۔ اسکالرشپ ملی۔ UK چلی گئی۔ Cranfield University۔ دنیا کی ٹاپ ایرو اسپیس یونیورسٹی۔ وہاں PhD شروع کی۔ موضوع؟ Aerospace Propulsion۔ آسان لفظوں میں: جہاز کا انجن۔ اب ذرا رکو اور سوچو۔ لاہور کی ایک لڑکی، جسے NUST میں کلاس کا راستہ بتایا گیا تھا، اب دنیا کے سب سے مشکل موضوع پر PhD کر رہی ہے۔ اور اکیلی نہیں کر رہی۔ MSc کے گورے لڑکوں کو پڑھا بھی رہی ہے۔ وہ حیران ہو کر پوچھتے ہیں “You are from Pakistan? And you are teaching us jet engines?” سارہ کہتی ہے “Yes, and I will build one too”۔ پی ایچ ڈی کے دوران اس کا واسطہ پڑا ایک ایسے مسئلے سے جس نے پوری دنیا کو پریشان کیا ہوا تھا۔ جب جہاز اڑتا ہے تو پیچھے سفید لکیر چھوڑتا ہے۔ ہم سب نے دیکھی ہے۔ اسے کنٹریل کہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں بادل ہے۔ مگر سائنس کہتی ہے کہ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ سے دو گنا زیادہ خطرناک ہے۔ یہ گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ مطلب تمہاری گاڑی سے زیادہ جہاز کا وہ سفید دھواں زمین کو گرم کر رہا ہے۔ پچاس سال سے سائنسدان حل ڈھونڈ رہے تھے۔ امریکہ، جرمنی، جاپان سب فیل۔ سارہ نے اپنے والد مسعود لطیف قریشی کے ساتھ بیٹھ کر کہا “ابو، اگر مسئلہ دھوئیں کا ہے تو دھواں ہی ختم کر دیتے ہیں”۔ باپ فزسٹ تھا، بیٹی انجینئر۔ دونوں نے لیب میں تالا لگا دیا۔ 2018 کا سال تھا۔

تین سال لگے۔ نیندیں حرام ہوئیں۔ Cranfield کے پروفیسر
بھی ساتھ مل گئے۔ اور پھر ایک دن انجن اسٹارٹ ہوا۔ انجن نے دھواں باہر نہیں پھینکا۔ اندر ہی پکڑ لیا۔ کیسے؟ اس کے اندر ایک پریشر بیسڈ کنڈنسیشن سسٹم لگا ہے۔ یہ سسٹم ایگزاسٹ کے گرم بخارات کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ بخارات پانی بن جاتے ہیں۔ وہ پانی جہاز کے ایک ٹینک میں جمع ہو جاتا ہے۔ کنٹریل؟ زیرو۔ دھواں؟ زیرو۔ گلوبل وارمنگ میں جہاز کا حصہ؟ ختم۔ اور کہانی یہاں نہیں رکی۔ سارہ نے کہا “یہ پانی ضائع کیوں کریں؟” اس نے سسٹم میں ایک اور کمال کر دیا۔ پائلٹ جب چاہے بٹن دبا کر وہ پانی بادلوں میں چھوڑ سکتا ہے۔ مطلب جہاز سے مصنوعی بارش۔ جہاں قحط ہو، وہاں پانی۔ ایک انجن، تین کام۔ ایک: گلوبل وارمنگ کم۔ دو: مصنوعی بارش۔ تین: فیول ایفیشنسی بڑھ گئی کیونکہ انجن کا درجہ حرارت کنٹرول میں رہا۔ دنیا نے جب یہ سنا تو سانس روک لی۔ امریکہ اور UK نے فوراً دو انٹرنیشنل پیٹنٹ دے دیے۔ 2018 میں ہی سارہ پاکستان واپس آئی۔ والد کے ساتھ مل کر کمپنی بنائی: Aero Engine Craft Private Limited۔ پاکستان کی تاریخ کی پہلی کمرشل جیٹ انجن R&D کمپنی۔ پرائیویٹ سیکٹر میں۔ ایک عورت کی لیڈرشپ میں۔ لیب لاہور میں لگائی۔

