ღღ ღღ

ღღ ღღ Our page "ღღ ღღ" has a huge collection of Urdu Poetry. Join this community of poetry lovers and express yourself :)

24/10/2025

PUBG MOBILE LAILA EVENT ACHIVMENT PART 2

24/10/2025

PUBG MOBILE LAILA EVENT ACHIVMENT PART 1

اس نے اپنی مرضی سے شادی کی، لیکن ایک عورت تھی،موت سے پہلے الفاظ۔۔۔زنا نہیں نکاح کیا ہے۔اپنی موت کو سامنے دیکھ کر نہ روئی...
20/07/2025

اس نے اپنی مرضی سے شادی کی، لیکن ایک عورت تھی،

موت سے پہلے الفاظ۔۔۔زنا نہیں نکاح کیا ہے۔

اپنی موت کو سامنے دیکھ کر نہ روئی، نہ چیخی، نہ چلائی مردوں کے معاشرے سے بغاوت کے جرم میں پکڑی گئی۔

مقتل گاہ تک اپنے قدموں سے چل کر آئی۔

صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے، اس نے چادر کے نیچے پکڑے ہوئے قرآن مجید کو قاتلوں کے گروہ کے حوالے کیا، جس میں اس کا باپ، بھائی اور قریبی رشتے دار شامل تھے۔

اس نے کسی کے چہرے پر پیار بھری آخری نظر نہیں ڈالی، تاکہ ان کو خجالت کا احساس نہ ہو۔

وہ کسی کے گلے لگ کر روئی نہ کسی کو خدا حافظ کہا۔

سر اٹھا کر بندوقوں کے باڑ کے سامنے کھڑی ہوگئی۔

قاتل ان کے پیچھے اپنی بندوقیں لیے کھڑے ہوگئے۔

انہوں نے اسے کہا کہ تھوڑا آگے کھڑی ہو جائے۔

اس نے مڑے بغیر کہہ دیا کہ صرف گولی مارنے کا حق ہے۔

وہ آخری گولی لگنے تک اپنا باغی سر اٹھائے کھڑی تھی۔

نام اس کا شیتل تھا لیکن وہ مظبوط اعصاب کی بہادر باغی لڑکی تھی۔

اسے بغاوت کرنے کا حق تھا جو اس نے استعمال کیا، اگر اس کے ساتھ لڑنے اور اپنے پیار کو بچانے اور اس کی خاطر لڑنے کا حق ہوتا تو لڑ لڑ کر مرتی۔

لیکن قاتل اس کے بھائی باپ اور رشہ دار تھے، اس لیے اس نے سر اٹھا کر ان پر اچٹتی نظر ڈالنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔

😢😢😢 قرآن حوالے کرکے کہا،
صرف گولی مارنے کا حق ہے۔

12/06/2025

ائیر انڈیا کا مسافر طیارہ احمد آباد میں گرکر تباہ، تمام 242 مسافر ہلاک ہوگئے

Flight AI171,
بوئنگ 787-8 ڈریم
بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد طیارہ حادثے میں 170 افراد ہلاک، بھارتی میڈیا

حادثے کا شکار بھارتی مسافر طیارہ میں 242 افراد موجود تھے، جس میں 169 بھارتی مسافر سوار تھے، بھارتی میڈیا

طیارے میں 53 انگلینڈ کے رہائشی، 1 کینیڈا کا رہائشی اور 7 پرتگال کے رہائشی مسافر تھے، بھارتی میڈیا

حادثہ کا شکار بھارتی مسافر طیارہ میں 12 افراد عملے کے موجود تھے، بھارتی میڈیا

Air India confirms nationalities of those on board crashed flight, including 169 Indians, 53 British, 7 Portuguese and one Canadian.

ٹیک آف کے بعد تین منٹ اور لینڈنگ سے پہلے 8 منٹ انتہائی اہم ہوتے ہیں جنہیں کریٹکل 11 منٹس کہا جاتا ہے۔ اسی دوران سب سے زی...
12/06/2025

ٹیک آف کے بعد تین منٹ اور لینڈنگ سے پہلے 8 منٹ انتہائی اہم ہوتے ہیں جنہیں کریٹکل 11 منٹس کہا جاتا ہے۔ اسی دوران سب سے زیادہ کریش ہوتے ہیں۔ 625 فٹ کی تو بلندی کچھ بھی نہیں ہوتی۔ ایئر انڈیا کا جہاز احمد آباد میں کریش ہو گیا ہے۔ خدا جانے کیا وجوہات ہیں۔ رپورٹس آ رہی ہیں۔ کچھ زخمی بھی ہیں جن کو ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

Flight AI171, ڈریم لائنر کا پہلا ہولناک حادثہ ہے۔ دل بیٹھا جا رہا ہے۔ آبادی پر گرا ہے۔ تحقیقات ہو رہی ہیں کہ کتنا جانی نقصان ہوا ہے۔انسانیت کے ناطے دل غم سے نڈھال ہے۔🫣

فریڈم فلوٹیلا والے کون تھے ؟؟ اپنے بچوں کو اس مددگار کشتی کے بارے میں ضرور بتائیے ۔ اور ان لوگوں کو بھی جو ,, فریڈم فلوٹ...
11/06/2025

فریڈم فلوٹیلا والے کون تھے ؟؟
اپنے بچوں کو اس مددگار کشتی کے بارے میں ضرور بتائیے ۔ اور ان لوگوں کو بھی جو ,, فریڈم فلوٹیلا ،، کا نام تو سن رہے ہیں ۔۔ کام نہیں جانتے ۔
فریڈم فلوٹیلا تین کشتیوں پر مشتمل ایک قافلہ جو یکم جون کو اٹلی کی بندرگاہ سے غزہ کے بچوں کی مدد کے لیے نکلا ۔ یہ ایک پرامن مشن تھا جس کی منزل غزہ تھی ، اسے آٹھ جون کو غزہ پہنچنا تھا ۔ ان کے ساتھ ایک چھوٹا کارگو جہاز بھی تھا جس میں صرف ادویات، خوراک، صاف پانی، سولر سسٹمز اور کچھ بنیادی ضرورت کا سامان غزہ لے جایا جا رہا تھا۔ یہ ایک علامتی امداد اور تسلی تھی ۔۔ چند ملکوں کے بہادر لوگ اس میں سوار تھے ، جن میں ڈاکٹرز بھی تھے ، سوشل ورکرز بھی اور چند طلبا بھی ۔۔۔ اان پر وہ لوگ سوار تھے جو نہ فلسطینی تھے، نہ عرب۔۔۔ وہ مختلف ملکوں، رنگوں اور مذاہب سے تعلق رکھتے تھے، مگر ان سب کے دل غزہ کے لیے دھڑک رہے تھے ۔
ان کی نظر غزہ پر تھی ، جہاں زندگی سسک رہی ہے ۔۔ یہ فریڈم فلوٹیلا ان سب کے لیے تھا ۔کوئی نعرہ نہیں تھا، کوئی ہتھیار نہیں… صرف امن کا کارواں تھا۔۔۔ اور فلسطین کا جھنڈا !
لیکن جیسے ہی 9 جون کو یہ قافلہ سمندری غزہ کے قریب پہنچا ، اسرائیلی نیوی نے اسے گھیر لیا ، اسلحے کے زور پر روک لیا ، نہتے لوگوں پر حملہ کیا۔ ڈرون پھینکے ، آنسو گیس ، شیل ، تشدد ۔۔۔ کارکنوں کو گرفتار کر لیا ، ان سارا سامان ضبط کر لیا گیا اور قافلے کو اسرائیلی بندرگاہ پر منتقل کر دیا ۔ وہ انسان جو انسانیت بانٹنے آئے تھے، قید کر لیے گئے۔ کچھ زخمی ہوئے، کچھ لاپتا، کچھ اب تک واپس نہیں آئے۔
یہ کشتیاں آج غزہ تو نہ پہنچ سکیں، مگر دنیا کے ضمیر تک ضرور پہنچ گئی ہیں۔یہ سفر بظاہر روک لیا گیا ، مگر رکا نہیں… یہ بارہ بہادر افراد دنیا کے دو ارب مسلمانوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گئے۔۔
اس واقعے نے دنیا بھر میں ہیومین رائٹس کے علمبرداروں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اور ادھر ۔۔۔ ۔ غزہ کے بچے ۔۔۔ جو اس سمندری جہاز کی آمد کے منتظر تھے ۔۔۔ اب پتا نہیں کب تک منتظر رہیں گے ۔۔
مگر فریڈم فلوٹیلا کا یہ سفر ختم نہیں ہوا… جہاز تو روک لیا گیا ۔۔ مگر آواز نہ روکی گئی ۔۔۔ یہ آواز اب دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے۔ بہادروں کے قصے ۔۔۔ ختم نہیں ہوتے رقم ہو جاتے ہیں ۔۔۔ فریڈم فلوٹیلا قصہ نہیں ، تاریخ بن گیا۔ اور دولت و طاقت کے نشے سے لدے بےحس اسلامی ملکوں کا سر بھی شرم سے جھکا گیا ۔۔۔۔