اور پھر وہ کر دکھایا جو آج تک کسی نے نہیں کیا تھا۔ پاکستان کا پہلا سول جیٹ انجن بنا دیا۔ جی ہاں۔ مکمل جیٹ انجن۔ زمین پر چلا کر دکھایا۔ ٹیسٹ ہوا۔ کامیاب۔ اس دن پاکستان دنیا کا چھٹا ملک بن گیا جو کمرشل جیٹ انجن بنا سکتا ہے۔ پہلے پانچ کون ہیں؟ امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین۔ چھٹا نام کس نے لکھوایا؟ ایک پاکستانی بیٹی نے۔ سارہ قریشی نے۔ مگر رکو۔ کہانی ابھی باقی ہے۔ اسی دوران سارہ نے ایک اور پیٹنٹ فائل کر دیا۔ کس چیز کا؟ سپرسونک کمرشل ایئرکرافٹ انجن۔ مطلب وہ انجن جو آواز سے تیز جہاز کو اڑائے گا۔ لاہور سے لندن دو گھنٹے میں۔ اور یہ بھی کنٹریل فری۔ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں ابھی اس پر ریسرچ کر رہی ہیں۔ سارہ نے ڈیزائن مکمل کر لیا۔ اور یہ سب کرنے کے بعد سارہ نے کہا “بس انجن بنانا کافی نہیں، مجھے پتہ ہونا چاہیے پائلٹ کی سیٹ پر بیٹھ کر کیسا لگتا ہے”۔ اس نے پرائیویٹ پائلٹ لائسنس لیا۔ جہاز اڑانا سیکھا۔ Aerobatic flying بھی کی۔ مطلب الٹا سیدھا جہاز اڑانا۔ کیوں؟ کیونکہ سارہ کہتی ہے “اگر میں انجن بناؤں گی تو مجھے پائلٹ کا درد سمجھنا پڑے گا”۔ اب تم بتاؤ۔ اس عورت کو کس چیز نے روکا؟ NUST میں طعنے؟ نہیں۔ انویسٹرز کا انکار؟ نہیں۔ “تم لڑکی ہو” کا لیبل؟ نہیں۔