مسکان نے خوشی سے یونس کو پسند کیا،اور ماں ہونے کے ناطے میں نے اس رشتے میںوہی چند شرطیں رکھیں جو ہر ماں اپنی بیٹی کی عزت،...
21/05/2025

مسکان نے خوشی سے یونس کو پسند کیا،
اور ماں ہونے کے ناطے میں نے اس رشتے میں
وہی چند شرطیں رکھیں جو ہر ماں اپنی بیٹی کی عزت، تحفظ، اور خوشی کے لیے رکھتی ہے۔

رشتہ طے پا گیا…
لیکن کچھ ہی وقت بعد، یونس کے والد نے انکار کر دیا۔
بس اس لیے کہ
"یہ لڑکی سوشل میڈیا پر کام کرتی ہے… لوگ باتیں کرتے ہیں، ہم بلوچ ہیں… ہمیں بدنامی نہیں برداشت!"

ان کے الفاظ آج بھی میرے دل پر نقش ہیں:
"جھونپڑی والی لے لوں گا، لیکن مسکان نہیں!"

یونس نے انکار نہ کیا، بلکہ اپنی محبت، اپنی منگیتر کے حق میں آواز اٹھائی۔

پھر میں نے بھی مسکان یونس کی خوشی کو دیکھتے ہوئے انکو اتنا بھی کہا آپ دو سوٹ کے ساتھ میری بیٹی کو لے جا سکتے ہیں

یونس اپنے والد کے رویے سے نالاں ہو کر وہ اندر سے ٹوٹ گیا —
اور ایک دن… خاموشی سے خود کو ختم کر دیا۔

یونس کی موت کے بعد
ہزاروں زبانیں ہمارے خلاف اٹھیں،
ہم پر الزام لگایا گیا،
ماں اور بیٹی کو قاتل کہا گیا،
سوشل میڈیا کمنٹس میں زہر اگلا گیا۔

میری بیٹی یہ سب سہتی رہی… ہر لفظ اس کے دل پر وار کرتا رہا۔
اور آخرکار، وہ بھی تھک گئی…
اور ایک دن… اس نے بھی اپنی زندگی ختم کر دی۔

دو معصوم جانیں اس معاشرے کی تنگ نظری کی نذر ہو گئیں —
صرف اس لیے کہ ہم نے عزت کے ساتھ جینا چاہا،
اپنے خواب پورے کرنا چاہے،
اپنی بیٹی کو محفوظ دیکھنا چاہا۔

آج…
میں زندہ ہوں، لیکن ہر لمحہ مر رہی ہوں۔

یہ تحریر نہ تو ہمدردی کے لیے ہے، نہ صفائی کے لیے…
بس اُن ضمیر والوں کے لیے ہے،
جو سوچنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

میرے لیے مسکان ختم نہیں ہوئی…
وہ آج بھی میری سانسوں، آنسوؤں، اور دعاؤں میں زندہ ہے۔
اللہ کسی ماں کو ایسی آزمائش نہ دے،
نہ ہی ایسی بےحس دنیا۔

وہ تمہاری تڑپ سے کیسے ناواقف ہو سکتا ہے جس نے تمہاری تخلیق سے پہلے یہ فرما دیا کہ ' *اور ہم تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ تم...
06/05/2025