سارہ ہر دیوار سے ٹکرائی اور دیوار گر گئی۔ آج وہ Cranfield University میں وزٹنگ اکیڈمک ہے۔ وہاں کے پروفیسرز اس سے فیڈ بیک لیتے ہیں کہ ماحول دوست انجن کیسے بہتر ہو۔ Tamgha-e-Imtiaz مل چکا۔ بیس انٹرنیشنل ایوارڈ جیت چکی۔ مگر سارہ کا اصل ایوارڈ وہ ہے جو ابھی آنا ہے۔ جب PIA کا کوئی جہاز لاہور ایئرپورٹ سے اڑے گا اور اس کے پر پر لکھا ہو گا “Engine by Aero Engine Craft – Made in Pakistan”۔ اس دن تمہارا پاسپورٹ دیکھ کر امیگریشن والا نہیں پوچھے گا “ویزہ کہاں ہے؟” وہ پوچھے گا “یہ انجن تمہارے ملک نے بنایا ہے؟” اور تم فخر سے کہو گے “ہاں، ہماری ایک بیٹی نے بنایا ہے”۔ اب بات کرتے ہیں تمہاری۔ ہاں تمہاری۔ جو یہ پوسٹ پڑھ رہی ہو۔ اسکول میں ہو، کالج میں ہو، یا یونیورسٹی میں۔ تمہارے سامنے دو راستے ہیں۔ پہلا: سارہ کی طرح لیب کا راستہ۔ رات دس بجے گارڈ کے طعنے سننا، مگر انجن بنا کر نکلنا۔ دوسرا: انسٹاگرام کا راستہ۔ ریل بنانا، لائک گننا، اور دس سال بعد پچھتانا کہ “کاش میں نے بھی کچھ کر لیا ہوتا”۔ سارہ تمہیں بتا رہی ہے کہ مکینیکل انجینئرنگ لڑکوں کا فیلڈ نہیں ہے۔ R&D پاکستان میں نہیں ہو سکتی یہ جھوٹ ہے۔ جیٹ انجن ہم نہیں بنا سکتے یہ بہانہ ہے۔ اس نے کر کے دکھا دیا۔ اب بال تمہارے کورٹ میں ہے۔ تمہارا باپ سائنسدان نہیں ہے؟ سارہ کا تھا۔ تم فائدہ اٹھاؤ۔ اپنے بھائی کو، والد کو، استاد کو اپنا پارٹنر بناؤ۔ ٹیم بناؤ۔ سارہ اکیلی نہیں تھی۔ اس کے والد مسعود لطیف قریشی اس کے کو-فاؤنڈر ہیں۔ باپ بیٹی نے مل کر دنیا ہلا دی۔ تم بھی کسی کا ہاتھ پکڑو۔ اور سب سے ضروری بات: مسئلہ ڈھونڈو۔ رونا بند کرو۔ دنیا گلوبل وارمنگ سے رو رہی تھی۔ سارہ نے انجن بیچ کر اربوں بھی کمائے اور دنیا بھی بچا لی۔ تمہارے گاؤں میں پانی کا مسئلہ ہے؟ سولر پمپ بناؤ۔ لوڈ شیڈنگ ہے؟ بیٹری بناؤ۔ بے روزگاری ہے؟ ایپ بناؤ۔ بہانہ مت بناؤ۔ سارہ کے پاس ہزار بہانے تھے۔ “میں لڑکی ہوں” سب سے آسان تھا۔ اس نے استعمال نہیں کیا۔ تم بھی مت کرو۔

2026 ہے۔ حکومت کہہ رہی ہے دس لاکھ لوگوں کو AI سکھائیں گے۔ مگر AI سے پہلے ایرو اسپیس ہے۔ جیٹ انجن ہے۔ ہارڈ ویئر ہے۔ اگر ہم نے سارہ جیسی دس لڑکیاں اور پیدا نہ کیں، تو کل ہم AI بھی باہر سے خریدیں گے، انجن بھی، اور جہاز بھی۔ اور ہماری بیٹیاں ایئر ہوسٹس بن کر ان جہازوں میں چائے سرو کریں گی جو ہماری ہی کسی بہن نے ایجاد کیے ہو سکتے تھے۔ فیصلہ ابھی کرو۔ یہ پوسٹ اس لڑکی کو بھیجو جو کہتی ہے “مجھ سے نہیں ہو گا”۔ اس کے ماتھے پر مارو یہ پوسٹ۔ اسے بتاؤ کہ NUST کی اس کلاس میں ساٹھ لڑکوں کے سامنے ایک سارہ کھڑی ہوئی تھی۔ آج پوری دنیا اس کے سامنے کھڑی ہے۔ تم بھی کھڑی ہو سکتی ہو۔ شرط صرف ایک ہے: کلاس کا راستہ مت پوچھو، کلاس کا راستہ بناؤ۔ اور جب انجن بن جائے تو دنیا کو بتانا مت بھولو کہ “ہاں، میں پاکستان کی بیٹی ہوں۔ اور میں نے ناممکن کو ممکن بنا دیا”۔ کمنٹ میں “انجن” لکھ کر اعلان کرو کہ اگلی سارہ قریشی تم ہو۔ میں گن رہا ہوں۔ پاکستان گن رہا ہے۔

DrSaraQureshi

06/04/2026

"متحدہ عرب امارات”کا وہ خفیہ راز جوکوئی نہیں جانتا
الجزیرہ کےفلسطینی صحافی جمال ریان کی تہلکہ خیز تحریر