وہ تمہاری تڑپ سے کیسے ناواقف ہو سکتا ہے جس نے تمہاری تخلیق سے پہلے یہ فرما دیا کہ ' *اور ہم تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہیں* '۔ ❤️

*•─╼⃝🌼🍃⃞⃞⃞💖*

Sialkot Incident 😥باپ دو دن سے بیٹی کے نمبر پر کال کر رہا تھا مگر نمبر بند تھا ، وہ بیٹی کے سسرال چلا آیا اور پوچھا زارا...
15/11/2024

Sialkot Incident 😥

باپ دو دن سے بیٹی کے نمبر پر کال کر رہا تھا مگر نمبر بند تھا ، وہ بیٹی کے سسرال چلا آیا اور پوچھا زارا کہاں ہے ؟ فون بند ہے اس کا ، جبکہ زارا کا دو سال کا بیٹا گھر میں موجود تھا ، ساس اور نندوں نے بتایا دو دن پہلے رات کو کسی آشنا کے ساتھ بھاگ گئی ، موبائل بھی ساتھ لے گئی ۔ ہم تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ، خاموشی سے تلاش کررہے ہیں ۔۔۔
باپ کو یقین نہ آیا ، چار سال پہلے اسنے بہت چاؤ سے اس کے خالہ زاد قدیر سے کی شادی کی تھی اور وہ دونوں بہت خوش تھے ، اس نے تلاش گمشدگی کے لیے پولیس کی مدد لی ، پولیس نے سسرالیوں کے بیان لیے ، ہر ایک کے بیان میں تضاد تھا ، چناچہ زارا کی ساس اور نندوں کو شامل تفتیش کیا گیا جس پر انہوں نے انکشاف کیا کہ زارا بھاگی نہیں بلکہ 11 نومبر کی رات انہوں اس کو مار کر پھینک دیا تھا۔ اور شوہر کو بھی یہی بتایا کہ وہ کسی سے رابطے میں تھی۔ زارا سات ماہ کی حاملہ تھی ، اس کے ساتھ ننھی جان بھی ماری گئی ۔

جھگڑا کیا تھا؟ وہی ساس بہو کی ازلی چپقلش اور نند بھابی کا بیر ۔۔۔ زارا کی پانچ نندیں تھیں اور قدیر ان کا اکلوتا بھائی ۔۔ اور انہوں نے خود زارا کا رشتہ مانگا اور اپنے ہاتھوں سے رخصت کرکے گھر لائیں ۔ جھگڑا پیسے کا تھا ، ان کا خیال تھا ان کا بیٹا سارا خرچ بہو کے ہاتھ رکھتا ہے جبکہ اسے سب کچھ ماں بہنوں کو دینا چاہیے ، وہ خود زارا کو دیں ۔ انہی جھگڑوں سے تنگ آ کر قدیر اسے اٹلی بھی لے گیا اور کچھ ماہ پہلے سسرال چھوڑ گیا ۔ اس بار ساس اور نندوں نے سوچا کہ زارا کو واپس ہی نہ جانے دیا جائے ۔۔ اور قصہ تمام کرکے الزام لگا دیں گے کہ کسی کے ساتھ بھاگ گئی ۔ لاہور سے کسی رشتے دار کو بلایا ، فجر سے کچھ دیر پہلے سوئی ہوئی زارا کے منہ پر تکیہ رکھ کر سانس بند کی اور موت کے حوالے کردیا ۔۔۔ اب مسئلہ لاش کا تھا کہ وہ کہاں کریں ۔۔ اور شناخت کیسے چھپائیں تو سر کو دھڑ سے الگ کرکے چولہے پر جلایا گیا تاکہ نین نقش مسخ ہوجائیں ، پھر جسم کاٹ کر دو الگ الگ بوریوں میں ڈالا ، ایک بوری نہر میں اور ایک دور جھاڑیوں میں پھینک دی ۔ پولیس نے ان کی نشان دہی پر مختلف جگہوں سے جسم کی باقیات برآمد کر لیں ۔
لوگ کہتے ہیں رشتہ اپنوں میں کریں ۔۔ اپنا مارے گا بھی تو چھاؤں میں ڈالے گا۔۔ یہاں تو چھاؤں میں بھی نہیں ڈالا گیا ۔۔۔ بلکہ تپتی دھوپ بھی نصیب میں نہیں ہوئی آگ میں جلا دیا گیا کیا ساس بہو کی نفرت اس حد تک ہو سکتی ہے کیا انہیں اپنے بیٹے کا خیال نہیں آیا کیا اس ننھی جان جو اسکے پیٹ میں تھی اسکا خیال نہیں آیا کیا قیامت کا دن یاد نہیں آیا جب سب کچھ کھل جاۓ گا ایک عورت عورت پر اتنا ظلم کیسے کر سکتی ہے کیا پیسا اتنا ضروری ہے کے ہم انسانیت ہی بھول جائیں

یہ فریج و ڈیپ فریزر کا دور ہے. اکثر بڑی فیملیاں جب چند دن کیلئے باہر جاتی ہیں تو کھانے پکا کر فریزر میں رکھ جاتی ہیں. تا...
10/10/2024

یہ فریج و ڈیپ فریزر کا دور ہے. اکثر بڑی فیملیاں جب چند دن کیلئے باہر جاتی ہیں تو کھانے پکا کر فریزر میں رکھ جاتی ہیں. تاکہ واپسی میں فوراً کھانے کا جنجال نہ ہو. لیکن باوجود اس کے کہ کھانا مکمل فریز ہوتا ہے یہ کھانا کھا کر سب کے پیٹ خراب ہو جاتے ہیں.

اکثر یہ ہوتا ہے کہ بجلی کا طویل بریک ڈاون ہو جاتا ہے. فیملی گھر پر ہوتی نہیں ان کو پتہ نہیں ہوتا کہ کھانا ایک بار ٹمپریچر کھو چکا ہے. بجلی آنے کے بعد دوبارہ فریز ہوگیا. یہ انجانے میں کھا لیتے ہیں. اسکا ایک حل ہوتا ہے. آپ فریزر میں ایک پیالہ پانی سے بھر کر رکھ دیں. جب یہ برف ہو جائے تو اس کے اوپر ایک سکہ رکھ دیں. اب آپ اسے چھوڑ دیں.

جب دوبارہ فریج کھولیں تو پہلے اس سکے کو دیکھ لیا کریں. یہ برف کے اوپر ہے یا نیچے درمیان چلا گیا ہے. اگر یہ نیچے چلا گیا ہو تو اسکا مطلب ہوتا ہے درمیان میں فریزر نے کولنگ چھوڑ دی تھی. یہ سکہ بس ہمیں پھر ہماری غیر موجودگی میں بجلی کی کارکردگی بتاتا ہے.

کافی پہلے ایک مالی بابا نے مجھے بتایا تھا کہ ایک جنگل اور باغ میں سارا فرق توجہ اور ترتیب کا ہوتا ہے. جنگل پر کسی کی توجہ نہیں ہوتی تو وہ بے ترتیب ہوتا ہے. باغ پر کسی کی توجہ رہتی ہے تو یہ ترتیب سے ہوتا ہے. فریزر کے برف خانے پر بھلے آپ کی توجہ نہ ہو تب بھی آپ کے پاس بہت سے ٹوٹکے ہوتے ہیں. لیکن رشتوں میں وقت کے ساتھ جو دوریاں آتی ہیں اور رشتے جب خراب ہوتے ہیں تو اس کیلئے کوئی ٹوٹکہ نہیں ہوتا. یہ ہماری توجہ اور ترتیب مانگتے ہیں.

لیکن پتہ نہیں کیوں ہم ایک دوسرے کو الزام دیتے ہیں. کوئی گزرے وقت میں اپنی ترتیب کا حساب نہیں رکھتا اس لئے ہمارا معاشرہ آج جنگل بن گیا ہے. جنگل میں رشتوں کا بس ایک ہی دستور ہے یہاں کمزوری جرم سمجھی جاتی ہے.

Address

Bur Dubai
Dubai
10001

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ღღ ღღ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share