کوئی نہیں جانتا کہ “متحدہ عرب امارات” جیسے ایک ملک، جس کا رقبہ صرف تقریباً 75 ہزار مربع کلومیٹر ہے، اور جس کی مقامی آبادی ابھی تک آٹھ لاکھ سے بھی کم ہے، اتنی تیزی سے ترقی کیسے کر گیا؟!! جبکہ “متحدہ عرب امارات” کے پاس نہ کوئی مضبوط سیاسی تاریخ ہے، نہ آزادی کی تحریکیں، اور نہ ہی ثقافتی یا فکری ادارے۔
کیا شیخ زاید نے اس پر سورۃ “یس” پڑھ دی کہ یہ ایک ہی رات میں تعمیر و ترقی کے عروج پر پہنچ گیا اور مغربی ایشیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہو گیا؟!!

حقیقت یہ ہے کہ: “امارات پروجیکٹ” کے پیچھے دراصل دنیا کے طاقتور ترین یہودی ہیں۔ مغرب میں موجود “امیر ترین یہودیوں” نے یہ سوچا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسی یہودی بستی قائم کی جائے جو انکے مالی مفادات اور تجارتی سرگرمیوں کی نگرانی کرے مگر اس بستی کا انکی “اصل ریاست” یعنی اسرائیل سے براہِ راست تعلق نہ رکھا جائے (کچھ سیاسی اور دیگر وجوہات کی بنا پر)

1971 سے، جو کہ متحدہ عرب امارات کے قیام کا سال ہے، مغرب نے امارات کو پہلے چھ اور پھر سات ریاستوں میں تقسیم رکھا، اور ہر ریاست کا اپنا امیر، فوج، پولیس اور سکیورٹی نظام ہے جبکہ صرف ابوظہبی پورے متحدہ عرب امارات کے تین چوتھائی سے زیادہ رقبے پر مشتمل ہے،
تاکہ ایک مضبوط مرکزی ریاست بننے کا امکان کم رہے۔

اگر ہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مان بھی لیں کہ امارات کی آبادی ساڑھے سات لاکھ ہے تو پھر بھی اس کا ان غیر ملکیوں سے کیا مقابلہ ہے جو وہاں رہتے ہیں اور جن کی تعداد 90 لاکھ ہے، اور وہ 200 قومیتوں اور 150 مختلف نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں؟!!
یہاں تک کہ اگر متحدہ عرب امارات کے تمام مقامی لوگ فوج، سکیورٹی اور انٹیلیجنس بن جائیں، تب بھی وہ ان غیر ملکیوں کے مقابلے میں اپنے ملک کا دفاع نہیں کر سکتے!!

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب آپ امارات میں داخل ہوتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے آپ کسی یورپی یا ترقی یافتہ ایشیائی ملک میں آ گئے ہوں، جہاں بہترین نظام، پیشہ ورانہ رویہ، اعلیٰ نظم و ضبط، صاف ستھری اور خوبصورت سڑکیں نظر آتی ہیں لیکن آپ کیلئے یہاں کے ایک “اصل مقامی شہری” کو تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے؛ کیونکہ ایئرپورٹ سے لے کر رہائش تک زیادہ تر معاملات “غیر ملکیوں” کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔

جبکہ ہوائی اڈوں پر پروازوں کی تعداد اور بندرگاہوں میں جہازوں کی آمد و رفت دنیا کے بڑے ترین مراکز کا مقابلہ کرتی ہے، جس سے انسان حیران رہ جاتا ہے!!! کیا یہ ممکن ہے کہ ایک سادہ سوچ رکھنے والا “اماراتی” بادشاہ اس پیچیدہ نظام کو چلا رہا ہو؟!!

“متحدہ عرب امارات” بالخصوص ابوظہبی میں دنیا کے امیر ترین افراد کی بڑی تعداد موجود ہے جن میں امیر یہودیوں کا تناسب زیادہ ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اس بڑے مالی ذخیرے کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کیا گیا ہے۔
اسی لیے یہ بات عجیب نہیں کہ محمد بن زاید کو اسرائیل کی طرف لے جانے میں ایک یہودی ارب پتی حائیم سابان (Haim Saban) کا کردار تھا۔

“متحدہ عرب امارات” صرف بلند عمارتوں، خوبصورت سڑکوں، تجارت یا صنعت کا نام نہیں بلکہ یہ “امت مسلمہ" کے خلاف سازش کا ایک مضبوط "مرکز” ہے۔

چند اہم سوالات:
سوال نمبر 1-
متحدہ عرب امارات کو اس قدر اسلحہ پر خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ وہ دنیا میں اسلحہ پر خرچ کرنے والی پانچویں بڑی ریاست میں شمار ہوتی ہے؟
اس اسلحہ کو چلانے والی اس کی فوج کہاں ہے؟
اور وہ فوج کن سرحدوں کا دفاع کر رہی ہے؟

جواب:
یہ تمام اسلحہ، چاہے ظاہر ہو یا پوشیدہ، خطے کے دیگر ممالک میں مداخلت اور سازشوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور کوئی بھی عرب یا اسلامی ملک ایسا نہیں جس کے سیاسی، معاشی یا سکیورٹی معاملات میں متحدہ عرب امارات کی مداخلت نہ ہو۔

سوال نمبر 2:
کیا آلِ زاید خاندان کے پاس اتنی ذہانت ہے کہ وہ اتنے پیچیدہ معاملات کو خود سے چلا سکے؟
اور کیا امارات کے حکمرانوں کے مفاد میں ہے کہ وہ ہزاروں کلومیٹر دور دیگر ممالک کے معاملات میں مداخلت کریں؟
اس سوال کا جواب انتہائی سادہ ہے

سوال نمبر 3:
یہودی سرمایہ دار خود براہِ راست متحدہ عرب امارات پر حکومت کیوں نہیں کرتے؟

اس سوال کا جواب ہنری فورڈ کی 1921 میں لکھی گئی کتاب “دی انٹرنیشنل جیو” The International Jew میں دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا کہ:
“یہودی دنیا کو پس پردہ رہ کر چلانا پسند کرتے ہیں۔”

سوال نمبر 4:
یہودیوں نے سرمایہ کاری کے لیے اسرائیل کے بجائے متحدہ عرب امارات کو کیوں منتخب کیا؟
جواب:
اسکا جواب بھی انتہائی سادہ ہے۔ کیونکہ اسرائیل سرمایہ کاری کے لیے موزوں نہیں، وہ یہودیوں کا ایک “فوجی مورچہ” ہے جو ہر وقت خطرے میں رہتا ہے،
اور خطے میں اسرائیل کے ساتھ براہ راست تجارتی تعلقات بھی زیادہ پسند نہیں کیے جاتے یعنی ایک طرف وہ غیر مستحکم ہے، اور دوسری طرف وہاں کام کرنے والوں کا تعلق براہِ راست یہودیوں سے ہوتا ہے۔ اس لئے یہودیوں نے سرمایہ کاری کیلئے اسرائیل کی بجائے متحدہ عرب امارات کو منتخب کیا اور یہی وہ خفیہ راز ہے جو راتوں رات متحدہ عرب امارات کی چکا چوند ترقی کا باعث بنا

خلاصہ:
“متحدہ عرب امارات” دراصل 1971 سے یہودیوں کے مالی مفادات اور تجارتی سرگرمیوں کی نگرانی کی غرض سے قائم کردہ اسرائیلی بستی ہے۔

26/02/2026
31/10/2025
Beauty cream
31/10/2025

Beauty cream

31/10/2025

Making Creamy volume 20

Address

Near Secretariat.
Lahore
54000

Telephone

+923004777665

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ZCOS posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to ZCOS:

Share